کیا ہندوستانی جیلوں میں  ہو رہی قیدیوں کی موت ’فطری‘ ہے؟

ہندوستان کی جیلوں میں جان گنوانے والے قیدیوں کی موت کو اکثر ’فطری موت‘ کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے یہ موتیں ہوئی ہوں، جو فطری نہیں ہیں۔ جب تک حراست میں ہونے والی موتوں کی روٹین طریقے سےجانچ نہیں ہوگی اور انہیں سخت اور آزاد عدالتی جائزہ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، تب تک لمبی بیماری میں مناسب علاج کے منتظر قیدی اپنی جان گنواتے رہیں گے۔

ہندوستان کی جیلوں میں جان گنوانے والے قیدیوں کی موت کو اکثر ’فطری موت‘ کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے یہ موتیں ہوئی ہوں، جو فطری نہیں ہیں۔ جب تک حراست میں ہونے والی موتوں کی روٹین طریقے سےجانچ نہیں ہوگی اور انہیں سخت اور آزاد عدالتی جائزہ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، تب تک لمبی بیماری میں مناسب علاج کے منتظر قیدی اپنی جان گنواتے رہیں گے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

منگلورو:’میرے شوہر کے آخری کچھ فون کال میں ان کی آواز میں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں تھا۔‘ یہ کہنا ہے پروین بانو کا۔ بنگلورو کی پرپنا اگرہار سینٹرل جیل میں اپنے شوہر صادق باشا کی زندگی کے آخری چند مہینوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی آواز بھر آتی ہے۔

وہ کہتی ہیں،’وہ ہفتے میں دو بار فون کرتے تھے، اور ہر بار وہ اپنا علاج جیل کے باہر کسی بھی اسپتال میں کروانے کا  راستہ کھوجنے کے لیے میرے سامنے گڑگڑایا کرتے تھے۔‘

محض  48 سالہ صادق باشا کئی گمبھیربیماریوں سے جوجھ رہے تھے- جن کے بارے میں ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ اگر بروقت علاج مل جاتا تو وہ بیماریاں ٹھیک ہونے والی تھیں، لیکن پروین کے مطابق، جیل حکام نے ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت کو نظرانداز کیا۔

پروین کہتی ہیں،’انہیں 2021 میں ذیابیطس (شوگر) کی تشخیص ہوئی تھی، اور 2024 تک ان کا شوگر لیول اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اس نے جسم کے دوسرے اعضا کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے دل کی کارکردگی بھی گھٹ کر صرف 30 فیصد رہ گئی تھی۔‘

باشا اور ان کے اہل خانہ نے جیل حکام اور عدالت کے سامنے متعدد درخواستیں دیں، لیکن ہر بار انہیں نظرانداز کر دیا گیا۔ 2024 میں باشا نے خراب صحت کی بنیاد پر عبوری ضمانت کی درخواست دی۔ اس کیس کی تفتیش کرنے والی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ باشا کو جیل کے اندر’مناسب علاج‘فراہم کیا جا رہا ہے۔ جیل حکام نے بھی اس موقف کی تائید کی۔

جیل محکمہ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ باشا کو وکٹوریہ اور بورنگ جیسے سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں سے علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل افسر نے اپنی رپورٹ میں باشا کی حالت کو’مستحکم‘قرار دیا۔ این آئی اے کورٹ اور کرناٹک ہائی کورٹ دونوں نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا۔

رواں  سال 2 فروری کو صادق باشا کا انتقال ہو گیا۔

جیل میں’علاج‘کے دوران صادق باشا کے پیروں میں ڈالی گئی بیڑیاں۔ (فوٹو: ارینجمنٹ)

اس کے بعد پروین نے لاپرواہی اور بروقت مناسب علاج فراہم نہ کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالتوں اور اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع کیا۔ تاہم امکان یہی ہے کہ جیل کے ریکارڈ میں اس  موت کو بھی’فطری موت‘کے زمرے میں ڈال دیا جائے گا، جیسا کہ ہندوستانی جیلوں میں ہونے والی بیشتر اموات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

