انتخابی سیاست میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی منصوبہ بند مداخلت پر پابندی عائد کی  جائے: سونیا گاندھی

لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس صدرسونیا گاندھی نے الجزیرہ اور دی رپورٹرز کلیکٹو کی فیس بک الگورتھم سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں کے مقابلے سستی شرحوں پر سوشل میڈیا کمپنی کو اشتہارات دے رہی اور اپنا پروپیگنڈہ کر رہی تھی۔

لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس صدرسونیا گاندھی نے الجزیرہ اور دی رپورٹرز کلیکٹو کی فیس بک الگورتھم سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں کے مقابلے سستی  شرحوں پر سوشل میڈیا کمپنی کو اشتہارات دے رہی اور اپنا پروپیگنڈہ کر رہی تھی۔

مارک زکربرگ کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو: رائٹرس)

مارک زکربرگ کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو: رائٹرس)

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بدھ کو ملک کی انتخابی سیاست میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی ‘منصوبہ بند مداخلت’ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے نفرت پھیلانے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو اسے ختم کرنا چاہیے۔

انہوں نے وقفہ صفر کے دوران لوک سبھا میں اس ایشو کو  اٹھایا اور کچھ بین الاقوامی میڈیا گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ‘حکمراں جماعت کی ملی بھگت سے سوشل میڈیا کمپنیوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔’

سونیا گاندھی نے کہا، ہماری جمہوریت کو ہیک کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاست دان، سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندے سیاسی ڈسکورس بنانے کے لیے فیس بک اور ٹوئٹر جیسی عالمی کمپنیوں کا بے جا استعمال کر رہے  ہیں۔

ان کے مطابق، یہ بات بارہا لوگوں کے علم میں آئی ہے کہ عالمی سوشل میڈیا کمپنیاں تمام سیاسی جماعتوں کو مقابلہ آرائی  کے یکساں مواقع فراہم نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے خبر دی تھی کہ کس طرح حکمراں پارٹی کے رہنماؤں کے حق میں نفرت انگیز تقریر کے ذریعے فیس بک کے اپنے قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

سونیا گاندھی نے الجزیرہ اور دی رپورٹرز کلیکٹو کی جانب سے شائع ہونے والے فیس بک کے اندرونی الگورتھم کے بارے میں ان رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ فیس بک نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے مقابلے سستے نرخوں پر اشتہارات کی پیشکش کی۔

ان رپورٹس کااردو ترجمہ دی وائر شائع کر رہا ہے۔ چار رپورٹس کی اس سیریز کے پہلے، دوسرے اور تیسرے حصے کو یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

دی رپورٹرز کلیکٹو نے ان انکشافات کے پہلے حصے میں بتایا تھا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے، نیوج نامی ایک کمپنی، جس کا پورا نام نیو ایمرجنگ ورلڈ آف جرنلزم لمیٹڈ تھا، نےفیس بک پر اشتہارات چلانے کے لیے ادائیگی کی۔ ان اشتہارات میں بی جے کے لیے پروپیگنڈہ کیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی گئی، اس کے ساتھ ہی کئی طرح سےاپوزیشن کی مذمت کی گئی۔غور طلب ہے کہ اس کمپنی کو مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کی مالی اعانت حاصل ہے۔

دوسرے حصے میں انکشاف کیا گیاکہ فیس بک نے کئی سروگیٹ مشتہرین کو خفیہ طور پر بی جے پی کے پروپیگنڈہ  کو فنڈ کرنے کی اجازت دی، جس کی وجہ سے پارٹی کو بغیر کسی جوابدہی کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی۔

جبکہ تیسرے حصے میں انکشاف کیا گیاکہ فیس بک کی طرف سے سستے نرخوں نے فیس بک کے ہندوستان میں سب سے بڑے سیاسی کلائنٹ – بھارتیہ جنتا پارٹی- کو کم پیسوں میں اشتہارات کے ذریعے زیادہ ووٹروں تک پہنچنے میں مدد کی۔ جبکہ اسی طرح کے اشتہارات کے لیے کانگریس سے زیادہ پیسے لیے گئے۔

