ای-20 ایندھن پر مودی حکومت کی وضاحت کے باوجود نہیں ملے ان چھ سوالوں کے جواب

ای-20 ایندھن پر مودی حکومت کی پریس کانفرنس کے باوجود کئی اہم سوالوں کے جواب اب بھی ندارد ہیں۔ پرانی گاڑیوں کے تحفظ، کم مائلیج کے باوجود یکساں قیمت،ایگریکلچر سبسڈی اور گراؤنڈ واٹر کی لاگت، ذخیرہ اندوزی سے متعلق خطرات، نیتی آیوگ کی ہٹائی گئی رپورٹ اور صارفین کو معاوضے جیسے امور پر حکومت نے واضح جواب نہیں دیا ہے۔

ای-20 ایندھن پر مودی حکومت کی پریس کانفرنس کے باوجود کئی اہم سوالوں کے جواب اب بھی ندارد ہیں۔ پرانی گاڑیوں کے تحفظ، کم مائلیج کے باوجود یکساں قیمت،ایگریکلچر سبسڈی اور گراؤنڈ واٹر کی لاگت، ذخیرہ اندوزی سے متعلق خطرات، نیتی آیوگ کی ہٹائی گئی رپورٹ اور صارفین کو معاوضے جیسے امور پر حکومت نے واضح جواب نہیں دیا ہے۔

ای-20 ایندھن کی لازمی پالیسی کے خلاف 5 جولائی کو دہلی میں ہوا ایک احتجاجی مظاہرہ ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: 4 جولائی 2026 کو ای-20 ایندھن کے حوالے سے مودی حکومت کی پریس بریفنگ واضح طور پر ڈیمیج کنٹرول کی کوشش تھی۔ اس میں پیٹرولیم وزارت کے سینئر حکام، آٹوموبائل انڈسٹری کے نمائندوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اہلکاروں نے باری-باری صارفین کے خدشات کو ’ریج بیٹ‘(یعنی لوگوں کو بھڑکانے کے لیے پھیلایا جانے والا مواد) قرار دے کر مسترد کیا، جبکہ ای-20 پروگرام کے معاشی فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

یہ پروگرام میڈیا اور عام صارفین کو بھروسہ دلانے کے مقصد سے منعقد کی گی ایک پی آرمہم تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس میں آٹوموبائل کمپنیوں کے نمائندے بھی موجود تھے، جو لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کی گاڑیوں کے انجن پوری طرح سے محفوظ ہیں۔

تاہم، تقریباً 90  منٹ تک چلی اس پریس بریفنگ میں کئی اہم سوالوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

یہ بریفنگ ایسے وقت میں ہوئی، جب ملک بھر سے ای-20 کے حوالے سے شکایتیں سامنے آ رہی ہیں اور سپریم کورٹ میں چل رہی شنوائی کے دوران یہ خبر بھی آئی تھی کہ حکومت نے ای-20 کو ایک ’تجربہ‘قرار دیا ہے، حالاں کہ حکومت اب اس دعوے کی تردید کر رہی ہے۔

بریفنگ کے دوران حکام نے لگاتار یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ پورے ملک میں ای-20 کا نفاذ ہر لحاظ سے آسان اور سب کے لیے مفید ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ای-20 کے حوالے سے قیمت، حفاظتی معیار، ریگولیٹری یکسانیت اور صارفین کو ہونے والے نقصان کی بھرپائی جیسے کئی اہم سوال ہیں، جن پر اس پریس بریفنگ میں کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا۔

پی آئی بی کی جانب سے نشر کیے گئےای -20 پر پریس بریفنگ کے ویڈیو سے لیا گیا اسکرین شاٹ۔

اگر ای-20، ای-10 اور ای-0 گاڑیوں کے لیے محفوظ ہے تو پھر الگ سے ای-20 سرٹیفائیڈ گاڑیاں بنانے اور انہیں لازمی قرار دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟

