سسٹم کی لاپروائی اور حادثے: ’دہلی میں سب چلتا ہے!‘

مالویہ نگر میں لگی آگ کے بعد قوانین کی خلاف ورزی پر ہوٹل  مالک نے کہا کہ ’دہلی میں سب چلتا ہے!‘ غور کریں کہ ایسا صرف دہلی میں نہیں بلکہ دوسری جگہوں پر بھی چل رہا ہے، اس لیے لاپروائیوں کا یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔ ’چلتا ہے‘ کے باعث صورتحال یہ ہے کہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ اچانک کوئی رہائشی علاقہ تجارتی علاقے میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیسے کسی نامی اسپتال کے کھلنے کے بعد ہر گھر میں ہوٹل، ریستوراں یا پیتھو لیب کھل گئے؟

مالویہ نگر میں لگی آگ کے بعد قوانین کی خلاف ورزی پر ہوٹل  مالک نے کہا کہ ’دہلی میں سب چلتا ہے!‘ غور کریں کہ ایسا صرف دہلی میں نہیں بلکہ دوسری جگہوں پر بھی چل رہا ہے، اس لیے لاپروائیوں کا یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔ ’چلتا ہے‘ کے باعث صورتحال یہ ہے کہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ اچانک کوئی رہائشی علاقہ تجارتی علاقے میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیسے کسی نامی اسپتال کے کھلنے کے بعد ہر گھر میں ہوٹل، ریستوراں یا پیتھو لیب کھل گئے؟

مالویہ نگر کے ریستوراں میں لگی آگ کے بعد کا منظر۔ (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

گزشتہ روز ملک کے دارالحکومت دہلی میں مالویہ نگر واقع ایک ہوٹل کئی طرح کی لاپروائیوں کے باعث آگ کے حوالے ہوکراس میں ٹھہرنے والوں کے لیے  لاکشاگرہ (لاکھ کا محل) بن گیا، تو اس کے مالک لوکیش بجاج نے پولیس کی گرفت میں آنے کے بعد ایک ایسی بات کہی، جو کسی بھی لحاظ سے سسٹم کے منہ پر ایک زوردار طمانچے سے کم نہیں تھی۔

اس وجہ سے یہ معاملہ وسیع غور و فکر اور بحث و مباحثے کا متقاضی تھا۔  اور اس بات کا تقاضہ بھی کہ سسٹم خود اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے اور اگر ممکن ہو تو اس شرم کو دوبارہ زندہ کرے، جسے وہ بہت پہلے دفن کر چکا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور بات آئی گئی ہو گئی۔

دراصل، ہوٹل میں بارہ غیر ملکیوں سمیت 21 افراد (جن میں اکثر  پاس کے اسپتال میں علاج کے لیے آئے ہوئے ملکی و غیر ملکی مریض یا ان کے تیماردار تھے) کی موت اور تقریباً اتنے ہی افراد کے اسپتال کے بستر، آئی سی یو اور وینٹی لیٹر تک پہنچ جانے کے بعد پولیس کی نیند ٹوٹی اور کلیدی ملزم لوکیش کو گرفتار کیا گیا تو پوچھ گچھ میں، جیسا کہ بہت فطری تھا، پوچھا کہ اس نے تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہوٹل میں غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کیوں کی؟

اس پر لوکیش نے بغیر کسی جھجھک یا احساس جرم کے بالکل سیدھا جواب دیا،  دہلی میں سب چلتا ہے‘!


اس ’سب چلتا ہے‘ کی تفصیل یہ تھی کہ چونکہ ان کے پاس خود ہوٹل سنبھالنے کا وقت نہیں تھا، اس لیے اس نے اس کی ذمہ داری کسی دوسرے شخص کے سپرد کر رکھی تھی، جو بلنگ، حساب کتاب اور پورے ہوٹل کو چلا رہا تھا۔

اس کی عمارت میں تبدیلیاں(جن میں کمروں کا سائز بڑھانا اور ان میں ردوبدل کرنا بھی شامل تھا)وہ بھی اسی دوسرے شخص کی تجویز پر کی گئی تھیں۔ اور اس دوسرے شخص کو بھی بھروسہ تھا کہ چونکہ دہلی میں اس طرح کے انتظام ’عام بات‘ ہیں اور ’سب کچھ چلتا ہے‘، اس لیے سب کچھ ایسے ہی چلتاجائے گا۔ آتشزدگی سے پہلے تک چلتا آ بھی رہا تھا۔


لوکیش کا یہ جواب اور اس کی ’تشریح ‘بالکل واضح تھی- یعنی ہوٹل میں اتنی ساری لاپروائیاں ایک ساتھ اس لیے ممکن ہوئیں کہ وہ پوری طرح ’معمول‘ کا حصہ بن چکی تھیں۔

