طلسم بمبئی: ممبئی کی سیر و سیاحت کے موضوع پر اُردو کی پہلی کتاب

طلسم بمبئی، ایک پارسی مصنف کی اُردو میں لکھی ہوئی کتاب ہے، شہر کی سیر و سیاحت کے تعلق سے جہاں اُردو میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے، وہیں کسی بھی زبان میں شہر کے لیے ابتدائی رہنما کتابوں میں بھی اس کا نام لیا جا سکتا ہے۔

طلسم بمبئی، ایک پارسی مصنف کی اُردو میں لکھی ہوئی کتاب ہے، شہر کی سیر و سیاحت کے تعلق سے جہاں اُردو میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے، وہیں کسی بھی زبان میں شہر کے لیے ابتدائی رہنما کتابوں میں بھی اس کا نام لیا جا سکتا ہے۔

طلسم ممبئی کا سرورق، تصویر: بہ شکریہ؛ مضمون نگار

طلسم ممبئی کا سرورق، تصویر: بہ شکریہ؛ مضمون نگار

انگریزی متن سے ترجمہ: سید کاشف

 

پچھلی چند صدیوں میں ممبئی کے حدود اور خط و خال (قنطور) کی نئی تعبیریں پیش کرنے کی ان گنت کوششیں کی گئی ہیں۔ اس شہر کو وجودی پیرہن عطا کرنے والے اُن سات خیالی جزیروں کے علاوہ—جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ ممبئی انہی مجمع الجزائر پر آباد تھا—ممبئی اپنے تدریجی سفر میں حدود اربعہ کے کئی جزائر مثلا سالسٹ، ترومبے اور چیمبورمیں ضم ہو کر طبعی وجود حاصل کرتا رہا ہے۔ اب مجموعی طور پر یہی میٹرو پو لیٹن ممبئی کہلاتا ہے۔

غالباً شہر کی تاریخ  کا سب سے اہم ری-ماڈلنگ پروجیکٹ 1860 کی دہائی میں قلعہ (فورٹ) کی دیواروں کو مہندم کیے جانے کے ساتھ شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں انگریزی کے حروف تہجی ’وی‘ سے مماثلت  رکھنے والے شہرممبئی کی دونوں ساحلی پٹیاں بالکلیہ بدل گئیں اور پہلے جیسا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

مشرقی ساحل پر قدیم بیسن (طاس / سمندر سے متصل نشیبی قطعہ) اور ڈاک (بندرگاہ) نے دو بڑے بازیابی یا بحالی کے منصوبوں (حصول اراضی) کی راہ ہموار کی؛


مودی-بے ری کلیمیشن [Moody Bay Reclamation]

ایلفنسٹن ری کلیمیشن [Elphinstone Reclamation]


مودی-بے ری کلیمیشن، منٹ (سرکاری ٹکسال، ممبئی؛ حکومت ہند کا وہ ادارہ جہاں سکے ڈھالے جاتے ہیں) سے لے کر قدیم ‘کرناک بندر’ تک پھیلا ہوا ہے۔

دوسرا غیر معمولی پروجیکٹ ایلفنسٹن ری کلیمیشن شمال کی جانب مجگاؤں (مجگام)  تک مزید ڈیڑھ میل کے فاصلے پر محیط ہے۔

‘دی بامبے پورٹ’، جسے شہر کا مرکز تصور کیا جاتا ہے، کو از سر نو تیار کیا گیا تا کہ بڑے بحری جہازوں کو اس کے ڈاک میں ٹھہرایا جا سکے۔ ایک نئی ریلوے لائن، جو کہ بمبئی، بڑودہ اور سینٹرل انڈیا ریلوے (اب ویسٹرن ریلوے) کی توسیع ہے، جزیرہ بمبئی کے مغربی کنارے کے ہمراہ چلتی ہوئی اپولو بندر کے قریب نو تعمیر شدہ گھاٹ پر مکمل ہو جاتی ہے۔

قلعہ کی دیواریں منہدم کرنے کے بعد، ایک بالکل نیا قصبہ ‘فریئر ٹاؤن ‘(سر ہینری بارٹل فریئر، بامبے پریزیڈنسی کے گورنر تھے، جنہوں نے قلعہ کی دیواریں منہدم کروائیں۔ جس کے نتیجے میں نیا قصبہ آباد ہوا، جو فریئر ٹاؤن کہلایا۔) قدیم ایسپلانیڈ (ساحل سمندر پر سیرگاہ) پر بسایا گیا، جس میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ 1870کی دہائی میں فریئر ٹاؤن میں کئی تاریخی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جن میں ایلفنسٹن کالج، واٹسن ہوٹل، ہائی کورٹ، یونیورسٹی اور سکریٹریٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

گرچہ یہ نام جلد ہی متروک ہو گیا، لیکن فریئر ٹاؤن کی ساخت / خاکہ بندی اور اس کی عمارتیں آج بھی ممبئی شہر کی کلیدی پہچان ہیں۔

سن 1875 تک، یعنی 15 سال بعد شہر میں آنے والے کسی بھی سیاح کے لیے رہنمائی کے بغیر اس شہر کی سیر سیاحت آسان نہیں تھی۔

 میکلین گائیڈ ٹو بمبئی۔ تصویر: بہ شکریہ؛ مضمون نگار

میکلین گائیڈ ٹو بمبئی۔ تصویر: بہ شکریہ؛ مضمون نگار

لہذا شہر کے لیے ایک گائیڈ بک شائع کرنے کا یہ صحیح وقت تھا۔ نومبر 1875 میں، بمبئی گزٹ پریس نے ‘میکلینس گائیڈ ٹو بمبئی’ کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔

اگلے ہی مہینے، لکھنؤ کے منشی نول کشور نے بھی اپنے مشہور زمانہ مطبع سے ممبئی کے لیے ایک گائیڈ بک شائع کر دی۔ واقعہ یہ ہے کہ’طلسم بنبئی‘ (بمبئی) کے نام سے یہ کتاب ایک پارسی نے اُردو میں تحریر کی تھی، جو حال ہی میں ممبئی سے ہجرت کرکے لکھنؤ وارد ہوئے تھے۔ شہر کے تعلق سے  یہ اُردو میں پہلی کتاب تھی اور کسی بھی زبان میں شہر کے لیے ابتدائی رہنما کتابوں میں سے ایک تھی۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ایک پارسی (زرتشت) لکھنؤ میں کیا کر رہا تھا؟ اور اس نے ممبئی کے بارے میں  اُردو میں کتاب کیسے لکھی؟

لکھنؤ میں پارسی

شمالی ہندوستان میں سفر کرنے والے اولین پارسی 1830 اور 40 کی دہائی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی رجمنٹ کے کیمپ کے پیروکار تھے۔ وہ یورپ سے امپورٹ کیے گئےاشیاء کی تجارت  کرتے تھے۔ ان کے خریدار زیادہ تر یورپی فوجی اور شہری ہوتے تھے، اور شاید ایک دو نواب بھی ان کے خریداروں میں شامل تھے۔ 1850 کی دہائی تک پارسیوں نے دہلی، الہ آباد اور کانپور جیسے شہروں میں دکانیں کھول لیں تھیں۔ یورپی اشیاء کے علاوہ، وہ شراب اور بیئر کے اپنے ذخیرے (اسٹاک) کے لیے بھی معروف تھے۔

گرچہ 1857-59 کی جنگ آزادی کے بعد دریائے گنگا کے میدانی علاقوں میں پارسی قوم کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا، لیکن شمالی ہندوستان میں پارسیوں کی آبادی انیسویں صدی کے اواخر تک کم تھی اور اکثر بکھری ہوئی تھی۔

لکھنؤ کے ایک پارسی باشندے کو ‘فائر ٹیمپل’ (آتش کدہ) کی زیارت کے لیے کسی بھی سمت میں ایک ہزار کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا تھا۔ وہ یا تو مغرب میں لاہور جا سکتا تھا یا مشرق میں کلکتہ۔ اگر وہ ممبئی کے لیے جنوب کی جانب سفر کرتا تو وسطی ہندوستان میں مہو (مدھہ پردیش کا ایک شہر، جو اب امبیڈکر نگر کہلاتا ہے) میں ’آتش کدے‘ کی زیارت کرسکتا تھا۔

بہرحال، لکھنؤجب اودھ کے نوابوں کادارالحکومت نہ رہا اور ایک نوآبادیاتی کالونی میں تبدیل ہو گیا، تو کاروبار میں اپنا مقدر آزمانے کے خیال سے پارسیوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کیا۔ 1870 کی دہائی کے اوائل تک، لکھنؤ میں پارسیوں کی تعداد 100 کے قریب تھی، جن میں چند خاندان بھی شامل تھے۔ ‘دی لکھنؤ پارسی انجمن’ نے ایک ‘آرام گاہ’ (پارسیوں کا قبرستان) کی بنیاد رکھی۔ 1872 میں ‘ہرمزد باغ’ (اہورا مزدا) کے نام سے ایک کمیونٹی ہال، جو اب تک ان کی یادگار کے طور پر قائم ہے، فرم جی شاپورجی کوچ بلڈر کے فنڈز سے ‘آرام گاہ ‘کے ٹھیک سامنے تعمیر کیا گیا تھا۔

یہی وہ وقت تھا جب ’طلسم بمبئی‘ کے مصنف سیٹھ نوروجی ولد مانک جی لکھنؤ تشریف لائے۔ چونکہ وہ کوئی معروف شخصیت نہیں تھے، لہذا، ان کے بارے میں بہت کم احوال دستیاب ہیں۔ کیا وہ نوروجی ما نک جی  کا نٹریکٹر ہو سکتے ہیں، جنہیں پارسی پرکاش نے 1868 میں بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک پاس کرنے والوں کی فہرست میں شامل کیا ہے؟ اس بات کا قوی امکان ہے، کیونکہ میٹرک کے بعد انہوں نے کاروبار میں مقدر آزمانے کے لیے لکھنؤ کا رخت سفر باندھا تھا۔

منشی نول کشور اور ان کا مطبع

منشی نول کشور (1836-95) کے نول کشور پریس (قیام :1859) نے جلد ہی شمالی ہندوستان کے ممتاز پبلشرز اور پرنٹرز کی حیثیت سے شہرت حاصل کرلی تھی۔ 1870 کے وسط تک، اس مطبع کے کیٹلاگ میں ہندی، اردو، عربی اور فارسی کی کتابوں کی ایک وسیع فہرست شامل ہوچکی تھی۔ اس دور میں کتابوں کی دنیا آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی تھی۔ پرنٹرز خود ہی کتابیں چھاپنے لگے تھے اور پبلشر کا رول ادا کرنے لگے تھے۔ مزید برآں، نوآبادیاتی حکومت کے تعلیمی محکمے بڑی تعداد میں درسی کتابوں کے پرنٹ آرڈر جاری کرنے لگے تھے۔

پرنٹنگ کے کاروبار نے منشی نول کشور کو ترقی کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ وہ پہلے اردو پرنٹرز میں سے ایک تھے جو ترقی کر کے پبلشر بن گئے۔ نول کشور مطبع سے چھپنے والی کتابوں میں اکثر نصابی کتابیں شامل تھیں، جیسے منشی شیو پرساد (1859) کی تصنیف جغرافیہ کی نصابی کتاب ‘جام جہاں نما’ (اُردو) یا رام شرن داس (1860) کی ‘پٹواریوں کے حساب کی کتاب’ (ہندی)۔