پریس کانفرنس میں حکومت اور آٹوموبائل انڈسٹری کے نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ 2023 سے پہلے بنے ای-10 کمپٹیبل گاڑیوں کے لیے بھی ای-20 پوری طرح محفوظ ہے۔ اس کی حمایت میں انہوں نے ماروتی سوزوکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے ای-20 ایندھن کے ساتھ 1.5 کروڑ پرانی گاڑیوں کی سروسنگ کی ہے اور ان میں ایندھن سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

تاہم، یہ دعویٰ موجودہ ریگولیٹری نظام سے میل نہیں کھاتا۔

قواعد کے مطابق اپریل 2023 کے بعد بننے والی تمام گاڑیوں کا ای-20 سرٹیفائیڈ ہونا لازمی ہے۔ اس کے لیے الگ مٹیریل کمپٹیبیلیٹی اور انجن ٹیوننگ کے معیار طے کیے گئے ہیں۔

اگر حقیقت میں ای-20 بغیر کسی تبدیلی کے تمام پرانی گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے تو پھر الگ سے ای-20 سرٹیفکیشن سسٹم بنانے، نئے تکنیکی معیار طے کرنے اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو اپنی پروڈکشن لائن میں تبدیلی (ری ٹولنگ) کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

ایک طرف حکومت پرانی گاڑیوں کے لیے ای-20 کو پوری طرح سے محفوظ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف نئی گاڑیوں کے لیے ای-20 سرٹیفکیشن لازمی کیا گیا ہے۔ ان دونوں باتوں کا بیک وقت موجود ہونا یہ اشارہ دیتا ہے کہ یا تو ریگولیٹری نظام ضرورت سے زیادہ سخت بنایا گیا ہے، یا پھر 2023 سے پہلے کی گاڑیوں کے لیے ای-20 کے تحفظ کے بارے میں اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہواجا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایتھنول پرانی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ربڑ کی سیل، پلاسٹک کے پرزوں اور فیول لائنز پر زنگ آلود (کورو سیو) اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اگرچہ ای-10 کے موافق بنی گاڑی ای – 20 کے استعمال کرنے سے فوراً خراب نہ ہو، لیکن طویل مدت میں ای-20 اس کے پرزوں کے گھسنے اور خراب ہونے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔

اس کے علاوہ نیتی آیوگ کے اپنے اعداد و شمار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ای-10 کے لیے ڈیزائن کی گئی گاڑیوں میں ای-20 استعمال کرنے سے فیول ایفیشنسی میں 1 سے 2 فیصد تک کی کمی آتی ہے۔ جبکہ اصل صورت میں کئی صارفین نے اس سے بھی زیادہ مائلیج کم ہونے کی شکایت کی ہے۔

اگر ایتھنول پیٹرول سے سستا ہے (58-72 روپے فی لیٹر بنام 102-115 روپے فی لیٹر)، تو پھر ای-20 کی قیمت عام پیٹرول سے کم کیوں نہیں؟

تیل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سی) ایتھنول کی خرید 57.97 روپے فی لیٹر (سی-ہیوی مولاسیس سے بنے ایتھنول) سے لے کر 71.86 روپے فی لیٹر (مکئی پر مبنی ایتھنول) تک کی قیمت پر کرتی ہیں، جبکہ دہلی میں پیٹرول کی خوردہ قیمت تقریباً 102 روپے فی لیٹر ہے۔

یعنی، ایتھنول فی لیٹر پیٹرول کے مقابلے  20 سے 40 فیصد تک سستا ہے اور ای-20 ایندھن میں اس کی حصہ داری 20 فیصد ہے۔ اس کے باوجود پیٹرول پمپ پر ای-20 کی قیمت میں کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آتی۔

مودی حکومت اب تک یہ واضح نہیں کر پائی کہ ایسی کون سی قیمت سازی (پرائسنگ) کا نظام ہے جس کی وجہ سے ایتھنول کی کم لاگت کا فائدہ صارفین تک نہیں پہنچ رہا ہے۔

