منریگا صرف کاغذ پر لکھا ہواقانون نہیں تھا، بلکہ ہر گاؤں میں جمہوریت کا زندہ نمونہ بن گیا تھا۔ نئی اسکیم (وی بی-گرام جی یوجنا) میں کام صرف اس گاؤں اور دیہات میں دستیاب ہوگا، جن کا انتخاب مرکزی حکومت کرےگی۔ اس طرح بااختیار اور حقوق یافتہ شہری کو محتاج بنا دیا گیا ہے۔ لاکھوں مزدوروں کے لیے جو پہلے ایک قانونی حق تھا، وہ اب نوکرشاہی کے رحم و کرم پر منحصر ہو گیا ہے۔

کھیت میں کام کرتی خواتین مزدوروں کی علامتی تصویر، فوٹو: کلائمٹ ڈاٹ ان / فلکر، سی سی بی وائی این سی 2.0
آج ہم ایسے حالات کے درمیان کھڑے ہیں، جہاں منریگا کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اسے ایک ایسی سرکار نے آہستہ آہستہ کمزور کیا اور بالآخر خاتمے کی طرف دھکیل دیا، جس نے پارلیامانی طریقہ کار اور جمہوری شمولیت کی بنیادی ضروریات کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے قوانین بنائے۔
ایسے وقت میں ضروری ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں اور’کام کے حق‘ سے حاصل ہونے والی حصولیابیوں کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس حق کے خاتمے سے مزدوروں، بالخصوص خواتین نے کیا کھو دیا ہے۔ اس کی جگہ پر لائی گئی گئی وی بی-گرام جی یوجنا ایک سرکاری پروگرام ہے، جس کو مرکزی حکومت کے سیاسی عزائم اور ترجیحات کے مطابق چلایا جائے گا۔ اس میں مزدوروں کے لیے کسی طرح کی کوئی قانونی ضمانت یا حق موجود نہیں ہے۔
آئیے، ہم اپنے جدوجہد کے سفر اور منریگا جیسے قانون سے حاصل ہونے والی حصولیابیوں کو یاد کریں۔
سن 2004 میں سرکار بننے کے فوراً بعد یو پی اےحکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ’ نیشنل کامن منیمم پروگرام ‘ (این سی ایم پی) جاری کیا۔ یہ ان عوامی تحریکوں کا نتیجہ تھا، جو 1990 کی دہائی کے اوائل سے ہی ایسے حقوق پر مبنی قوانین کا مطالبہ کر رہی تھیں، جو فلاحی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کی ضمانت دیں۔

یہ دلیل دی گئی کہ عام شہریوں کے حقوق بدعنوانی اور اقتدار کے من مانے استعمال کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس لیے انہیں صرف اسی صورت میں مؤثر بنایا جا سکتا ہے جب انہیں قانونی طور پر نافذ کیے جا سکنے والے حقوق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ این سی ایم پی میں حکومت کا پہلا بڑا وعدہ یہ تھا کہ ہر دیہی خاندان کو 100 دن کے روزگار کی ضمانت فراہم کرنے والا قانون بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یو پی اے-1 حکومت نے قومی مشاورتی کونسل (این اے سی) بھی تشکیل دی تاکہ اس پروگرام کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔
منریگا کے قانون کو 2005 میں پارلیامنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا، لیکن اس کی بنیاد ملک بھر کی عوامی تحریکوں نے رکھی تھی۔ مزدوروں، عوامی نمائندوں، ماہرین معاشیات اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں نے مل کر ’پیپلز ایکشن فار ایمپلائمنٹ گارنٹی‘ (پی اے ای جی) کے نام سے ایک مہم چلائی۔ اس مہم کے تحت شمالی ہندوستان کے 52 اضلاع میں ایک بس یاترا نکالی گئی۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (این ایف آئی ڈبلیو) نے بھی اپنی نو منتخب جنرل سکریٹری کی قیادت میں اس مہم میں اہم کردار ادا کیا۔
