دہلی پولیس نے انٹرنیٹ صارفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے تیار کی ایس او پی

دہلی پولیس کی جانب سے تیار کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے ذریعے افسران انٹرنیٹ پر کسی بھی صارف کی سرگرمیوں سے متعلق میٹا ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آئی پی ڈی آر کو کال ڈیٹیل ریکارڈ، کے وائی سی کی تفصیلات اور موبائل ٹاور سے ملے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ’کسی بھی صارف کی سرگرمیوں کی مکمل تصویر‘ سامنے آ سکتی ہے۔

دہلی پولیس کی جانب سے تیار کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے ذریعے افسران انٹرنیٹ پر کسی بھی صارف کی سرگرمیوں سے متعلق میٹا ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آئی پی ڈی آر کو کال ڈیٹیل ریکارڈ، کے وائی سی کی تفصیلات اور موبائل ٹاور سے ملے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ’کسی بھی صارف کی سرگرمیوں کی مکمل تصویر‘ سامنے آ سکتی ہے۔

تصویر: انسپلاش / پی کمار 26

نئی دہلی:دہلی پولیس نے انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیٹیل ریکارڈ (آئی پی ڈی آر) اور ڈمپ ڈیٹا کے تجزیے کے لیے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر-ایس او پی تیار کیا ہے۔

اس کے تحت افسران انٹرنیٹ پر صارف کی سرگرمیوں سے متعلق میٹا ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس کے ایک سب انسپکٹر کے تیار کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آئی پی ڈی آر میں صارف کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کا میٹا ڈیٹا ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے تفتیش کار یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی مقدار میں ڈیٹا کا تبادلہ ہوا اور ٹائم اسٹیمپ کے ذریعے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ کون سی سروس یا ایپلی کیشن استعمال کی گئی۔

آئی پی ڈی آر کے ذریعے سورس اور ڈیسٹینیشن آئی پی ایڈریس، سورس اور ڈیسٹینیشن پورٹ، اپلوڈ اور ڈاؤن لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی مقدار، سیشن کا دورانیہ اور صارف کی شناخت سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے اخبار کو بتایا،’ہم نے یہ رہنما اصول جاری کیے ہیں کیونکہ آئی پی ڈی آر کے تجزیے میں اضافہ ہوا ہے۔ کسی واقعہ کے دوران، مثلاً لال قلعے پر ہونے والے دھماکے، کسی سنگین جرم یا بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے کسی جلوس کے دوران ڈمپ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔‘

پولیس کی جانب سے تیار کردہ ایک اور دستاویز میں وی پی این اور پراکسی سروسز کی شناخت سے متعلق رہنما اصول بھی دیے گئے ہیں۔

دہلی پولیس کے ہر ضلع میں الگ سائبر پولیس اسٹیشن موجود ہیں، جبکہ کرائم برانچ اور اسپیشل سیل میں بھی خصوصی سائبر یونٹس موجود ہیں۔ پولیس نے سنیچر (8 اگست) کو تمام تفتیشی افسران کے لیے یہ ایس او پی جاری کیں۔

ان رہنما اصولوں میں غیر معمولی یا ہائی رسک آئی پی ایڈریسز سے ہونے والے کنکشن، عام طور پر استعمال نہ ہونے والے پورٹس کے ذریعے ہونے والی ٹریفک، نسبتاً کم ڈیٹا کے ساتھ طویل عرصے تک جاری رہنے والے سیشن، غیر معیاری پورٹ پر ہونے والی انکرپٹڈ ٹریفک، ایک ہی ریموٹ آئی پی سے بار بار ہونے والے کنکشن اور غیر معمولی اوقات میں ڈیٹا کے غیر معمولی طور پر زیادہ استعمال جیسے معاملات کی شناخت بھی شامل ہے۔

اخبار کے مطابق، آئی پی ڈی آر کو کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر)، کسٹمر ایپلی کیشن فارم (کے وائی سی کی تفصیلات) اور موبائل ٹاور سے ملے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ’کسی بھی صارف کی سرگرمیوں کی مکمل تصویر‘ تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