حال ہی میں مرکزی پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا تھا کہ ای-85، ای-20 کے مقابلے میں 20 روپے فی لیٹر سستا ہوگا، کیونکہ اس کی کیلوریفک ویلیو کم ہے۔ یہ بیان بالواسطہ طور پر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایندھن میں ایتھنول کی مقدار اس کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب ای-20 میں بھی ایتھنول کی 20 فیصد ملاوٹ ہے تو اس کی قیمت ای-10 کے برابر کیوں بنی ہوئی ہے؟

یہاں سب سے بڑا سوال  جس کا جواب ندارد ہے انرجی ڈینسٹی کا ہے۔ ایتھنول میں فی لیٹر خالص پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم توانائی ہوتی ہے۔ اس لیے جب ایندھن میں 20 فیصد ایتھنول ملایا جاتا ہے تو گاڑی کا مائلیج گھٹ جاتا ہے۔

برازیل جیسے ممالک میں، جہاں فلیکس فیول گاڑیوں کا وسیع استعمال ہوتا ہے، وہاں زیادہ ایتھنول والے ایندھن پر بھاری سبسڈی دی جاتی ہے تاکہ ان کی قیمت خالص پیٹرول کے مقابلے میں کافی کم رہے اور مائلیج میں ہونے والے نقصان کی تلافی ہو سکے۔

اس کے برعکس، ہندوستان میں صارف مائلیج میں کمی کا نقصان بھی برداشت کرتا ہے اور ای-20 کے لیے تقریباً وہی قیمت بھی ادا کرتا ہے جو عام پیٹرول کے لیے۔

اس نظام میں خام تیل کی درآمد میں کمی سے ہونے والی بچت کا فائدہ صارفین کو نہیں ملتا بلکہ اس کا فائدہ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) اور حکومت کو ہوتا ہے۔

اگر ایتھنول کی پیداوار کے لیے زراعتی سبسڈی، درآمد شدہ کھادوں اور زیادہ پانی کی ضرورت والی فصلوں کا استعمال ہو رہا ہے تو یہ پروگرام معیشت اور صارفین کے لیے بچت کیسے کر رہا ہے؟

ایتھنول کی پیداوار بنیادی طور پر گنے، چاول اور مکئی جیسی فصلوں سے ہوتی ہے، جن میں پانی اور کھاد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ان فصلوں کو بجلی، آبپاشی اور کھادوں پر سرکاری سبسڈی ملتی ہے، جبکہ یوریا اور ڈی اے پی جیسی کئی کھادیں بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

اس کے باوجود حکومت اب تک کوئی جامع لاگت و فائدہ تجزیہ (کاسٹ-بینیفٹ اینالیسس) عوام کے سامنے پیش نہیں کر سکی، جس میں درج ذیل پہلوؤں کو  شامل کیا گیا ہو –

(الف)خام مال (فیڈ اسٹاک) کے طور پر استعمال ہونے والی فصلوں پر دی جانے والی سرکاری سبسڈی

(ب)ایتھنول کی خریداری کے لیے دی گئی قیمت کی ضمانت اور ایتھنول بلینڈنگ پروگرام(ای بی پی) کے آپریشن پر آنے والا خرچ

(ج)غذائی پیداوار سے پانی کے دوسرے استعمال کی طرف موڑے جانے، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور خوراک کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات

(د)اور ایتھنول پیداوار کے لیے اگائی جانے والی فصلوں میں استعمال ہونے والی درآمدی کھادوں کی لاگت

ان تمام پہلوؤں کے مجموعی جائزے کے بغیر یہ دعویٰ کرنا کہ ایتھنول پروگرام معیشت اور صارفین کے لیے خالص بچت کا سودا ہے، اب بھی ایک حل طلب مسئلہ ہے۔