کانگریس صدر نے تیسرے حصے کی اسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، اس  رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ فیس بک پر اشتہار دینے والوں کا ایک زہریلا نظام پروان چڑھ رہا ہے اور ہمارے ملک کے انتخابی قوانین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، فیس بک کے اپنے اصول و ضوابط کو توڑا جا رہا ہے اور حکومت کے خلاف بولنے والوں کی آواز کو ہر طرح سے دبایا جا رہا ہے۔

سونیا گاندھی نے دعویٰ کیا،فیس بک سرکاری اداروں کے ساتھ ملی بھگت  کرکے جس طرح سے سماجی ہم آہنگی کو کھلے عام خراب کر رہی ہے اس سے ہماری جمہوریت کو خطرہ ہے۔ جذباتی طور پر اکسانے والے پروپیگنڈے اوراشتہارات کے ذریعے نوجوانوں اور بزرگوں  کے ذہنوں میں نفرت کو ہوا دیا جا رہا ہے۔ فیس بک جیسی کمپنیاں اس سے باخبر ہیں اور اس سے منافع کما رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ کس طرح بڑے کارپوریٹ گروپ، سرکاری ادارے اور فیس بک جیسی عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان ‘سانٹھ گانٹھ ‘ ہے۔

کانگریس صدر نے کہا، میں حکومت سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی انتخابی سیاست میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے منصوبہ بند اثر و رسوخ اور مداخلت کو ختم کرے۔

انہوں نے زور دے کر کہا، یہ پارٹی کی سیاست سے اوپر کا معاملہ ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے، چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو۔

دریں اثنا، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک ‘جمہوریت کے لیے بہت خراب’ ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر متعلقہ خبریں شیئر کرتے ہوئے فیس بک کو نشانہ بنایا ہے۔

فیس بک کی ملکیت والی کمپنی ‘میٹا’ کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، جمہوریت کے لیے ایک ‘میٹاورس’ (بہت خراب) ہے۔

بتادیں کہ ان انکشافات کے بعد سے اپوزیشن فیس بک کے ذریعے بی جے پی کی انتخابی مہم کی تشہیر کو جمہوریت کا قتل قرار دے رہی ہے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کےان پٹ کے ساتھ)

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )

Next Article

اتراکھنڈ: تین اضلاع میں 15 جگہوں کے نام بدلے، اپوزیشن نے کہا – کام کے بجائے نام بدلنے کا تماشہ

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے تین اضلاع میں 15 مقامات کے نام تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم کا مقصد ان عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرکے لوگوں کو تحریک دینا ہے جنہوں نے’ہندوستانی ثقافت کے تحفظ’ میں اپنا کردار ادا کیا۔

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ہری دوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں 15 مقامات کے نام تبدیل کیے جائیں گے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ہری دوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں 15 مقامات کے نام تبدیل کیے جائیں گے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سوموار (31 مارچ) کو ایک اعلان میں کہا کہ ہری دوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں 15 مقامات کے نام ‘عوامی جذبات اور ہندوستانی ثقافت اور ورثے’ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تبدیل کیے جائیں گے۔

دھامی نے کہا کہ اس قدم کا مقصد ان عظیم ہستیوں کا اعزاز دے کر لوگوں کو تحریک دینا ہے جنہوں نے ‘ہندوستانی ثقافت کے تحفظ’ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہری دوار ضلع میں اورنگزیب پور کا نام بدل کر شیواجی نگر، غازی والی کا نام بدل کر آریہ نگر، چاند پور کا نام بدل کر جیوتی با پھولے نگر، محمد پور جٹ کا نام بدل کر موہن پور جاٹ، خان پور کرسلی کا نام تبدیل کر کے امبیڈکر نگر،اندریش پور کا نام نند نگر، خان پور کا نام شری کرشن پور کااور اکبر پور فاضل پور کا نام وجئے نگر رکھا جائے گا۔

دہرادون ضلع میں میانوالہ کا نام بدل کر رام جی والا، پیر والا کا نام بدل کر کیسری نگر، چاند پور خورد کا نام بدل کر پرتھوی راج نگر اور عبداللہ نگر کا نام تبدیل کر کے دکش نگر رکھا جائے گا۔

