وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جنتر منتر پر سونم وانگچک۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: دہلی پولیس نے سنیچر (18 جولائی) کی صبح ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے 21ویں دن حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا۔ وانگچک کو اسپتال لے جائے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا۔
Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) announces indefinite hunger strike from today.
Sonam Wangchuk and three student activists from AISA – Neha, Aameen and Manish – have been on an indefinite hunger strike demanding the resignation of Union education minister Dharmendra Pradhan. pic.twitter.com/ZMdUIq2WgT
— The Wire (@thewire_in) July 18, 2026
دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت اور ڈاکٹروں کے مشورے پر دہلی ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
As per orders of Hon’ble High Court and on expert medical advise due to the deteriorating health condition of Sh. Sonam Wangchuk, he has been shifted to the hospital for essential medical care.
While complying with the orders of Hon’ble High Court the protestors tried to create…— DCP New Delhi (@DCPNewDelhi) July 18, 2026
صبح سامنے آئے ویڈیو میں مظاہرین پولیس کو وانگچک تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرتے نظر آئے، لیکن پولیس نے انہیں ہٹا دیا۔ پولیس اہلکاروں نے وانگچک کو لے جاتے وقت ان کے گرد سفید چادروں کا گھیرا بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق، انہیں صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا ہے۔
وانگچک اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے تین طلبہ لیڈر – نہا، آمین اور منیش – وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور ملک کے اگزام اورایجوکیشن سسٹم میں اصلاحات کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

دہلی پولیس کے سونم وانگچک کو زبردستی صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرانے کے بعد آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے طلبہ سنیچر کو بھی ہڑتال پر ہیں۔ (تصویر: اتل اشوک ہووالے/دی وائر)
سنیچرکی صبح طلبہ مظاہرین نے آئیسا کے تینوں کارکنوں کے گرد ہیومن چین بنا لی تاکہ پولیس انہیں حراست میں نہ لے سکے۔ آئیسا کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو میں یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے جس جگہ پر ٹھہرے ہوئے تھے، وہاں دہلی پولیس نے گھیر لیا تھا۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ترجمان انیش گاونڈے، جن کے گھر دیپکے مقیم تھے، نے بھی یہی دعویٰ کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے۔ (تصویر: اتل ہووالے/دی وائر)
ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں حراست میں لیا، تاہم بعد میں انہیں جنتر منتر پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’دہلی پولیس نے آج انتہائی شرمناک حرکت کی ہے۔‘
CJP Founder Abhijeet Dipke’s video message after he was let go by the Police – once the Police had successfully kidnapped Sonam Wangchuk from Jantar Mantar.
He has been beaten up by the Police. CJP protesters have been lathi charged badly at Jantar Mantar. pic.twitter.com/6ZRAirwxzg
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 18, 2026
گزشتہ کئی دنوں سے سی جے پی اور آئیسا کے احتجاج کے لیے الگ الگ مقامات مقرر تھے، لیکن سنیچر کی صبح سی جے پی کے رہنماؤں نے بھی آئیسا کے احتجاجی مقام سے خطاب کیا اور کہا کہ نہا، آمین اور منیش اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔
آئیسا کی نہا نے دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ وانگچک کو حراست میں لینے کے بعد دہلی پولیس نے انہیں اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لینے کی کوشش کی، لیکن وہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے پولیس ایسا نہیں کر سکی۔
Neha speaks about the Delhi police forcefully taking away Sonam Wangchuk today morning and attempting to take away the other hunger strikers on the 21st day of their hunger strike.
CJP Protest | Jantar Mantar, New Delhi pic.twitter.com/hP86XdIzqK
— The Wire (@thewire_in) July 18, 2026
اس دوران سی جے پی نے اپنے مطالبات میں بھی تبدیلی کی ہے۔ پہلے پارٹی صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن پولیس کی کارروائی کے بعد اب اس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیاہے۔
Modi must resign!
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 18, 2026
واضح ہو کہ مرکزی وزارت داخلہ نے جمعہ کو دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ 1994 بیچ کے آئی پی ایس افسر انوراگ کمار کو دہلی پولیس کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔
قیاس آرائیاں تھیں کہ ستیش گولچا کی قبل از وقت رخصتی کا تعلق جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج سے ہے۔ نئے کمشنر کی تقرری کے صرف ایک دن بعد یہ کارروائی کی گئی۔
چار کارکنوں کی بھوک ہڑتال اور طلبہ کی اس تحریک پر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مظاہرین مسلسل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نریندر مودی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ طلبہ کی آواز کو سنجیدگی سے سنے اور دہلی کے جنتر منتر سے اٹھنے والے مطالبات پر توجہ دے۔