نیم کا پتہ کڑوا ہے … گالی سے کیا ناراضگی؟

سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی  اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ  یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔

سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی  اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ  یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔

تصویر: پی ٹی آئی

دنیا میں ایک زبان ہے جو تمام زبانوں سے ماورا تسلیم کی جاتی ہے- گالیاں یا نازیبا الفاظ- یہ بذات خود کوئی زبان نہیں، مگر انہیں ہر زبان میں سمجھ لیا جاتا ہے؛ اور یہ کسی بھی احساس کو زیادہ مؤثر بنا دیتے ہیں۔ جیسا کہ نوجوانوں کے حالیہ احتجاجی مظاہروں  کے دوران بھی مشاہدہ کیا گیا، جہاں اس نے پہلے سے ہی تیز و تند باتوں کو  کاٹ اور شدت عطا کی۔

کئی بار بھرپور اور مؤثر مزاحمت میں نازیبا الفاظ استعمال ہوتے ہیں، تاہم اب اچانک ’سنسکاری ‘حلقوں میں اس پر ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے چیئرپرسن ششی شیکھر ویمپتی شاید اب فلموں اور او ٹی ٹی مواد پر قینچی چلانے سے ہی مطمئن نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے اس موضوع پر بھی اپنی دانش کے موتی بکھیر دیے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے،گزشتہ کچھ دنوں میں ایک خطرناک رجحان سامنے آیا ہے کہ کیسے چند موجودہ اور سابق میڈیا اہلکاروں کے ایک طبقے نے نوجوانوں، جن میں کئی قانونی طور پر نابالغ  ہیں، کی جانب سے صنفی بنیاد پر دی جانے والی گالیوں اور نازیبا زبان کے استعمال کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کا جشن بھی منایا۔‘

ایک سابق سفارت کار’نوجوان لڑکیوں‘کی جانب سے معزز وزیراعظم کے بارے میں کیے گئے تبصروں سے رنجیدہ  ہیں۔ رنجیدہ خاطر ہونے والے زیادہ تر اکاؤنٹس سیاسی ہیں، جو اپنی ’حیرت‘یا’صدمے‘کے پس پردہ  اس بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ہمارے اسکرین، سوشل میڈیا فیڈ، موبائل فون اور سب سے زیادہ  ہمارے ذہنوں کو اپنی زد میں لے چکاہے۔

اب تک بڑی احتیاط سے بنائی گئی بی جے پی کے اکلوتے چہرے کی امیج ہر اس جگہ پرتھی، جہاں اسے لگایا چپکایاجا سکتا تھا-خواہ پیٹرول پمپ پر لگے ہورڈنگ ہوں، یوم خواتین کے اشتہارات ہوں، سرکاری ویب سائٹ، راشن کٹ یا ویکسین سرٹیفکیٹ ہوں-ان کا مسکراتا چہرہ ہی پارٹی کی واحد پہچان بن چکا تھا۔ اب اگر میڈیا میں آ رہی خبروں کی مانیں تو مسکرانے والے مودی جی کو ان کی حکومت کو درپیش اس بڑے بحران کا حل صرف ریل بنانے میں نظر آ رہا ہے۔

اس وقت ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ مودی اور ان کی پارٹی کی تشہیر پر خرچ کیے گئے ہزاروں کروڑ روپے کے عوامی پیسے کی لاج کیسے بچائی جائے۔ پارلیامنٹ کے گزشتہ اجلاس میں ہی  سامنے آئے سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا تھا کہ 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے اشتہارات پر 5987.46 کروڑ روپے خرچ کیے تھے، یعنی تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے روزانہ ۔ اس میں بی جے پی کی ریاستی حکومتوں، سرکاری اداروں، دیگر تنظیموں اور بڑے صنعتکاروں کی جانب سے دیے گئے بڑے پیمانے کے اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم شامل نہیں ہے۔

عام نوجوانوں کا مقابلہ اس کروڑوں روپے کی طاقت سے ہے۔ کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح حالات کو بدلا جائے اور جین-زی انگریزی کے ایم ، سی ، بی اور ایف سے شروع ہونے والے لفظوں، جنہیں وہ غلیل کی طرح لے کر اس لڑائی میں اترے تھے، کو بولنے کے لے کے لیے شرمندہ کیا جائے ۔

یہاں ایک ذمہ دار خبر رساں ادارہ کی حیثیت سے ہم ان میں سے زیادہ تر الفاظ کے مفہوم کو تفصیل سے بیان کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم اگر کسی موقع پر کسی لفظ کا مکمل ذکر ناگزیر ہو، تو اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ اور ایف والے لفظوں کو پورا بولنے کی ضرورت پڑے تو مل کر بات کی جا سکتی ہے۔ایسی صورت میں ہم بعض علامتوں جیسے *، &، # اور ^ کا استعمال کریں گے ،جس کی وجہ سے بھلے لفظ پورا سمجھ میں نہ آئے، مگر اس کے مفہوم اور شدت کو سمجھا لیا جائے۔

