ون نیشن، ون الیکشن: جے پی سی چیف بولے – 2029 کے عام انتخابات تک اس نظام کے مکمل طور پر نافذ ہونے کا امکان

پارلیامنٹ کی جوائنٹ کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین پی پی چودھری نے جمعہ کو کہا کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے سے متعلق بلوں کا جائزہ لینے والی پارلیامانی کمیٹی ایسا نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے، جس سے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی اصلاحات کو 2029 کے عام انتخابات تک مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔

پارلیامنٹ کی جوائنٹ کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین پی پی چودھری نے جمعہ کو کہا کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے سے متعلق بلوں کا جائزہ لینے والی پارلیامانی کمیٹی ایسا نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے، جس سے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی اصلاحات کو 2029 کے عام انتخابات تک مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔

جے پی سی کے چیئرمین پی پی چودھری۔ (فائل فوٹو: سوشل میڈیا/ایکس)

نئی دہلی:’ون نیشن، ون الیکشن‘سے متعلق بلوں کی جانچ کر رہی پارلیامنٹ کی جوائنٹ کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین نے جمعہ (10 جولائی) کو کہا کہ ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کا منصوبہ 2029 کے عام انتخابات تک مکمل طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، کمیٹی کے رکن پی پی چودھری نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ اب تک جن شہری اداروں کےاسٹیک ہولڈروں سے مشاورت کی گئی ہے، ان میں سے تقریباً 99 فیصد نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ چودھری نے یہ باتیں گوا میں آئین (129واں ترمیمی) بل، 2024 سے متعلق دو روزہ اجلاس کے موقع پر کہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز کا مقصد بار بار ہونے والے انتخابات سےتقریباً سات لاکھ کروڑ روپے کے معاشی نقصان کو روکنا ہے۔

اس اجلاس کی شروعات وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور ان کی کابینہ کے اراکین کے ساتھ بات چیت سے ہوئی، جس میں ایک ساتھ انتخابات کرانے میں درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر ان کی آراء طلب کی گئیں۔

اس حوالے سے چودھری نے کہا،’ہم نے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے اراکین سے غیر رسمی بات چیت کی، جو گوا کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کو کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے، اس میں کیا مسائل ہیں، اور تمام کوقابل قبول توازن برقرار رکھتے ہوئے ان مسائل کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نےکہا کہ کمیٹی گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ اور دہلی سمیت کئی ریاستوں کا دورہ کر چکی ہے، جہاں اس نے آئینی ماہرین، شہری اداروں، ماہرین تعلیم اور دیگر متعلقہ افراد سے بات چیت کی ہے۔

بات چیت کے دوران جے پی سی چیف چودھری نے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے نتائج کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ کووند کمیٹی کا اندازہ تھا کہ ملک بھر میں الگ الگ انتخابات کرانے سے تقریباً سات لاکھ کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔

غور طلب ہے کہ ستمبر 2024 میں مرکزی کابینہ نے رام ناتھ کووند کی سربراہی والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظوری دی تھی، جس میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘کی تجویز کے تحت  ملک میں لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی بلدیاتی اداروں (پنچایت اور میونسپلٹی سمیت) کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی سفارش کی گئی تھی۔

اپنی 18,626 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے دو مراحل میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی سفارش کی ہے۔ پہلے مرحلے میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے 100 دن کے اندر بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کے انتخابات کرائے جائیں گے۔

معلوم ہوکہ مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیامنٹ میں آئین (129واں ترمیمی) بل، 2024 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قانون (ترمیمی) بل، 2024 پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اس قدم کی سخت تنقید کی تھی اور ان بلوں پر سوال اٹھائے تھے، جس کے بعد ان بلوں کو پی پی چودھری کی سربراہی میں قائم جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