مکافات عمل: ستلج، کھالڑا اور اندرابی کے قاتلوں کی داستان

اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔

اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ 8 جولائی 2026 کو چنڈی گڑھ، پنجاب میں گوردوارہ سری مکتسر صاحب پی یو میں ‘ستلج’ کی اسپیشل اسکریننگ کے درمیان۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

حال ہی میں جب ہندوستانی فلم سینسر بورڈ نے فلم ’ستلج‘ جس کا پہلا نام ’پنجاب 95‘ تھا کی ڈیجیٹل ریلیز کے محض 48 گھنٹوں کے اندر او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’زی 5‘ سے اس کی اسٹریمنگ پر اچانک پابندی عائد کر دی، تو فلمی اور سیاسی حلقوں میں یہ ایک بحث کا موضوع بن گئی۔

ہنی تریہن کی ہدایت کاری اور دلجیت دوسانجھ کی جاندار اداکاری سے سجی یہ پالیٹکل تھرلر دراصل اسی اور نوے کی دہائی میں پنجاب میں سکھ نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور لاوارث لاشوں کا معمہ حل کرنے والے ہیرو جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے۔

سینسر بورڈ اور حکومت نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر فلم کو روک تو دیا، لیکن سکھ تنظیموں نے اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے ملک و بیرونِ ملک گوردواروں میں اس کی اسکریننگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

بندشوں کے اس نئے تناظر نے ماضی کے کئی زخموں کو دوبارہ ہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کی پاداش میں اپنی جان گنوانے والے جسونت سنگھ کھالڑا اور کشمیر کے مایہ ناز قانون دان جلیل اندرابی کی داستانیں ایک ہی روشنائی سے لکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ کالم ان مقتولوں کی مظلومیت سے زیادہ، ان کے قاتلوں کے عبرت ناک انجام اور ’مکافات عمل‘کے اس آہنی قانون کے بارے میں ہے، جو بالآخر دنیا کی ہر عدالت اور ہر طاقتور سرپرست سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں، عدالتیں اور حکومتیں مجرموں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قانون قدرت خود مدعی بن کر ان کا مسکن ڈھونڈ نکالتا ہے۔ چنڈی گڑھ کے ریلوے ٹریک سے لے کر کیلی فورنیا کے ایک مضافاتی گھر تک، یہ کالم ان ریاستی جلادوں کے اسی لرزہ خیز انجام کی کڑیوں پر مبنی ہے۔

بات ستمبر 1995 کی ہے۔ پنجاب میں شورش کا دور اب تقریباً تھم گیا تھا۔ لیکن جبر کی داستانیں ابھی تھمی نہیں تھیں۔ جسونت سنگھ کھالڑا نے صرف ترن تارن ضلع کے بلدیاتی ریکارڈ سے یہ سنسنی خیز ثبوت اکٹھے کیے تھے کہ پنجاب پولیس نے 25,000 سے زائد سکھ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی لاشوں کو ’لاوارث‘ قرار دے کر خفیہ طور پر نذرِ آتش کر دیا تھا۔

کھالڑا نے یہ دھماکہ خیز شواہد کینیڈا کی پارلیامنٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے پیش کر دیے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب 6 ستمبر 1995 کو کھالڑا کو ان کے امرتسر والے گھر کے باہر سے اغوا کر لیا گیا، تو دلی میں انسانی حقوق کی تنظیم ’پیپلز رائٹس آرگنائزیشن‘ کے سربراہ ڈاکٹر اروندو گھوش نے دہلی کافی ہوم کی چھت پر ایک ہنگامی میٹنگ بلائی تھی۔

اس میٹنگ کا مقصد کھالڑا کی بحفاظت واپسی کے لیے دباؤ بنانا اور ان کے خاندان کی مدد کے راستے تلاش کرنا تھا۔ ہم سب وہاں بیٹھے تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔ بالآخر 27 اکتوبر کو وہ المناک خبر آئی جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ خالصہ کو ترن تارن کے کانگ پولیس اسٹیشن میں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کو ایک قریبی ندی میں بہا دیا گیا تھا، جہاں سے وہ برآمد ہوئی۔

