شہریت قانون: رام پور میں ایک کی موت، کاس گنج میں انٹرنیٹ بند، کانپور میں چوکی پھونکی

جمعہ کوشہریت ترمیم قانون کے خلاف میں ہوئے مظاہروں میں اتر پردیش کے مختلف شہروں میں کم سے کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ میرٹھ میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی، کانپور، بجنور اور فیروزآباد میں دودو لوگوں کی موت اورمظفرنگر، سنبھل اور وارانسی میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی تھی۔

جمعہ کوشہریت ترمیم قانون کے خلاف میں ہوئے مظاہروں میں اتر پردیش کے مختلف  شہروں میں کم سے کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ میرٹھ میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی، کانپور، بجنور اور فیروزآباد میں دودو لوگوں کی موت اورمظفرنگر، سنبھل اور وارانسی میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی تھی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: اتر پردیش کے مختلف حصے میں جمعہ کوشہریت ترمیم قانون اور این آرسی کے خلاف مظاہرے اور کئی حصوں میں تشدد کے بعدسنیچر کو رام پور شہر میں بھی پر تشدد مظاہرہ ہوا۔ اس دوران ایک فرد کی موت کی اطلاع ہے۔اس سے پہلے جمعہ کو ہوئے مظاہرے میں اتر پردیش کے مختلف شہروں میں کم سے کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ میرٹھ میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی، کانپور، بجنور اور فیروزآباد میں دودو لوگوں کی موت اورمظفرنگر، سنبھل اور وارانسی میں ایک ایک فرد کی موت کی اطلاع ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وارانسی میں پولیس کے لاٹھی چارج سے بھگدڑ مچنے سے آٹھ سال کے ایک بچے کی موت ہو گئی۔ اس سے پہلے 19 دسمبر کو ہوئے مظاہرے میں راجدھانی لکھنؤ میں ایک 28 سالہ  شخص کی موت ہو گئی تھی۔آئی جی(نظم ونسق)پروین کمار نے بتایا کہ گزشتہ10 دسمبر سے اتر پردیش میں 705 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور احتیاطاً گرفتار کئے گئے 4500 لوگوں کو رہا کیا گیا ہے۔ اس دوران 15 لوگوں کی موت  ہوئی اور 263 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دینک جاگرن کے مطابق،شہریت ترمیم قانون کے خلاف رام پور بند کے دوران ہاتھی کھانا چوراہے پر ہزاروں کی تعداد میں جمع لوگوں کی بھیڑ میں ہوئے تشدد میں ایک شخص  کی موت ہو گئی جبکہ تین لوگ زخمی ہو گئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے گولی چلائی، وہیں پولیس افسروں نے اس سے انکار کیا ہے۔ پولیس کی بائیک سمیت چارگاڑیوں کو جلا دیا گیا۔

مرنے والے کی شناخت 24 سال کے فیض کے طورپر ہوئی ہے۔ وہ ملا ارم محلے کا رہنا والا تھا۔ اہل خانہ  کے مطابق مظاہرہ  کے دوران ہوئی فائرنگ سے موت ہوئی ہے۔شہریت ترمیم قانون کے خلاف علماء نے سنیچر کو رام پور بند کہ اپیل  کی تھی۔انتظامیہ  نے تشددکے امکان کے پیش نظرضلع کی سبھی سرحدیں سیل کر دی تھیں، حالانکہ اس کے باوجود پولیس پر بھیڑ بھاری پڑ گئی۔ صبح ایک بھی دکان نہیں کھلی۔

سنیچر کو پورا شہر چھاؤنی میں تبدیل نظر آیا۔ جگہ جگہ فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ عیدگاہ کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔

کانپور میں بھیڑ نے کیا پتھراؤ، چوکی پھونکی

شہریت قانون کے خلاف کانپور میں ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہر کے کئی علاقوں میں سنیچر کو ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین  لگاتار نعرےبازی کر رہے ہیں۔ پریڈ یتیم خانہ  علاقے میں بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس چوکی کو آگ کے حوالے کر دیا ۔پریڈ یتیم خانہ علاقے میں جمع مظاہرین  نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا۔ بھیڑ کو کھدیڑنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پتھراؤ میں کئی لوگوں کے زخمی  ہونے کی خبر ہے۔ بھیڑ نے یتیم خانہ پولیس چوکی کو پھونک دیا، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔

کانپورزون کے ایڈیشنل ڈی جی پی پریم پرکاش نے بتایا کہ سماجوادی ایم ایل اے امیتابھ باجپئی اور سابق ایم ایل اےاور سماجوادی رہنما کملیش دیواکر کو احتیاطاً گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی گاڑیوں کو بھی سیزکر دیا گیا ہے۔پرکاش نے بتایا کہ بھیڑ سڑکوں پر ہے۔ بابوپروا، نئی سڑک، مول گنج، دلیل پروا، حلیم کالج اور  مسلم اکثریت علاقوں میں لوگ سڑکوں اور گلیوں میں جمع  ہوکر مظاہرہ  کر رہے ہیں۔ بھاری پولیس بندوبست کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھیڑ کو سمجھانے کے لیے شہر کے قاضی کی مدد لی جا رہی ہے۔

اس بیچ تشددمیں جن دو لوگوں کی  جمعہ کو موت ہوئی تھی، ان کو ابھی دفن نہیں کیا گیا  ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو پولیس نگرانی میں ہی دفنایا جائےگا۔مظاہرین  کی مانگ ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے یا جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، انہیں فوراً رہا کیا جائے وہ تبھی سڑکوں سے واپس جائیں گے۔

لکھنؤ میں سوموار تک رہیں گی  انٹرنیٹ خدمات معطل

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں سوموار تک کے لیے انٹرنیٹ خدمات بند رہیں گی۔ ایک سینئر افسر نے سنیچر کو یہ بات کہی۔ شہر میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے بعد جمعراتت کی رات کو انٹرنیٹ خدمات معطل  کر دی گئی تھیں۔ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک پرکاش نے سنیچر شام کو کہا، ‘لکھنؤ میں انٹرنیٹ خدمات23 دسمبر تک بند کر دی گئی ہیں۔’

بھدوہی میں 24 لوگ گرفتار

اس کے علاوہ پولیس نے سنیچر کو بھدوہی ضلع میں 24 لوگوں کو گرفتار کیا۔ایس پی رام بدن سنگھ نے بتایا کہ جمعہ کو مارچ نکال رہی بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں27 نامزد اور 200 نامعلوم شر پسند عناصروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔

سنگھ نے کہا کہ کسی قصوروار کو بخشا نہیں جائےگا۔ پورے ضلع میں سکیورٹی انتظامات پختہ کرنے کے مد نظر بھاری تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔حالات کشدہ لیکن قابو میں ہیں۔

بہرائچ میں 38 گرفتار، انٹرنیٹ خدمات بند

وہیں،شہریت قانون کے خلاف بہرائچ میں تناؤ کے مد نظر پولیس نے 38 شرپسند عناصروں  کو گرفتار کیا ہے۔ یہاں جمعہ کو ہوئے تشدد میں 10 پولیس اہلکاروں سمیت تقریباً دو درجن لوگ زخمی ہو گئے تھے۔حساس  ماحول اورسوشل میڈیا کے غلط استعمال کے مد نظر شہر میں اگلے حکم  تک انٹرنیٹ خدمات پر روک لگا دی گئی ہیں۔ شہر میں فی الحال سنیچر صبح سے امن کا ماحول نظر آرہا ہے۔ اکثر بازار کھل گئے ہیں۔ پولیس فلیگ مارچ کر رہی ہے۔

ایس پی گورو گروور نے بتایا کہ جمعہ کی نمازکے بعد مظاہرین کے ذریعے کئے گئے پتھراؤ کے بعد شہر میں تناؤ پھیل گیا تھا۔ پولیس نے سی آر پی سی کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے مظاہرہ ، نعرےبازی اورپتھراؤ کر رہے ہزاروں مظاہرین  کو قابو میں کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا اورفورس کا استعمال کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ شر پسند عناصروں  کے پتھراؤ سے 10 پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئی ہیں جن کا علاج مقامی  میڈیکل کالج میں کرایا جا رہا ہے۔

افسرنے بتایا کہ تھانہ درگاہ شریف میں 23 نامزد ااور 1300 نامعلوم  لوگوں کے خلاف تین معاملے اور کوتوالی نگر میں 44 نامزد اور700 نامعلوم لوگوں کے خلاف تین معاملے درج کئے گئے ہیں۔ درگاہ شریف علاقے سے 22 اور کوتوالی نگر میں 16 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایس پی نے بتایا کہ ڈرون کیمروں، ویڈیوگرافی، تصویروں اور دوسرےشواہد کی مدد سے ملزموں کی پہچان کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالات نارمل  رہے تو وارننگ کے ساتھ شام تک انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی جائےگی۔

گروور نے بتایا کہ شہر اور ضلع کے دوسرے علاقوں میں حالات پوری طرح نارمل  ہیں۔ احتیاط کے طور پر پولیس، پی اے سی اور سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعے فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے۔

