اتر پردیش: ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے الزام میں تین خواتین جیل میں، فرانزک رپورٹ نہیں؛ اہل خانہ نے کہا – سازش کے تحت پھنسایا

کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش  کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔

کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش  کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

نئی دہلی:24 جون کو اتر پردیش کے کوشامبی ضلع کے سرائے عاقل تھانہ حلقہ کے گاؤں پنارا گوپال پور میں شائستہ، شمع اور فاطمہ معمول کے  مطابق  گھریلو کاموں میں مصروف تھیں کہ اچانک پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کی کارروائی کا مرکز گھر کا باورچی خانہ تھا، جہاں اس وقت شمع چولہے پر سالن پکا رہی تھیں، جو پولیس کے مطابق ’ممنوعہ گوشت‘ تھا۔ کارروائی گھر کے فریج تک بھی پہنچی، جہاں سے پولیس نے مبینہ ممنوعہ گوشت، جس  کو گائے کا گوشت (بیف)بتایا جا رہا ہے، بھی ضبط کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تینوں خواتین کو گائے کا گوشت پکانے کے شبہ میں اتر پردیش پریوینشن آف کاؤ سلاٹر ایکٹ کی دفعات کے تحت گرفتار کر لیا گیا، اور عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔

تاہم، جس گوشت کو گائے کا گوشت بتا تے ہوئے پولیس نے کارروائی کی،  اس کی فرانزک جانچ رپورٹ اب تک نہیں آئی ہے۔ یعنی ابھی تک سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ برآمد گوشت کس جانور کا تھا۔

دوسری جانب گرفتار خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش کی وجہ سے پورے خاندان کو سازش کے تحت پھنسایا ہے۔

کہاں سے شروع ہوا معاملہ

بتایا جارہا  ہے کہ کنیلی چوکی کے انچارج سب انسپکٹر جتیندر پرتاپ سنگھ کو ایک ’مخبر‘ سے اطلاع ملی تھی کہ پنارا گوپال پور گاؤں کے ایک گھر میں گائے کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملنے کے بعد ایک ٹیم موقع پر پہنچی۔

سرائے عاقل تھانے میں 24 جون کو ایف آئی آر میں درج  ہے کہ مخبر نے متعلقہ گھر کی نشاندہی کی اور وہاں سے چلا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی پولیس ٹیم گھر کے قریب پہنچی، وہاں سے چار مرد بھاگنے لگے۔ پولیس نے ان کا تعاقب کیا، لیکن ’گنجان آبادی‘ ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے بعد پولیس گھر کے اندر داخل ہوئی، جہاں تین خواتین موجود تھیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ گھر کے اندر ایک برتن میں پکا ہوا گوشت اور اس کے قریب ایک پلاسٹک کی تھیلی میں کچا گوشت رکھا ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موقع سےتقریباً ایک کلو پکا ہوا اور ایک کلو کچا گوشت برآمد کیا گیا۔ گوشت کے نمونے جانچ کے لیے ویٹرنری کی ٹیم کے حوالے کیے گئے، جبکہ باقی گوشت کو ضابطے کے مطابق دفن کر دیا گیا۔

اسی بنیاد پر پولیس نے اتر پردیش پریوینشن آف کاؤ سلاٹر ایکٹ، 1955 کی دفعات 3، 5 اور 8 کے تحت معاملہ درج کیا۔ اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر دفعہ 8 کے تحت تین سے دس سال تک سخت قید اور تین سے پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہے۔

تینوں خواتین کے علاوہ ایف آئی آر میں ان کے شوہر-شمع کے شوہر محمد ارشد عرف چھیدو، شائستہ کے شوہر محمد عرفان، فاطمہ کے شوہر بڑکواور پڑوس کے گاؤں خان پور کے رہائشی سنے کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ سنے کے علاوہ باقی تمام لوگ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

شائستہ  کے ساتھ ان کا ڈیڑھ سالہ بچہ بھی پولیس کی حراست میں ہے۔

پولیس کی حراست میں خواتین۔(فوٹو: ارینجمنٹ)

ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ برآمد گوشت کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس رپورٹ کے لکھے جانے تک فرانزک رپورٹ سامنے نہیں آئی  ہے۔

جس نے گوشت لا کر دیا، اسی نے پولیس کو اطلاع  دی

گرفتار خواتین کے خاندان کے ایک فرد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی وائر  سے بات چیت میں پولیس کی پوری کہانی کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش  کی وجہ سے ان سب کو سازش کے تحت پھنسایا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ جس شخص کو پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں ’مخبرخاص  ‘ بتایا ہے، مبینہ طور پر وہی گوشت لے کر آیا تھا۔

رشتہ دار نے کہا،’یہ سارا واقعہ کروانے والا ہمارے ہی گاؤں کا ایک آدمی ہے۔ پہلے وہ ہماری لڑکیوں کے چکر میں ہمارے گھر آنا جانا شروع کیا تھا، اسی بات کو لے کرجب اسے گھر آنے سے روکا گیا تو اس سے جھگڑا ہو گیا تھا۔‘

خاندان کے مطابق، کچھ عرصے سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات معمول پر آ رہے تھے۔ تاہم، ایک رشتہ دار کا الزام ہے کہ اسی بھروسے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے پورے خاندان کو پھنسانے کی منصوبہ بندی کی۔

انہوں نے کہا،’وہ کہیں سے گوشت لے کر آیا اور بولا کہ اگر چاہیے تو رکھ لو۔ خاندان نے سوچا کہ محرم کا موقع ہے اور کوئی کھانے پینے کی چیز دے رہا ہے تو اسے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی گوشت میں سے کچھ پکا لیا گیا اور کچھ بعد کے لیے رکھ دیا گیا۔ ‘

رشتہ دار کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اسی شخص نے پولیس چوکی میں فون کر کے اطلاع دے دی۔

تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی  ہےکیونکہ ایف آئی آر میں مخبر کی پہچان کا کوئی ذکر نہیں ہے اور پولیس نے بھی اس بارے میں جانکاری دینے سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔

ملزمین کے گھر میں پولیس۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

ملزم خاندان کے ایک رشتہ دار نے اس شخص کی شناخت گاؤں کے محمد مطلوب کے طور پر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اسٹیل کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

دی وائر نے محمد مطلوب سے رنجش کے الزامات کے بارے میں ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ الزامات سے متعلق سوال سننے کے بعد مطلوب نے کوئی جواب دینے کے بجائے فون اپنی مان کو دے دیا۔ ان کی ماں نے ملزم خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا،’ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ میں ایک غریب عورت ہوں، میں نے بڑی محنت سے اپنے بچوں کی پرورش کی ہے۔‘

اس کے بعد مطلوب سے فون اور پیغامات کے ذریعے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے کال منقطع کر دی اور کسی بھی پیغام کا جواب نہیں دیا۔ مطلوب کے بارے میں زیادہ جانکاری اور دونوں خاندانوں کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازعہ کے حوالے سے گاؤں کے لوگ اور پڑوسی بھی بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

پولیس اور خاندان کے دعووں میں فرق

ایف آئی آر میں پولیس نے لکھا ہے کہ گھر میں موجود خواتین نے پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر بتایا کہ برآمد کیا گیا گوشت گائے کا ہے اور اسے خاندان کے دوسرے لوگ باہر سے لائے تھے۔

دوسری جانب، خاندان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا اور پولیس نے سازش کے تحت انہیں ملزم بنا دیا۔ خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کے پہنچنے کے وقت بڑی تعداد میں پولیس  اہلکار گھر میں داخل ہوئے تھے۔

رشتہ دار نے کہا،’ تقریباً دس سے بارہ پولیس اہلکار اچانک گھر میں گھس آئے۔پہلےکوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی، بعد میں جب خواتین کو لے جایا گیا تو خاتون پولیس آئی۔‘

تاہم، ایف آئی آر میں خاتون پولیس اہلکاروں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ نہیں آئی، پھر بھی جیل میں ہیں