اصل میں ایتھنول پروگرام خام تیل کی درآمدات پر ہونے والے اخراجات کو کم کر کے اس کا بوجھ ایگریکلچر سبسڈی پر ڈال دیتا ہے۔ یہ پورا نظام بنیادی طور پر ایسی فصلوں پر منحصر ہے جن میں پانی کی شدید کھپت ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، گنے سے ایک لیٹر ایتھنول بنانے میں تقریباً 3000 لیٹر پانی لگتا ہے، جبکہ چاول سے ایک لیٹر ایتھنول کی پیداوار کے لیے 10,000 لیٹر سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر اس میں گراؤنڈ واٹرنکالنے کے لیے استعمال ہونے والی مفت یا رعایتی بجلی، ان فصلوں کی کاشت میں استعمال ہونے والی سبسڈی والی کھادیں، اور کسانوں کو دی جانے والی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی لاگت بھی شامل کر دی جائے تو ایتھنول کی حقیقی قیمت کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔

ان پوشیدہ اخراجات کو شامل کیے بغیر یہ دعویٰ کرنا کہ خام تیل کی درآمد میں کمی سے ملک کی زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے، مبالغہ آمیز  دعویٰ ہو سکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، ہندوستان توانائی کی سلامتی کا دعویٰ کرنے کے لیے اپنے تیزی سے کم ہوتے گراؤنڈ واٹر کے ذخائر کو ایندھن کے ٹینک تک پہنچا رہا ہے۔

اب تک مودی حکومت نے یہ عوامی طور پر واضح نہیں کیا ہے کہ کیا ایتھنول پروگرام کافل لائف-سائیکل اکنامک اسیسمنٹ کیا گیا ہے، جس میں ایگریکلچر سبسڈی اور انوائرنمنٹل ایکسٹرنالیٹیز) کو بھی شامل کیا گیا ہو۔

اگر ایسا کوئی تجزیہ کیا گیا ہے تو اس کے نتائج کیا ہیں، اس بارے میں بھی حکومت نے کوئی جانکاری نہیں دی ہے۔

ایتھنول کی نمی جذب کرنے (ہائگرواسکوپک) کی فطرت کو دیکھتے ہوئے، ای-20 ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل کے دوران پانی کی ملاوٹ کو روکنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) نے کیا خصوصی انتظامات کیے ہیں؟

ایتھنول ماحولیات سے نمی آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ سے ای-20 ایندھن میں فیز سیپریشن (پرتیں الگ ہو جانا) جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جس میں پانی اور ایتھنول پیٹرول سے الگ ہو کر ٹینک کے نچلے حصے میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سے مائیکروبیل پیدا ہونے لگتے ہیں اور انجن میں زنگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ انتہائی کورروسیو مرکب ایندھن کے ٹینک میں زنگ پیدا کر سکتا ہے اور فیول انجیکٹر جیسے اہم پرزوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دراصل، ذخیرہ اندوزی اور نمی سے متعلق یہی خطرہ وہ بنیادی بات تھی جس کی بنا پر بھوٹان نے باضابطہ طور پر بھارتی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے ای-20 ایندھن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پی آئی بی نے ای-20 ایندھن سے کیڑے پیدا ہونے اور زنگ لگنے سے متعلق وائرل دعووں کو تو مسترد کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ملک بھر کے تقریباً 90,000 پیٹرول پمپوں پر پانی کی ملاوٹ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کون سے خصوصی بنیادی ڈھانچے، معیار کنٹرول نظام اور نگرانی کے طریقہ کار تیار کیے ہیں۔

ایندھن میں پانی کی آمیزش کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے معیاری اقدامات بین الاقوامی سطح پر اچھی طرح قائم ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ای-20 کی زیادہ نمی جذب کرنے والی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈین او ایم سی نے ای-10 یا عام پیٹرول (ای-0) کے مقابلے میں کوئی اضافی یا زیادہ سخت ذخیرہ اندوزی اور معیار کنٹرول پروٹوکول نافذ کیے ہیں یا نہیں۔

عدالتی کارروائی میں جس 2021 کی نیتی آیوگ کی ایتھنول بلینڈنگ سے متعلق مشاورت کا حوالہ دیا گیا تھا، اسے بعد میں کیوں ہٹایا گیا یا عوامی رسائی سے باہر کیوں کیا گیا؟

