ہراسانی، تشدد اور بربریت: راہل گاندھی نے پولیس کارروائی کا سامنا کرنے والے مظاہرین کے لیے آواز بلند کی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کو حالیہ طلبہ تحریک میں شامل بعض نوجوان مظاہرین کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ نہ تو تشدد کر رہے تھے، نہ ہی ان کا رویہ جارحانہ تھا اور نہ ہی وہ  کسی کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔ اس کے باوجود انہیں مارا پیٹا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کو حالیہ طلبہ تحریک میں شامل بعض نوجوان مظاہرین کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ نہ تو تشدد کر رہے تھے، نہ ہی ان کا رویہ جارحانہ تھا اور نہ ہی وہ  کسی کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔ اس کے باوجود انہیں مارا پیٹا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔

نئی دہلی، 5 اگست 2026:لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی 10 جن پتھ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ ان کے ساتھ (بائیں سے دائیں) ریا اہیر، نوتن ٹوپو، بھرت، فرح ناز اور مسکان موجود ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی/کرما بھوٹیا)

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے بدھ (5 اگست) کو مختلف ریاستوں سے آئے نوجوان مظاہرین سے ملاقات کی۔ وہ میڈیا کے سامنے بھی بعض مظاہرین کو ساتھ آئے اور کہا کہ وہ ان نوجوانوں اور ان جیسے ہزاروں نوجوان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے آئین، تعلیمی نظام اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے آواز اٹھائی اور مضبوطی سے ڈٹے رہے۔

انہوں نے کہا،’ ہم نے کچھ نوجوان مظاہرین سے کھل کر بات کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ ماہ ہوئے ’سنسد چلو‘ مارچ کے بعد انہیں ہراسانی، تشدد اور بربریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ میں میڈیا کے سامنے آ کر سوالوں کا جواب دینے کی ہمت نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کے اس ویڈیو بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان تمام مظاہرین کو’ معاف‘کرتے ہیں جنہوں نے انہیں نازیبا کلمات سے نوازا۔ گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں نے’کچھ بھی غلط نہیں کیا‘، اس لیے’معافی قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے کہا،’یہ نوجوان آج ہندوستان کے میڈیا کے سامنے کھڑے ہیں، لیکن امت شاہ اور وزیر اعظم میں یہاں آ کر کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہے۔‘

راہل گاندھی کے ساتھ موجود مظاہرین میں 32 سالہ نوتن بھی شامل تھیں، جنہیں 20 جولائی کو سینٹرل دہلی میں ہوئے احتجاج کے دوران گولی لگی تھی۔

راہل گاندھی نے کہا،’اس تشدد کے لیے جو شخص ذمہ دار ہے، جس شخص نے اس نوجوان خاتون پر پیلیٹ گن چلوائی، وہ ہندوستان کے وزیر داخلہ امت شاہ ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا،’اس کے صرف دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ پہلا، انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ بچوں پر یہ تشدد ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ نااہل ہیں۔ دوسرا، انہوں نے ہی پیلیٹ گن چلانے اور ان بچوں پر تشدد کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ قصوروار ہیں۔ کسی بھی صورت میں ذمہ داری وہی ہیں۔‘

غور طلب ہے کہ راہل گاندھی نے نوتن کے حوالے سے پیلیٹ گن کا ذکر کیا، لیکن اس سے پہلے نوتن کے کان میں گولی لگنے کی بات سامنے آئی تھی۔

تاہم، 20 جولائی کو ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)کی جانب سے چلائے گئے پیلٹ سے کم از کم چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان میں ایک 19 سالہ نوجوان بھی شامل تھا، جس کی دائیں آنکھ  میں شدید چوٹ  آئی تھی۔

احتجاجی مظاہرے میں شامل مسکان شرما نے کہا کہ وہ پرامن طریقے سے مارچ کر رہی تھیں، لیکن ایک مرد آر اے ایف افسر نے ان پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا،’جب میں پرامن طریقے سے چل رہی تھی تو پولیس نے مجھے کیوں مارا؟ جب یہ واضح اصول ہے کہ آپ جانگھوں کے اوپر نہیں مار سکتے اور کوئی مرد افسر کسی خاتون پر طاقت استعمال نہیں کرے گا، تو پھر ایک مرد آر اے ایف افسر نے مجھ پر حملہ کیسے کیا؟ اس نے میرے کولہوں پر لاٹھی مارنے کی کوشش کیوں کی؟ جس نے بھی یہ حکم دیا، اگر وہ آ کر مجھ سے معافی مانگ لے تو مجھے بھی  بہت خوشی ہوگی۔‘

شرما نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے نام’مسکان‘کی وجہ سے آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مسلمان سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا،’یہ میرے بارے میں کچھ نہیں کہتا، بلکہ اس سوچ کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے جو ملک میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اگر کوئی حکومت کے خلاف بولتا ہے تو اسے مسلمان اور ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔‘

راہل گاندھی کے ساتھ مسکان شرما اور نوتن کے علاوہ 27 سالہ ریا اہیر بھی موجود تھیں،جنہوں نے ممبئی میں ہوئے احتجاج کے دوران 22 جولائی کو حراست میں لیے گئے مظاہرین کو لے رہی پولیس وین کو روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا،’میں وہی لڑکی ہوں جس نے 20 نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے سے روکا تھا۔ مجھے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ میں اسے صرف ٹرولنگ نہیں کہوں گی، کیونکہ یہ ایک جرم ہے۔ میں نے 27 جولائی کو شکایت درج کرائی تھی، لیکن اب تک مجھے ایف آئی آر کی کاپی نہیں ملی ہے۔‘

راہل گاندھی نے کہا کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کی شکایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام میں بہت سی کمزوریاں ہیں، یہ مسلسل زوال کا شکار ہے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہی بات یہ طلبہ کہہ رہے تھے۔

گاندھی نے کہا،’خواتین کے گھروں پر غنڈے بھیجنا، زبردستی 15 سالہ لڑکی سے معافی منگوانا اور پھر اس معافی کو قبول کرنا پوری طرح سے بکواس ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کے مستقبل کا احترام کیا جائے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘

راہل گاندھی نے اس ایف آئی آر کا بھی ذکر کیا، جو نوئیڈا پولیس نے 31 جولائی کو ایک نابالغ لڑکی کے خلاف وزیر اعظم مودی کے لیے مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں درج کی تھی۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم مودی نے ایک انسٹاگرام ریل میں کہا تھا کہ وہ ان تمام خواتین مظاہرین کو’معاف‘کرتے ہیں جنہوں نے انہیں نازیبا کلمات سے نوازا تھا۔

دریں اثنا لڑکی نے الزام لگایا تھا کہ اسےریپ کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں دی وائر نے  2 اگست کو والی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ نہ مقامی پولیس اور نہ ہی دہلی پولیس نے لڑکی کو ہراساں کرنے اور اس کی ذاتی معلومات عام کرنے (ڈاکسنگ) والوں کے خلاف کوئی جانچ شروع کی ہے۔

اب ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ مذکورہ ایف آئی آر شکایت کنندہ نے واپس لے لی ہے۔