بابری مسجد انہدام کی جانچ کے لیے بنائےگئے لبرہان کمیشن کے چیئرمین رہے اور ریٹائرڈ جسٹس منموہن سنگھ لبرہان 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ چار دہائیوں پر محیط اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے ہریانہ کے ایڈووکیٹ جنرل کے علاوہ مدراس اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر بھی اہم خدمات انجام دیں۔

جسٹس (ریٹائرڈ) منموہن سنگھ لبرہان (بائیں)، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ (دائیں) اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم (درمیان میں)۔ (تصویر: پی آئی بی)
نئی دہلی:بابری مسجد انہدام کیس کی جانچ کے لیے بنائے گئے لبرہان کمیشن کی سربراہی کرنے والے اور اپنی عوامی زندگی کے آخری برسوں میں اسی حوالے سے سب سے زیادہ معروف رہے ریٹائرڈ جج منموہن سنگھ لبرہان 2 اگست 2026 کو 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
بتادیں کہ11نومبر 1938 کو پیدا ہوئے لبرہان نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز امبالہ میں وکالت سے کیا تھا۔ بعد میں وہ چنڈی گڑھ میں واقع پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگے۔ اس وقت وہ صرف ’منموہن سنگھ، ایڈووکیٹ‘کے نام سے جانے جاتے تھے۔ چنڈی گڑھ میں منموہن سنگھ نام کےکئی وکیل ہونے کی وجہ سے اکثر الجھن پیدا ہو جاتی تھی۔ اسی وجہ سےایک جج نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی ذیلی برادری (سب کاسٹ) کا نام اپنے سر نیم کے طور پر اختیار کرلیں۔ اس کے بعد انہوں نے ’لبرہان‘سرنیم اپنا لیا۔
اس کے بعد وہ جج بنے۔ بعدمیں اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے انہیں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے پس پردہ سازش کی جانچ کی ذمہ داری سونپی۔ 6 دسمبر 1992 کو پیش آئے اس واقعہ نے پورے ملک کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا، اور اس کے بعد ہوئے تشدد میں ہندوستان کے مختلف حصوں میں سینکڑوں لوگوں کی جان گئی تھی۔
لبرہان کمیشن کو اپنی رپورٹ مارچ 1993 تک سونپنی تھی، لیکن 43 بار مدت میں توسیع کیے جانے کے بعد کمیشن نے بالآخر 30 جون 2009 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس طویل عرصے کے دوران تقریباً چھ برس تک نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت اقتدار میں رہی۔
اسی دوران 2001 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس وقت کے صدر لال کرشن اڈوانی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ بابری مسجد تحریک کے اہم حکمت عملی ساز مان جانے والے اڈوانی ان افراد میں شامل تھے جن کے خلاف سی بی آئی نے چارج شیٹ دائر کی تھی۔ کمیشن کے سامنے انہوں نے کہا تھا کہ بابری مسجد کا انہدام ’انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ‘تھا، اور’اس دن میں جتنا مایوس اور رنجیدہ تھا، زندگی میں بہت کم موقع پر ایسا محسوس کیا ہے۔‘
سال2009میں انہوں نے دی انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں بتایا تھا کہ ایودھیا معاملےسے متعلق تمام دستاویز انہوں نے 16 بار پڑھے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ایسا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ان کے وکیل بیچ میں ہی معاملہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
جسٹس لبرہان کو ایک سخت گیر، صاف گو اور بے لاگ انداز میں بات کرنے والے جج کے طور پر جانا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ان لوگوں سے سخت ناگواری ہوتی ہے جو’ صرف شہرت حاصل کرنے کے لیے بیان‘ دیتے ہیں۔انہوں نے دی انڈین ایکسپریس سے کہا تھا،’ججوں کی پہچان ان کے فیصلوں سے ہونی چاہیے، ان کی تقریروں سے نہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ انہیں اس بات پر تشویش ہوتی ہے کہ آج کل کئی جج مقدموں کی فائلیں اور قانونی دستاویز پڑھنے کے بجائےافتتاحی تقاریب، دعوتوں میں شرکت یا گولف کھیلنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، جبکہ انہیں اپنی توجہ عدالتی ذمہ داریوں پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا تھا،’آپ صرف ججوں سے یہ پوچھیے کہ انہوں نے اپنے پورے دور میں ججوں کی لائبریری سے کتنی کتابیں حاصل کی ہیں۔ اس کا جواب آپ کو حیران کر دے گا۔‘
اسی انٹرویو میں لبرہان نے ان عدالتی فیصلوں پر بھی سوال اٹھایا تھاجو صرف قانون کی تشریح تک محدود نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا تھا،’ججوں کو اپنے خیالات اور ذاتی آراء ہم پر مسلط کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟‘
انہوں نے مزید کہا تھا،’اگر کوئی جج کسی قتل کا چشم دید گواہ ہے تو اسے گواہ کے کٹہرے میں جا کر بیان دینا چاہیے۔ اسے جج کی حیثیت سے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر رائے نہیں دینی چاہیے۔ ججوں کو اپنے ذاتی پس منظر یا نظریات عوام پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کام صرف قانون کی غیر جانبدارانہ تشریح کرنا ہے، اور انہیں اسی ذمہ داری کو نبھانا چاہیے۔‘
لبرہان نے ہریانہ کے ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 1997 میں انہیں مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ ان کا قانونی کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط تھا، جس کے دوران انہوں نے عدلیہ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