منریگا صرف کاغذ پر لکھا ہواقانون نہیں تھا، بلکہ ہر گاؤں میں جمہوریت کا ایک زندہ اورمتحرک نمونہ بن گیا تھا۔ اس نے ہر خاندان کو جاب کارڈ کا حق دیا اور روزگار طلب کرنے کے قانونی حق کو بھی یقینی بنایا۔ اگر 15 دن کے اندر کام نہیں ملتا تو بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے کا حق بھی موجود تھا۔
گرام سبھاؤں کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق کام کے منصوبوں کی فہرست تیار کریں، جیسے سڑکوں، کنواں، تالاب اور آبی تحفظ کے کام۔ اس کے بعد کوئی بھی بالغ جاب کارڈ ہولڈر ان منصوبوں کے تحت روزگار طلب کر سکتا تھا۔ اپنے ابتدائی برسوں میں یہ اسکیم چند کروڑ خاندانوں تک محدود تھی، لیکن 2025-26 تک یہ ہر سال 8 کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو روزگار فراہم کرنے لگی تھی۔
اس قانون نے پورے ملک میں شفافیت اور جوابدہی کا ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کیا۔ پہلی بار گاؤں کے لوگ سرکاری افسران سے جواب طلب کرنے لگے۔ سوشل آڈٹ کی نشستوں میں نقشے، مزدوری کی فہرست اور منصوبوں کی تفصیلات عوامی طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ لوگوں کو، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہوں، ایک ایک نام بلند آواز سے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اگرکوئی فرضی نام درج کیا گیا ہوتا تو وہ فوراً سامنے آ جاتا تھا۔
ہم نے دیکھا کہ خواتین سوشل آڈٹ کی نشستوں میں کھڑے ہو کر افسران سے یہ سوال کرتی تھیں کہ ان کی مزدوری کیوں نہیں ملی۔ یہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس قانون نے شفافیت اور جوابدہی کو گاؤں گاؤں تک پہنچا یا۔
حالاں کہ منریگا کی تحریک 1977 کے مہاراشٹر روزگار گارنٹی ایکٹ سے حاصل ہوئی تھی، لیکن اس کی نوعیت اس سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔ دنیا بھر کے ماہرین معاشیات اور پالیسی کےماہرین نے اس کی تعریف کی۔ اس کا بنیادی تصور اور اثرات آج بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہیں۔
جب 2001 کے نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف اسٹیگلیٹز سے پوچھا گیا کہ ہندوستان عدم مساوات کو کیسے کم کر سکتا ہے، تو انہوں نے کہا تھا، ’ہندوستان کا سب سے اختراعی پروگرام، اور پوری دنیا کے لیے ایک سبق، منریگا ہے۔‘
منریگا کے اثرات بہت وسیع رہے ہیں۔ 2006 سے 2026 کے درمیان اس منصوبے نے 4948.51 کروڑ افرادی دن پیدا کیے۔ ان میں نصف سے زیادہ خواتین تھیں۔ ان کےاپنے بینک اکاؤنٹس کھلوائے گئے، جس سے انہیں مالی خودمختاری حاصل ہوئی۔ تقریباً ایک تہائی دیہی خاندان ہر سال اس منصوبے میں کام کرتے رہے۔
یہ مزدوری مقامی بازاروں میں خرچ ہوئی، جس سے دیہی معیشت مضبوط ہوئی۔ راجستھان کے ضلع راجسمند کے بھیم جیسے علاقوں میں مقامی تجارت اور روزگار کو نئی توانائی ملی۔ معاشی سست روی کے وقت میں بھی یہ پروگرام لوگوں کے لیے سہارا بنا رہا۔ دیہی منڈیوں کے فعال رہنے سے قومی معیشت کو بھی تقویت ملی۔
ایک سرکاری مطالعے میں پایا گیا کہ 2005 کے بعد آئی دیہی غربت میں کمی کا تقریباً 25 فیصد حصہ منریگا کا تھا۔ 2005 سے پہلے زرعی مزدوری طویل عرصے تک تقریباً جمود کا شکار رہی تھی، لیکن منریگا کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوا۔
