اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں کئی ایسے دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں مسلمانوں کے مذہبی یا ثقافتی اجتماعات یا عام شہریوں کو نشانہ بنا کر دھماکے کیے گئے۔ پولیس نے شروع میں مسلمانوں پر الزام لگائےاور انہیں جیل رسید کیا، لیکن وقت کے ساتھ -کبھی کبھی تو دہائیوں بعد – انہیں بری اور رہا کیا گیا۔ اس کے بعد نئی جانچ شروع ہوئی، جس میں ’ہندوتوا‘ تنظیموں کے ممبران کے خلاف الزامات دائر کیے گئے۔

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے بعد کی تصویر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
’یہ کہتے ہوئے مجھے فخر ہو رہا ہے کہ کوئی بھی ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔‘
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دسمبر 2025 میں پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس میں یہ اعلان کیا۔ طویل عرصے سے بی جے پی حکومتوں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنماؤں نے ہندوتوا یا ’بھگوا دہشت گردی‘ کے وجود، یا اس کے امکان سے بھی انکار کیا ہے۔ تاہم، بڑے ہندوتوا گروپ سے وابستہ بعض مشتبہ دہشت گرد تنظیموں – جیسے ابھینو بھارت، جئے وندے ماترم اور سناتن سنستھا – کے تشویشناک عروج کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
آج ہمارے پاس یہ ماننے کی بھی بنیاد موجود ہے کہ دراصل ایک منظم ہندوتوا دہشت گرد ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ ڈھانچہ خفیہ انداز میں پردے کے پیچھے رہ کر دہشت گردانہ حملوں کو انجام دیتا ہے۔ حملے اس طرح کیے جاتے ہیں کہ ان کا الزام ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں پر آ جائے۔
(دو حصوں پر مشتمل اس سیریز میں ان دونوں پہلوؤں پر بات کی جائے گی۔ یہ اس کا پہلا حصہ ہے۔)
بم دھماکوں کے وہ واقعات جنہوں نے پہلی بار ’ہندوتوا دہشت گردی‘ کا پردہ فاش کیا
اپریل 2006 میں مہاراشٹر کے ناندیڑ میں ایک گھر میں بم دھماکہ ہوا۔ یہ گھر لکشمن گنڈیا راجکونڈوار کا تھا، جو آر ایس ایس کے ممبرتھے اور ناندیڑ کے پی ڈبلیو ڈی سے ایگزیکٹو انجینئر کے طور پر ریٹائر ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں دو افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس واقعہ میں مرنے یا زخمی ہونے والے تمام لوگ بجرنگ دل کے کارکن تھے۔
شروعات میں مقامی پولیس نے زخمی کارکنوں کی اس بات کو تسلیم کر لیا کہ یہ دھماکہ ایک حادثہ تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ راجکونڈوار اپنے گھر سے پٹاخوں کا کاروبار کرتے تھے۔ کسی نے پٹاخوں کے پاس سگریٹ پیتے ہوئے لاپروائی کی، جس کے باعث یہ دھماکہ ہو گیا۔
لیکن جلد ہی پولیس کو ایک بالکل مختلف اور انتہائی تشویشناک حقیقت کا پتہ چلا۔ پولیس کو جانکاری ملی کہ بجرنگ دل کے کارکن اس جگہ پر بم بنا رہے تھے، اور غلطی سے بم پھٹ گیا۔
پولیس کے انسپکٹر جنرل نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاک اور زخمی افراد کے جسم پر ’بم کے چھرے‘ملے ہیں۔ جائے وقوع سے ایک ’لائیو‘پائپ بم بھی برآمد ہوا۔ آگے کی جانچ کرنے پر پولیس کوپتہ چلا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے بم بنا رہے تھے۔
وہ اپنے پورے آپریشن کو اس طرح انجام دے رہے تھے کہ یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ کسی اسلامی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے کیا گیا حملہ ہے۔ جس لکشمن گنڈیا راجکونڈوار کے گھر میں بم بنایا جا رہا تھا وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ممبرنکلے۔ بم دھماکے میں ان کا بیٹا نریش بھی ہلاک ہو گیا تھا۔
