سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ میں کی گئی تبدیلی کا فیصلہ واپس لیا، ہوگی فوراً گرفتاری

سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پر مرکزی حکومت کی ریویوعرضی کومنظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے۔ مارچ 2018 میں سپریم کورٹ نے اس میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ایکٹ میں معاملہ درج ہونے پر فوراً گرفتاری نہیں ہوگی اور شروعاتی جانچ‌کے بعد ہی کارروائی کی جائے‌گی۔

سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پر مرکزی حکومت کی ریویوعرضی  کومنظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے۔ مارچ 2018 میں سپریم کورٹ نے اس میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ایکٹ میں معاملہ درج ہونے پر فوراً گرفتاری نہیں ہوگی اور شروعاتی جانچ‌کے بعد ہی کارروائی کی جائے‌گی۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے منگل کو اپنا وہ حکم واپس لے لیا ہے، جس میں ایس سی-ایس ٹی ایکٹ  کے تحت معاملہ درج ہونے کے بعد فوراً گرفتاری پر روک لگائی گئی تھی۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی ریویو عرضی کو منظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔عدالت نے 20 مارچ 2018 کو ایس سی- ایس ٹی ایکٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے اس کے تحت ایف آئی آر درج ہونے پر بنا جانچ‌کے فوراً گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پہلے تفتیش ہوگی اور پھر گرفتاری ہوگی۔

جسٹس ارون مشرا، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے مرکزی حکومت کی عرضی پر منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ‘مساوات کے لئے ایس سی –ایس ٹی  کی جدو جہد ملک میں ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ‘بنچ نے کہا کہ سماج میں ابھی بھی اس طبقے کے لوگ چھوا چھوت اور نازیبا سلوک  کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ الگ تھلگ  زندگی گزارتے ہیں۔ عدالت نے کہا، ‘آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت ایس سی –ایس ٹی  کو تحفظ حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی سلوک  ہو رہا ہے۔ ‘

اس ایکٹ کے اہتماموں کے غلط استعمال اور جھوٹے معاملے دائر کرنے کے مدعے پر عدالت نے کہا کہ یہ ذات۔پات کے نظام کی وجہ سے نہیں، بلکہ انسانی ناکامی کا نتیجہ ہے۔غور طلب ہے کہ عدالت کے مارچ 2018 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت بنا جانچ‌کے فوراً گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔ جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس یو یو للت کی بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت مبینہ ظلم و استحصال کی شکایت کو لےکر فوراً گرفتاری نہیں ہوگی اور شروعاتی جانچ‌کے بعد ہی کارروائی کی جائے‌گی۔

اس حکم کے مطابق، معاملے میں عبوری ضمانت کا اہتمام کیا گیا تھا اور گرفتاری سے پہلے پولیس کو ایک شروعاتی تفتیش کرنی تھی۔ اس فیصلے کو گرفتاری کے اہتمام کو ہلکا کرنا مانا گیا تھا اور دلت تنظیموں  نے اس کی پرزور مخالفت کی تھی۔اس فیصلے سے ناراض لوگوں نے ملک بھر میں مظاہرہ کیا تھا اور دو اپریل 2018 کو ہندوستان بند کا اعلان کیا گیا تھا۔ ہندوستان بند کے دوران ہوئے تشدد میں 11 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں مخالفت کی وجہ سے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے قانون سازمجلس میں سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ایس سی –ایس ٹی ایکٹ  میں ترمیم بل لےکر آئی، جس کو زبانی رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ کچھ اعلیٰ ذات کی تنظیم اس کی مخالفت میں اترے تھے۔