یہ درجہ بندی ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ  اگر کسی قیدی کی موت بروقت طبی سہولت نہ ملنے کے باعث ہو، تو کیا ایسی موت کو واقعی فطری کہا جا سکتا ہے؟

اور اس کا فیصلہ کون کرتا ہے؟  وہی لوگ، جن پر بروقت میڈیکل دیکھ بھال مہیا  نہ کرنے کا الزام ہے؟

اکلوتا نہیں ہےباشا کا معاملہ

گزشتہ ہفتے بنگلورو کی سینٹرل جیل میں بند ایک زیر سماعت قیدی عبدالقادر کا 18 برس سے زائد عرصہ حراست میں گزارنے کے بعد انتقال ہو گیا۔ بنگلورو سیریل بم بلاسٹ کیس میں گرفتار عبدالقادر کو اپنی طویل قید کے دوران صحت سے متعلق کئی دقتیں ہوگئی تھیں۔

ان کے وکیل گنگادھر کے مطابق، عبدالقادر نے باربار عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کیں، مگر ہر مرتبہ انہیں مسترد کر دیا گیا۔

گنگادھر کہتے ہیں، ’جب بھی ہم نے ضمانت کی درخواست دی، جیل حکام نے عدالت کو یقین دلایا کہ جیل کے اندر مناسب طبی سہولیات موجود ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں،’عدالتی ریکارڈ کے حساب سے جیلیں بیمار لوگوں کا علاج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ان کا دعویٰ ہے،’بیمار پڑنے کے کچھ  ہی دنوں کے اندر لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔‘

امکان یہی ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں باشا اور عبدالقادر دونوں کی موتوں کو’فطری موت‘کے طور پر ہی درج کیا جائے گا۔

جیلوں میں اموات عام ہیں، لیکن ان کی شاید ہی کبھی درست طریقے سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی)، جو دیگر اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ جیلوں میں ہونے والی اموات کا بھی ریکارڈ رکھتا ہے، 2010 سے اس طرح کے اعدادو شمار جمع کر رہا ہے۔ عوامی سطح پر صرف این سی آر بی کا ڈیٹا دستیاب ہے، جس میں جیلوں میں’موت کی وجہ‘کی ایک عمومی درجہ بندی کی گئی ہے۔

اس ڈیٹا میں اموات کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے’فطری‘اور’غیر فطری‘۔ بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے ہونے والی اموات کو’فطری‘جبکہ خودکشی، تشدد، حملے یا جیل کے اندر تشدد کے نتیجے میں ہونے والی اموات کو’غیر فطری ‘کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

سال2006 میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور لا کمیشن آف انڈیا کی 152ویں رپورٹ کی سفارشات کے بعد ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) میں ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے ذریعے انتظامی (ایگزیکٹو) مجسٹریٹ کی تحقیقات کی جگہ عدالتی مجسٹریٹ کی تحقیقات کا اہتمام کیا گیا۔ سی آر پی سی کی دفعہ 176(1) میں ترمیم کر کے دفعہ 176(176 اے) شامل کی گئی، جس کے تحت حراست میں ہونے والی ہر موت یا ریپ کے ہر معاملے میں عدالتی مجسٹریٹ کی جانچ لازمی قرار دی گئی۔

ضابطہ فوجداری کی جگہ لینے والی بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) میں بھی حراست میں ہوئی موتوں کی عدالتی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بیس برسوں سے  اس قانوں کے وجود میں آنے کے باوجود یہ  لازمی جانچ پر شاید ہی ہوتی ہے۔

کئی ریاستوں میں انہیں محض تکنیکی خانہ پُری کے طور پردیکھا جاتا ہے، اور اسےبھی یہ ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کے ذریعے ہی انجام دیا جا رہا ہے۔ حراستی تشدد کے متعدد معاملوں میں متاثرین کے اہل خانہ کو عدالتی جانچ کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔

این سی آر بی کے حالیہ اعداد و شمار (سال 2024کے لیے) کے مطابق، ہندوستانی جیلوں میں 1,960 لوگوں کی موتیں ہوئیں۔ ان میں سے 1,737 اموات کو ’فطری‘قرار دیا گیا۔ ان اعداد و شمار کو پڑھتے وقت باشا اور قادر جیسے معاملوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اگر ان موتوں کی عدالتی مجسٹریٹ کے ذریعے مناسب جانچ نہ کروائی جائے تو این سی آر بی کی نئی رپورٹ میں ان کی موتوں کو بھی’فطری اموات‘کے طور پر ہی درج کیا جائے گا۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/دی  وائر)

ْفطری اموات کے زمرے کو بھی دو ذیلی خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے- بڑھاپے کی وجہ سے ہونے والی اموات اور بیماری کے باعث ہونے والی اموات۔ این سی آر بی کی رپورٹ میں بیماریوں کو دل کے امراض، پھیپھڑوں کی بیماریاں، جگر سے متعلق امراض، گردوں کی بیماریاں، ایچ آئی وی، کینسر، تپ دق، فالج، ہیضہ/اسہال، مرگی، برین ہیمرج، آنتوں میں سوراخ، منشیات یا شراب چھوڑنے کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، اور دیگر بیماریوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر بیماریاں لازمی طور پر جان لیوا نہیں ہوتیں۔ تاہم، بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی صورت میں یہی بیماریاں موت کا سبب بن سکتی ہیں، جیسا کہ باشا اور قادر کے معاملے میں الزام لگایا جا رہا ہے۔

ان تمام ذیلی زمروں میں سب سے زیادہ حیران کن درجہ بندی منشیات یا شراب چھوڑنے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے زمرے کی ہے۔ 2024 میں اس زمرے میں 35 اموات درج کی گئی ہیں۔ دیگر فطری اموات کی طرح این سی آر بی کا ڈیٹا یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان قیدیوں کو موت کے وقت علاج فراہم کیا جا رہا تھا یا نہیں، ان کی علامات کتنی سنگین تھیں، یا اس حوالے سے کوئی اور متعلقہ معلومات کیا تھیں۔

’عدلیہ قیدی کی نگہبان ہے

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اموات واقعی فطری  ہیں؟ اور اگر نہیں، تو یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ انہیں فطری قرار دیا جائے یا نہیں؟ کیا وہ جیل حکام، جن پر بدسلوکی اورلاپرواہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، یا پھر عدلیہ، جس سے متعدد بار عبوری ضمانت کی درخواست کی گئی لیکن جس نے ایسی راحت دینے سے انکار کر دیا؟

حراست میں ہوئی اتنی بڑی تعداد میں اموات کے باوجود صرف چند ہی معاملوں میں جیل حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے یا ان کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے انسانی حقوق کے کارکن نہال سنگھ راٹھوڑ، جنہوں نے حراستی اموات و تشدد کے کئی معاملے دیکھے ہیں، کہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری عدلیہ اور حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’جیل کی حراست کو عدالتی حراست کہنے کے پیچھے ایک وجہ ہے۔‘

راٹھوڑ پوچھتے ہیں،’قیدیوں کے محافظ کے طور پر کیا عدلیہ کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ یہ جائزہ لے کہ جیلوں کے اندر واقعی لازمی سہولیات موجود ہیں یا نہیں، اور جب تک وہاں کے حالات بہتر نہ ہو جائیں، اپنی حراست میں موجود افراد کو جیل نہ بھیجے؟‘

