نوئیڈا مزدور تحریک کے معاملے میں ایک نابالغ کو دو مہینے تک بالغ قیدیوں کے ساتھ جیل میں رکھے جانے پر دی وائر کی رپورٹ کا این ایچ آر سی نے نوٹس لیا ہے۔ اس کے بعد گوتم بدھ نگر پولیس نے مذکورہ لڑکے کو ’دنیش‘ کہتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بالغ ہے۔ دنیش نابالغ کے بڑے بھائی ہیں اور ان کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں ایک ویڈیو میں اپنے بھائی کے ذریعے ان کا آدھار کارڈ چوری کرکے نوکری کرنے کی بات قبول کرنے کوکہا ہے۔

این ایچ آر سی کو دیے گئے جواب میں گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’نتن* عرف دنیش‘نے اپنی عمر 19 سال بتائی تھی۔ تاہم، ضمانت ملنے کے بعد نابالغ نے بتایا تھا کہ ’پولیس جب بھی میری عمر پوچھتی تھی، میں انہیں اپنی عمر 16 سال ہی بتاتا تھا۔‘ (تصویر: نوئیڈا پولیس اور شروتی شرما/دی وائر)
نئی دہلی:نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق ایک معاملے میں 16 سالہ نابالغ نتن (بدلا ہوانام) کو تقریباً دو مہینے تک بالغ قیدیوں کے ساتھ جیل میں رکھے جانے کے بارے میں دی وائر کی رپورٹ پر نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے از خود نوٹس لیا ہے۔
اس کے بعد گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے وقت اس نے خود اپنی عمر 19 سال بتائی تھی، اور ابتدائی میڈیکل جانچ میں اس کی عمر’18 سال درج کی گئی تھی۔‘
اس کے علاوہ پولیس نے اپنے بیان کے ساتھ ایک آدھار کارڈ کی کاپی بھی جاری کی، جس میں تاریخ پیدائش یکم جنوری 2007 اور نام’دنیش‘درج ہے۔ پولیس کے مطابق یہ آدھار کارڈ ’نتن* عرف دنیش‘کا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ نوئیڈا کی ایک نجی کمپنی میں کام کر رہا تھا اور تقرری کے وقت جمع کرائے گئے آدھار کارڈ میں اس کی تاریخ پیدائش 1 جنوری 2007 درج تھی۔
تاہم، نتن کے وکیل مانک گپتا اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پولیس نے اپنے بیان کے ساتھ جو آدھار کارڈ منسلک کیا ہے وہ نتن* عرف دنیش کا نہیں بلکہ اس کے بڑے بھائی دنیش کا ہے۔
غورطلب ہے کہ دنیش نے اس سے قبل دی وائرسے بات چیت میں یہ واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی نوئیڈا میں کام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نتن* کی گرفتاری سے قبل حالیہ دنوں میں وہ صرف ایک بار نوئیڈا آئے تھے۔
دنیش کہتے ہیں،’میں نے تو نوئیڈا کا راستہ بھی نہیں دیکھا۔ میں نے صرف پنجاب اور ہریانہ میں مزدوری کی ہے۔ ‘ دنیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا بھائی نتن بھی نوئیڈا کی کسی فیکٹری میں کام نہیں کرتا تھا بلکہ ایک کریانہ کی دکان پر ہیلپر تھا۔
واضح ہو کہ نوئیڈا مزدور تحریک کے سلسلے میں نتن کو 14 اپریل کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے آدھار کارڈ کے مطابق اس کی عمر 16 سال ہے، لیکن اس کے ساتھ بالغ ملزمان جیسا سلوک کیا گیا اور تقریباً دو ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔ اوسیفیکیشن ٹیسٹ کے ذریعے عمر کے تعین میں نابالغ ثابت ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد، 12 جون کو اسے جووینائل ہوم منتقل کیا گیا۔ بعد میں 18 جون کو انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔
حالاں کہ، ایف آئی آر نمبر 165 میں عدالت نے 29 مئی کو انہیں ضمانت دے دی تھی، لیکن 45 ہزار روپے کی ضمانتی رقم ادا نہ کر پانے کی وجہ سے انہیں مزید تین ہفتے جیل میں گزارنے پڑے۔