اس درندگی کے پیچھے جو نام سب سے نمایاں تھا، وہ تھا ترن تارن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجیت سنگھ سندھو کا۔ سندھو وہ افسر تھا جس کو ریاستی حکومت نے خالصہ کے تحقیقاتی کام کو دبانے اور گواہوں کو ہراساں کرنے کے لیے خاص طور پر دوبارہ ترن تارن تعینات کیا تھا۔

سندھو کا ریکارڈ اکیلے کھالڑا کے خون سے رنگا ہوا نہیں تھا؛ وہ  ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے عظیم ہیرو بھگت سنگھ کے بھانجے اور گاؤں کے منتخب رہنما کلجیت سنگھ دت کے 1989 میں اغوا اور حراستی قتل کا بھی بنیادی ملزم تھا۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ جب دت کے بھائی نے سندھو سے اپنے بھائی کی خیر عافیت پوچھی، تو اس مغرور افسر نے سرعام کہا تھا؛

 ’ہم لاش واپس نہیں کریں گے۔ جو کرنا ہے کر لو۔‘

کھالڑا کے قتل کے ابھی پانچ ہی مہینے گزرے تھے کہ کشمیر میں اسی خونی ڈرامے کا دوسرا ایکٹ کھیلا گیا۔

فروری 1996 کا مہینہ تھا اور رمضان المبارک کے دن تھے۔ بطور ایک جونئیر رپورٹر دہلی میں ایک سفارت خانے کی افطار پارٹی کو کور کرنے کی میری ڈیوٹی لگی تھی۔ دہلی کی اہم اور نامور شخصیات اور دیگر سفارت کار اس پارٹی میں شریک تھے۔

ان میں کشمیر کے معروف قانون دان اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن جلیل اندرابی بھی شامل تھے۔ وہ عدالتوں میں مختلف کیسوں کی پیروی کرنے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن (اس وقت وہ کونسل کے بجائے کمیشن ہی ہوتا تھا) میں شرکت کرنے کی وجہ سے ایک بڑا نام بن چکے تھے۔

اس شام جلیل صاحب کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہری تشویش چھپی ہوئی تھی۔ وہ اس پارٹی میں موجود شرکاء کو بتا رہے تھے ان کو مسلسل سنگین دھمکیاں مل رہی ہیں۔

 چند روز قبل کچھ نامعلوم مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے تھے جن کا مقصد ان کو اغوا کرنا تھا۔ جلیل صاحب نے بڑی ہوشیاری سے مکان کی بالائی منزل پر چھپ کر اپنے کیمرے سے ان افراد کی تصویریں کھینچ لی ، جب ان کی اہلیہ نے نیچے ان مسلح افراد کو باتوں میں الجھائے رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران جب محلے کے لوگ جمع ہوئے، تو وہ افراد فرار ہو گئے۔

جلیل صاحب اسی کیمرے اور فلم کو لے کر پہلی فرصت میں دہلی پہنچے تھے۔ ابھی ڈیجیٹل کیمروں کا زمانہ نہیں آیا تھا۔ دہلی میں انہوں نے تصویروں کو ڈیولپ کیا اور ان افراد کی شناخت آرمی کی 35 ویں راشٹریہ رائفلز کے راولپورہ کیمپ کے انچارج میجر اوتار سنگھ کے سرکاری مخبروں کے طور پر کر لی تھی۔

ان تصویروں کو لے کر انہوں نے وزیر داخلہ ایس بی چوہان، نائب وزیر داخلہ راجیش پائلٹ اور امریکی سفیر فرینک وائزنر سے ملاقاتیں کی تھیں اور ان کو اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے اس میٹنگ میں بھی وہ تصویریں دکھائیں۔ وہ سرکرہ افراد اور سفارت کاروں سے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھ رہے تھے کہ ان کا اب سرینگر واپس جانا کیا مناسب ہوگا؟

محفل میں شریک افراد نے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا؛

 ’چونکہ آپ نے حکومتِ وقت کے اعلیٰ ترین اربابِ اختیارکو اپنی صورتحال سے باضابطہ آگاہ کر دیا ہے، اس لیے اگر ان حملہ آوروں کا سرکار سے کوئی بھی تعلق ہوا، تو وہ اب آپ کو نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ انگلی سیدھی ان پر اٹھے گی۔‘

