اپریل 2022 میں کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے چار سال بعد ایک سیشن کورٹ نے پولیس کی جانب سے ملزم بنائے گئے 11 مسلمانوں کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس سال کھرگون میں رام نومی کے موقع پر نکالے گئے مذہبی جلوس کے دوران تشدد ہوا تھا، جس میں دکانوں، گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

السٹریشن: پری پلپ چکرورتی/دی وائر
نئی دہلی: 10 اپریل 2022 کو مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے چار سال بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی جانب سے درج کرائے گئے معاملوں میں سے ایک میں سیشن کورٹ نے ریاستی پولیس کی جانب سے تشدد میں ملوث بتائے گئے 11 مسلمانوں کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
سوموار (27 جولائی) کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں چوتھے ایڈیشنل سیشن جج مکیش ناتھ نے کہا کہ پہچان کے سوال پر استغاثہ کا معاملہ کمزور پڑ گیا، کیونکہ اس کے 11 عینی شاہدین میں سے آٹھ کسی بھی ملزم کی شناخت نہیں کر سکے، جبکہ لیبارٹری کی جانچ میں پیٹرول بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد کے مبینہ استعمال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
عدالت نے کہا،’ان آٹھ گواہوں میں سے کسی نے بھی کسی ملزم کی پہچان نہیں کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ کسی ملزم نے واقعہ سے متعلق کوئی حرکت کی تھی۔ ان کی گواہی سے کسی بھی ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔‘
عدالت نے سوموار کو ان 11 ملزمین-عبادت، صادق، عبداللہ، صاحب عرف شاہب، شہر یار، فیصل، اعظم، شبیر، عمران، مشتاق اور رازق – کو بری کر دیا۔ پولیس نے ان سب پر فساد، آگ زنی، گھر میں زبردستی داخل ہونے اور دھماکہ خیز مواد کے قانون کے تحت جرائم کے الزام عائد کیے تھے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 50 افراد پر مشتمل ہجوم میں سے پولیس نے ان 11 افراد کو کس بنیاد پر ملزم بنایا، اس کی کوئی وضاحت ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کی شناخت یقینی بنانے کے لیے کبھی ٹیسٹ آئیڈنٹیفکیشن پریڈ (ٹی آئی پی)نہیں کرائی گئی۔
استغاثہ کامعاملہ بنیادی طور پر مقامی رہائشی ویشنوی جین کی گواہی پر مبنی تھا۔ عدالت نے انہیں واحد ایسا گواہ قرار دیا جنہوں نے واقعہ کے لیے تمام 11 ملزمان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ تاہم عدالت نے پایا کہ ان کی گواہی میں کئی تضادات موجود تھے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ویشنوی جین نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تمام ملزمان کو ان کے چہروں سے پہچان لیا تھا، لیکن ان کے والد دنیش جین اور بھائی آکاش جین نے اپنی گواہی میں کہا کہ فسادیوں نے’اپنے چہرے کپڑے سے ڈھانپ رکھے تھے۔‘
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پولیس نے شروعات میں ان 11 افراد کو ملزم کیسے بنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں شروع میں صرف چھ افراد کے نام درج تھے، جبکہ بعد میں بغیر کسی واضح وجہ کے مزید پانچ افراد کو بھی ملزم بنا دیا گیا۔
بتادیں کہ کھرگون میں رام نومی کے موقع پر نکالے گئے مذہبی جلوس کے دوران ہوئے تشدد میں دکانوں، گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے بعد شہر میں کرفیولگا دیا گیا تھا، جسے 24 دن بعد 4 مئی کی شام کو ہٹایا گیا۔