اس کا سب سے زیادہ فائدہ غریب خاندانوں، بیواؤں، دلتوں اور آدی واسیوں کو ملا۔ کئی خاندان اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنے اور پرانے قرض ادا کرنے کے قابل ہوئے۔ مزدوروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ وہ کہتے تھے،’ اب ہمارے پاس اپنی کمائی ہے، ہمیں بھیک مانگنے یا مجبوری میں ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
خواتین کی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی آئی۔ جو خواتین پہلے گھر میں سب سے آخر میں کھانا کھاتی تھیں، وہ اب باعزت طریقے سے کمائی کرنے لگیں۔ منریگا نے انہیں معاشی طاقت اور سماجی وقارعطا کیا۔
منریگا کے 20 برسوں میں اس پر تقریباً 12.5 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے کمزور کرنے کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ ہر سال بڑے بجٹ مختص کیے جاتے رہے، مگر حقیقت میں منصوبے کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔
اکثر سال کے درمیان ہی گاؤں کو یہ بتا دیا جاتا تھا کہ اب پیسہ نہیں ہے اور اگلے مالی سال کا انتظار کرنا ہوگا۔ حالانکہ قانون کے مطابق منریگا کو بجٹ کی حدود کا پابند نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود اسے بتدریج ایک طلب پر مبنی منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا۔
سال2017کے آخر تک یہ حالت ہو گئی کہ کل مختص فنڈز کا تقریباً پانچواں حصہ پچھلے برسوں کی بقایہ ادائیگی میں ہی خرچ ہو رہا تھا۔ مزدوروں کی اجرت، جو 15 دن کے اندر مل جانی چاہیے تھی، کئی بار مہینوں تک ادا نہیں کی جاتی تھی۔ تاخیر پر معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا تھا۔
ایک مزدور کے لیے مزدوری کا ہر دن اہم ہوتا ہے۔ ادائیگی میں تاخیر نے بے شمار خاندانوں کو بھوک اور قرض کے بحران میں دھکیل دیا۔ یہ نہ صرف غیر اخلاقی تھا بلکہ آئین کی روح کے بھی منافی تھا۔
ٹکنالوجی کی مرکزیت اور بڑھتی ہوئی استثنیٰ سب سے زیادہ تشویشناک تھی۔ حکومت نے آدھار اور این ایم ایم ایس ایپ کو لازمی قرار دے دیا۔ مزدوروں کو تصویر کے ساتھ اپنی حاضری درج کرنی پڑتی تھی۔ لیکن عملی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن خواتین کے پاس اسمارٹ فون یا آدھار سے منسلک سہولیات موجود نہیں تھیں، وہ کام سے باہر ہونے لگیں۔
تکنیکی نظام نے ان دیہی مزدوروں کو نقصان پہنچایا جو ڈیجیٹل ذرائع سے واقف نہیں تھے۔ اسی دوران سوشل آڈٹ اکائیوں کو بھی کمزور کر دیا گیا۔ انہیں نہ تو مناسب وسائل فراہم کیے گئے اور نہ ہی خاطر خواہ آزادی دی گئی۔ کئی مقامات پر سوشل آڈٹ محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئے۔
تاہم، تمام مسائل کے باوجود منریگا دیہی بحران سے نمٹنے کا ایک اہم ذریعہ بنا رہا۔ 2020 کی وبا کے دوران، جب لاکھوں مہاجر مزدور اپنے گاؤں واپس لوٹے، تب منریگا نے ایک لائف لائن کا کام کیا۔
مالی سال 2020-21 میں 388.67 کروڑ افرادی -دن روزگار پیدا ہوا، جو اب تک کا ایک ریکارڈ تھا۔ اس منصوبے کی بدولت کروڑوں خاندانوں کو آمدنی کا سہارا ملا اور دیہات میں شدید غذائی بحران پیدا نہیں ہوا۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریب خاندانوں کی آمدنی میں 20 سے 80 فیصد تک جو کمی آئی، اس کی تلافی منریگا نے کی۔ مزدوری کا پیسہ دیہات کی دکانوں تک پہنچا اور لوگوں کے گھروں میں خوراک کی فراہمی یقینی ہوئی۔ اس مشکل وقت میں منریگا نے دیہی ہندوستان کو سنبھالے رکھا۔
