آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دوٹینکروں پر ایرانی کروز میزائل حملے میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہوگئی اور کئی دوسرے لوگ زخمی ہو گئے۔ زخمی لوگوں میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن سمیت اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کاروں کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے۔

علامتی تصویر:منگل، 14 جولائی 2026 کو خلیج عمان میں آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب کو ملانے والے بحری راستے پر ٹینکر اور کارگو جہاز۔ (تصویر: اے پی)
نئی دہلی:متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل (14 جولائی) کی صبح جانکاری دی ہےکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دو ٹینکروں پر حملہ کیا ہے، جس میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہو گئی اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے، جن میں چھ ہندوستانی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن (ڈی سی ایم) محمد جواد حسینی سمیت اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کاروں کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے۔
وہیں، متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفارت خانے نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستانی کرو کے رکن کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’دو جہازوں پر ہوئے حملوں میں ایک ہندوستانی ملاح کی افسوسناک موت پر ہم رنج کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور زخمی افراد اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔‘
We condole the tragic loss of an Indian seafarer in the attacks on two vessels, Al Bahiyah & Mombasa B. We are closely monitoring the situation and are in touch with the local authorities to render all possible assistance to the injured and families.
— India in UAE (@IndembAbuDhabi) July 14, 2026
یو اے ای کی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ حملہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے سمندری علاقے میں ہوا۔ ایران نے’مومباسا‘اور’ال بہیہ‘نامی ٹینکروں کو نشانہ بناتے ہوئے دو کروز میزائل داغے، جس سے دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔
بیان میں آگے کہا گیا،’اس حملے میں ’مومباسا‘ ٹینکر پر موجود ایک ہندوستانی کرو کے رکن کی موت ہو گئی جبکہ آٹھ دیگر زخمی ہوگئے، جن میں چار کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ زخمی لوگوں میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔‘
The Ministry of Defence announces that the national tankers Mombasa and Al Bahiyah were targeted by two Iranian cruise missiles while transiting the southern shipping lane of the Strait of Hormuz, within Omani territorial waters.
The attack resulted in the death of one Indian… pic.twitter.com/i1HrXY0fKP
— وزارة الدفاع |MOD UAE (@modgovae) July 13, 2026
دریں اثنا، ایران کی پیراملٹری ریولوشنری گارڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہازوں نے’بار بار دی گئی وارننگ کو نظرانداز کیا۔‘
ریولوشنری گارڈ نے کہا،’انہوں نے بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزرنے کا فیصلہ کیا، اس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔‘
رپورٹس کے مطابق، بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس سے سے پتپ چلاکہ’مومباسا‘ابو ظہبی کے زرکو آئی لینڈ آئل ٹرمینل سے شارجہ کے خور فکان جا رہا تھا، جبکہ’ال بہیہ‘کا روٹ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران نے امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں منگل کی صبح بحرین پر ایک اور حملہ کیا۔ اس دوران بحرین میں دو بارمیزائل حملے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کو کہا گیا۔ تاہم اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا،’متحدہ عرب امارات کو اپنے علاقے، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ملک ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، دبئی کے اوپر جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سنی گئیں۔
غور طلب ہے کہ صرف چار دنوں میں ہندوستانیوں کو لے جانے والے جہازوں پر ایران کا یہ دوسرا حملہ ہے۔ 12 جولائی کو ہندوستان نے عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز جی ایف ایس گلیکسی پر حملے کی مذمت کی تھی۔ اس وقت ہندوستان نے بتایا تھا کہ ایک ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہے، جبکہ دس دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔ لاپتہ ہندوستانی کے بارے میں اب تک کوئی جانکاری موصول نہیں ہوئی ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی حملوں میں سیٹیبیلو نامی ٹینکر پر سوار تین ہندوستانی ملاح بھی مارے گئے تھے۔ ان حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر ہندوستان نے دو بار امریکی سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز جیسن میکس کو طلب کیا تھا۔