نینی تال ضلع میں نوابی روڈ کا نام اٹل مارگ رکھا جائے گا اور پن چکی سے آئی ٹی آئی تک کی سڑک کا نام گرو گولوالکر مارگ رکھا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی اودھم سنگھ نگر ضلع میں سلطان پور پٹی میونسپل کونسل کا نام بدل کر کوشلیہ پوری کر دیا جائے گا۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے ۔

پارٹی کے ریاستی میڈیا انچارج منویر چوہان نے کہا، ‘بھارتیہ جنتا پارٹی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرف تو ہندوستانی ثقافت کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے والی شخصیات کو اعزاز سے نواز کر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا تو دوسری طرف غیر ملکی حملہ آوروں کے مظالم سے بھی آگاہ کرے گا۔ ‘

وہیں، اپوزیشن کانگریس نے کہا کہ وہ نہ تو اس قدم کی حمایت میں ہے اور نہ ہی اس کے خلاف ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کہا ، ‘نام بدلنا بی جے پی کا ایجنڈہ بن گیا ہے کیونکہ ان کے پاس دکھانے کے لیے کوئی حقیقی کام نہیں ہے۔ وہ گزشتہ ساڑھے آٹھ سالوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور عوام ان سے سوال کر رہے ہیں۔ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نام بدلنے کا یہ تماشہ کررہے ہیں۔’

Next Article

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اے ٹی ایم چارجز میں اضافہ کو ’استحصال‘ قرار دیا

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے چارجز میں اضافے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘ادارہ جاتی استحصال’ قرار دیا۔ مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قدم سے غریبوں کو نقصان ہوگا۔

(فائل فوٹو/پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو/پی ٹی آئی)

نئی دہلی:  تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا پر تنقید کی ہے کیونکہ بینکوں کو اب مفت حد سے زیادہ اے ٹی ایم کیش نکالنے پر چارجز بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسٹالن کا خیال ہے کہ اس قدم سے غریبوں کے لیے بینکنگ کی سہولیات بیکار ہو جائیں گی۔

اسٹالن نے ایکس پر پوسٹ کیاہے؛’مرکزی حکومت نے سب سے کہا کہ وہ بینک اکاؤنٹ کھولیں۔ پھر نوٹ بندی آئی اور اس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ڈیجیٹل لین دین پر چارجز، کم بیلنس پر جرمانہ اور اب آر بی آئی نے بینکوں کو ماہانہ حد کے بعد اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے پر 23 روپے تک چارج لگانے کی اجازت دی ہے۔’

ڈی ایم کے سربراہ نے مزید لکھا، ‘یہ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ نقد رقم نکالنے پر مجبور کرے گا اور خاص طور پر غریبوں کے لیے بینکنگ کی سہولیات بیکار ہو جائیں گی۔’

اسٹالن نے دعویٰ کیا ہے کہ آر بی آئی کے اس اقدام سے سب سے زیادہ نقصان منریگا (مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ) کے مستفیدین اور تمل ناڈو حکومت کی کالینگر مگلیر ارمائی تگئی اسکیم کے مستفیدین کو ہوگا۔

‘یہ ڈیجیٹلائزیشن نہیں ہے، یہ ادارہ جاتی استحصال ہے۔ غریب لوگ کارڈ سوائپ کریں گے، اور امیر لوگ مسکرائیں گے۔’

آر بی آئی نے کیا فیصلہ لیا ہے؟

آر بی آئی نے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن چارجز کو 21 روپے سے بڑھا کر 23 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو یکم مئی 2025 سے لاگو ہوں گے۔ اس کے علاوہ، آر بی آئی نے کہا ہے کہ اے ٹی ایم انٹرچینج فیس — جو ایک بینک دوسرے بینک کو اے ٹی ایم خدمات فراہم کرنے کے لیے ادا کرتا ہے —اے ٹی ایم نیٹ ورک کے ذریعے کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے مطابق، صارفین اپنے بینک کے اے ٹی ایم سے ہر ماہ پانچ مفت لین دین (مالی اور غیر مالی دونوں) کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، وہ دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم سے بھی مفت ٹرانزیکشن کر سکتے ہیں- میٹرو شہروں میں تین اور غیر میٹرو شہروں میں پانچ۔ آر بی آئی نے کہا کہ’فری ٹرانزیکشن کی حد کے بعد صارف سے زیادہ سے زیادہ 23 روپے فی لین دین فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ اس کا اطلاق یکم مئی 2025 سے ہوگا۔’

