شرجیل امام نے 4 جولائی کو نچلی عدالت کی جانب سے ان کی دوسری باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ امام پر 2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ بڑی سازش کا الزام لگایا گیاہے اور یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

شرجیل امام۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ (17 جولائی) کو فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں شرجیل امام کی جانب سے دائر ضمانت کی عرضی پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن کی بنچ نے شرجیل امام کی اس اپیل پر نوٹس جاری کیا، جس میں انہوں نے 4 جولائی کو نچلی عدالت کی جانب سے ان کی دوسری باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
عدالت نے دہلی پولیس کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا اور معاملے کی اگلی سماعت 27 اگست مقرر کی۔
شرجیل امام نے اپنے وکیل ابراہیم اور طالب مصطفیٰ کے توسط سے نچلی عدالت کے 4 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) سمیر باجپئی نے 4 جولائی کو شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھیں کہ نئی ضمانت کی درخواستوں پر غور کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس بات کی جانچ بھی نہیں کر سکتی کہ جنوری میں سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔
اے ایس جے نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 5 جنوری کو گلفشاں فاطمہ معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور بعدمیں سید افتخار اندرابی معاملے میں دیے گئے فیصلے کے درمیان قانونی رائے کے اختلاف کو پہلے ہی سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کے سامنے بھیجا جا چکا ہے۔ جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، وہ کسی بھی بنیاد پر نئی درخواستوں پر غور نہیں کر سکتے۔
اندرابی کیس میں سپریم کورٹ نے 5 جنوری کے فیصلے میں اختیار کی گئی قانونی دلیل پر ’سنگین اعتراض‘ظاہر کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ممکن ہے اس فیصلے میں یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب (2021) کے فیصلے میں طے کیے گئے اصولوں پر درست طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ 2021 کے اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہو اور ملزم طویل عرصے سے جیل میں ہو، تو ایسی صورت میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 43 ڈی (5)کے تحت ضمانت پر عائد قانونی پابندیوں سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
جمعہ کی سماعت کے دوران شرجیل امام کے وکیلوں نے دلیل دی کہ نچلی عدالت کا یہ ماننا غلط تھا کہ نئی ضمانت کی درخواست پر غور کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ غلط ہے کیونکہ مقدمے کی کارروائی میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور اب تک فردجرم بھی عائد نہیں کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنوری میں جب سپریم کورٹ نے شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی، تب بھی مقدمہ اسی مرحلے پر تھا جہاں آج ہے۔
دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالت نے جنوری کے اپنے فیصلے میں مقدمے میں تاخیر کے مسئلے پر پہلے ہی غور کیا تھا اور اسی بنیاد پر ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرد جرم طے کرنے سے متعلق دلائل سننے میں کافی وقت لگ چکا ہے۔ راجو نے عدالت کو بتایا کہ دہلی پولیس ضمانت کی درخواست پر تفصیلی جواب داخل کرے گی۔
بتادیں کہ شرجیل امام کو 25 اگست 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کا الزام ہے کہ وہ فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے مبینہ ’کلیدی سازش کاروں‘میں شامل تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
یہ تشدد شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف جاری احتجاج کے دوران بھڑکا تھا۔