ای-20 کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے نیتی آیوگ کی 2021 کی ’رپورٹ روڈ میپ فار ایتھنول بلینڈنگ ان انڈیا 2020–25 ‘ رپورٹ کا حوالہ دیا تھا۔ اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ای-20 ملا ہوا ایندھن استعمال کرنے سے کاروں کی فیول ایفیشنسی میں 6–7 فیصد اور موٹر سائیکلوں میں 3–4 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں نیتی آیوگ نے واضح طور پر سفارش کی تھی کہ پیٹرولیم وزارت پرانی گاڑیوں کے لیے ای-10 پیٹرول کی دستیابی بنائے رکھنے کا منصوبہ نوٹیفائی کرے۔ دوسری طرف، پیٹرولیم وزارت نے بعد میں ای-20 کے ماحولیاتی فوائد کے حق میں نیتی آیوگ کے لائف سائیکل ایمیشن اسٹڈی کا حوالہ دیا۔

تاہم، کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس اصل مشورے یا اس سے متعلق ویب پیج کو بعد میں ہٹا دیا گیا یا وہ اب عوامی طور پر دستیاب نہیں ہے، جس سے شفافیت کے بارے میں سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس اہم پالیسی دستاویز کو عوامی رسائی سے کیوں ہٹایا گیا، کیا اس میں کیے گئے اندازوں کو بعد میں ترمیم کیا گیا تھا، یا پھر بعد میں دستیاب ہونے والے اعداد و شمار نے فیول ایفیشنسی میں کمی سے متعلق اس کے نتائج کی تصدیق کی یا ان کی تردید کی۔

ای-20 کی وجہ سے مائلیج میں کمی اور رکھ رکھاؤکے اخراجات میں اضافے پر صارفین کو کیا معاوضہ یا ریلیف دستیاب ہے؟

کئی سروے کے مطابق، 2023 سے پہلے بننے والی گاڑیوں کے 55 سے 66 فیصد مالکان نے ای – 20 کے نفاذ کے بعد 10 فیصد سے زیادہ مائلیج میں کمی اور گاڑی کے پرزوں کے زیادہ گھسنے (ویئر اینڈ ٹیئر) کی شکایت کی ہے۔

حالاں کہ ،مودی حکومت نے ان دعووں کو’بے بنیاد‘اور’ریج بیٹ‘ قرار دے کر مسترد کیا ہے، لیکن اس نے اب تک ان اہم سوالوں کے جواب نہیں دیے کہ-

(الف) اگر کسی صارف کی گاڑی کا مائلیج تصدیق شدہ طور پر کم ہو جائے تو کیا وہ معاوضے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

(ب) اگر ای -20 کے استعمال سے انجن کو نقصان پہنچے تو کیا گاڑی کی انشورنس اس نقصان کو کور کرے گی؟(حالاں کہ پی آئی بی نے ای – 20 کو محفوظ قرار دیا ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح رہنما اصول جاری نہیں کیے گئے ہیں۔)

(ج) اور جب زیادہ تر پیٹرول پمپوں پرای – 0 یا ای – 10 پیٹرول دستیاب ہی نہیں، تو صارفین کے پاس اپنی پسند کا ایندھن منتخب کرنے کا اختیار کیوں ختم کر دیا گیا ہے؟

سپریم کورٹ نے ایتھنول سے پاک پیٹرول کا مانگ کرنے والی  درخواستوں کو قومی مفاد اور کسانوں کے فائدے کا حوالہ دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا، لیکن اس سے اس انفرادی صارف کے معاشی مسئلے کا حل نہیں نکلتا، جسے ای-20 کی وجہ سے زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ خام تیل کی درآمد میں کمی اور غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت جیسے جن فوائد کو عوامی مفاد قرار دیا جا رہا ہے، ان کا بوجھ عام شہری کیوں اٹھائیں؟ دوسرے لفظوں میں، اگر اس پالیسی کے وسیع معاشی فوائد پورے ملک کو ملنے ہیں تو کم مائلیج اور بڑھے ہوئے رکھ رکھاؤ کے اخراجات جیسی انفرادی معاشی لاگت صرف صارفین پر ہی کیوں ڈالی جا رہی ہے؟

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