لیکن نول کشور پریس نے جلدی ہی شعری اصناف سے متعلق کتابیں بھی شائع  کرنا شروع کردیں، جن کی ان دنوں خوب مانگ تھی۔ مثال کے طور پر للو جی لال کی ‘پریم ساگر’ یا تلسی داس کی ‘گیتاولی’۔

منشی نول کشور نے غالب، میر، ظفر اور مومن جیسے شاعروں کی تخلیقات بھی شائع کیں، اور اس میں شاعر کے بقید حیات ہونے کی پابندی نہیں تھی۔

فارسی کلاسکی متون اور ان کے اردو تراجم  منشی نول کشور کے مطبع کی ایک اور کلید تھے۔ 1868 میں نول کشور پریس کی جانب سے پہلی بار شائع ہونے والے قرآن کے شاندار لیتھوگرافک ایڈیشن کو ہزاروں خریدار نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

منشی نول کشور نے کتابوں کی تجارت اور طباعت کے بازار کو وسعت دینے کی جی توڑ کوشش کی۔ انہوں نے مترجمین کی ایک ٹیم بھی بنا ئی، جو انگریزی، سنسکرت اور فارسی سے اردو اور ہندی میں ترجمہ کر سکتے تھے۔

انہوں نے متعدد کتابوں کے کاپی رائٹ مصنفین یا ان کے وارثین سے حاصل کیے۔ وہ طباعت کی دنیا میں نت نئے ڈھب اور طریقے تلاش کرنے اور اس کو اپنانے میں سرگرداں رہتے تھے۔ 1840 کی دہائی سے اردو میں سفرنامے شائع ہونے لگے تھے، لیکن تجارتی اعتبار سے ابھی یہ صنف زیادہ سود مند نہیں تھی۔ یاترالٹریچر کی ہندی میں پرانی تاریخ ہے اور نول کشور نے ہندی یاترا کے چند کتابچے شائع بھی کیے تھے؛ کنہیا لال کی ‘بن یاترا’ (1868) اور گرشرن لال کی ‘اودھ یاترا’ (1869) خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔

ان سب کے باوجود، یہ بات قابل غور ہے کہ کسی شہر سے متعلق ایک گائیڈ بک کی اشاعت کا خیال ان کے ذہن میں دور دور تک نہیں تھا۔

آخر منشی نول کشور کے ذہن میں ممبئی کے لیے ایک گائیڈ بک کا خیال کیسے آیا؟ اور وہ یہ گائیڈ بک کسے فروخت کرنا چاہتے تھے؟

ایک طرف چند پارسی شمالی ہندوستان کی جانب کوچ کر رہے تھے کہ انہیں ممبئی سے بہتر اور بڑے مواقع حاصل ہوں (جوان کے خیال میں اب ممبئی میں نہیں تھے) اور دوسری طرف  شمالی ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد مخالف سمت میں ہجرت کر رہی تھی۔

شہر میں ترقی کی رفتار تیز تر ہو گئی تھی۔ لہذا، یہاں کی  معیشت ہر اس شخص کے لیے ثمرآور ثابت ہو سکتی تھی جو اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہو۔ ریلوے کی آمد سے شہر اورا سٹیشنوں کے درمیان ٹریفک میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ تاجر، طلباء، سیاح اور زائرین بڑی تعداد میں شہر کا رخ کرنے لگے۔ حج کے سفر کے لیے ممبئی کا بندرگاہ شمالی ہندوستا ن سے تعلق رکھنے والے زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگا۔ ہر سال ہزاروں مسلمان شہر میں ڈیرہ ڈالتے تھے۔ سفری پاس اورٹکٹ وغیرہ کے حصول کے بعد وہ عرب جانے والے بحری جہازوں میں سوار ہونے کا انتظار کرتے تھے۔

وقت اورحالات پر گہری نظر رکھنے والے نول کشور نے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ ممبئی کے لیے ایک گائیڈ بک تیار کرنے کا یہی صحیح وقت ہے۔ ایک اہل مصنف کو تلاش کرتے ہوئے ان کا سامنا ایک نوجوان اور تعلیم یافتہ پارسی سے ہوا ہوگا، جو حال ہی میں ممبئی سے لکھنؤ آیا تھا؛ اور جس کے بارے میں ان کا خیال رہا ہوگا کہ وہ اس شہر کی تاریخ، اہم مقامات اورر دیگر معاملات سے خاطر خواہ واقفیت رکھتا ہوگا۔

طلسم بمبئی کا آخری ورق، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

طلسم بمبئی کا آخری ورق، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

جادوئی شہر ممبئی

’طلسم بمبئی‘ 16 صفحات پر مشتمل لیتھوگراف پر چھپی ہوئی کتاب ہے۔ یہ دو حصوں میں منقسم ہے، اولین آٹھ صفحات میں سرورق کے علاوہ ایک طویل مقدمہ شامل ہے جو شہر کی تاریخ، اس کے باشندے اور ان کے فلاحی کاموں کی رو داد ہے۔ آخری آٹھ صفحات بمبئی اور اس کی تاریخی عمارتوں کے لیے ایک گائیڈ ہے۔ متن کی خطاطی دلکش اور طباعت دیدہ زیب ہے۔

بمبئی کے باشندے کے طور پر، نوروجی اردو کے بمبئی ورژن یا بمبیا اردو سے بخوبی واقف رہے ہوں گے۔