راٹھوڑ کی عدلیہ پر یہ تنقید محض بڑی بڑی باتیں نہیں ہیں۔ وجئے مالیا، نیرو مودی اور میہل چوکسی جیسے ہائی پروفائل بھگوڑوں کی حوالگی  روکنے کے لیے بھی ہندوستانی جیلوں کے ناقابل رہائش حالات سے متعلق خدشات کو بنیاد بنایا گیا۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مالیا، مودی یا چوکسی ہندوستانی جیلوں میں بند قیدیوں کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے اس بات پر بار بار زور دے کر کہا ہے کہ زیر حراست قیدیوں کے لیے مجسٹریٹ تحفظ کی پہلی لائن ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کو تشدد یا ہراسانی کا نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا، انہیں مناسب طبی سہولیات میسر ہیں، اور ان کے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی۔

آئین کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو زندگی کا حق دیتا ہے، اور عدلیہ نے اس کی تشریح کو وسعت دیتے ہوئے اس میں صحت کے حق کو بھی شامل کر لیا ہے۔

ہندوستانی جیلیں آج بھی بڑی حد تک غیر شفاف ادارے ہیں۔ دنیا تک جو باتیں پہنچتی ہیں، وہ زیادہ تر جیل حکام کے پیش کردہ موقف پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب جیل حکام کسی موت کو’فطری موت‘قرار دے دیتے ہیں تو عدالتی مداخلت کے بغیر حقیقت تک پہنچنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔

’غیر فطری اموات

غیر فطری اموات کی وجوہات ہندوستانی جیلوں کی ابتر حالت کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں۔ این سی آر بی (2024) کے اعداد و شمار کے مطابق، 166 غیر فطری اموات میں سے 122 کی وجہ خودکشی تھی۔ ان تمام غیر فطری اموات میں صرف ایک موت کی وجہ’جیل حکام کی لاپرواہی یا زیادتی‘بتائی گئی۔

اتنی بڑی تعداد میں خودکشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زیر حراست افراد شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہوتے ہیں، لیکن اس انتہائی قدم کے پس منظر میں موجود اسباب کی شاید ہی جانچ کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال 31 سالہ اصغر علی منصوری کا معاملہ ہے، جنہوں نے 2020 میں مہاراشٹر کی ناسک سینٹرل جیل میں خودکشی کر لی تھی۔

پوسٹ مارٹم کے دوران اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں چھپائے گئے ایک پلاسٹک کے تھیلے سے ایک سوسائیڈ نوٹ برآمد ہوا، جس میں جیل کے پانچ اہلکاروں کے نام درج تھے۔ اس نوٹ کی برآمدگی کے باوجود، جن اہلکاروں کے نام اس میں لکھے گئے تھے، ان میں سے کسی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی منصوری کا خاندان ہیومن رائٹس کمیشن اور عدالتوں میں انصاف کے لیے فریاد کر رہا ہے۔

جہاں ،پہلی ذمہ داری مجسٹریٹوں اور ٹرائل عدالتوں کی ہے، جن کے احکامات پر لوگوں کو پولیس یا عدالتی حراست میں بھیجا جاتا ہے، وہیں ہر ریاست کی ہائی کورٹ کو بھی’گارڈین جج‘کا کردار دیا گیا ہے۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضلعی عدالتوں کے کام کاج، جس میں جیلوں کی حالت بھی شامل ہے، کی نگرانی کریں۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو(سی ایچ آر آئی) جیسے ادارے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ عدالتی نگرانی کے اس نظام میں شفافیت اور جوابدہی کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

اس کے نتائج جیلوں کے سسٹم میں دیکھے جا سکتے ہیں، جو پہلے ہی اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ہندوستان کی جیلوں میں اوسط آکیوپینسی ریٹ 112 فیصد سے زیادہ ہے۔ دہلی میں یہ شرح 200 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں یہ شرح 150 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات بھی عملے کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ طبی عملے کی منظور شدہ 3,827 آسامیوں میں سے دسمبر 2024 تک صرف 2,049 آسامیاں ہی پُر کی جا سکی تھیں۔

ہریانہ میں طبی عملے کی سب سے زیادہ، یعنی 288، آسامیاں خالی تھیں۔ اس کے بعد بہار (263)، اور اتر پردیش (224) کا نمبر آتا ہے۔ قیدیوں کے مقابلے میں طبی عملے کے تناسب کے لحاظ سے بھی ہریانہ سب سے پیچھے ہے، جہاں 24,756 قیدیوں کے لیے صرف 23 طبی اہلکار موجود تھے۔ یعنی اوسطاً ہر 1,076 قیدیوں کے لیے صرف ایک طبی اہلکار دستیاب تھا۔ اس کے بعد مہاراشٹر (ہر 520 قیدیوں پر ایک طبی اہلکار)، پنجاب (444)، اتر پردیش (442)، اور چھتیس گڑھ (375) کا نمبر آتا ہے۔ کرناٹک، دادرا و نگر حویلی، اور دمن و دیو کی جیلوں میں ایک بھی طبی اہلکار موجود نہیں تھا۔ اس سنگین کمی کے باوجود یہ مسئلہ شاذ و نادر ہی عدالتوں کی مستقل توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

اس سال فروری میں چھتیس گڑھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے کانکیر جیل میں قید آدی واسی لیڈر جیون ٹھاکر کی موت پر شدید احتجاج کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما بھوپیش بگھیل کے سوالوں کے جواب میں ریاستی حکومت نے اسمبلی کو بتایا کہ جنوری 2025 سے 31 جنوری 2026 تک ریاست کی جیلوں میں 66 قیدیوں کی موت ہوئی۔ تاہم، لازمی عدالتی تحقیقات صرف 18 معاملات میں ہی مکمل کی جا سکیں۔

جب ہم این سی آر بی کے اعداد و شمار کو جیلوں میں ہونے والی اموات اور قیدیوں کے سماجی و معاشی پس منظر کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک جیلوں میں قید رہنے والے اور حراست میں جان گنوانے والے افراد آخر کون ہیں۔ ہندوستان کی 1,333 جیلوں میں قید 5,11,542 افراد میں سے 73 فیصد، یعنی 3,71,440، زیر سماعت قیدی ہیں، جو شنوائی کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ہر سال ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی تعداد، ان کی آبادی کے حساب سے کافی  زیادہ ہے۔ 2024 کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 1,36,138 سزا یافتہ قیدیوں میں مسلمانوں کی تعداد 21,640 (15.9 فیصد)، درج فہرست ذاتوں کی 25,053 (18.4 فیصد)، درج فہرست قبائل کی 16,736 (12.3 فیصد)، اور او بی سی کی 43,561 (32.0 فیصد) ہے، جبکہ عمومی زمرےکے قیدیوں کی تعداد 34,404 (25.3 فیصد) ہے۔

زیرسماعت قیدیوں کے معاملے میں یہ عدم مساوات اور بھی زیادہ نمایاں ہے۔ مجموعی 3,71,440 زیر سماعت قیدیوں میں مسلمانوں کی تعداد 69,864 (18.8 فیصد)، درج فہرست ذاتوں کی 61,755 (16.6 فیصد)، درج فہرست قبائل کی 34,154 (9.2 فیصد)، اور او بی سی کی 1,10,194 (29.4 فیصد) ہے، جبکہ عمومی زمرے کے قیدیوں کی تعداد 1,00,288 (27.0 فیصد) ہے۔

جیلوں میں ہونے والی اموات میں بھی یہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔ حراست میں جان گنوانے والوں کی اکثریت سماجی اور معاشی طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ جب تک حراستی اموات کی باقاعدہ، معمول کے مطابق اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات نہیں ہوں گی، اور انہیں سخت و آزادانہ عدالتی جانچ کے عمل سے نہیں گزارا جائے گا، تب تک صادق باشا اور عبدالقادر جیسے قیدیوں کی اموات کو’فطری موت‘ قرار دے کر نظرانداز کیے جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