سال2025کے آخر میں منریگا کو ختم کرنے کے عمل کو تیز کر دیا گیا۔ مناسب عوامی بحث، وسیع پارلیامانی مباحثے اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے جائزے کے بغیر اس نظام کو ختم کر دیا گیا۔ جس قانون کو 2005 میں وسیع بحث اور اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا، اسے ایک محدود منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا۔
نئے نظام میں کام صرف انہی دیہات میں دستیاب ہوگا جن کا انتخاب مرکزی حکومت کرے گی۔ اس میں کام مانگنے کا حق موجود نہیں ہے اور نہ ہی کام نہ ملنے کی صورت میں کوئی تعزیری شق رکھی گئی ہے۔ اس طرح حق پر مبنی نظام کو محتاجی میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ تبدیلی صرف انتظامی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی۔ حقوق یافتہ شہری کو ایک شرط پر منحصر مستفید میں بدل دیا گیا۔ لاکھوں مزدوروں کے لیے جو پہلے ایک قانونی حق تھا، وہ اب بیوروکریسی کے رحم و کرم پر منحصر ہو گیا۔
منریگا کی جگہ لایا گیا وی بی-گرام جی پہل اپنے پیش رو قانون کی ایک کمزور اور محدود نقل کے طور پر سامنے آیا۔ اس کا مقصد شاید فوری مخالفت کو روکنا تھا، لیکن اس سے کروڑوں دیہی مزدور متاثر ہوئے۔
غریبوں اور ان کی آواز کے تئیں بے اعتنائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ غربت اور بے روزگاری کے خلاف ملک کے سب سے اہم قوانین میں سے ایک کو ختم کر دیا گیا۔ اس قانون کے خاتمے سے امیر اور غریب کے درمیان طاقت کا عدم توازن اور بڑھ گیا۔
اس کے باوجود، منریگا کی تشکیل کے پیچھے جو جذبہ تھا—غربت کے خلاف جدوجہد، باوقار زندگی اور کام کے حق کا مطالبہ—وہ آج بھی زندہ ہے۔
ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہر مزدور دوبارہ یہ نہ کہہ سکے:-
’ہر ہاتھ کو کام دو، کام کا پورا دام دو۔‘
ہمارا کام کا حق ہی ہمارے جینے کا حق ہے، اور ہم اسے عزت اور وقار کے ساتھ مانگتے ہیں۔
حقوق پر مبنی جدوجہد کی وہ دہائی اور اس سے وجود میں آنے والا قانون ہماری جمہوری تاریخ کے اہم ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ اس وقت عوامی مطالبات نے قومی پالیسی اور قانون سازی کی سمت متعین کی۔ اس کے نتیجے میں مزدوروں، خصوصاً سماجی حاشیے پر موجود خواتین، کو زیادہ معاشی مساوات اور روزگار کے حقوق تک رسائی حاصل ہوئی۔
یہ میری زندگی کے سیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ اطمینان بخش ادوار میں سے ایک تھا۔
نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن(این ایف آئی ڈبلیو) کی خواتین اور اس کی قیادت نے اس جدوجہد کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں این ایف آئی ڈبلیو کے لیے اس حق کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں توانائی اور کامیابی کی خواہش کرتی ہوں، تاکہ کروڑوں خاندانوں کو ایک بار پھر باوقار اور ضمانت شدہ روزگار مل سکے۔
ارونا رائےنیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی سابق اعزازی صدر ہیں۔یہ این ایف آئی ڈبلیو کے یوم تاسیس کے موقع پر لکھے گئے ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ ہے۔