چونکہ عید کے دن قریب تھے، اس لیے وہ سرینگر لوٹ گئے۔لیکن ارباب حل و عقد کے مشورے کس قدر خوش فہمی پر مبنی تھے، اس کا اندازہ چند ہی دنوں میں ہو گیا۔ عید کے روز، 8 مارچ 1996 کو جب جلیل اندرابی اپنی اہلیہ کے ساتھ کار میں کسی رشتہ دار سے ملنے کے بعد گھر جا رہے تھے، تو میجر اوتار سنگھ کی قیادت میں وردی پوش اہلکاروں نے انہیں بیچ سڑک پر روکا۔

ان کی اہلیہ کے سامنے انہیں گھسیٹ کر فوجی گاڑی میں ڈالا گیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ ہائی کورٹ کے سخت احکامات اور فوج کی ابتدائی تردید کے درمیان، اغوا کے 19 دن بعد 27 مارچ کو جلیل اندرابی کی مسخ شدہ لاش دریائے جہلم میں تیرتی ہوئی ملی۔ ان کے سر میں گولیاں ماری گئی تھیں اور جسم تشدد سے چھلنی تھا، یہاں تک کہ ان کی آنکھیں تک نکال لی گئی تھیں۔

جب یہ لرزہ خیز قتل منظرِ عام پر آیا، تو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیا۔ میجر اوتار سنگھ کو بچانے کے لیے پوری ریاستی مشینری متحرک ہو گئی۔ ہائی کورٹ نے بار بار فوج اور پولیس کو سمن جاری کیے، لیکن ہر بار ان سمن کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے پہلے تو جلیل اندرابی کی حراست سے ہی صاف انکار کر دیا۔اس عدالتی جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس بلال نازکی کو چکانی پڑی۔ جسٹس نازکی وہ جج تھے جنہوں نے جلیل اندرابی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے لیے پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم(ایس آئی ٹی) قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ شروع کی اور حکم دیا کہ میجر اوتار سنگھ کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس کا پاسپورٹ ضبط کر کے اس کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگائی جائے۔

لیکن جیسے ہی جسٹس نازکی نے سخت فیصلے لینا شروع کیے،  ان پر دباؤ ڈالنے اور تحقیقات کو پٹری سے اتارنے کے لیے راتوں رات جسٹس بلال نازکی کا تبادلہ جموں و کشمیر سے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کر دیا گیا۔ خود جسٹس نازکی نے بعد میں اعتراف کیا؛

 ’جیسے ہی میں نے اس کیس کی مانیٹرنگ شروع کی اور سخت احکامات دیے، میرا تبادلہ کر دیا گیا، اور میرے جانے کے بعد ہائی کورٹ نے اس کیس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔‘

اس دوران جب جموں و کشمیر پولیس کی ایک ٹیم عدالتی احکامات کی تعمیل میں میجر اوتار سنگھ کو گرفتار کرنے ہریانہ پہنچی، جہاں اس کو ریلوے سکیورٹی میں تعینات کیا گیا تھا، تو وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے کشمیر پولیس کی ٹیم پر ہی حملہ کر دیا۔

انہیں بری طرح زدوکوب کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران نے مداخلت کر کے کشمیر پولیس کو بیرنگ واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے فوراً بعدمیجر اوتار سنگھ کو پاسپورٹ اور ٹکٹ فراہم کرکے اس کو راتوں رات کینیڈا فرار کرا دیا گیا۔ یہ ایک نامزد قاتل کو دی جانے والی کھلی اور ڈھٹائی پر مبنی امونٹی تھی۔

ایسی ہی صورتحال جسنوت سنگھ کھالڑا کے کیس میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جب امرتسر پولیس نے سی بی آئی کی تفتیش کے بعد ایس ایس پی اجیت سنگھ سندھو کے خلاف شکنجہ کسنا چاہا، تو پنجاب کے اعلیٰ پولیس حکام اور سیاسی قیادت نے سندھو کو بچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔

سندھو کو نہ صرف تمام مقدمات کے باوجود ترن تارن کا دوبارہ سربراہ بنایا گیا بلکہ گواہوں کو سرعام دھمکانے کی کھلی چھٹی دی گئی۔ سی بی آئی کی تحقیقات کو روکنے کے لیے عدالتوں میں درجنوں تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جب دباؤ بڑھا تو سندھو کو صرف معطل کر کے ایک پرتعیش سرکاری سیف ہاؤس میں پناہ دے دی گئی تاکہ وہ عدالتی گرفت سے دور رہ سکے۔

کرما اور مکافاتِ عمل کی خوبصورتی اور ہولناکی یہی ہے کہ یہ آپ کو وہیں سزا دیتا ہے جہاں آپ خود کو سب سے محفوظ تصور کرتے ہیں۔ اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ، دونوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ قانون اور انصاف کے شکنجے سے بچ نکلے ہیں، لیکن ان کے اندر کا خوف اور معصوموں کا خون ان کا پیچھا کر رہا تھا۔23 مئی 1997 کی صبح، جب ابھی عدالتی ٹرائل باقاعدہ شروع بھی نہیں ہوا تھا، معطل ایس ایس پی اجیت سنگھ سندھو نے چنڈی گڑھ کے قریب ڈیرا باسی کے مقام پر ’ہمالین کوئین ایکسپریس‘ کے سامنے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔


یہ بھی پڑھیں:فلم پر پابندی کے بعد پہلی بار بولے ہنی تریہن – ’ستلج‘ کو بہنے سے نہیں روکا جا سکتا


پولیس کو وہاں سے ایک خودکشی کا نوٹ ملا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ پولیس فورس کے خلاف ہونے والی انکوائریوں اور مقدمات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ اگرچہ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا خیال ہے کہ سندھو کو اعلیٰ حکام کو بچانے کے لیے راستے سے ہٹا دیا گیا یا اس نے فرار کا ڈرامہ رچایا ہے، لیکن آفیشل ریکارڈ کے مطابق اس کا انجام ایک بدترین خودکشی تھا۔

جو شخص کبھی دوسروں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتا تھا، وہ خود ایک تیز رفتار ٹرین کے پہیوں تلے قیمہ بن گیا تھا۔گو کہ کئی افراد کا خیال ہے کہ اس کو بھی کنیڈا فرارا کرایا گیا۔

لیکن اس سے بھی زیادہ عبرت ناک اور روح فرسا انجام میجر اوتار سنگھ کا ہوا، جو سات سمندر پار کیلی فورنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا تھا۔

جلیل اندرابی کا خون اور کشمیر کے لاتعداد بے گناہوں کی چیخیں اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی تھیں۔ 2012 میں جب میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو امریکہ میں اس کی موجودگی کا پتہ چلا اور ہندستان کو اس کی حوالگی  کے لیے دباؤ بڑھا، تو اوتار سنگھ بوکھلا گیا۔

اس نے ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو دھمکی دی کہ اگر اسے ہندوستان واپس بھیجا گیا تو وہ وہ تمام راز طشت از بام کر دے گا جس کی زد میں فوج اور حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار آئیں گے۔ اس نے فون پر مجھے بھی یہی کہا تھا؛

 ’اگر میری حوالگی شروع کی گئی، تو میں اپنا منہ کھول دوں گا۔ میں چپ نہیں رہوں گا کیونکہ میں بہت کچھ جانتا ہوں اور کئی بڑے لوگوں کی نوکریاں اور گردنیں میری وجہ سے پھنسیں گی۔‘

مگر اس کی یہ دھمکی کام نہ آئی۔ خوف اور پاگل پن نے اس کے اعصاب پر ایسا قبضہ کیا کہ وہ خود ہی اپنے پورے خاندان کا جلاد بن گیا۔ 9 جون 2012 کی صبح، کیلی فورنیا پولیس کو ایک فون موصول ہوا جس میں دوسری طرف موجود شخص نے سرد لہجے میں کہا؛

’میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو قتل کر دیا ہے اور اب میں خود کو گولی مارنے جا رہا ہوں۔‘

جب پولیس اس کے گھر پہنچی، تو وہاں کا منظر دہلا دینے والا تھا۔ بیڈ روم میں اوتار سنگھ کی بیوی اور اس کے تین سالہ معصوم بچے کی لاشیں پڑی تھیں، جبکہ دوسرے کمرے میں اس کے 15 سالہ بیٹے کی خون میں لت پت لاش موجود تھی۔ 17 سالہ بڑا بیٹا شدید زخمی حالت میں ملا جو معجزاتی طور پر بچ گیا۔ خود اوتار سنگھ کی لاش فرش پر پڑی تھی، جس نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے سر میں گولی مار لی تھی۔

کیا عبرت ناک منظر ہے! وہ میجر اوتار سنگھ، جس نے جلیل اندرابی کی اہلیہ کے سامنے ان کا سہاگ اجاڑا تھا، قدرت نے اسے ایسی ذہنی سزا دی کہ اس نے خود اپنی بیوی اور اپنے ہی بچوں کا گلا گھونٹ دیا۔

یہ انصاف کا گلا گھونٹ دینے کا ہی انجام تھا کہ اس کا اپنا خاندان بھی اس کے خونی کھیل کی آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

مکافاتِ عمل کا یہ خونی کھیل صرف میجر اوتار سنگھ پر ہی ختم نہیں ہوا، بلکہ اس سازش کے ہر اس مہرے کو چن چن کر راستے سے ہٹا دیا گیا جو عدالت میں سلطانی گواہ بن سکتا تھا۔

جلیل اندرابی کے گھر کا سراغ لگانے والا اور عید کے روز ان کی گاڑی کی مخبری کرنے والا بدنامِ زمانہ سرکاری بندوق بردارسکندر گنائی بھی اس بھیانک جرم کے محض ایک ماہ بعد خود اسی خونی نظام کا شکارہو گیا۔

معروف تحقیقاتی جریدے ’دی کاروان‘  کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، جلیل اندرابی کی لاش ملنے کے چند ہی دن بعد، 5 اپریل 1996 کو پامپور کے علاقے سے سات لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ایک لاش خود سکندر گنائی کی تھی۔

پولیس کی تفتیش اور کاروان کی انویسٹی گیشن میں سکندر کی بیوہ حمیدہ نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ جلیل اندرابی کے اغوا کے بعد سکندر اور اس کے ساتھیوں کو ایک دوسرے مخبرر محمد اشرف خان عرف عمر کے ذریعے راولپورہ کیمپ میں طلب کیا گیا تھا۔

اس دن ان کے ہتھیار گیٹ پر جمع کرائے گئے تھے۔ ان کو بتایا گیا تھا کہ کوئی افسر دورے پر آرہا ہے، اس لئے سبھی سویلین کے ہتھیار گیٹ پر جمع کروائے جا رہے ہیں۔ کیمپ میں ان کر مار کران کی لاشوں کو لاوارث بنا کر پھینک دیا گیا۔

قدرت کا اصول دیکھیے کہ سچائی کو چھپانے کے لیے جس جلاد نے مخبری کی تھی، اسے خود اس کے آقاؤں نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ خونِ ناحق کی تاثیر یہی ہے کہ وہ اپنے پیچھے گواہ چھوڑے نہ چھوڑے، قاتلوں کے اندر ایک ایسا خوف پیدا کر دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا شکار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

فلم ’ستلج‘ پر پابندی لگا کر تاریخ کی آواز کو عارضی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن اس سبق کو نہیں بدلا جا سکتا۔ جسونت سنگھ کھالڑا اور جلیل اندرابی کی قربانیاں آج بھی امر ہیں۔ گوردواروں میں سکریننگ کی شکل میں کھالڑا کی یادیں زندہ ہوگئی ہیں۔

لیکن اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔

سرکار کا دیا ہوا پاسپورٹ، امریکہ کا ویزا اور ٹرکوں کا کاروبار بھی اس خوف اور لعنت کو کم نہیں کر سکا جو بالآخر ان کے اپنے ہی ہاتھوں ان کی موت کا پروانہ بن کر نازل ہوئی۔ مکافاتِ عمل کا یہ ترازو ہمیشہ برابر رہتا ہے۔بس پلڑے جھکنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