جموں و کشمیر میں ’قابل اعتراض‘ مواد پر مشتمل کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں کاؤنٹر انٹلی جنس یونٹ نے تین ناشروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ’سمگر شکشا ابھیان‘کے تحت تقسیم کی گئی ان کتابوں میں ’غیرمناسب مواد‘شامل تھا۔

علامتی تصویر:مئی 2026 میں سری نگر میں جموں و کشمیر پولیس کا اسپیشل آپریشن گروپ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
سری نگر:جموں کی ایک عدالت نے سوموار (13 جولائی) کو اسکول کی کتابوں سے متعلق ایک معاملے کی جانچ کے سلسلے میں تین ناشروں کو 10 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
معلوم ہو کہ جموں کی کاؤنٹر انٹلی جنس یونٹ (سی آئی جے) نے ان تینوں ناشروں کو ’قابل اعتراض‘مواد والی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ ان گرفتاریوں سے پہلے جموں اور دہلی میں چھاپے ماری کی گئی تھی۔
ملزمین کی پہچان جموں کے اوبرائے بک سروس کے اندرپال سنگھ اور نوئیڈا واقع ڈومیننٹ پبلی کیشن کے امردیپ سنگھ اور گریش اروڑہ کے طور پر ہوئی ہے۔ انہیں ورچوئل طریقے سے عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں 10 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ تنازعہ دو کتابوں کی 251 کاپیوں سے متعلق ہے۔ پہلی کتاب ’پرسنالٹی اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر ‘ہے، جسے ہلال احمد اور سنتوش مینم نے لکھا ہے اور جموں کے اوبرائے بک سروس نے شائع کیا ہے۔وہیں ، دوسری کتاب ’گریٹ پرسنالٹی آف جموں اینڈ کشمیر‘ہے، جس کے مصنف سشانت گیری ہیں اور اسے دہلی کے انوراگ پبلی کیشن نے شائع کیا ہے۔
یہ دونوں کتابیں مرکزی حکومت کی سمگر شکشا اسکیم کے تحت سرکاری اسکولوں کی لائبریری میں بھیجی گئی تھیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان کتابوں کے مواد کی مذمت کی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ بلیک لسٹ کی گئی ان دونوں کتابوں میں ایسا مواد تھا جو علیحدگی پسندی کو فروغ دیتا ہے اور ان سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے 4 جولائی کو اسکول کی لائبریری سے یہ کتابیں ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کتابوں کے جائزے کے عمل سے وابستہ ایجوکیشن ڈپارٹمنت کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، ایک کانٹریکٹ ملازم کو بھی ہٹایا گیا، جبکہ مصنفین اور ناشروں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے کتابوں کے انتخاب کے عمل کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔
غور طلب ہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ مرکزی حکومت کے ’سمگر شکشا ابھیان‘کے تحت تقسیم کی گئی ان کتابوں میں’نامناسب مواد‘شامل تھا۔
جانچ ایجنسی کاؤنٹر انٹلی جنس کشمیر(سی آئی کے)نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ(یو اے پی اے)کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس میں مجرمانہ سازش، ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے، دشمنی کو فروغ دینے اور قابل اعتراض مواد پھیلانے جیسے الزامات شامل ہیں۔
معلوم ہو کہ سی آئی کے نے 6 جولائی کو جموں اور نوئیڈا میں ناشرین کے ٹھکانوں پر تلاشی کی کارروائیاں کی تھیں۔
’اداروں کے سربراہان کو شخصی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے‘
حکام نے بتایاجانچ میں کتابوں کی اشاعت اور تقسیم میں ناشرین کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اور گرفتاریوں کے امکان سے انکارنہیں کیا جا سکتا۔
لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطحی ریویو میٹنگ کی اور جموں و کشمیر کی تمام یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں اور لائبریریوں کو ہدایت دی کہ وہ تصدیق کریں کہ ان کے اداروں میں ایسی کوئی کتاب یا مواد موجود نہیں ہے۔ اداروں کے سربراہان کو خبردار کیا گیا کہ کسی بھی کوتاہی کی صورت میں انہیں شخصی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بیان کے مطابق، ریویو میٹنگ میں حکام نے بتایا کہ بعض تعلیمی اداروں سے علیحدگی پسندی کو فروغ دینے والی کتابیں برآمد ہوئی ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ہدایت دی کہ آئندہ اکیڈمک میٹیریل کی خریداری کے لیے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں ماہرین تعلیم، دانشوروں اور سینئر حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ریپوزٹری اور یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس کا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
کمیٹیوں کی سفارشات کے بعد، سمگر شکشا یوجنا کے تحت 18,328 سرکاری اسکولوں اور 394 پی ایم شری اسکولوں میں تقسیم کے لیے 364 ناشرین کی 463 کتابوں کو منظوری دی گئی تھی۔
یہ ایف آئی آر بی این ایس کی دفعہ 49 (اشتعال انگیزی)، 61(2) (مجرمانہ سازش)، 152 (ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات)، 196 (دشمنی کو فروغ دینا) اور 353 (جھوٹے بیانات، افواہیں یا رپورٹ شائع کرنایا پھیلانا) کے علاوہ یو اے پی اے کی دفعہ 13 کے تحت درج کی گئی ہے۔
اس تنازعہ نے تعلیمی مواد کی نگرانی اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تعلیمی اداروں میں استعمال کے لیے کتابوں کے انتخاب کے طریقہ کار پر بھی بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
اگرچہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے مواد کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے روکنا ہے جو طلبہ کو گمراہ کر سکتا ہو یا انہیں انتہا پسندی کی طرف مائل کر سکتا ہو، تاہم ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ماننا ہے کہ تاریخ اور اختلاف رائے پر بحث جمہوری معاشرے کا اہم حصہ ہے۔
کشمیر کے مصنف اور صحافی راؤ فرمان علی نے دی وائر سےکہا،’کوئی اشاعت مناسب ہے یانہیں، یہ طے کرنے کا کام صرف سکیورٹی کے نقطہ نظر سے نہیں ہونا چاہیے۔ خودمختار تعلیمی اداروں-جن میں وائس چانسلر، پرنسپل اور متعلقہ مضامین کے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں شامل ہوں—کو ایسے مواد کا جائزہ لینا چاہیے اور اس کی تعلیمی اہمیت کا تعین کرنا چاہیے۔‘
انتظامیہ نے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پی)بھی تجویز کیا ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں میں آنے والی کتابوں کو طلبہ تک پہنچانے سے پہلے ان کی اسکریننگ کی جائے گی اور وقتاً فوقتاً ان کا دوبارہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