تو ان ’نوجوان لڑکیوں‘اور دیگر مظاہرین، جو جیسا محسوس کر رہے ہیں ، ویسا بول  رہے ہیں، کے دفاع میں آگے آنا ضروری کیوں ہے؟

جیسے جیسے وقت بدلتا ہے، ویسے ویسے مروج لفظ بھی بدل جاتے ہیں؛ بہت سے ایسے لفظ جو کبھی قابل اشاعت نہیں سمجھے جاتے تھے، رفتہ رفتہ روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں اور سرگوشیوں یا دبے چھپے مکالموں کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ الفاظ کس سیاق و سباق میں استعمال کیے جا رہے ہیں؛ یعنی کن مواقع پر انہیں قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ ایسے الفاظ اگرچہ سخت، تیز اور کاٹ دار ہوتے ہیں، لیکن کوئی انہیں مناسب سمجھے یا نامناسب، اس سے ان کے اثر میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔احتجاجی مظاہرے اور تحریکیں بھی ایسی ہی جگہیں ہیں۔ ایسے مظاہروں کی بنیادی پہچان ہی غصہ اور اشتعال ہے، اب ایسی جگہ  پرکوئی سنسکرت کے اشلوک پڑھے گا، یہ سوچنا بے معنی ہے ۔

اس کے ساتھ ایک اور تناظر بھی قابل غور ہے کہ یہ لعن طعن کس پر کی جا رہی ہے اور کون کر رہا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ان کی یہ  بات قابل قبول بھی ہے یا نہیں۔ اگر آپ اپنے سے کمزور شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ لیکن اگر آپ کا نشانہ آپ سے کہیں زیادہ طاقتور شخص ہے تو ایسے تیکھے الفاظ قبول کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوان طلبہ نریندر مودی کا مذاق اڑا رہے ہیں، جو ملک کے سب سے طاقتور انسان  ہیں۔ اور اسی وجہ سے انہیں کہیں زیادہ چھوٹ دی جا سکتی ہے، بہ نسبت اس کے کہ وہ اسی جگہ اسی  زبان میں  کسی کیب ڈرائیور یا کسی عام آدمی کا مذاق بنا رہے ہوتے۔

چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایک معاملے میں کہا کہ کسی کومدر&کر بولنا تشویش کی بات نہیں۔ 18 جولائی کو جسٹس سنجے کرول اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بنچ کا کہنا تھا کہ گالی گلوچ اور غیر شائستہ زبان، خواہ کتنی ہی غیر مہذب اور توہین آمیز کیوں نہ ہو، ’اس وقت تک فحاشی نہیں سمجھی جائے گی جب تک کہ وہ جنسی، شہوت انگیز نہ ہو، اور اس میں سننے یا دیکھنے والوں کو بگاڑنے یا اخلاقی طور پر خراب کرنے کا رجحان نہ پایا جائے۔‘ عدالت کا یہ تبصرہ ایک ایسے شخص کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سامنے آیا تھا جسے زمین کے تنازعہ کے دوران ’مدر&کر‘،سن آف اے ^ آر‘اور دیگر گالیاں دینے کے لیے فحاشی کا قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ماناکہ زمین کا تنازعہ ایسا معاملہ ہے جس پر غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے، اور ایسے جھگڑے میں جینڈرسے متعلق توہین آمیز الفاظ کہنے کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ جو لوگ پیپر لیک، کرپٹ ایجوکیشن مافیا اور روزگار سے محرومی کے باعث خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، ان کا احتجاج لاکھوں لوگوں کے لیے کسی زمین کے تنازعہ سے کہیں زیادہ بڑا عوامی مسئلہ ہے۔

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو لگتا تھا کہ ان کی بات کوئی نہیں سنے گا، ان کی بات تبھی سنی جا رہی ہے جب وہ اپنی بات براہ راست، مضبوط اور کسی حد تک سخت یا غیر شائستہ انداز میں رکھ  رہے ہیں۔

تصویر: سونیا یادو/دی وائر

بی جے پی کے اعتراضات اور ’نوجوان لڑکیوں‘کے پلے کارڈ

آلٹ نیوز کے پرتیک سنہا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ سی بی ایف سی چیف کی جینڈر سے متعلق نازیبا الفاظ پر تشویش صرف 2014 کے بعد سامنے آنے والی زبان تک محدود ہے۔ اس سے پہلے اقتدار میں موجود لوگوں نے کیسی مثالیں قائم کیں؟ اسی ملک نے دیکھا کہ خود نریندر مودی نے کانگریس پارلیامانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے لیے ’جرسی گائے‘اور’بیوہ‘جیسے الفاظ استعمال کیے۔