پولیس کو وہاں سے کئی دیگر قابل اعتراض ڈائریاں، دستاویز، مشتبہ نقشے، موبائل فون نمبر، خاکے اور کاغذات بھی ملے۔ یہ تمام چیزیں بم بنانے اور انہیں جمع کرنے اور ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کے مقصد سے ممکنہ ٹھکانوں کی پہچان سے متعلق تھیں۔
اس پر معروف صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڑ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’ایک طرح سے دیکھا جائے تو سنگھ پریوار کے ارکان اپنے ہی گھر کے تہہ خانے میں بموں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ ‘
اس معاملے کی جانچ کی ذمہ داری مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) کو سونپ دی گئی۔ اے ٹی ایس کی چارج شیٹ میں الزام لگایاگیا کہ ناندیڑ میں بم بنانے میں ملوث ملزمان اس سے پہلے پاس کے اضلاع میں ہونے والے تین بم دھماکوں کےلیے بھی ذمہ دار تھے۔ یہ دھماکے پربھنی کی محمدیہ مسجد (نومبر 2003) میں، جالنہ کی قادریہ مسجد (اگست 2004) میں، اور پربھنی ضلع کے پورنا میں واقع معراج العلوم مدرسہ/مسجد (اگست 2004) میں ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ 5-6 اپریل 2006 کو جو بم ان کےہی کے ہاتھوں میں پھٹ گئے تھے، ان سے وہ اورنگ آباد کی ایک مسجد کو نشانہ بنانے والےتھے۔ پولیس کی جانچ میں ایسے شواہد بھی ملے جن سے یہ ثابت ہوا کہ یہ تمام لوگ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسے ہندوتوادی تنظیموں کے سرگرم رکن تھے۔
جانچ سے پتہ چلا کہ ملزم 2003 میں پونے کے قریب واقع سنگھ گڑھ قلعے کی تلہٹی میں بنے ’آکانکشا ریزورٹ‘ گئے تھے، جہاں انہیں پائپ بم اور ٹائمر بم بنانے کی تربیت دی گئی تھی۔ انہوں نے ناگپور کے بھونسلہ ملٹری اسکول میں 40 دن کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔
بھونسلہ ملٹری اسکول میں یہ کیمپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد شرکاء کو کراٹے، زمینی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور ریوالور چلانے کی تربیت دینا تھا۔
دو ریٹائرڈ سابق فوجیوں نے شرکاء کو ریوالور چلانے کی تربیت دی۔سرچ آپریشن کے دوران بھیس بدلنے کا سامان، جیسے نقلی داڑھی، شیروانی وغیرہ بھی برآمد ہوا، جنہیں مسلمان جیسا نظر آنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مقصد بالکل صاف تھا، وہ دہشت گردانہ حملے کر کے اس کا الزام مسلمانوں پر ڈالنا چاہتے تھے تاکہ ان کے خلاف نفرت کو اور بڑھایا جا سکے۔
مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) کے چیف ہیمنت کرکرے نے صحافیوں سے کہا کہ تھانے، پنویل اور واشی بم دھماکوں کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ یہ دھماکے ’یقینی طور پر دہشت گردانہ کارروائیاں تھیں، کیونکہ انہیں ایک مخصوص نظریے سے متاثر افراد نے انجام دیا تھا۔ ‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ جن تنظیموں سے وابستہ تھے، اگر وہ ان واقعات کی منصوبہ بندی یا ان پر عملدرآمد میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو انسداد دہشت گردی دستہ ’یقینی طور پر مرکزی حکومت کو خط لکھ کر ان تنظیموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرے گا۔‘