تاہم، متن میں ہجے کی بے شمار غلطیوں سے، بالخصوص پارسی ناموں کے املا سے، معلوم ہوتا ہے کہ نوروجی اردو نہیں پڑھ سکتے تھے۔ انہیں ممبئی کا حال لکھنے کے لیے کسی اہل زبان کی ضرورت پڑی ہوگی۔

ایسے میں کتاب کےعنوان سے ممکنہ طور پر اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ نوروجی نے کس کی معاونت سے اس کارنامے کو انجام دیا ہوگا۔

ایک عربی لفظ جس کی یونانی جڑیں انگریزی لفظ ‘طلسمان’ کے ساتھ ملتی ہیں، ‘طلسم’ کے لیے اردو میں متعدد معنی ہیں؛ تماشا، جادو، اسرار، سحر کاری۔

نول کشور پریس پہلے ہی دو کتابیں شائع کرچکا تھا، جن کے عنوان میں لفظ ’طلسم‘ کا سابقہ استعمال کیا گیا تھا۔ ایک  فارسی داستان کا ترجمہ ’طلسم شایان‘ کے نام سے 1862 میں شائع ہوا تھا۔

اسی طرح 500 صفحات پر مشتمل اودھ کی تاریخ  ’طلسم ہند‘ 1874 میں شائع ہوئی تھی۔

یہ دونوں کتابیں طوطارام ‘شایان’ لکھنوی کی کاوش تھیں۔ وہ اُردو کے شاعر تھے اور بطور مترجم نول کشور پریس سے وابستہ تھے۔ بہت ممکن ہے کہ منشی نول کشور نے طوطارام کو نوروجی کے ساتھ تعاون کر کے  اردو متن تیار کرنے کا کام سپرد کیا ہوگا۔

ممبئی کے بارے میں نوروجی کا علم یا نظریہ ان کے اپنے تجربات  تک محدود تھا، جو زیادہ تر پارسی قوم کے حوالے سے تھا۔

شاید اس لیے کتاب (گائیڈ بک) کے دونوں حصوں  ‘مقدمہ’ اور ‘گائیڈ’ پر پارسی بیانیہ حاوی ہے۔ انہوں نے پارسی فلاحی اداروں جیسے ‘پارسی پنچایت’  اور ’ایسوسی ایشن فار امیلیو ریٹنگ دی کنڈیشن آف دی زورو آسٹرین پا پولیشن آف پرشیا‘ کے بارے میں خوب لکھا ہے۔ پارسی سیٹھوں جیسے جمشید جی جی جی بھائی اور بھائیکلہ میں ان کے ہسپتال کی فلاحی خدمات کو بھی وضاحت کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔

سر جمشید جی جی جی بھائی ہسپتال، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

سر جمشید جی جی جی بھائی ہسپتال، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

گائیڈ ٹو ممبئی، بہ مشکل آٹھ صفحات پر مشتمل ہے، جوتین کالموں میں مرتب کیا گیا ہے۔

نوروجی یکے بعد دیگرے محلوں کا احوال لکھتے ہیں اور اہم عمارتوں اور مقامات کی فہرست بھی پیش کرتے ہیں۔ جنوبی ممبئی میں قلابہ سے شروع کرتے ہوئے، وہ شمال کی طرف پلاوا گھاٹ (اپولو بندر)، میدان (ایسپلانیڈ) اور کوٹ (فورٹ) کی طرف بڑھتے ہیں۔

اس کے بعد وہ قدیم ‘آبائی شہر’ (نیٹو ٹاؤن) کی جانب بڑھتے ہیں اور اس کے بازار، ماما دیوی کا محلہ (ممبادیوی)، کالکا دیوی اور پنجاراپول کا ذکر کرتے ہیں۔

مغرب کی طرف رخ کرتے ہوئے، وہ دھوبی تالاب، چوپاٹی اور گرگام کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ وہ گرانٹ روڈ کا  تذکرہ کرتے ہوئے تاردیو، کریل واڑی اور کھیت واڑی کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مضافاتی علاقوں کی طرف رخ کرتے ہیں؛ بھائیکلہ، مہایم، پریل، مہالکشمی اور والکیشور۔

نوروجی نے مشرقی بندرگاہ والے اضلاع جیسے ٹانک بندر، مجگام اور مانڈوی جیسے مقامات کا ذکر بھی کیا ہے۔

 گرجا گھر، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

گرجا گھر، تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

ہر محلے میں، وہ اہم عمارتوں کی فہرست بنا تے ہیں اور چند جملوں میں ان کی تفصیلات رقم کرتے ہیں۔ اگر اتفاق سے اس کی مالی اعانت کسی پارسی نے کی ہے تو وہ اس بات کا ذکر خصوصی طورپر کرتے ہیں۔  چار کالموں پر مشتمل سب سے طویل تذکرہ قلعہ والے محلہ کے بارے میں ہے۔ یہ وہ علاقہ / محلہ ہے جو قلعہ کی چہار دیواری (منہدم کیے جانے سے پہلے) کے اندرون واقع تھا۔

زیادہ تر وضاحتیں نسخہ جاتی ہیں— خوب، عمدہ، نہایت عمدہ، نفیس اور عالیشان—جیسا کہ درج ذیل اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے؛

 تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار


محلہ کوٹ

ٹکسال سرکاری اس میں بذریعہ کل روپیہ پیسہ بنایا جاتا ہے۔انگریز بازار،اس میں انگریزی و ہندوستانی سوداگروں کی کوٹھیاں ہیں ، کیا خوب جگہ دلچسپ قابل دید ہے۔

فیروز کامدرسہ، کیا عمدہ عمارت ہے۔

گوروں کی ہسپتال، یہ بھی نہایت عالیشان عمارت ہے۔

 پارسیوں کا جماعت خانہ، معروف بہ اسم مانک جی سیٹھ کی باڑی کیا عمدہ مکان ہے۔

قلعہ بنبئی (بمبئی )اس میں تمام ہتھیار و مکان قابل دیدہیں۔ گرجا گھرانگریزوں کابہت عمدہ عمارت اور عالیشان مکان ہے۔