سنندا پشکر تھرور کو’50 کروڑ کی گرل فرینڈ‘کہنا ہو یا ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کو’دیدی او دیدی‘(جو 2021 میں ہی ہوا تھا) کہہ کر مخاطب کرنا، یہ ان کے’مہذب‘الفاظ کے ذخیرے کی چند مثالیں ہیں۔ اور تو اور بی جے پی کے ایک وزیر وی کے سنگھ تو اکثر صحافیوں کو’پریسٹی ٹیوٹس‘ کہا کرتے تھے، لیکن ویمپتی جیسے لوگوں نے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔

آج  کی تاریخ میں بی جے پی، جو اپنے سے کم طاقتور نوجوانوں کو زبان کے استعمال پر شرمندہ کرنا چاہتی ہے، وہ ایسے لوگوں کو اپنی پارٹی  ،جہاں بی جے پی  کے وزیر اعلیٰ مسلمانوں کو ایک سے زیادہ بیوی رکھنے اور بچہ پیدا کرنے کی بات کو’بچے پیدا کرنے کی مشین‘جیسی انتہائی گھٹیا اصطلاح کے سہارے  بیان کرتے ہیں ، اور بی جے پی کے بارہ سالہ دور حکومت میں یہ زبان معمول کا حصہ بن چکی ہے۔

بی جے پی حکومت کی حمایت کرنے والی ٹرول آرمی، جسے پارٹی کے کئی سینئر رہنما بھی فالو کرتے ہیں، اکثر لوگوں کو قتل یا ریپ کی دھمکیاں دیتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ اس رجحان کو اب پوری دنیا میں ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہی جین-زی، جس سے بی جے پی کو اتنی شکایتیں ہیں، اسی دور حکومت میں اس کی  ہی زبان کو سنتے اور دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہے، اور زبان کے تقدس  کےحوالے سےان سے زیادہ بے پروا ہے؛ البتہ پارٹی کے برعکس، کسی طرح کے تشدد کی حمایت  میں نہیں ہے۔

ایک طرح سے سے عام لوگوں کے اس ’گالی وار‘میں پہنچنے میں بڑے میڈیا چینلوں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن کی چیخ و پکار اور شور شرابے پر مبنی مباحثے اور جنگی جنون میں مبتلا مدیر عام لوگوں کی زندگی کے روزمرہ کے شور کا حصہ بن چکے ہیں۔ یقیناً یہ بھی ایک ایسی وجہ قرار دی جا سکتی ہے جس نے لوگوں کو گالی گلوچ اور بدسلوکی کی حد تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔

’سنسکاری‘لفظوں کے حدود کیا ہیں؟

گزشتہ دنوں سینئر صحافی رویش کمار نے اپنے ایک پروگرام میں ذکر کیا کہ کس طرح نوجوانوں کی تحریک نے آر ایس ایس-بی جے پی کی ہندی کو مات دی ہے۔ جس  ہندی کو دوردرشن، آل انڈیا ریڈیو (آکاش وانی)، بلوں کے ناموں، سرکاری پیغامات اور تشہیری مہمات میں مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے، وہ دراصل ہندی زبان کی ایک مصنوعی، بے جان اور دانستہ طور پر کمزور کی گئی شکل ہے، جو اس زبان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

یہ زبان اعلیٰ طبقاتی برہمن واد کی ایک بے روح زبان ہے۔ جملوں میں ایسے سنسکرت الفاظ جان بوجھ کر ٹھونسے جا رہے ہیں جن کے انگریزی میں بھی بہ مشکل مترادف ملتے ہیں، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ ہندی ہندوتوا سے وابستہ ہے، نہ کہ ہندوستانی یا عام لوگوں کی روزمرہ کی زبان سے۔

اس مصنوعی پن اور تکبر کا مقصد لوگوں کو ساتھ جوڑنا بھی نہیں ہے۔ سرکاری ہندی سے اردو، فارسی، انگریزی، برج، اودھی، میتھلی، بھوجپوری اور بندیلی کو باہر نکال دینا بھی ایک طرح کا لسانی تشدد ہے۔ ایسے ملک میں، جہاں آبادی کی بڑی تعداد سنسکرت سے واقف نہیں، صرف سنسکرت سے اخذ کیے گئے الفاظ کا استعمال اکثریتی عوام کی توہین کے مترادف ہے۔ ایسے میں جین-زی کا اس  طرح کے لسانی جبرکو مسترد کرنا اور اس دائرے میں بندھنے سے انکار کرنا ایک مناسب جواب ہے۔

بولنے اور کرنے میں فرق

الفاظ کی اہمیت ان کے معنی اور مفہوم سے طے ہوتی ہے، یعنی ان سے کیا سمجھا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر لنچنگ ایسی زبان میں کی جاتی ہے جسے روایتی طور پر ’گالی گلوچ‘نہیں سمجھا جاتا، تو کیا ان ہنستے ہوئے نوجوانوں کے گالی والے پوسٹروں سے بہتر ہو جائے گی؛ وہی نوجوان  ، جن کی سینٹرل دہلی میں کئی گھنٹوں تک موجودگی کے دوران بے شمار خواتین اور دیگر جینڈرکے لوگوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

اس حوالے سے سماجیات کے ماہر سروج گیری نے جی سمپت سے کہا؛ جنتر منتر پر بہت خراب زبان استعمال ہوئی، مگر اس سے وہاں موجود خواتین یا اقلیتوں کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ ان کی سلامتی کو واحد خطرہ سرکاری مشینری سے تھا۔ یہ بھی ایک ایسا پہلو ہے جسے سمجھنے اور اس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس سے پہلے وزیر اعظم کی’شبیہ‘بچانے کی کوشش اس وقت بھی کی گئی تھی جب اس سال کے آغاز میں وائرل ہوئی’کھی-کھی‘والی ریلز کو ہٹا دیا گیا۔ اس کڑی میں’دی وائر‘کے اینی میشن ویڈیو کوبھی ہٹایا گیا تھا، کیونکہ جیسا کہ کارٹون کا کام ہے، اس میں وزیراعظم کے کاموں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس احتجاجی مظاہرے میں  یہی آن لائن لطیفے آف لائن آ گئے اور نوجوان مظاہرین کے پلے کارڈ پر جگہ پا گئے۔

اس کے علاوہ اگر بات اخلاقیات ہی کی ہے، تو پھر حکومت کے ’سنسکاری‘ الفاظ اور اس کے اعمال کا موازنہ بھی ہونا چاہیے۔ اس کی ایک واضح مثال ٹرانس جینڈر بل ہے، جو اب قانون بن چکا ہے۔اس میں حکومت نے یہ کہہ دیا  ہےکہ خود  کو کون،کس جینڈر کے کھانچے میں رکھتا ہے، یہ  اس جینڈر کو جینے والا شخص طے نہیں کر سکتا۔ کسی جینڈر کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟احتجاج کے دوران نوجوانوں کی جانب سے استعمال کیے گئے کسی صنفی گالی یا نازیبا لفظ کو اس توہین کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے کیا؟

اور زیادہ دور جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ایک اور مثال حال ہی میں وزیر تعلیم بننے والے پرہلاد جوشی نے قائم کی تھی۔ سال 2022 میں یوم آزادی کے موقع پر بلقیس بانو کے ساتھ ریپ کرنے والوں کو قبل از وقت رہائی دی گئی تھی۔ جب اس فیصلے پر ملک بھر میں تنقید ہوئی اور سوال اٹھائے گئے، تو جوشی نے رہائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھاکہ’جو بھی ہوا، قانون کے مطابق ہوا ہے۔‘

اس کے بعد سنگھ، وی ایچ پی اور بی جے پی کے کارکنوں نے ان مجرموں کا جیل سے باہر آتے ہی پھولوں کے ہار پہنا کر اور مٹھائیاں بانٹ کر استقبال کیا تھا۔کیا اس کا موازنہ کسی گالی یا کسی نوجوان کے پوسٹر پر لکھے اس جملے سے کیا جا سکتا ہے،نیم کا پتہ کڑوا ہے، نریندر مودی ____ ہے؟
یا کون سی گالی جھارکھنڈ میں جینت سنہا کی جانب سے لنچنگ کے ملزمان کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کرنے کے عمل کی برابری کر سکتی ہے؟

اپنے گھناؤنے اعمال کو چھپانے یا اپنی سیاہ کاریوں کا دفاع کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی نام نہاد ’شائستہ‘ زبان، نوجوان نسل کی جانب سے کسی درست مقصد کے لیے استعمال کی گئی سخت یا گالی گلوچ پر مبنی زبان سے کہیں زیادہ بری ہے۔ اگر پارلیامنٹ اور میڈیا نے اپناکام ٹھیک سے کیا ہوتا ،تو شاید ان کی زبان بھی پارلیامانی حدود اور شائستگی کے دائرے میں رہتی۔

جب غصے سے بھرے نوجوان بولتے ہیں اور اقتدار ان کی بات سننے سے انکار کر دیتا ہے، تو وہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور ان کی زبان بھی سڑک کی زبان بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ گزشتہ ہفتے نے دکھایا-اگر بھگت سنگھ کے الفاظ کو دوسرے انداز میں بیان کریں-تو یہی وہ واحد زبان ہے جسے بہرے  سن سکتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اب مودی ان آوازوں پر کان دے رہے ہوں گے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