دلچسپ بات یہ ہے کہ آر بی آئی نے کہا کہ اے ٹی ایم انٹرچینج فیس کا فیصلہ اے ٹی ایم نیٹ ورک کرے گا۔ 2021 میں، آر بی آئی  نے مالیاتی لین دین پر انٹرچینج فیس کو 15 روپے سے بڑھا کر 17 روپے اور غیر مالیاتی لین دین پر 5 روپے سے بڑھا کر 6 روپے کر دیا ہے۔ اسے 1 اگست 2021 سے لاگو کیا گیا تھا۔ ہندوستان کا اے ٹی ایم نیٹ ورک، جو بینکنگ انفراسٹرکچر کا ایک اہم حصہ ہے، بنیادی طور پر نیشنل فنانشل سوئچ (این ایف ایس)کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ یہ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی ) کے زیر انتظام ہے۔

آر بی آئی نے چارجز میں اضافہ کیوں کیا؟

آر بی آئی کے مطابق، اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کے لیے انٹرچینج فیس کی شرح آخری بار اگست 2012 میں تبدیل کی گئی تھی، جبکہ صارفین پر لگائے جانے والے چارجز میں آخری بار اگست 2014 میں نظر ثانی کی گئی تھی۔ اس لیے ان چارجز میں تبدیلی کو لمبا وقت ہوگیا تھا۔ آر بی آئی نے کہا کہ یہ اضافہ ‘اے ٹی ایم کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی لاگت کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کی توقعات اور صارفین کی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا ہے’۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے کےتوسط سے اچھا منافع کما رہا ہے، جبکہ دیگر پبلک سیکٹر بینک (پی ایس یو) اس شعبے میں نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ایس بی آئی کے پاس ملک بھر میں تقریباً 65000 اے ٹی ایم کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے، جس سے اس نے مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں اے ٹی ایم کیش نکالنے سے 331 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ حکومت نے یہ معلومات پارلیامنٹ میں دی۔

تاہم، اسی مدت کے دوران دیگر پبلک سیکٹر بینکوں کو مجموعی طور پر 925 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بینک آف بڑودہ کو 212 کروڑ روپے اور یونین بینک کو 203 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ، پچھلے پانچ سالوں میں ایس بی آئی نے اے ٹی ایم کیش نکالنے سے 2043 کروڑ روپے کا بہت بڑا منافع کمایا، جبکہ اس عرصے کے دوران پبلک سیکٹر کے نو بینکوں کو مجموعی طور پر 3738 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس مدت کے دوران صرف دو دیگر پی ایس یو بینکوں – پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) اور کینرا بینک نے منافع کمایا۔ پی این بی نے 90.33 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور کینرا بینک نے 31.42 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔

ایس بی آئی  کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کا بہت بڑااے ٹی ایم  نیٹ ورک اور منظم فیس پالیسی ہے۔ اسی وقت، دیگر پی ایس یو بینک کم ہوتے لین دین اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ بینکنگ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں ان بینکوں کو آپریشن جاری رکھنے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنی اے ٹی ایم حکمت عملی پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

Next Article

آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش بھیا جی جوشی بولے-اورنگزیب کی قبر کا معاملہ بے وجہ اٹھایا گیا

اورنگزیب کے مقبرے کے حوالے سے کشیدگی کے درمیان آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش بھیا جی جوشی نے کہا کہ یہ مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا،اس کی موت یہاں (ہندوستان) ہوئی اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اور جن کو عقیدت ہے وہ وہاں جائیں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی نے اس کو لے کر مظاہرہ کیا تھا۔

ہندوتوا گروپوں کی جانب سے سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہندوتوا گروپوں کی جانب سے سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مہاراشٹر میں مغل حکمران اورنگزیب کے مقبرے کو لے کرجاری  تنازعہ کے درمیان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اسی کڑی میں آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش ‘بھیا جی’ جوشی نے کہا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کا مسئلہ بے وجہ اٹھایا گیا۔