 پارسی قوم کی لڑکیوں کا مدرسہ، نہایت عمدہ ہے۔

دواخانہ پارسی لوگو ں کے روپیہ سے بنا ہے ، بہت عمدہ مکان ہے۔

ٹون حال (ٹاؤن ہال)  واسطے کمیٹی عام لوگوں کے ہے جو کہ رئیس ہیں اور کتب خانہ و نیز تصویرات تجار بنبئی (بمبئی )اس میں ہیں؛ مدرسہ اس میں پہلوی  و فارسی وژنڈ زبان کے علوم پڑھائے جاتے ہیں، سر جمشید جی جی جی بھائی نے بنوایا ہے، کیا خوب عمارت ہے۔مدرسہ سرکاری درجہ دوم بہت عمدہ عمارت ہے۔

مکان سر جمشید  جی جی جی بھائی کیا عمدہ عمارت ہے۔

فریئرٹون(ٹاؤن) اوراس کے گردا گرد کے مکان اور اندر کا  باغیچہ قابل دید ہے۔ مدرسہ اس میں فقط  پارسی لڑکے و لڑکیوں کو انگریزی اور گجراتی علوم پڑھایا جاتا ہے، سر جمشید جی جی جی بھائی نے بنوایا ہے۔ یہ عمارت بھی نہایت نفیس ہے۔ ڈونگری قلعہ، بہت رفیع الشان عمارت ہے۔ کثرت خانہ، یہ بھی بہت عمدہ  عمارت ہے۔


گائیڈ بک میں دادر کے حوالے سے جو تذکرہ ہے وہ ابتدائی تذکروں میں سے ایک ہے۔


دادرا:اس محلہ میں کئی باغیچہ لائق دید ہیں اور آبادی اس کی ٹیکرے پر واقع ہے، کیا ہی مقام دلچسپ ہے۔ ریلوے بڑودہ و سورت کا اسٹیشن کیا خوب بنا ہے، نہایت فرحت کی جا ہے۔


IMG_4736

تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

تصویر بہ شکریہ؛ مضمون نگار

‘طلسم بمبئی’ کا قاری یہ تاثر قبول  کر سکتا ہے کہ ممبئی پارسیوں کا شہر ہے۔ شمال میں مہایم سے لے کر انتہائی جنوب میں قلابہ تک ہر محلے میں پارسیوں کے بنائے ہوئے ڈھانچے نظر آتے ہیں:پکی سڑکیں،آتش کدہ،اسکول اور کالج، اسپتال، کمیونٹی ہال،جم خانہ، ٹیکسٹائل ملز اور نجی رہائش گاہیں۔ ممبئی کے علاقوں میں گھومتے ہوئے، پارسی عوامی عمارتیں جیسے قلابہ میں مروانجی فرمجی پانڈے سینیٹوریم یا کھیت واڑی میں کاما باغ، ایسی جگہیں ہیں جو نوروجی (مصنف) کی آنکھوں کو گرویدہ کرتی ہیں۔ مہایم کازوے یا تاردیو میں واقع مانک جی پیٹیٹ اسپننگ اینڈ ویونگ ملز ممکن ہےسر جمشید جی کی اہلیہ لیڈی اوابائی کے عطیے سے بنایا گیا ہو۔

نوروجی ممبئی میں دیگر اقوام اور مذاہب کے وجود کو پوری طرح سے نظر انداز نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے چند مندروں اور سینا گاگ (یہودیوں کی عبادت گاہ / مسجد) کا ذکر بھی کیا ہے۔

تاہم، وہ مساجد کے نام لکھنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے صرف زکریا مسجد کا نام لکھا ہے، وہ بھی بالکل آخر میں۔ شاید اپنے انٹر لوکیوٹر (معا ون) کے اصرار پر۔

انہوں نےممبئی کی درگاہوں کو بالکلیہ نظر انداز کردیا ہے، جو شاید ممبئی کے ہر شہری (کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے  والے ) کی نظر میں معروف ترین تفریح گاہ ہیں۔ تاہم نوروجی دوسری اقوام کے ممتاز شہریوں کا ذکر کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ البتہ وہ تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ چند ناموں کی فہرست دیتے ہیں جیسے جگناتھ سنکر سیٹھ، ناخدا محمد امین روگھے اور سر ڈیوڈ ساسون۔

’طلسم بمبئی‘ کے مقابلے، اسی سال شائع ہونےوالی انگریزی گائیڈ بک’میکلینز گائیڈ ٹو بامبے’ نے دعویٰ کیا کہ وہ شہر کے لیے موزوں اور بہتر رہنما ہے۔ تین سو سے زائد صفحات پرمشتمل، اس کتاب نے شہر کے تاریخی اور شماریاتی پہلوؤں کا نہ صرف احاطہ کیا تھا بلکہ اس کے مختلف مقامات کو بھی تفصیل سے بیان کیا تھا۔

بامبے گزٹ کے ایڈیٹر اور مالک جیمز میکلین کی یہ تصنیف اتنی مقبول ہوئی کہ گزٹ پریس نے اسے اگلے پچیس سالوں کے لیے سالانہ مکتوب،’اے گائیڈ ٹو بمبئی’ کے طور پر جاری کر دیا۔

شہر کے حدود میں تیز رفتار تبدیلیوں کی عکاسی کرنے کے لیے ہر آئندہ ایڈیشن کو اپڈیٹ بھی کیا جا تا رہا۔ کتاب کا آخری ایڈیشن 1902 میں شائع ہوا۔ مگر اس وقت تک  کتاب کا متن اور فارمیٹ حسب حال نہیں رہ گئے تھے۔