خاندان کا کہنا ہے کہ برآمد گوشت کی جانچ رپورٹ آنے سے پہلے ہی خواتین کو جیل بھیج دیا گیا۔ ملزمین کے وکیل شیو پرساد ترپاٹھی کا بھی کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک برآمد گوشت کی جانچ رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا،’سائنسی جانچ کی رپورٹ کے بغیر یہ کیسے مان لیا گیا کہ وہ گائے کا گوشت تھا؟‘

پولیس نے خود ایف آئی آر میں ذکر کیا ہے کہ برآمد گوشت کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے، لیکن خبر لکھے جانے تک اس رپورٹ کے نتائج عوامی نہیں کیے گئے تھے۔

گاؤں میں لوگ خوفزدہ ہیں

ملزم خاندان کے رشتہ دار کے مطابق، یہ خاندان معاشی طور پر انتہائی معمولی پس منظر رکھتا ہے۔ خاندان کے کچھ افراد روزگار کے لیے ممبئی میں رہتے ہیں، جہاں وہ سلائی کا کام کرتے ہیں۔

ان کے مطابق، گرفتار خواتین میں سے ایک کے شوہر جو اس مقدمے میں بھی ملزم ہیں، واقعہ سے صرف ایک دن پہلے ہی ممبئی سے گاؤں واپس آئے تھے۔ خاندان کے دیگر افراد گاؤں میں رہ کر کھیتی باڑی اور چھوٹے موٹے کاروبار کے ذریعے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

رشتہ دار کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد گاؤں کا ماحول ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی بھی کھل کر ان کے حق میں سامنے آنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا،’گاؤں میں کوئی شخص ان کی ضمانت کی پیروی کرنے تک نہیں جا رہا ہے۔ اگر ہمارا نام سامنے آ گیا تو پولیس ہمیں بھی پریشان کرے گی۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ واقعہ سے چند روز قبل ممبئی سے گاؤں آنے والی خاندان کی دوسری خواتین کو بھی پولیس اس معاملے میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق،’پولیس کہہ رہی ہے کہ تمہارا نام بھی ڈال  دیں گے، تمہیں بھی گرفتار کر لیں گے۔‘

گرفتاری کے بعد گھر کے باہر جمع ہجوم۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

خاندان کا دعویٰ ہے کہ اسی خوف کی وجہ سے بچوں سمیت خاندان کے تمام افراد اور کئی رشتہ دار بھی گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

رشتہ دار نے کہا،’اب ان کے گھر میں صرف دو بزرگ رہ گئے ہیں- گرفتار خواتین کے ساس اور سسر۔‘ دونوں بزرگوں کی عمر تقریباً نوے سال بتائی جا رہی ہے۔ ایک ویڈیو میں وہ کہتے نظر آتے ہیں،’ہمارے گھر میں صرف ہم دونوں بوڑھے ہی ہیں، اور کوئی نہیں ہے۔ ہم کیا کھائیں گے؟ ہمارے لیے کھانا کون بنائے گا؟ ہماری دیکھ بھال کون کرے گا؟ پولیس ہماری بہوؤں کو لے گئی ہے۔‘

باورچی خانے میں پولیس اور حاشیے پر شہری آزادی ؟

اس پورے معاملے میں فرانزک رپورٹ ایک اہم دستاویز ہوگی، جس کا اب بھی انتظار ہے۔

ملزمین کے وکیل شیو پرساد ترپاٹھی کہتے ہیں،’آخر پولیس کس بنیاد پر کسی کے گھر اور باورچی خانے میں داخل ہو کر اس کا کھانا دیکھ سکتی ہے؟ پولیس ایسا نہیں کر سکتی، اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی کو گرفتار کر سکتی ہے۔‘

