جج تبسم خان کو نشانہ بنایا جانا عدلیہ کی آزادی پر حملہ: ہائی کورٹ

مدھیہ پردیش کے نرمدا پورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے گزشتہ دنوں لنچنگ کے ایک معاملے میں چودہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ان کے خلاف پروپیگنڈے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ جج کے بارے میں نا زیبا تبصرے کرنے اور انہیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔

دھیہ پردیش کے نرمدا پورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے گزشتہ دنوں لنچنگ کے ایک معاملے میں چودہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ان کے خلاف پروپیگنڈے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ جج کے بارے میں نا زیبا تبصرے کرنے اور انہیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔

تصویر بہ شکریہ: فیس بک/وزارت قانون و انصاف

نئی دہلی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے نرسنگھ پور ڈویژن کے تحت آنے والے نرمداپورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو ان کے عدالتی فیصلے کی وجہ سے دی جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف چلائی گئی مہم کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو ان کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی جانکاری دینے کی ہدایت دی ہے۔

جسٹس وویک اگروال اور جسٹس اونندر سنگھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو اوپری  عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی جج کو صرف اس لیے دھمکایا نہیں جا سکتا کہ انہوں نے ایسا فیصلہ دیا ہے جو کسی سماج کے طبقے کو پسند نہ ہو۔

بنچ نے بدھ (1 جولائی) کو جاری اپنے فیصلے میں کہا کہ جج تبسم خان کو نشانہ بنانے جیسے واقعات ’عدلیہ کی آزادی اور عدالتی افسران کے نڈر ہوکر کام کرنے کی صلاحیت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔‘

ہائی کورٹ نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اور ایڈیشنل چیف سکریٹری/پرنسپل سیکریٹری (داخلہ) کو ہدایت دی کہ وہ تین دن کے اندر عدالت کو بتائیں کہ جج خان کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

جج تبسم خان ۔(فوٹو: نرمدا پورم ڈسٹرکٹ کورٹ کی ویب سائٹ)

عدالت نے نرمداپورم کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایت دی کہ وہ جج تبسم خان کو سکیورٹی فراہم کریں۔ اس پر ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ انہیں پہلے ہی سکیورٹی دی جا چکی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل ابھجیت اوستھی نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ جج تبسم خان نے 12 جون کو 2022 میں نرمداپورم میں ایک مویشی ٹرانسپورٹر کو پیٹ پیٹ کرہلاک کیے جانے کے معاملے میں سات گئو رکشکوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جانے لگیں اور ان کے خلاف نازیبا تبصرے کیے گئے۔

خبروں کے مطابق، ایک شخص نے ویڈیو جاری کر کے دھمکی دی کہ اگر مجرموں کو رہا نہ کیا گیا تو ’نسل کشی‘ ہوگی۔ ایک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہندوؤں سے اپیل کی گئی کہ جج کو ملک سے باہر نکالا جائے۔کچھ لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کا فیصلہ ان کے مذہب سے متاثر تھا۔

اس معاملے پر بدھ کو سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایسو سی ایشن نے کہا کہ اگر ججوں کو اپنے قانونی فیصلوں کی وجہ سے شخصی نتیجے بھگتنے کا ڈر دکھایا جائے گا، تو اس سے ہندوستانی عدلیہ کی ریڑھ مانی جانے والی ضلع عدالتوں کی آزادی اور کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا۔

جمعہ (3 جولائی) کو یونائیٹڈ کرسچن فورم نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے جج تبسم خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی مذمت کی۔

فورم نے کہا،’یونائیٹڈ کرسچن فورم تبسم خان کے خلاف چلائی جا رہی اس منظم مہم کی مخالفت میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ہمیں ملک کی آزاد عدلیہ پورا بھروسہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ریاستی حکومت انہیں جلد از جلد مناسب تحفظ فراہم کرے گی اور نفرت پھیلانے والی اس مہم کو ہوا دینے والے لوگوں کے خلاف قانون کے تحت جلد از جلد کارروائی کرے گی۔‘

فورم کے قومی صدر مائیکل ولیمز نے کہا ،’یہ صرف ایک جج کے تحفظ کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت کے سب سے اہم ستون کی حفاظت کا معاملہ ہے۔‘

فورم نے یہ بھی یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے عدلیہ کی آزادی سے متعلق بنیادی اصولوں کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جج کسی بھی دباؤ، لالچ یا دھمکی کے بغیر آزادانہ طور پر فیصلے کر سکیں۔