کیا نوروجی ولد مانک جی محفوظ شدہ دستاویزوں میں زندہ ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ ’طلسم بمبئی‘ ان کا واحد ادبی کارنامہ ہے۔ 1890 کی دہائی میں، نوروجی مانک جی اینڈ کمپنی کا نام فیض آباد (لکھنؤ سے تقریباً سو کلومیٹر دور)میں واقع ایک شراب اور ایک عام تاجر کی حیثیت سے تجارتی ڈائریکٹری میں درج کیا گیا تھا۔

کیا یہ شراب کا تاجر وہی شخص ہو سکتا ہے، جس نے بیس سال پہلے ممبئی گائیڈ بک لکھی تھی؟ شاید۔

ایسا لگتا ہے کہ ’طلسم  بمبئی‘ ایک تجربہ تھا، جو اس کے پبلشر کے لیے ثمرآور ثابت نہیں ہوا۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ نوروجی پوری طرح سے اپنی یادداشت پر انحصار کر رہے تھے، ان کا کوئی سابقہ ادبی تجربہ نہیں تھا اور شاید وہ اردو میں ناخواندہ تھے، تو کم از کم ممبئی کی روح کو تازہ کرنے کے لیے ان کی کوشش کو سراہا جانا چاہیے۔

شاید اس کتاب نے اپنے قارئین کی بنیادی ضرورت کو پورا نہیں کیا؛ خصوصی طور پر حج پر جانے والے مسلمانوں کے نقطہ نظر سے جو ممبئی کی مساجد اور درگاہوں کی زیارت کرسکتے تھے۔

گمان ہے کہ کتاب کا دوسرا کوئی ایڈیشن شائع نہیں ہوا۔ کیا ’طلسم بمبئی‘ کا نسخہ ممبئی تک پہنچا، یہ فی الحال نا معلوم واقعہ ہے۔ البتہ  کچھ سیاحوں نے شہر کے محلوں اور پرکشش مقامات کا دورہ کرنے کے لیے اس سے ضروراستفادہ کیا ہو گا۔

مراٹھی، گجراتی، اردو اور فارسی جیسی مقامی زبانوں میں شائع ہونے والی 19ویں صدی کی دیگر کتابوں (ممبئی کے تعلق سے) کی طرح،’طلسم بمبئی‘ بھی  اشاعت کے فوراً  بعد عوام کے درمیان سے غائب ہو گئی۔


انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

Next Article

الہ آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پرتوڑے گئے مکانات کے مالکان کو دس-دس لاکھ روپےکا معاوضہ دینے کو کہا

ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ان چھ لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جن کے گھر2021 میں غیر قانونی طور پر توڑے گئے تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ یہ واحد راستہ ہے، جس سے حکام ہمیشہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کرنا یاد رکھیں گے۔

نئی دہلی: 1 اپریل کو ایک سخت فیصلے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد، اتر پردیش کی پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو حکم دیا کہ وہ  ان چھ لوگوں کو دس دس  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے ،جن کے مکانات غیر قانونی طور پر گرائے گئے تھے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ‘بلڈوزر جسٹس’ کا دفاع کر رہی ہے، جس میں عام طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جائیدادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

دی وائر نے پہلےرپورٹ کیا تھا  کہ توڑے گئے مکانات میں سے ایک  مکان ریٹائرڈ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی کا تھا۔ یہ کارروائی  ان کے لیے معاشی اور سماجی طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں  نے دی وائر کو بتایا،’میں اسے (مکان) دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکا۔’

پی ڈی اے نے ان کی بیٹی نائلہ فاطمی کے گھر کو بھی مسمار کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وکیل ذوالفقار حیدر اور دیگر دو افراد کی جائیدادوں کو منہدم کر دیا تھا۔

لائیو لاء کے مطابق ، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی قانونی عمل کی خلاف ورزی تھی۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

آئین کا آرٹیکل 21 شہریوں کی زندگی اورشخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور یہ من مانے ڈھنگ سے ذریعہ معاش سے محروم کرنے سے کو روکتا ہے۔

عدالت نے کہا، ‘انتظامیہ اور خاص طور پر ڈویولپمنٹ اتھارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ رہائش کا حق بھی آرٹیکل 21 کا ایک اہم حصہ ہے… چونکہ یہ غیر قانونی توڑ پھوڑآرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے ہم پی ڈی اے کو متاثرین  کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔’

جسٹس اوکا نے کہا، ‘ان معاملوں نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اپیل کنندگان کے گھروں کو زبردستی اور غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا… رہائش کا حق ہوتا ہے، قانونی عمل نام کی  بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ دی وائر کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ فاطمی کو کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں  کہ ان کا گھر کیوں گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی وجہ نہیں ہے، ‘ہم ہاؤس ٹیکس اور پانی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے اس سے قبل 13 نومبر 2023 کو بھی فیصلہ سنایا تھا کہ ‘کسی شخص کے گھر کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے صرف اس لیے گرانا مکمل طور پر غیر آئینی ہے کہ وہ ملزم یا مجرم قرار دیا گیا ہے۔’

نوٹس چسپاں کرنا کافی نہیں

عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ افسران نے صرف گھروں پر نوٹس چسپاں کیا، جبکہ انہیں ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ جسٹس اوکا نے کہا، ‘نوٹس چسپاں کرنے کا یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔’

عدالت نے اس عمل میں سنگین خامیوں کو بھی نوٹ کیا۔وجہ  بتاؤ نوٹس 18 دسمبر 2020 کو اتر پردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسی دن نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے۔ مسمار کرنے کا حکم 8 جنوری 2021 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

