سونم وانگچک سے ماہرین تعلیم اور فنکاروں کی اپیل: ’بھوک ہڑتال ختم کریں، ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے‘

ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کاکرچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک 19 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک جمعہ، 17 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے 20 دن مکمل کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات پر اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے ایک ’جذباتی اپیل‘ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے،’سونم جی – ہم آپ سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر نے کی اپیل کرتے ہیں ۔ آپ بہت قیمتی ہیں، اس افسوسناک طریقے سے آپ کو کھونا ایک بہت بڑا نقصان ہوگا۔‘

وانگچک وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

اس اپیل پر نوبیل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی، مصنفین امیتاو گھوش، ارندھتی رائے اور انیتا دیسائی، فلمساز زویا اختر، میرا نائر، کرن راؤ، وکرمادتیہ موٹوانی اور پائل کپاڑیا، اداکارہ نندتا داس، فریڈا پنٹو، جم سربھ سمیت کئی معروف شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ’اس مخلص شہری کے ساتھ بات چیت شروع کرے اور اس عوامی خدمت کے جذبے کا احترام کرے جس کی نمائندگی سونم وانگچک کرتے ہیں۔‘

وانگچک کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل میں کہا گیا ہے کہ ان کی قربانی اور حوصلے نے دنیا بھر کے لوگوں کوتحریک دی ہے۔

ہنی تریہن، سلیل ترپاٹھی، آتش تاثیر، نندنا سین، کونکنا سین، دیو بینگل، وشال بھاردواج، انگنا پی چٹرجی، رانا داس گپتا، امت چودھری، کانو بہل اور انسانی حقوق کے کارکن، فلمساز، ماہرین تعلیم، اسکرپٹ رائٹر اور صحافی- جن میں اجیت ساہی، شروتی گانگولی، سدھارتھ دوبے، سبرینا دھون، ٹیمی گروور، کارتیکی گونسالوس اور راگھو بہل شامل ہیں- اس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔

دریں اثنا، وانگچک کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی بھوک ہڑتال اور مطالبات پر حکومت کی خاموشی بھی باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔ ان کی صحت کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق ان کا وزن کافی کم ہو گیا ہے اور ان کے ضروری وائٹل پیرامیٹرز گر رہے ہیں، جس سے طویل عرصے تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے سنگین نتائج کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کا وزن تقریباً 9 کلوگرام کم ہو چکا ہے اور ان کی جسمانی حالت کافی کمزور ہو گئی ہے۔

اپیل پر دستخط کرنے والوں نے وانگچک کو ’ہماری اجتماعی ضمیر‘ اور ’ہندوستانی ماحولیات اور نوجوانوں کا عظیم محافظ اور ساتھی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ ’سونم وانگچک جس عوامی خدمت کے جذبے کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کا احترام کرے۔‘

وانگچک نے 28 جون کو جنتر منتر پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ وہ کاکرچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اس دھرنے میں شامل ہوئے تھے جو 20 جون سے جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جب تک حکومت تحریک کے مطالبات پر ردعمل ظاہر نہیں کرتی، وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

گزشتہ 15 جولائی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں وانگچک نے لوگوں سے 20 جولائی کو ہونے والے مجوزہ مظاہرے میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل نہ کریں۔

انہوں نے کہا،’میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ پہلی، اگر میں اپنی بھوک ہڑتال ختم بھی کر دوں تو اس سے کیا بدلے گا؟ حکومت کو صرف یہی پیغام جائے گا کہ اسے جوابدہ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ احتجاج پر بیٹھتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں- ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

دریں اثنا، 16 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی کہ وانگچک کی روزانہ میڈیکل نگرانی یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ’ہر شہری کی زندگی قیمتی ہے۔‘ یہ تبصرہ عدالت نے وکیل راکیش کمار سینی کی جانب سے وانگچک کی صحت کی صورتحال کے حوالے سے دائر کی گئی پی آئی ایل کی درخواست کی سماعت کے دوران کیا۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے کہا کہ وانگچک کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت کو بتایا کہ وانگچک کا پہلے ہی باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جا رہا ہے اور وقتاً فوقتاً نجی ڈاکٹروں نے بھی ان کی جانچ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق انہیں مناسب علاج فراہم کیا جائے گا۔