اورنگزیب کے مقبرے کے معاملے پر بدامنی پر مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے کے بیان کو  لے کر صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر لیڈر نے سوموار (31 مارچ) کو کہا، ‘اورنگزیب کا مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اس کی موت یہیں (ہندوستان) ہوئی  ہے اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اورجن کو عقیدت ہے وہ  اس مقبرے پر جائیں گے۔’

شیواجی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ہمارے آئیڈیل ہیں، اور انہوں نے یہاں افضل خان کا مقبرہ بنوایا تھا۔ یہ ہندوستان کی سخاوت اور جامعیت کی علامت ہے۔ ‘وہ قبر (اورنگزیب کی) رہے، جس کو  وہاں جانا  ہے وہ جائے،’ وہ کہتے ہیں۔

مراٹھواڑہ  علاقے  میں واقع سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے ہندوتوا گروپوں کےمطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم  دےدیا ہے۔

گزشتہ ماہ ناگپور میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوگئی تھی جب ریاست بھر میں غیر مصدقہ خبریں پھیل گئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ انتہا پسند ہندوتوا گروپوں وشوہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی جانب سے منعقد  احتجاج کے دوران ہندوتوا شرپسندوں نے مقدس ‘کلمہ’ لکھے کپڑے کو جلایا ہے۔

بتا دیں کہ ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ ‘چھاوا’ فلم دیکھ کر جاگنے والے ہندوؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ اس فلم سے پہلے کئی  لوگ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی قربانی سے واقف نہیں تھے۔ لوگوں کو کتابیں پڑھنی چاہیے اور تاریخ جاننے کے لیے وہاٹس ایپ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔’

راج ٹھاکرے نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘کچھ لوگ اورنگزیب کی قبر کے نام پر صرف سیاست کر رہے ہیں۔’

مرکزی وزیر نے کہا – ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، تو اس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’

دریں اثنا، این ڈی اے کے اتحادی، ریپبلک پارٹی آف انڈیا (اٹھاوالے) کے سربراہ اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔

انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہی ہو گیا تھا، تواس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’

وہ کہتے ہیں،’اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، گزشتہ 300 سالوں میں ا س کی قبر کو ہٹانے کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔ یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب چھترپتی سنبھاجی مہاراج پر فلم بنی۔’

اٹھاولے کہتے ہیں،’میں این ڈی اے اور مودی جی کے ساتھ ہوں… کیونکہ مجھے ان کی پالیسیاں پسند ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسے نہیں ہٹایا جاناچاہیے۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو خود کو اس قبر سے دور رکھنا چاہیے اور ہندوؤں کو اسے ہٹانے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے… اس قبر کی حفاظت اے ایس آئی کے ذمے ہے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائی ملک کے لیے اچھی نہیں ہے، سب کو ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

اورنگزیب کی قبر کو ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: فڈنویس

دریں اثنا، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے سوموار (31 مارچ) کو کہاتھاکہ چھترپتی سنبھاجی نگر (سابقہ اورنگ آباد) میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا مقبرہ ایک محفوظ یادگار ہے اور اسے ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن ریاست میں اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Next Article

سوشل میڈیا پرنگرانی تیز: حکومت نے 1.1 لاکھ پوسٹ ہٹانے کے نوٹس بھیجے

وزارت داخلہ نے گزشتہ ایک سال میں 1.1 لاکھ سے زیادہ پوسٹ ہٹانے کے نوٹس دیے، جن میں پی ایم مودی کا مذاق اڑانے والے پوسٹ، وزیر داخلہ کے ایڈیٹیڈ ویڈیو اور وزیر مملکت برائے داخلہ پر طنزیہ ویڈیو شامل ہیں۔

سوشل سائٹ ایکس کا لوگو، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ (علامتی تصویر بہ شکریہ: ایکس)

سوشل سائٹ ایکس کا لوگو، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ (علامتی تصویر بہ شکریہ: ایکس)

نئی دہلی: وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے گزشتہ ایک سال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو 66 نوٹس بھیجے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی نوٹس مرکزی حکومت کے وزراء اور ایجنسیوں سے متعلق پوسٹ کو ہٹانے کے لیے تھے۔