ڈاک 1 مارچ 2021 کو بھیجی گئی اور 6 مارچ 2021 کو موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کرنے یا جواب دینے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر، اگلے ہی دن مکانات مسمار کر دیے گئے۔

افسران کو سبق سکھانے کا طریقہ-معاوضہ

عدالت نے کہا، ‘ہم اس پورے عمل (گھر کو مسمار کرنے) کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ متاثرین  کودس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے لیے یہ یاد رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ قانونی عمل کی پیروی کرنا ضروری ہے۔’

اس فیصلے سے واضح  ہے کہ قانون پر عمل کیے بغیر مکان گرانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Next Article

چھتیس گڑھ پولیس نے محمد زبیر کے خلاف پاکسو کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی

چھتیس گڑھ پولیس نے فیکٹ چیکر محمد زبیر کے خلاف  2020 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےپاکسوایکٹ کے تحت درج معاملے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے بعد زبیر نے کہا ہے کہ ‘سچائی کو پریشان کیا جا سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی!’

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

نئی دہلی: چھتیس گڑھ پولیس نے آلٹ نیوز کے فیکٹ چیکراور صحافی محمد زبیر کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی ہے۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کو یہ جانکاری دی۔

یہ کیس  2020 میں زبیر کی طرف سے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹ کے سلسلے میں  درج کیا گیا تھا۔

لائیو لا کے مطابق، چھتیس گڑھ حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس اروند کمار ورما کی بنچ کے سامنے یہ جانکاری دی۔

اب عدالت نے زبیر کی درخواست نمٹا دی ہے، جس میں انہوں نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ ایف آئی آر انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67، تعزیرات ہند کی دفعہ 509بی  اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت درج کی گئی تھی۔

کیاتھا معاملہ؟

زبیر نے ایکس پر 2020 میں جگدیش سنگھ نامی شخص کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے سنگھ سے پوچھا تھا کہ کیا سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کرنا ان کے لیے درست ہے، خاص طور پر جب ان کی پروفائل تصویر میں ان کی پوتی دکھائی دے رہی تھی۔

زبیر نے پوسٹ میں لکھا تھا: ‘ہیلو جگدیش سنگھ، کیا آپ کی پیاری پوتی کو معلوم ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں  دیتے ہیں؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرلیں۔’

اس پوسٹ میں زبیر نے لڑکی کے چہرے کو دھندلا کر دیا تھا،اس کے باوجود جگدیش سنگھ نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے شکایت کی تھی۔

اس کے بعد نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اس سلسلے میں دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھا، جس کے بعد رائے پور پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ زبیر نے اس ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت کا فیصلہ

اکتوبر 2020 میں ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ زبیر کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ 2024 میں، عدالت نے جگدیش سنگھ کو ایکس پر زبیر سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔

زبیر کا بیان

گزشتہ 2 اپریل 2024 کو زبیر نے ایکس  پر لکھا : ‘اس معاملے میں، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے سابق چیئرمین پریانک قانون گو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور میرے خلاف پروپیگنڈہ  چلایا۔ انہوں نے دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ میرا ٹوئٹ ایک نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے والا تھا۔ لیکن گزشتہ سال دہلی کی عدالت نے شکایت کنندہ کو مجھ سے سر عام معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔ اور اب چھتیس گڑھ پولیس نے کلوزر رپورٹ درج کر کے مجھے بے قصور قرار دیا ہے۔’

زبیر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کل 10 ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے اب دو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وہ لکھتے ہیں، ‘سچ پریشان ہو سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ انصاف کی جیت ہوتی  ہے!’

قابل ذکر ہے کہ محمد زبیر نے حکومت اور بی جے پی کے گمراہ کن دعوے کو بے نقاب کرنے والے فیکٹ چیکنگ  رپورٹس شائع کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہندوتوا کے حامیوں اور پروپیگنڈہ چلانے والوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ اتر پردیش پولیس نے ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ دینے والے یتی نرسنہانند سے متعلق پوسٹ کرنے پر بھی ان کے خلاف کیس  درج کیا ہے ۔

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )

Next Article

پارلیامنٹ میں آدھی رات کے بعد بھی بحث، وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا سے پاس

راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کو پاس کرانے کے لیے مسلسل دوسرے دن پارلیامنٹ آدھی رات کے بعد بھی چلی۔ یہ بل 4 اپریل کی رات 2:35 پر منظور کیا گیا، جس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں یہ 3 اپریل کو رات کے 2 بجے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

اپوزیشن کی مخالفت

جمعرات (3 اپریل) کو حزب اختلاف کے کئی ارکان پارلیامنٹ نے کالے کپڑے پہن کر بل کے خلاف احتجاج کیا۔ تاہم، بی جے پی کے اتحادیوں- تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے  راجیہ سبھا میں بھی بل کی حمایت کی۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس (وائی ایس آر سی پی) نے احتجاج  توکیا، لیکن اپنے ارکان پارلیامنٹ کو ووٹ ڈالنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔

بل پر زوردار بحث

لوک سبھا میں بحث بغیر کسی رکاوٹ کے چلی، لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیامنٹ نے اس بل کو ‘مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش’، ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملہ’ اور ‘زمینوں پر قبضے کا منصوبہ’ قرار دیا۔ وہیں، حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ بل وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانے کے لیے لایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ یہ بل غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔’

کانگریس نے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا الزام لگایا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ بی جے پی نے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 میں کی گئی ترامیم کی حمایت کی تھی، لیکن اب اچانک اس کو ‘عوام مخالف’ بتاکر ترمیم کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن وہ صرف 240 سیٹوں پر رہ گئی۔ اب یہ بل لا کر وہ اپنا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان کا سوال- یہ ترمیم کیوں؟