سماجی کارکن اور کاروان محبت کے بانی ہرش مندر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف برآمد ہونے والے گوشت کا نہیں، بلکہ شہریوں کی پرائیویسی اور ریاستی اختیارات کے استعمال کا بھی ہے۔ ان کے مطابق،’اگر پولیس کسی کے گھر کے اندر جا کر یہ طے کرنے لگے کہ لوگ کیا پکا رہے ہیں یا کیا کھا رہے ہیں، تو یہ شہری آزادیوں سے متعلق ایک نہایت سنگین سوال بن جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں،’کیا پولیس کسی کے گھر میں گھس کر یہ دیکھے گی کہ وہ کیا پکا رہا ہے، کیا کھا رہا ہے، اور پھر اسے جانچ کے لیے بھیجے گی؟ یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے۔‘

مندر نے اس واقعہ کا موازنہ 2015 میں ’نوئیڈا کے دادری میں پیش آنے والے اخلاق قتل کیس سے کرتے ہوئے کہا، دس سال پہلے گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں اخلاق کی لنچنگ ہوئی تھی۔ اس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ حقیقت میں وہ گوشت کس جانور کا تھا۔ فرانزک رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ وہ گائے کا گوشت تھا، لیکن اس سے پہلے ہی اسے مار دیا گیا تھا۔‘

مندر نے مزید کہا،’اس وقت پولیس ایک طرح سے کنارے کھڑی تھی اور خاموشی سے ہجوم کی حمایت کر رہی تھی۔ لیکن آج انہیں ایسے ہجوم کی ضرورت بھی نہیں رہی، اب وہی کام پولیس خود کر رہی ہے۔‘

پولیس کا موقف

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ایف آئی آر درج کرنے والے سب انسپکٹر جتیندر پرتاپ سنگھ نے مخبر کے بارے میں بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کبھی بھی مخبر کی شناخت عوام کے سامنے ظاہر نہیں کرتی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ خاندان نے گاؤں کے ایک شخص پر مخبر ہونے کا الزام لگایا ہے، تو انہوں نے کہا،’اگر خاندان کسی پر شک کر رہا ہے تو یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ پولیس نے کسی مخبر کی شناخت ظاہر نہیں کی، پھر انہیں کیسے معلوم کہ کون شخص مخبر ہے؟‘

برآمد گوشت کی فرانزک رپورٹ آنے سے پہلے گرفتاری کیے جانے کے بارے میں جتیندر پرتاپ سنگھ نے کہا،’فرانزک رپورٹ آنے میں وقت لگتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خواتین نے تفتیش کے دوران خود اعتراف کیا تھا کہ برآمد ہونے والا گوشت گائے کا تھا۔ انہوں نے کہا،’خواتین نے خود بتایا کہ ان کے گھر والے گائے کا گوشت لائے تھے اور وہ اسے پکا رہی تھیں۔ انہوں نے یہ بات تسلیم کر لی تھی۔‘

تاہم، وکیل شیو پرساد ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات دباؤ یا خوف کے تحت بھی دیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’خواتین اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں، اب پولیس ان سے جو چاہے کہلوا سکتی ہے۔‘

ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ پولیس جس مبینہ اعتراف جرم کا حوالہ دے رہی ہے، وہ عدالت میں بذات خودقابل قبول ثبوت نہیں مانا جائے گا۔ ترپاٹھی کے مطابق، تینوں خواتین کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی جا چکی ہے۔

دریں اثنا، جتیندر پرتاپ سنگھ نے چھاپے  ماری اور کارروائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ مزید سوال کیے جانے پر انہوں نے الزام لگانے والے انداز میں یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ رپورٹر کے سوال ملزم خاندان کی طرفداری کرتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔

اس معاملے پر دی وائر نے سرائے عاقل تھانے کے انچارج (ایس ایچ او) شیر سنگھ سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے گرفتاری کی تصدیق کرنے کے علاوہ معاملے پر مزید تبصرہ یا معلومات دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے متعلق معلومات علاقے کے سرکل آفیسر ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متعلقہ افسر کا منگل (30 جون) کو تبادلہ ہو چکا ہے۔