دی ہندو کے ذریعے حاصل کیے گئے عدالتی ریکارڈ کے مطابق ، ان نوٹس میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور ان کے بیٹے جئے شاہ، وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار اور وزیر خزانہ نرملا سیتارامن سے متعلق پوسٹ شامل ہیں۔

پوسٹ ہٹانے کے لیےنوٹس

پچھلے سال کے دوران حکومت نے سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز – جیسے ایکس ، فیس بک، انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ – کو 1.1 لاکھ سے زیادہ پوسٹ ہٹانے کے لیے نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ کارروائی ‘غیر قانونی معلومات کو ہٹانے’ کے تحت کی گئی، جس میں ڈیپ فیکس، بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، مالی فراڈ اور ‘گمراہ کن اور غلط معلومات’ شامل ہیں۔ ہٹانے کے لیے نشان زد کیے گئے مواد میں سیاسی جماعتوں، نیوز اداروں  اور ہندوستان سمیت دنیا بھر کے صارفین کی پوسٹ شامل ہیں۔

جئے شاہ سے متعلق تنازعہ

جنوری میں، انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے ایکس کو ‘جئے شاہ اور سن رائزرز حیدرآباد کی مالک کویتا مارن سے متعلق ایڈیٹیڈ تصاویر’ کو ہٹانے کے لیےنوٹس بھیجا تھا۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ‘سوشل میڈیا پر اس طرح کے مواد کو پھیلانا ایک پروپیگنڈہ ہے، جس کا مقصد اہم عہدیداروں اور وی آئی پی لوگوں کی شبیہ کو خراب کرنا ہے۔’ ان میں سے ایک پوسٹ فیکٹ چیک تھی، جس نے تصویر کو غلط ثابت کیا تھا، اس لیے ایکس  نے اسے نہیں ہٹایا۔ دوسری پوسٹ صارف نے خود ڈیلیٹ کر دی۔

امت شاہ سے متعلق پوسٹ

گزشتہ دسمبر میں انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے ایکس  کو امت شاہ کو تنقیدکا نشانہ بنانے والی پوسٹس ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔ ان میں سے 54 پوسٹ ایک ایڈیٹیڈ ویڈیو کلپ سے متعلق تھی، جس میں امت شاہ کو ریزرویشن مخالف دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔

حکومت نے ویڈیو کو گمراہ کن اور فریب پر مبنی قرار دیا اور ایکس  سے اسے ہٹانے کو کہا۔

مودی اور وزیر خزانہ سے متعلق پوسٹ

حکومت نے ایک اور پوسٹ کو ہٹانے کی کوشش کی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک ویڈیو تھا۔ اس ویڈیو میں ان کے پانچ سال میں ملک کو حساب دینے کے وعدے پر طنز کیاگیا تھا۔ اس پوسٹ کو بعد میں صارف نے خود ہٹا دیا تھا۔

جولائی 2024 میں، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے متعلق کچھ پوسٹ کو ہٹانے کے احکامات دیے گئے ۔

تعاون یا ‘سینسرشپ پورٹل’

یہ نوٹس پچھلے دو سالوں سے عوام کی نظروں میں نہیں آ رہے تھے کیونکہ ایکس  نے اپریل 2023 میں سرکاری درخواستوں کو عام کرنا بند کر دیا تھا۔ لیکن اب، یہ تفصیلات ایکس  اور ہندوستانی حکومت کے درمیان ‘سہیوگ’ پورٹل کے حوالے سے جاری قانونی جنگ میں اجاگر ہوئی ہیں۔

ایکس نے  حکومت کے سہیوگ  پورٹل کو’سینسرشپ پورٹل’ کہا ہے، جو پولیس اور سرکاری ایجنسیوں کو مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس بلاک کرنے کے براہ راست احکامات نہیں ہیں بلکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ممکنہ قانونی خطرات سے خبردار کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر حکومت سوشل میڈیا پر اپنی نگرانی بڑھا رہی ہے اور تنقیدی پوسٹ کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ تاہم، اس عمل پر قانونی بحث جاری ہے۔