حزب اختلاف کے سینئر رکن پارلیامنٹ کپل سبل نے سوال کیا کہ اس بل میں صرف مسلمانوں کو ہی وقف املاک کو عطیہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ‘اگر میرے پاس جائیداد ہے اور میں اسے خیرات میں دینا چاہتا ہوں تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟’

حکمراں پارٹی نے اس پر اعتراض کیا جب سبل نے یہ بھی کہا کہ ‘ملک میں 8 لاکھ ایکڑ وقف جائیدادیں ہیں، جبکہ صرف چار جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک) میں ہندو مذہبی جائیدادوں کا رقبہ 10 لاکھ ایکڑ ہے۔’

‘حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے’

کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ مدرسوں کی تعلیم، مفت کوچنگ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسی اسکیموں کو بند کر رہے ہیں اور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟’

‘کیا گھروں اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے اس بل کی اس شق کی مخالفت کی جس میں وقف املاک کو عطیہ کرنے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ میں مسلمان ہوں؟ کیا مجھے ٹوپی پہننی ہوگی، داڑھی رکھنی ہے؟ کیا میرے گھر اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

‘کیا یہ بل بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے؟’

راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے غیر مسلموں کو شامل کیا جا رہا ہے تو سیکولرازم کے اس جذبے کو دوسرے مذاہب تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے پوچھا، ‘اگر آپ واقعی سیکولرازم کے اس جذبے کو پورے ملک میں پھیلاتے ہیں اور ہر مذہبی ادارے میں دوسرے مذاہب کو شامل کرتے ہیں – چاہے وہ سکھ، مسلم یا عیسائی ہوں  – تو میں آپ کی تعریف کروں گا۔ یا آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام تجربہ صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ہو گا؟’

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ بل ‘بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے’ کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ بل بلڈوزر کے لیے قانونی ڈھال بنا رہا ہے؟ یہ  بات ایک شہری کے طور پر مجھے ڈراتی ہے۔ شہروں میں مسلمان گھیٹو میں رہنے پر مجبور ہیں، اگر وہ گاؤں میں جاتے ہیں  تو انہیں  درانداز کہاجاتا ہے۔ ان کی تنظیموں کو شک کے دائرے میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ڈاگ-وہسل  کی سیاست کا استعمال کرناٹھیک نہیں ہے۔’

حکومت کا جواب

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور ان کی مداخلت صرف تجاویز تک محدود رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل وقف کونسل کے کل 22 ارکان ہوں گے جن میں سے صرف چار غیر مسلم ہوں گے۔ وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے۔’

‘ بل کارپوریٹس کو وقف املاک فروخت کرنے کا منصوبہ’

کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ‘آپ نے اس بل کا نام ‘امید’ رکھا ہے لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی اب مایوس ہے کیونکہ آپ ان کی زمینیں لوٹ کر کارپوریٹس کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔’

اپوزیشن نے وقف املاک کو بدنام کیا: بی جے پی ایم پی

عآپ کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مسلمانوں کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے اور راجیہ سبھا میں صرف ایک ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لیے یہ قانون لا رہے ہیں، لیکن آپ کی پارٹی میں ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، صرف ایک غلام علی ہیں۔ آپ نے مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کی سیاست ہی ختم کر دی۔ کیا آپ واقعی مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں؟’

بی جے پی کے اکلوتے مسلم ایم پی،غلام علی، جوجموں و کشمیر سے نامزد رکن ہیں،نے آدھی رات کے قریب بل پر بحث میں حصہ لیا اور کانگریس پر وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کرنے کا الزام لگایا جس سے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کیں جن سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش  ہوئی۔’

ترامیم کے خلاف عدالت جائے گی ڈی ایم کے

جمعرات (3 مارچ) کو اسٹالن سیاہ بیج پہنے  اسمبلی پہنچے  اور لوک سبھا میں بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمل ناڈو حکومت اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسٹالن نے ایوان میں کہا ،  ‘ یہ ایکٹ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے ہم آج اسمبلی میں سیاہ بیج لگا کر شرکت کر رہے ہیں ۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ‘اس متنازعہ ترمیم کے خلاف ڈی ایم کے کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی ۔ تمل ناڈو اس مرکزی قانون کے خلاف لڑے گا کیونکہ یہ وقف بورڈ کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ۔’

ڈی ایم کے کا پارلیامنٹ میں احتجاج

راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے ایم پی تروچی شیوا نے بھی حکومت پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

‘ایک مخصوص کمیونٹی کوکیوں نشانہ بنایاجا رہا ہے؟ حکومت کی منشابدنیتی پر مبنی اورقابل مذمت۔وہ ‘سب کاساتھ ، سب کاوشواس ‘ کی بات کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کےبارے میں ان کی پالیسی امتیازی سلوک اورحاشیے پر دھکیلنے کی ہے۔یہ آئین کےخلاف ہے۔

اسٹالن کا وزیر اعظم مودی کو خط

جب لوک سبھا میں اس بل پر بحث ہو رہی تھی،اسی دوران  سی ایم  اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی ۔

انھوں نے لکھا، ‘ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق دیتا ہے اور اس حق کی حفاظت کرنا منتخب حکومتوں کا فرض ہے ۔ لیکن مجوزہ ترمیم اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتی ہے ۔اس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔’

تمل ناڈو اسمبلی میں بل کے خلاف تحریک

اسٹالن نے 27 مارچ کو تمل ناڈو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ، جس میں اس بل کو ملک اور مسلم کمیونٹی کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )