سنبھل تشدد کی جانچ کے لیےبنائے گئے تین رکنی عدالتی کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ پتہ لگائے کہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا یا پہلے سے منصوبہ بند تھا، اور کیا اس کے پس پردہ کوئی مجرمانہ سازش تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن کو یہ بھی پتہ لگانا تھا کہ یہ واقعہ کن وجوہات اور حالات میں پیش آیا۔

شاہی جامع مسجد، سنبھل (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)
نئی دہلی:اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں نومبر 2024 میں شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران مارے گئے چار مسلم نوجوانوں کی موت پولیس کی گولی سے نہیں ہوئی تھی، بلکہ ہجوم میں موجود ترک اور پٹھان مسلم برادریوں سے تعلق رکھنے والے مبینہ شرپسند عناصر کے درمیان ہوئی کراس فائرنگ میں ہوئی تھی۔ سنبھل تشدد کی جانچ کے لیے بنائے گئے تین رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔
کمیشن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 24 نومبر 2024 کو ہونے والا تشدد ’منصوبہ بند‘ تھا، اور اس کے پیچھے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیامنٹ ضیاء الرحمٰن برق، ایس پی کے رکن اسمبلی اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال، سنبھل جامع مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر ظفر علی اور مسجد انتظامیہ سے وابستہ دیگر افراد کے بیچ رچی گئی سازش بنیادی وجہ تھی۔
اس تشدد میں پانچ مسلمانوں کی موت ہوئی تھی، تاہم سرکاری ریکارڈ میں صرف چار افراد- محمد کیف، نعیم، ایان اور بلال- کی موت درج ہے۔ جھڑپوں میں 28 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، اورکئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا تھا۔
مغلیہ دور کی شاہی جامع مسجد کا پہلا سروے 19 نومبر 2024 کو عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ایڈووکیٹ کمشنر نے کیا تھا۔ یہ سروے سول جج (سینئر ڈویژن) کے حکم جاری ہونے کے تین گھنٹے سے بھی کم وقت میں کیا گیا تھا۔ دوسرا سروے 24 نومبر کو ہوا، جس کے دوران وسیع پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس دیویندر کمار اروڑا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن تشکیل دی۔
کمیشن کے دیگر دو ارکان وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور میں خدمات انجام دے چکے اور ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر امت موہن پرساد اور 2015 میں اکھلیش یادو حکومت کے دوران ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رہے تھے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اروند کمار جین تھے۔
کمیشن کو یہ جانچ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی کہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا یا منصوبہ بندتھا، اور کیا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش تھی، اس کے ساتھ ہی تشدد کن حالات اور وجوہات کی بنا پر ہوا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ 2025 میں حکومت کو پیش کی تھی، جسے 5 اگست کو اتر پردیش اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
اپوزیشن رہنماؤں اور مسجد انتظامیہ سمیت کئی فریقوں نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں۔ تاہم، کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنبھل پولیس نے مہلک ہتھیار استعمال نہیں کیے۔
پولیس اس سے قبل بھی یہ کہتی رہی ہے کہ اس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے صرف ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا تھا۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کو دیسی ہتھیاروں سے گولیاں لگی تھیں، جس سے یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ہجوم میں موجود افراد نے ہی ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔
’پولیس نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا‘
کمیشن نے آگرہ فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی بیلسٹک ٹیم کی جائے وقوعہ کی ازسر نو تعمیر پر مبنی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مہلک ہتھیار استعمال نہیں کیے، اور ہجوم کی جانب سے پولیس کے ہتھیار چھیننے اور جان لیوا حملوں کی کوششوں کے باوجود پولیس نے’صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا،’پولیس اور انتظامیہ کی سوجھ بوجھ کی وجہ سے شرپسند ریاست اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘
کمیشن نے سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی فراہم کردہ بیلسٹک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہلوکین کے جسموں پر پائے جانے والے گولیوں کے زخم .315 بور ہتھیاروں، یعنی دیسی ہتھیاروں، سے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے معلوم ہو کہ پولیس اہلکاروں کے پاس .315 بور کے ہتھیار تھے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ہلاک ہونے والے چاروں مسلم نوجوانوں کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف تھی، جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے رشتہ دار پتھراؤ اور ہجوم کے تشدد کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا،’کسی بھی اہل خانہ نے نہ تو ایف آئی آر میں، اور نہ ہی کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں یہ کہا کہ ان کے رشتہ دار کی موت پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ہوئی۔‘
’مسلم برادری کو اکٹھا کر کے رچی گئی سازش‘
کمیشن نے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پر خصوصی طور پر سوال اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، برق نے 19 نومبر 2024 کو سروے کے پہلے دن مسجد کے باہر اشتعال انگیز تقریر کی، اور 22 نومبر کو جمعہ کی نماز کے بعد میڈیا سےبات چیت کے دوران بھی اسی طرح کے بیان دیے۔
کمیشن کے مطابق، برق نے ہندوؤں، حکام اور پولیس کے خلاف دشمنی کا ماحول پیدا کیا اور مسلم برادری کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جامع مسجد کو خطرہ ہے اور ہندو اسے گرانے والے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برق اور سہیل اقبال مسلم برادری پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے حکومت، ضلع انتظامیہ اور پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
کمیشن نے الزام لگایا کہ برق، سہیل اقبال اور مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے ارکان نے مسلم برادری کو مسجد میں جمع ہونے اور ہر صورت میں سروے کی مخالفت کرنے پر اکسایا۔ رپورٹ کے مطابق، ان لوگوں نے عدالت کے حکم پر ہونے والے سروے کی اصل نوعیت بھی مسلم برادری سے چھپانے کی سازش کی۔
رپورٹ میں کہا گیا،’انہوں نے لوگوں کو مشتعل کیا اور ایک ہجوم جمع کیا، جس میں مجرمانہ رجحان رکھنے والے افراد بھی شامل ہو گئے۔ یہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی تھی۔اکثر لوگوں نے ماسک وغیرہ پہن کر اپنی شناخت چھپا رکھی تھی اور واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کا مقصد نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی حکومت اور اس کے اداروں کو بدنام کرنا تھا۔‘
تین رکنی کمیشن نے کہا کہ عینی شاہدین کے بیان، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد وہ اس واضح نتیجے پر پہنچا ہے کہ سنبھل کا تشدد قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور مہلک خطرہ تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا،’وسیع پیمانے پر تباہی اور بدامنی سے عبارت یہ منصوبہ بند تشدد ہندوستان کی وحدت، سالمیت، خودمختاری، سلامتی اور معاشی استحکام کو کمزور کرنے اور عوام میں خوف پیدا کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اس جرم کی سزا عمر قید تک ہو سکتی ہے۔‘
برق نے کہا: مسلمانوں کو ہی قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے
کمیشن نے سنبھل کی آبادی کے تناسب اور ضلع میں ماضی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنبھل کی 80 فیصد آبادی مسلمان اور 20 فیصد ہندو ہے، اور اس ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا،’فسادات اور تشدد کے پس منظر کی وجہ سے سنبھل میں مسلم مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کو فروغ دینے والے عناصر بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ ضلع میں مسلم برادری کے ترک اور پٹھان گروہ سرگرم ہیں اور ان کے درمیان بالادستی کی کشمکش پرتشدد ماحول پیدا کرتی ہے۔‘
رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے خبر رساں ایجنسیوں سے کہا کہ وہ کمیشن کے اس نتیجے کو قبول نہیں کرتے کہ پولیس نے فائرنگ نہیں کی اور مظاہرین کی ہلاکتیں ہجوم میں شامل افراد کی گولیوں سے ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کے تمام منظر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہتھیار پولیس اہلکاروں کے ہاتھ میں تھا، مظاہرین کے نہیں۔
برق نے سوال اٹھایا،’جو لوگ مسجد کو بچانے کے لیے نکلے تھے، وہ اپنے ہی لوگوں پر گولیاں کیوں چلائیں گے؟‘
انہوں نے آئی اے این ایس سے کہا،’میں حکومت کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سب پہلے سے منصوبہ بند تھا۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ یہ منصوبہ عوام نے نہیں بلکہ پولیس انتظامیہ اور حکومت نے بنایا تھا۔‘
برق نے کہا کہ اس تشدد میں نہ صرف مسلمانوں کی جانیں گئیں بلکہ اب انہی پر قتل کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا،’میں بار بار چیلنج کر چکا ہوں کہ آج تک ایک بھی ایسی تصویر پیش نہیں کی گئی جس میں سنبھل کا کوئی نوجوان یا بزرگ ہتھیار اٹھائے یا گولی چلاتا ہوا نظر آئے۔ جتنی بھی تصویریں اور ویڈیو سامنے آئے ہیں، ان میں ہتھیار صرف پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتے ہیں۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