بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب سے پہلے ’بھگوا کو ووٹ‘ اور ’ہم ہندو ہیں‘ جیسے پیغام والے پوسٹروں کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اسے مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کا معاملہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔

بانکی پور اسمبلی سیٹ پر 30 جولائی کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ (تصویر: سوشل میڈیا)
نئی دہلی: بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پر 30 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخاب سے پہلے انتخابی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ دارالحکومت پٹنہ کے کئی علاقوں میں ایسے بینر اور پوسٹر لگائے گئے ہیں جن میں مذہبی پہچان کی بنیاد پر ووٹ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
ان پوسٹروں کے سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
بانکی پور کی ایک عمارت کے باہر لگائے گئے ایک بڑے بینر پر لکھا ہے،’گرو سے کہو ہم ہندو ہیں۔ ہمارا ووٹ بھگوا کو۔‘
اس بینر پر بی جے پی کا انتخابی نشان، پارٹی امیدوار نیرج کمار سنہا، بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی تصویریں بھی چھپی ہوئی ہیں۔

بھاکپا (مالے) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے بھی ان پوسٹروں کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ 30 جولائی کو ہونے والے بانکی پور ضمنی انتخاب سے پہلے بی جے پی امیدوار کی تصویر اور انتخابی نشان کے ساتھ لوگوں سے ’بھگوا کو ووٹ‘ دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
Patna ahead of the Bankipur bypoll of July 30! Proud Hindus are being asked to vote saffron with photo and symbol of BJP candidate. Is there any code of conduct? Is there any Election Commission of India? Bankipur bypoll has been caused by BJP President Nitin Navin’s resignation. pic.twitter.com/pLnZBwNHtH
— Dipankar (@Dipankar_cpiml) July 28, 2026
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ضابطہ اخلاق نافذ ہے؟ کیا الیکشن کمیشن زندہ ہے؟ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ یہ ضمنی انتخاب بی جے پی صدر نتن نوین کے استعفیٰ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
اسی گیٹ کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے معروف صحافی رویش کمار نے طنز کیا،’ترقی کے نام پر ووٹ مانگنے سے الیکشن کمیشن کو بھی دقت نہیں ہے۔ اگر اپوزیشن اس طرح کے بینر لگوا دے کہ مندر میں چندہ چوری کرنے والوں کو ووٹ نہیں دیں، تو الیکشن کمیشن چاروں طرف نظر آنے لگے گا۔ اس لیے اس ملک میں الیکشن مذاق بن گیا ہے۔ کئی دنوں سے اس طرح کے استقبالیہ دروازے لگے ہوئے ہیں۔‘
ان کے مطابق، اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی حلقے میں خاطر خواہ سرگرمی نہیں دکھا پا رہی ہیں۔
बांकीपुर में ये गेट लगा है। विकास के नाम पर वोट माँगने से चुनाव आयोग को भी दिक्कत नहीं है। अगर विपक्ष इस इस तरह के बैनर लगवा दे कि मंदिर में चंदा चोरी करने वालों को वोट नहीं दें तो चुनाव आयोग चारों तरफ़ दिखाई देने लगेगा। इसलिए इस देश में चुनाव मज़ाक बन गया है। कई दिनों से इस तरह… pic.twitter.com/T4klxc57o9
— ravish kumar (@ravish_journo) July 28, 2026
اسی طرح کے ایک دوسرے پوسٹر پر لکھا ہے،’کٹر ہندو ہم ہیں، نہیں تو ہم کو کاٹ دیا جاتا۔ اپنا ووٹ بھگوا کو دیں۔‘
اس پوسٹر پر ’درخواست گزار: گول گھر شاخ، پٹنہ‘ لکھا ہوا ہے۔
ایک تیسرے پوسٹر پر لکھا ہے،’میری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے سیندور کا رنگ بھگوا ہے اور شیواجی کے جھنڈے کا رنگ بھگوا ہے۔ ہم لوگوں کے آرادھیہ بھگوان کا رنگ بھگوا ہے۔ اور میرا ووٹ بھی بھگوا کو ہی جائے گا۔ نیرج سنہا کو بھاری ووٹوں سے کامیاب بنائیں۔‘
اس پوسٹر پر بھی ’گول گھر شاخ، پٹنہ‘ کا نام درج ہے۔
رویش کمار نے ان دونوں پوسٹروں کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ’گول گھر شاخ‘ کس تنظیم کی شاخ ہے۔
انہوں نے لکھا،’بانکی پور میں کھلے عام بھگوا کو ووٹ دینے کے پوسٹر لگائے گئے۔ بی جے پی کا نیا نام ہے بھگوا کو ووٹ دو۔ ایک ضمنی انتخاب بھی صاف ستھرے طریقے سے نہیں جیتا جاتا اور نتیجہ آنے کے بعد اس کا تجزیہ عوامی مینڈیٹ کے نام پر کیا جائے گا۔‘
बांकीपुर उपचुनाव- कोई बता सकता है कि गोलघर शाखा क्या है? किसकी शाखा है? पहली तस्वीर 19 जुलाई को ली गई थी। पटना पुलिस लाइन के ठीक सामने वाली सड़क के घरों पर पोस्टर लगा था। 27 जुलाई को चेक कराया तो इसे किसी ने हटा दिया था। अल्प विराम, पूर्ण विराम हिंदी के प्रसार के लिए दक्षिण की… pic.twitter.com/hfDvWKQAvn
— ravish kumar (@ravish_journo) July 28, 2026
الیکشن کمیشن کے قواعد کیا کہتے ہیں؟
بانکی پور میں لگے ان پوسٹروں کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ضابطہ اخلاق اور انتخابی قوانین کے مطابق ہیں؟
عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کی دفعہ 123(3) کے تحت کسی امیدوار یا اس کے انتخابی ایجنٹ کی جانب سے مذہب، ذات، برادری یا زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگنا بدعنوان انتخابی عمل تصور کیا جاتا ہے۔ اس دفعہ میں کہا گیا ہے-
کسی امیدوار، اس کے انتخابی نمائندے (الیکشن ایجنٹ) یا ان کی رضامندی سے کسی دوسرے شخص کی جانب سے مذہب، نسل، ذات، برادری یا زبان کی بنیاد پر کسی شخص کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے کی اپیل کرنا، یا کسی امیدوار کے انتخابی امکانات بڑھانے یا کسی دوسرے امیدوار کے انتخاب کو متاثر کرنے کے مقصد سے مذہبی علامتوں یا قومی علامتوں (جیسے قومی پرچم یا قومی نشان) کا استعمال کرنا یا ان کی بنیاد پر اپیل کرنا، بدعنوان انتخابی عمل سمجھا جائے گا۔