اس کے بعد 19 جون کو این ایچ آر سی نے نتن کے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور جیل انتظامیہ و اصلاحی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کیا اور دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کی۔ ساتھ ہی این ایچ آر سی کےانویسٹی گیشن ڈویژن کو موقع پر جا کر جانچ کرنے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔
پولیس پر سنگین الزامات
نتن* کے بڑے بھائی دنیش نے دی وائر کو بتایا کہ 20 جون کو ضلع شاہجہاں پور میں واقع ان کے گاؤں پولیس آئی اور ان سے نتن کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ دنیش کے مطابق پولیس نے ان سے کہا،’تمہارا بھائی تمہارے آدھار کارڈ کا استعمال کرکے نوئیڈا کی ایک نجی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔‘
دنیش نے پولیس کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا،’نتن کسی فیکٹری میں نہیں بلکہ ایک کریانے کی دکان پر کام کرتا تھا۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ نتن میرا آدھار کارڈ استعمال کر رہا تھا، تو کیا فیکٹری والوں کو یہ سمجھ نہیں آئے گا کہ وہ کسی دوسرے شخص کا آدھار کارڈ استعمال کر رہا ہے اور اس کی عمر کیا ہے؟‘
دنیش نے پولیس پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا، ’میرے گاؤں آنے والے پولیس اہلکاروں نے مجھ سے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنے کو کہا، جس میں مجھے یہ کہنا تھا کہ میں کبھی نوئیڈا نہیں گیا اور نتن وہاں میرے آدھار کارڈ کا استعمال کرکے کام کرتا تھا۔ ‘
دنیش نے کہا، ’مجھ سے کہا جا رہا تھا کہ میں ویڈیو ریکارڈنگ میں یہ بولوں کہ میرا بھائی میرا آدھار کارڈ لے کر نوئیڈا میں کام کرتا تھا، لیکن سچائی یہ ہے کہ میرے بھائی نے کبھی میرا آدھار کارڈ نہیں لیا۔‘
دی وائر کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ پولیس کے پاس ان کا آدھار کارڈ کیسے پہنچا، دنیش نے کہا، ’نتن کے جیل جانے کے بعد قانونی کارروائی اور اس سے ملاقات کے دوران میں نے کئی مرتبہ اپنے آدھار کارڈ کی کاپی پولیس اور دیگر حکام کے پاس جمع کرائی تھی۔ وہیں سے پولیس کو ملا ہوگا۔‘
دنیش نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے ان سے کچھ کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ ان کے مطابق، شاید ان کاغذات میں یہ لکھا تھا کہ وہ ایک مزدور ہیں اور اینٹ بھٹے پر کام کرتے ہیں۔
دوسری جانب، نتن کے وکیل مانک گپتا کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ تمام کہانیاں بنا رہی ہے۔
پولیس کے دعوے کی جانچ: کیا گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
این ایچ آر سی کو جواب دیتے ہوئے گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’نتن عرف دنیش‘نے اپنی عمر 19 سال بتائی تھی۔
تاہم، ضمانت ملنے کے بعد دی وائر سے بات چیت میں نتن نے کہا، ’پولیس جب بھی میری عمر پوچھتی تھی تو میں انہیں اپنی عمر 16 سال بتاتا تھا، لیکن وہ میری عمر 18 یا 19 سال درج کر دیتے تھے۔‘ نتن نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی پولیس یا کسی اور اہلکار کو یہ نہیں بتایا کہ ان کی عمر 19 سال ہے۔
پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’نتن عرف دنیش ولد رام دین کمپنی اسٹونچ الکٹرانک انڈیا ایل ایل پی، اے-9، سیکٹر 83، فیز 2 میں کام کرتا تھا، اور اس نے کمپنی میں رجسٹریشن کے وقت دنیش کے نام سے بنا ہوا 19 سالہ (بالغ) آدھار کارڈ جمع کرایا تھا۔ ‘
نتن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وہ کبھی کسی فیکٹری یا کمپنی میں کام نہیں کرتا تھا، بلکہ بھنگیل علاقے میں ایک کریانے کی دکان پر کام کرتا تھا۔
مزدوروں کی تحریک میں اپنے کردار سے انکار کرتے ہوئے نتن نے کہا تھا، ’وہ تحریک فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور چلا رہے تھے، میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیونکہ میں تو دکان پر کام کرتا تھا۔‘