دی وائر سے بات چیت میں اس وقت کے علاقائی افسر (سی او) ابھشیک سنگھ نے کہا کہ پولیس نے مخبر کی اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی۔ ان کے مطابق، ’خاندان کے پاس سے گوشت برآمد ہوا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ ہاں، یہ گائے کا گوشت ہے۔ ڈاکٹر نے بھی ابتدائی طور پر بتایا کہ ایسا ہی لگ رہا تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ فارنزک رپورٹ آنے سے پہلے گرفتاری کیسے کی گئی، تو انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس خاطرخواہ ثبوت تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ برآمد گوشت گائے کا گوشت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمین کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا،’جب مجسٹریٹ مطمئن ہوئے، تبھی عدالتی ریمانڈ دیا گیا۔‘

خاندان کے اس الزام پر کہ پولیس رشتہ داروں کو بھی ہراساں کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ فی الحال پولیس صرف نامزد ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔’جو نامزد ملزم ہیں، انہیں گرفتار کیا ہی جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ فی الحال ایف آئی آر میں کسی نامعلوم ملزم کا ذکر نہیں ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔’اس وقت پولیس کی تفتیش کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ گوشت کہاں سے آیا، جانور کو کہاں ذبح کیا گیا، اور اس میں مزید کون کون شامل تھا۔ جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

افسر نے یہ بھی کہا کہ ملزمان میں سے ایک کے خلاف پہلے سے ہی گئو ذبیحہ انسداد قانون کے تحت مقدمے درج ہیں، اور پولیس اس پہلو کو بھی تفتیش کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تبادلے کی وجہ سے وہ اب اس معاملے میں مزید خصوصی معلومات فراہم نہیں کر سکتے، اور کہا کہ اس سلسلے میں جانچ افسر سے رابطہ کیا جائے۔

گرفتاری پر اٹھنے والے سوال کے جواب میں جانچ افسر بپلیش سنگھ نے کہا کہ پولیس بلا وجہ کسی کو گرفتار نہیں کرتی۔ ان کے مطابق،’کارروائی صرف اسی شخص کے خلاف کی جاتی ہے جو ملزم ہوتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ فرانزک رپورٹ آنے سے پہلے کارروائی کس بنیاد پر کی گئی، تو انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے کھان پان سےاس کے خاندان اور آس پاس کے لوگ واقف ہوتے ہیں۔’جو غلط ہوتا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہوتا ہے، اسے الگ سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں متعلقہ مواد ملا تھا، اسی بنیاد پر ہم نے کارروائی کی،‘ ان کا کہنا تھا۔

خاندان کا ایک فرد پہلے بھی گئو کشی کے معاملے میں پھنساہے

ایف آئی آر میں نامزد محمد ارشد عرف چھیدن کے خلاف اس سے قبل بھی دو مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ دستیاب عدالتی دستاویزات کے مطابق، ان کے خلاف 2014 اور 2016 میں سرائے عاقل تھانے میں اسی قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، اور دونوں میں وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

سال 2018 کے ایک مقدمے میں پولیس نے ان کے خلاف اتر پردیش گینگسٹرز اور سماج مخالف سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی درخواست کی تھی۔ تاہم، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف پہلے سے درج مقدمے کی بنیاد پر کسی شخص کو گینگسٹر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے یہ بھی ذکر کیا کہ دستیاب ریکارڈ میں ایسا کوئی آزاد اور مضبوط ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ عادی مجرم ہے۔

اس سے قبل 2014 کے گئو ذبیحہ قانون سے متعلق ایک معاملے میں ضلع و سیشن عدالت، کوشامبی نے چھیدن کو ضمانت دی تھی۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ وہ دیگر افراد کے ساتھ مل کر 16 بیل ذبح کرنے کی غرض سے لے جا رہا تھا۔ جبکہ دفاع نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ضمانت کے فیصلے میں عدالت نے یہ بھی درج کیا تھا کہ ملزم کے قبضے سے نہ تو گائے کا گوشت برآمد ہوا تھا اور نہ ہی کسی جانور کے ذبح سے متعلق کوئی چیز۔ ان حقائق اور دیگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