کاس گنج ضلع میں انٹرنیٹ خدمات بند

وہیں، این آرسی اور شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہرے کے مد نظر کاس گنج ضلع میں جمعہ رات 11 بجے سے انٹرنیٹ خدمات احتیاطاً بند کر دی گئی ہیں۔پولیس نے سنیچر کو بتایا کہ مظاہرے کی وجہ سےپولیس انتظامیہ پوری طرح سے چوکس ہے۔ جمعہ رات 11 بجے انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی افواہوں کو روکا جا سکے۔

پولیس کے مطابق حالات کشیدہ ضرور ہیں لیکن کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ہے۔

تشدد کرنے والوں کو بخشا نہیں جائےگا: ڈی جی پی

شہریت قانون کے خلاف اتر پردیش میں ہوئے تشدد کے مد نظر ریاست کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے سنیچر کو کہا کہ تشدد کرنے والوں کو بخشا نہیں جائےگا۔انہوں نے کہا، ‘پولیس ہوشیارہے اور گشت کر رہی ہے۔ مختلف شہروں کے معزز لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ  نظم ونسق  بنائے رکھنے میں مدد کریں۔ جہاں بھی معاملے درج ہوئے ہیں، وہاں کی مقامی پولیس انتظامیہ  گرفتاریاں کر رہی ہے۔ کسی بے قصور کو گرفتار نہیں کیا جائےگا۔ پوری چھان بین کے بعد ہی گرفتاری ہوگی۔’

ڈی جی پی نے بتایا کہ لکھنؤ میں 218 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تشدد کرنے والوں پراین ایس ے اور غنڈہ ایکٹ لگایا جائےگا، سنگھ نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوگاتو بتا دیا جائےگا۔انہوں نے واضح کیا کہ تشدد میں باہری لوگوں کا ہاتھ ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس میں سیاسی  لوگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اس کو دیکھا جاہا ہے، ٹیمیں بنائی گئی ہیں جو سبھی پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس تشدد میں این جی و اور سیاسی  لوگوں کے شامل ہونے کے خدشے کا اظہار کیاہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تشدد میں بنگلہ دیش کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں، سنگھ نے کہا کہ جانچ جاری ہے۔

انٹرنیٹ بند کئے جانے کے سوال پر ڈی جی پی نے کہا کہ جہاں مقامی انتظامیہ  نے مناسب سمجھا، ان جگہوں پر انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی ہیں۔اس بیچ، لکھنؤ کے ایس ایس پی کلاندھی نیتھانی نے بتایا کہ 218 لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے۔ کئی لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شر پسند عناصرشہر چھوڑکر بھاگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بھیڑ کو بھڑکا کر جمع  کیا ہے، ان پر بھی کارروائی کی جائے گی اورحقائق کی بنیاد پر کارروائی یقینی بنائی جائےگی۔

تشدد کرنے کی چھوٹ کسی کو نہیں: یوگی آدتیہ ناتھ

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ نے لوگوں سے شہریت قانون کو لے کر پھیلائے جا رہے بہکاوے میں نہیں آنے کی اپیل کرتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ شرپسند ی اور تشدد کی چھوٹ کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ یوگی نے ٹوئٹ کیا،قانون کو ہاتھ میں لے کر تشدد کرنے کی چھوٹ کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ شہریت قانون پر پھیلائے جا رہے بھرم اور بہکاوے میں کوئی بھی نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر انسان کو تحفظ فراہم  کرنے کی ذمہ داری پردیش سرکار کی ہے اور پولیس ہر انسان کو تحفظ دے رہی ہے۔وزیر اعلیٰ  نے عوام  سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کرے اور شر پسند عناصروں  کے اکساوے میں نہ آئیں۔ انہوں نے امن  بحالی کی اپیل کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ  کوہدایت دی  ہے کہ وہ شہریت قانون پر افواہ پھیلاکر لوگوں کو گمراہ کرنے اور تشدد پھیلانے والے عناصروں  کا پتہ لگائے۔

یوگی نے دوہرایا کہ جہاں بھی پبلک پراپرٹی کوشرپسند عناصروں  نے نقصان پہنچایا ہے، اس کی بھرپائی، ویڈیوفوٹیج اور دوسرے شواہد  کی بنیاد  پرپہچان کئے جا رہے شر پسند عناصروں  کی ملیکت کو ضبط کرکے کی جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شہریت قانون کسی ذات، کمیونٹی،مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان  کے ہر شہری  کوتحفظ کی گارنٹی دیتا ہے۔ اس کے بعد بھی اس طرح  کاپرتشدد مظاہرہ بھارت کے قانون کی تردیدکرنے جیسا ہے۔

یوگی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بہکاوے میں نہ آئیں اورامن بنائے رکھنے میں حکومت کی مددکریں۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)