قابل ذکر ہے کہ26/11 کے حملوں کے دوران مارے جانے سے صرف ایک مہینے پہلےسٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس (سی جے پی) سے بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا،’ہماری جانچ میں کئی سنگین سوال پیدا ہو رہے ہیں۔ ہندو جن جاگرتی سمیتی، دھرم کرانتی سینا اور سناتن سنستھا جیسی تنظیموں میں تو کل وقتی ممبران ہیں۔ اس کے علاوہ ’گرو کرپا پرتشٹھان‘ بھی ہے۔ سناتن سنستھا کا آشرم کافی بڑا ہے، جہاں سولوگ رہ سکتے ہیں، اور بظاہر وہ وہاں یوگا سیکھتے ہیں… ہماری جانچ میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم ان تنظیموں پر الزام عائد کر سکتے ہیں؟ کیا یہ کارروائیاں ان تنظیموں کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کی گئی تھیں؟ یہ تمام تنظیمیں چیریٹی کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ ہم چیریٹی کمشنر کی مدد سے ان کے فنڈنگ کے ذرائع کی جانچ کر رہے ہیں۔ کیا ان کے مالی وسائل کا منبع ایک ہی ہے؟ کیا انہیں پرتشدد مواد جمع کرنے سے جوڑا جا سکتا ہے؟‘
افسوس کی بات ہے کہ صرف ایک ماہ بعد کرکرے ممبئی میں متعدد مقامات پر بیک وقت حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
سال2008 میں، جب ہندوتوا دی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں شواہد سامنے آنا شروع ہوئے تھے اور سنگھ اور اس کی حامی تنظیموں کے حقیقی کردار پر بات کرنا اتنا خطرناک نہیں تھا جتنا 2014 کے بعد ہو گیا، تب حیدرآباد یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر جیوترمے شرما نے ایک ایسی بات پر تبصرہ کیا جسے انہوں نے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کا ’مزیدار تماشہ‘ بتایا۔
جب میں یہ مضمون قلمبند کر رہا ہوں،اس وقت بھی یہ تماشہ جاری ہے۔
شرما نے زور دے کر کہا کہ ’ہندوآتنکواد‘جیسی کوئی چیز نہیں ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ’اسلامی/مسلم آتنکواد‘جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ لیکن ’سنگھ پریوار آتنکواد‘ جیسی کوئی چیز ضرور ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے’القاعدہ دہشت گردی‘ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ نہ تو سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور نہ ہی اسامہ بن لادن اپنے اپنے مذاہب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جس طرح اسامہ افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں چھپا ہوا تھا، اسی طرح پرگیہ جیسے لوگ ’عوامی خواہش‘ کے جمہوری پردے میں چھپتے ہیں۔ وہ مستقبل کے بارے میں غیر معمولی بصیرت رکھتے تھے۔
انہوں نے 2019 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر پرگیہ کے ایم پی منتخب ہونے کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی۔ وہ کہتے ہیں،’امن، رواداری، شائستگی اور سچائی کا انتخاب کرنا کمزوری کی نشانی نہیں ہے- جیسا کہ تشدد اور انتقام کے حامی لوگ دوسروں کو یقین دلانا چاہتے ہیں-بلکہ یہ ہمارے اندر موجود حیوانی فطرت کو بلند کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ بدھ، مہاویر اور گاندھی کمزور لوگ نہیں تھے۔ تو پھر، ان کے روحانی وارث اتنا اہم قدم اٹھانے سے کیوں ڈرتے ہیں؟ ‘
اجمیر شریف، مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے: وہ دہشت گردانہ جرائم جن میں مسلمانوں پر جھوٹے الزام لگائے گئے
