یوپی: رامپور ایس پی بولے – ساون میں سچے مسلمان گائے کو نہیں مار سکتے؛ مسلمانوں کے لیے نازیبا لفظ استعمال کیے

یوپی کے رامپور ضلع کے ایس پی انل کمار سنگھ سسودیا گئوکشی کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے لیے نازیبا لفظ استعمال کرنے کے بعد تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ انہوں نے گئوکشی سے متعلق ایک معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں ایسے جانور کو مارنا اور اس کا گوشت کھانا حرام مانا گیاہے، خصوصی طور پر اس وقت جب دوسری کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

یوپی کے رامپور ضلع کے ایس پی انل کمار سنگھ سسودیا گئوکشی کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے لیے نازیبا لفظ استعمال کرنے کے بعد تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ انہوں نے گئوکشی سے متعلق ایک معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں ایسے جانور کو مارنا اور اس کا گوشت کھانا حرام مانا گیاہے، خصوصی طور پر اس وقت جب دوسری کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

رامپور کے ایس پی انل کمار سنگھ۔تصویر بہ شکریہ:ایکس / رامپور پولیس

نئی دہلی: اتر پردیش کے رامپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) انل کمار سنگھ سسودیا گئوکشی کے حوالے سے دیے گئے اپنے ایک بیان میں مبینہ طور پر نازیبا لفظ استعمال کرنے کے بعد تنازعہ میں گھر گئے  ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آئے ایک ویڈیو کے مطابق، انہوں نے ایک بیان میں کہا،’ایک سچا مسلمان کبھی اس طرح کا کام نہیں کر سکتا۔ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں، مجھے اس پر بہت حیرانی ہے۔ یا تو وہ مسلمان نہیں ہیں یا بہت حر…می ہیں۔ ان حر…میوں کا علاج کرنا ہی میرا کام ہے۔‘

ایس پی سنگھ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور تنازعہ بڑھنے کے بعد انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد’صرف سماجی اور ہم آہنگی کی اپیل‘ کرنا تھا اور کسی مذہبی کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔

سنگھ کے مطابق، گزشتہ تقریباً دو ہفتے کے دوران رامپور پولیس کم از کم تین ایسی ’مڈبھیڑوں‘ میں شامل رہی ہے، جن میں مبینہ گئوکشی کے ملزموں کا پولیس کے ساتھ سامنا ہوا۔

حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اسلام میں ایسے جانور کو مارنا اور اس کا گوشت کھانا حرام مانا گیا ہے، خصوصی طور پر اس وقت جب اس سے دوسری کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ انہوں نے کیمرے کے سامنے صحافیوں سے کہا،’ایک سچا مسلمان ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے جو لوگ ایسا کرتے ہیں-اور مجھے اس بات پر بہت حیرانی ہوتی ہے-وہ یا تو مسلمان نہیں ہیں یا حر…می ہیں۔‘

سنگھ نے مزید کہا، ’اور حر…میوں سے نمٹنا میرا کام ہے۔‘

مذکورہ تبصرے پر تنقید کے بعد سنگھ نے جمعہ (7 اگست) کو رامپور پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ دارالعلوم دیوبند مدرسے کا حوالہ دے رہے تھے اور ان کا تبصرہ ’صرف سماجی اور ہم آہنگی کی اپیل‘ تھا۔

سنگھ نے کہا،’اگر ساون کے مہینے میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس سے دوسری کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، تو ایسے اعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ان کے ’بیان کا مقصد کسی مذہب، برادری یا فرد کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔‘

ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی ہندوستان میں مقدس مانے جانے والے ساون یا شراون کے مہینے کے دوران کانوڑ یاترائیں نکالی جا رہی ہیں۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی بی جے پی مقتدرہ ریاست اتر پردیش میں حکام نے کانوڑ یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کئی مقامات پر گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کی ہے۔

غور طلب ہے کہ یہ تبصرہ رامپور پولیس کی جانب سے 27 جولائی سے مبینہ گئوکشی کے ملزموں کے ساتھ کم از کم تین ’مڈبھیڑوں‘ میں شامل ہونے کے دوران سامنے آیا ہے۔ پولیس کی جانب سے شیئر کی گئی ان واقعات کے بعد کی تصویروں اور ویڈیو میں کچھ مشتبہ افراد کے پیروں میں چوٹ اور انہیں لنگڑاتے ہوئے دیکھا  جاسکتا ہے۔

ان میں سے ایک واقعہ کے بعد سنگھ نے منگل کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ کچھ ملزموں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی، جس کے بعد پولیس نے ان کے پیروں میں گولی ماری۔