وہیں، الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے سے گریز کریں اور ایسی کوئی اپیل نہ کریں جس سے سماجی یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو۔
تاہم، ایسے پوسٹروں کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ ان کے سیاق و سباق، انہیں جاری کرنے والے شخص یا تنظیم، امیدوار یا سیاسی جماعت سے ان کے تعلق اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر الیکشن کمیشن یا مجاز اتھارٹی کرتی ہے۔ اب تک کمیشن کی جانب سے ان پوسٹروں پر کوئی عوامی تبصرہ یا کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
بانکی پور سیٹ پر کیوں ہے سب کی نظر ؟
بانکی پور اسمبلی سیٹ بہار کی سب سے زیادہ ہاٹ شہری سیٹوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہاں 30 جولائی کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔
یہ سیٹ بی جے پی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نوین کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہوئی۔ نتن نوین مسلسل پانچ باراس سیٹ سے رکن اسمبلی رہے ہیں۔
تاہم، اس سیٹ کا تعلق بی جے پی سے اس سے بھی پرانا ہے۔ سال 1995 میں، جب اس علاقے کا نام پٹنہ ویسٹ تھا، تب نتن نوین کے والد نوین کشور سنہا یہاں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2008 میں حلقہ بندی کے بعد اس سیٹ کا نام بانکی پور ہو گیا اور اس کے بعد سے بھی بی جے پی یہاں مسلسل کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔
انتخاب دلچسپ کیوں ہو گیا ہے؟
اس بار انتخاب اس لیے بھی سرخیوں میں ہے کہ جن سوراج کے بانی پرشانت کشور پہلی بار انتخابی سیاست میں اتر رہے ہیں اور انہوں نے اسی سیٹ کا انتخاب کیا ہے۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات میں جن سوراج نے 238 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے اور اسے تقریباً 3.4 فیصد ووٹ ملے تھے، لیکن پرشانت کشور خود انتخابی میدان میں نہیں اترے تھے۔
اس بار مقابلہ سہ رخی سمجھا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے نیرج کمار سنہا، آر جے ڈی نے ریکھا گپتا کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ پرشانت کشور جن سوراج کی جانب سے میدان میں ہیں۔
بی جے پی نے شروعات میں ابھیشیک کمار سنہا کو امیدوار بنایا تھا اور انہوں نے نامزدگی کا پرچہ بھی داخل کر دیا تھا، لیکن 10 جولائی کو ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ اس کے بعد پارٹی نے نیرج کمار سنہا کو امیدوار بنایا۔
بی جے پی کا طاقت کا مظاہرہ
سوموار کو بی جے پی اور این ڈی اے نے بانکی پور میں بڑا روڈ شو کیا۔ اس میں بی جے پی صدر نتن نوین، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، ریاستی صدر سنجے سراوگی سمیت کئی رہنما شامل ہوئے۔
بھٹاچاریہ موڑ سے شروع ہونے والا روڈ شو مونا تھیٹر کے قریب ایک عوامی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ پورے راستے میں بی جے پی کے جھنڈے، بینر اور استقبالیہ دروازے لگائے گئے تھے۔ حامیوں نے ’بھارت ماتا کی جئے‘،’وندے ماترم‘اور’جئے شری رام‘کے نعرے لگائے۔
جلسے میں نتن نوین نے راشٹریہ جنتا دل اور جن سوراج کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بانکی پور وکاس کے ساتھ ہے اور 30 جولائی کو بی جے پی کی جیت ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گی۔ انہوں نے پرشانت کشور پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سیاست کرنے نہیں بلکہ کاروبار کرنے آئے ہیں۔