پولیس کے بیان کے بعد نتن کے وکیل مانک گپتا نے بھی کئی سوال اٹھائے ہیں۔ پولیس اپنے بیان میں نتن کو ’نتن عرف دنیش‘کہہ کر مخاطب کر رہی ہے۔
اس حوالے سے گپتا نے کہا، ’پولیس کمشنریٹ کی جانب سے گرفتار کیے گئے نابالغ کو ’نتن عرف دنیش‘کہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دنیش کوئی عرفی نام نہیں بلکہ نتن کا بڑا بھائی ہے۔‘
وکیل کا الزام ہے کہ پولیس اب دونوں بھائیوں کی شناخت کے حوالے سے بھرم پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ نتن کے معاملے میں اٹھنے والے سوالوں کے بعد پولیس اپنی کارروائی کو صحیح ٹھہرانے کے لیے نئی وضاحت تلاش کر رہی ہے۔
مانک گپتا نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس اب دنیش کو بھی اس معاملے میں پھنسانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
انہوں نے دی وائر سے کہا، ’نتن کے معاملے میں جو کچھ ہوا ہے، اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پولیس اب اپنا چہرہ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ دنیش کو بھی اس معاملے میں گھسیٹا جا سکتا ہے۔‘
دنیش نے بھی یہی ڈر ظاہر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’اگر پولیس نتن کے بعد اب مجھے بھی پھنسا دیتی ہے تو پھر میں کیا کروں گا! نتن کے معاملے میں میرے خاندان کو پہلے ہی اتنی پریشانیاں جھیلنی پڑی ہیں، اور اگر اب مجھے پھنسایا جاتا ہے تو میرا خاندان اور تباہ ہو جائے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ پولیس میرے جیسے غریب خاندان کے پیچھے کیوں پڑی ہے۔‘
کیا کہتی ہےپولیس ؟
نتن کے وکیل مانک گپتا نے دی وائر کو بتایا کہ نوئیڈا فیز-2 تھانے کے ایس آئی نوینیت کمار نے دنیش کوان کے گاؤں جا کر ایک ویڈیو بنانے کے لیے کہا تھا۔ گپتا کا دعویٰ ہے کہ نوینیت کمار نے فون پر ان سے ہوئی بات چیت میں اس بات کوقبول بھی کیا تھا۔
تاہم، جب دی وائر نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی واضح تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ضلع شاہجہاں پور میں نتن کے گاؤں گئے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں دنیش سے ویڈیو بنوانے کی کسی مبینہ کوشش کے بارے میں کوئی جانکاری ہے۔
اس سے قبل دی وائر نے اتوار کی رات دیر گئے گوتم بدھ نگر کمشنریٹ کو ای میل کےتوسط سے سوال بھیجے ہیں،جس کا اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
سوموار کو دی وائر نے ان الزامات کے سلسلے میں نوئیڈا فیز-2 تھانے سے بھی رابطہ کیا۔ دوپہر 2:26 بجے تھانے کی جانب سے فون اٹھانے والے شخص نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی کوئی جانکاری نہیں ہے اور وہ کچھ دیر بعد معلومات حاصل کرکے بتائیں گے۔ اس کے بعد شام 4:14 بجے دوبارہ رابطہ کیا گیا۔ اس بار فون اٹھانے والے شخص نے خود کو ایس ایس آئی بتایا، لیکن سوال پوچھے جانے پر انہوں نے بھی وہی جواب دہرایا کہ انہیں معاملے کی جانکاری نہیں ہے اور وہ معلومات حاصل کرکے بتائیں گے۔
اس کے بعد دی وائر نے گوتم بدھ نگر پولیس کے میڈیا سیل سے بھی رابطہ کیا۔ سوشل میڈیا سیل میں سشیل نامی شخص نے فون اٹھایا اور کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے اور اس بابت صرف تھانہ انچارج ہی جانکاری دے سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں گوتم بدھ نگر کی پولیس کمشنر لکشمی سنگھ سے بھی رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے کال نہیں اٹھایا گیا۔ پولیس کی جانب سے جواب موصول ہونے پر اسے رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔
(*بدلا ہوا نام)