اس پرزور تردید کے باوجود کہ ہندوتوا دہشت گردی ناممکن ہے، یہ صاف ہو گیا کہ سچائی بالکل مختلف تھی۔ شاید اس لیے کہ ہندوؤں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ثقافتی طور پر فطری طور پر عدم تشدد اور امن پسند ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تمام دہشت گرد مسلمان ہوتے ہیں، یہ بیانیہ اس لیے پھیلا یا جاتا ہے کہ ہندوتوا کی دنیا میں اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طور پر بدنام کیا جا سکے جو تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔
ملک کی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کے بار بار رونما ہونے والے واقعات میں مسلمانوں کو اپنے ہندو پڑوسیوں کی جانب سے کی جانے والی نسبتاً کہیں زیادہ سفاکانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2014 کے بعد سے ہندوتوا تنظیموں کے ارکان اور حامیوں کی جانب سے کی جانے والی نفرت پر مبنی زیادہ تر لنچنگ (پیٹ پیٹ کر قتل) کے واقعات کا نشانہ بھی مسلمان ہی رہے ہیں۔
لیکن صرف یہی نہیں ہے۔ خاص طور پر 2000 کی دہائی سے بڑی تعداد میں ایسے دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جن میں ہندوتوا تنظیموں کے ارکان ملوث رہے ہیں۔ تاہم 2014 کے بعد ان کے خلاف معاملے مسلسل کمزور پڑتے گئے اور بالآخر خارج ہو گئے۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں کئی ایسے دہشت گرد حملے ہوئے جن میں مسلمانوں کے مذہبی یا ثقافتی اجتماعات یا عام شہریوں کو نشانہ بنا کر دھماکے کیے گئے۔ پولیس نے شروعات میں مسلمانوں پر الزامات عائد کیے اور انہیں جیل رسید کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، بعض اوقات دہائیوں بعد، انہیں بری کیا گیا اور جیلوں سے رہا کر دیا گیا اور نئی جانچ شروع ہوئی، جن میں اب ہندوتوا تنظیموں کے ممبران کے خلاف الزامات دائر کیے گئے۔
میں اس حصے میں تین اہم دہشت گرد حملوں – اجمیر شریف، مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں – پر تفصیل سے اظہار خیال کروں گا۔
سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ 2007
سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ لیکن 19 فروری 2007 کو ہریانہ کے پانی پت کے پاس اس ٹرین میں بم دھماکے ہوئے، جن میں 68 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ متاثرین میں 43 پاکستانی شہری اور 10 ہندوستانی شامل تھے۔باقی 15 لوگوں کی پہچان نہیں ہو پائی۔
ہندوستانی حکومت نے فوری طور پر پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کیا۔ تاہم، ہریانہ پولیس کے سابق افسر وکاس نارائن رائے، جنہوں نے 2007 سے 2010 کے اوائل تک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی قیادت کی تھی، نے دی وائر کو بتایا کہ ایس آئی ٹی کو شروعاتی طور پرپاکستان واقع دہشت گرد گروپ یا اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) پر شبہ تھا، لیکن جیسے جیسے جانچ آگے بڑھی، یہ واضح ہو گیا کہ وہ اس میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا،یہ دھماکے فروری 2007 میں ہریانہ کے پانی پت کے پاس ہوئے تھے اور دو یا تین دن کے اندر ہی ایس آئی ٹی تشکیل دے دی گئی تھی۔ان ڈبوں میں رکھے گئے آتش گیر آلات کی وجہ سے دو بوگیوں میں آگ لگ گئی تھی۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ہمیں ایک ایسا آتش گیر آلہ مل گیا جس میں دھماکہ نہیں ہواتھا۔ یہ آلہ ایک سوٹ کیس میں رکھا ہوا تھا۔ جب ہم نے اسے کھولا تو ہم نے بم میں استعمال ہونے والی تمام اشیا کے اصل ماخذ کی تلاش شروع کر دی۔ ہم نے ہر پرزے کے بنانے والوں سے رابطہ کیا، اسٹاکسٹوں سے رابطہ کیا اور خوردہ فروشوں کا سراغ لگایا۔
