بی جے پی ایم پی پرویش ورما کا غیر قانونی مسجدوں کا دعویٰ بالکل جھوٹا: دہلی اقلیتی کمیشن

ورما نے دہلی کے گورنر کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ راجدھانی میں کئی مسجدوں کی تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہےاور ایسی مسجدوں کو گرا دیا جائے۔

ورما نے دہلی کے گورنر کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ راجدھانی میں کئی مسجدوں کی تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہےاور ایسی مسجدوں کو گرا دیا جائے۔

مغربی دہلی کے بی جے پی رکن پارلیامان پرویش صاحب سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

مغربی دہلی کے بی جے پی رکن پارلیامان پرویش صاحب سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے کہا ہے کہ بی جے پی ایم پی پرویش ورما کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ راجدھانی میں 54 مسجدوں کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق؛کمیشن نے کہا کہ اس نے بی جے پی ایم پی کے اس دعوے کی جانچ کرنے کے لیے تقریباً 1 مہینے تفتیش کی اور پایا کہ ایک بھی مسجد کی تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے نہیں کی گئی ہے۔

کمیشن کے چیئر پرسن اویس سلطان خان نے کہا،’جھوٹے دعوے کرنے اور کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے ارادے سے افواہ پھیلانے کے لیے ایم پی پرویش ورما کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے ہمارے پاس مناسب ثبوت ہیں۔ ہم ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر سکتے ہیں۔’

غور طلب ہے کہ گزشتہ 18 جون کو پرویش ورما نے دہلی کے گورنر کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ راجدھانی میں کئی مسجدوں کی تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہےاور انھوں نے مانگ کی تھی کہ  ایسی مسجدوں کو گرا دیا جائے۔اسی کے بعد بی جے پی رہنما کے دعووں کی جانچ کرنے کے لیے دہلی اقلیتی کمیشن نے 24 جون کو ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی۔

خان نے ورما کے دعووں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے 58 مسجدوں ،3 مدرسوں، 3 مزاروں،3 شمشان گھاٹ اور ایک امام باڑہ کا دورہ کیا اور پایا کہ کسی کی بھی تعمیر غیر قانونی طریقے سے نہیں کی گئی ہے۔

جب انڈین ایکسپریس نے ورما سے رابطہ کیاتو انھوں نے کہا کہ اقلیتی کمیشن کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے اور انھوں نے اس معاملے کا صرف از خود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن میں زیادہ تر لوگ عام آدمی پارٹی کے ممبر ہیں ،ان کو اس معاملے میں جانچ کرنے کا حق نہیں ہے ۔