پورے ہندوستان میں کئی جگہ پر کھوج کی۔ آخرکار ہم اندور پہنچے۔ وہاں ہم اس بازار کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے اس آتش گیر آلے کے تمام اجزا خریدے گئے تھے۔ یہ خریداری راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ افراد نے کی تھی۔ انہوں نے آر ایس ایس کے رکن سنیل جوشی اور اس کے دو ساتھیوں کی شناخت کی جو اس جرم میں ملوث تھے۔ تاہم، اس سے پہلے کہ ہم جوشی سے پوچھ گچھ کر پاتے، اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کے دونوں ساتھیوں کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔‘
رائے نے مزید بتایا کہ دیگر تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ مکہ مسجد دھماکہ (2007)، اجمیر شریف دھماکہ (2007)، مالیگاؤں دھماکہ (2006) اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے میں ایک جیسا ہی پیٹرن تھا۔
رائے نے کہا،’بالکل ایک جیسے آلات، بالکل ایک جیسا طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا… ہم نے ہندوتوا سے وابستہ سرگرمیوں میں سرگرم افراد کی ایک فہرست تیار کی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں اس نظریے میں پوری طرح ڈھال سے دیا گیا تھا۔‘
رائے نے دی وائر کو بتایا،’ہمیں اگلی بڑی کامیابی 2008 میں ملی، جب مالیگاؤں میں دوسرا دھماکہ ہوا۔ مجھے اطلاع ملی تھی کہ مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو کچھ انتہائی اہم سراغ ملے ہیں۔ اکتوبر 2008 میں میری ان سے بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی موٹر سائیکل کے ذریعے وہ ہندوتوا نیٹ ورک میں شامل کرنل پروہت اور اسیمانندجیسے دوسرے لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ 15 سے 20 دنوں میں تمام شواہد کو یکجا کرنے کے بعد وہ مجھ سے دوبارہ ملاقات کریں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی حملے میں ان کی جان چلی گئی۔‘
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحقیقات کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر رہنما سوامی اسیمانند کے قبول نامے سے مزید تقویت ملی۔ مکہ مسجد اور اجمیر شریف دھماکہ مقدمات میں عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے قبول کیا کہ 2006 کا مالیگاؤں دھماکہ اور 2007 کا سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ بھی اسی دہشت گرد گروپ کا کام تھا،جس نے اجمیر شریف اور مکہ مسجد میں دھماکے کیے تھے، اور وہ خود بھی اس سازش میں شامل تھے۔ اسی بنیاد پر قومی تحقیقاتی ایجنسی نے جون 2011 میں آر ایس ایس، ابھینو بھارت اور جئے وندے ماترم سے وابستہ درج ذیل آٹھ دہشت گردوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی۔
مقدمہ تقریباً آٹھ سال تک چلا۔ 20 مارچ 2019 کو اپنے فیصلے میں عدالت نے ان چاروں ملزمین کو بری کر دیا، جن پر مقدمہ چل رہا تھا، یعنی سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، دیویندر گپتا اور بھرت بھائی،کیونکہ ان کے خلاف کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔ سنیل جوشی کو دسمبر 2007 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ باقی تین – امت چوہان، رام چندر کلسانگرا اور سندیپ ڈانگے- کو مفرور مجرم قرار دیا گیا۔
اپنے 160 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملزمین کو ’درد اور تکلیف کے ساتھ‘بری کر رہی ہے۔
عدالت نے ایک نہایت سنگین تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’استغاثہ نے سب سے اہم شواہد کو چھپا لیا اور انہیں ریکارڈ پر نہیں رکھا؛… استغاثہ کے شواہد میں کئی کمیاں ہیں۔ پورا مقدمہ ملزمان کے انکشافاتی بیانات پر مبنی پایا گیا، جو قانونی طور پر قابل قبول نہیں تھے، اور جن کی بنیاد پر نہ کوئی نیا انکشاف ہوا اور نہ ہی کوئی مواد یا شے برآمد ہوئی… ملزمین کو متعلقہ جرم سے جوڑنے والا کوئی ٹھوس زبانی، دستاویزی یا سائنسی ثبوت ریکارڈ پر نہیں لایاگیاہے… مذکورہ آزاد گواہوں سے کبھی جانچ ہی نہیں کی گئی؛… جہاں گواہوں نے استغاثہ کی حمایت نہیں کرنے والا فیصلہ کیا … وہاں انہیں جرح کے لیے مخالف گواہ قرار نہیں دیا گیا۔‘
اجمیر شریف دھماکہ: پہلا معاملہ جس کی پھر سے جانچ کی گئی
گیارہ اکتوبر 2007 کی شام اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر افطار کے لیے متعدد عقیدت مند جمع ہوئے تھے۔ اچانک ایک بم پھٹ گیا، اس میں تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔
بم دھماکہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے موبائل فون کے سم کارڈ کا سراغ لگانے میں پولیس کو چار دن سے بھی کم وقت لگا۔ انہیں پتہ چلا کہ یہ سم کارڈ ضلع دمکا کے گاؤں کگوئی کے رہنے والے بابو لال رام فیر یادو کے نام پر ایک جعلی ووٹر شناختی کارڈ استعمال کرکے خریدا گیا تھا۔ وہاں ایک اور بم بھی تھا جو پھٹ نہ سکا۔
اس واقعہ کے چار دن کے اندر ہی مقامی پولیس کو سم کارڈ کی خریداری کا پتہ چل گیا تھا۔ دھماکے سے سم کارڈ کے تعلق کی خبر 15 اکتوبر 2007 کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھی۔
مالیگاؤں 2008 کے دھماکہ معاملے میں ابھینو بھارت کی شمولیت سے متعلق شواہدکے بارے میں خبر شائع ہونے کے بعد راجستھان حکومت کا رخ بدل گیا۔ اس نے دہشت گردی کے اس جرم کی دوبارہ تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی، جس نے غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ چھ افراد کے خلاف 806 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی۔
چارج شیٹ میں واضح طور پر ذکر کیا گیا کہ سنیل جوشی مدھیہ پردیش کے ضلع مہو میں آر ایس ایس کے پرچارک تھے، سندیپ ڈانگے مدھیہ پردیش کے ضلع شاجاپور میں آر ایس ایس کے پرچارک تھے، دیویندر گپتا جھارکھنڈ کے ضلع جامتاڑا میں آر ایس ایس کے پرچارک تھے، جبکہ چندرکانت لیوے مدھیہ پردیش کے ضلع شاجاپور میں آر ایس ایس کے پرچارک تھے۔
اس کے علاوہ رام جی کلسانگرا آر ایس ایس اور ابھینو بھارت کے ایک کٹر کارکن تھے، جبکہ لوکیش شرما آر ایس ایس اور جئے وندے ماترم سے وابستہ ایک اور کٹر کارکن کا نام بھی چارج شیٹ میں تھا۔
اپریل 2011 میں یہ مقدمہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی معاملے میں سوامی اسیمانند نے ایک سنسنی خیز اقبالیہ بیان دیا۔ جولائی 2011 میں دہشت گردی کے الزام میں 13 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی۔ان میں ایس آئی ٹی کی چارج شیٹ میں شامل چھ لوگ، سوامی اسیمانند اور آر ایس ایس، ابھینو بھارت اور جئے وندے ماترم کے چھ دیگرارکان شامل تھے۔
سال2017 میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے آر ایس ایس کے دو سابق پرچارکوں – دیویندر گپتا اور سنیل جوشی (جنہیں دسمبر 2007 میں قتل کر دیا گیا تھا)- کو بھاویش پٹیل کے ساتھ مجرم پایا۔ یہ پہلا موقع تھا جب آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو دہشت گردی کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔
تاہم، 2018 میں راجستھان ہائی کورٹ نے دیویندر گپتا اور سنیل جوشی کو ضمانت پر رہا کر دیا۔
(ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)