اپنے طویل تجربے کی بنا پر اس ’معمول‘ کو اس سے پوچھ گچھ کر نے والے توسمجھتے ہی تھے، وہ بھی سمجھتے تھے جنہوں نے اس پوچھ گچھ کی خبر لکھی یا کیمرے میں قید کر کے دکھائی۔ وہ بھی، جنہوں نے مختلف ذرائع ابلاغ پر اسے دیکھا، سنا یا پڑھا ۔

سسٹم کے لیے بھی وہ ایسی نہیں ہی تھی، جس سے وہ بالکل سمجھ ہی  نہ پائے کہ وہ لوکیش کے جرم میں اس کی صاف صاف ملی بھگت اور بدعنوانی پر بھی تبصرہ ہے۔ ایسا دوٹوک تبصرہ جو ہوٹل کو لاکھ کا گھر بنا دینے میں اس کی حصہ داری   لوکیش کی ذمہ داری سے بھی بڑی کر دیتی  ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی منھ نہیں کھلا۔ کھلے بھی بھلا کیسے؟ تردید کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی، اور اسے تسلیم کرنے کا مطلب تھا  خوداپنے ہاتھوں اپنے چہرے پر سیاہی مل لینا اور ’آ بیل مجھےمار کہنا۔‘ اس لیے’بیل اور  جسے بھی مارے، اپنی سیاہی کے ساتھ ہم بچے رہیں،‘ والا راستہ اپنا لیا گیا۔

غور طلب ہے کہ یہ سب اس وقت ہوا جب حالات کو بیان کرنے والی یا اس کی ترجمانی کرنے والی دوسری خبروں پر مختلف زاویوں سے غور بھی کیا جا رہا تھا اور مباحثے بھی ہو رہے تھے۔

مثال کے طور پر، صرف چھ کمروں کی اجازت تھی، لیکن ہوٹل میں پچیس (اور بعض خبروں کے مطابق اس سے بھی کہیں زیادہ) بنا لیے گئے تھے… بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی کثیر منزلہ عمارت میں آنے جانے کا ایک ہی راستہ تھا… کسی بھی منزل پر بالکونی نہیں تھی اور چھت کا دروازہ بند تھا… کچن بھی غیر قانونی طور پر بنائے گئے تہہ خانے میں تھا، اور آگ لگتے ہی باورچی شٹر بند کر کے فرار ہو گیا تھا… اس نے کسی کو الرٹ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا…

اور… تقریباً پانچ ماہ قبل، سات جنوری کو دہلی ہائی کورٹ نے افسران کو یہ ہدایت دی تھی کہ قومی دارالحکومت کے علاقے میں موجود ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر ایسے اداروں میں آگ سے تحفظ کے حوالے سے موجود خدشات کو فوری طور پر دور کیا جائے، مگر اس پر عملدرآمد کو ضروری نہیں سمجھا گیا… قواعد و ضوابط کی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر فائر این او سی بھی حاصل نہیں کی گئی تھی، وغیرہ وغیرہ۔


یہاں ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر ذرا سوچیے،’سب ‘ نہیں چلتا والی ذہنیت نہ ہوتی تو کیا ان تمام سنگین کوتاہیوں اور حقائق کے عام ہونے اور حد درجے کی لاپرواہی کے مترادف ان ساری معلومات  کو عام ہونے کے لیے مذکورہ ’فلورش اسٹے بیڈ اینڈ بریک فاسٹ (بی اینڈ بی) ہوٹل‘میں خوفناک آتشزدگی کا انتظار ضروری ہوتا کیا؟ کیوں ہوتا بھلا؟ آتشزدگی کے واقعہ کے فوراً بعد سامنے آئی یہ جانکاریاں،اسے روکنے  کے ذمہ دار عملے کے پاس پہلے ہی کیوں نہ ہوتیں؟ اورہوتیں تو بروقت ان پر عمل کرکے ہوٹل کو’لاکھ کا گھر‘کیوں بن جانے دیا جاتا؟


اگر اس ‘کیوں‘کو مزید وسعت دی جائے تو’سب‘ نہیں چلتا تو بھلا شہری منصوبہ بندی کی پالیسی اتنی کمزور کیوں ہوتی کہ ملک میں جہاں کہیں بھی ایسے آتشزدگی کے واقعات پیش آتے، وہاں تقریباً اسی نوعیت کی لاپروائیاں سامنے آتیں؟

پھر کوئی مبصر یہ بات کیوں کہتا کہ دوسرے شہروں اور ریاستی دارالحکومتوں میں بھی ایسے مالویہ نگروں کی کوئی کمی نہیں ہے، جہاں اس طرح کے آتشزدگی کے واقعات کے امکانات بہت زیادہ ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ’سب چلتا ہے‘ کے باعث صورتحال یہ ہے کہ کسی کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مکمل طور پر رہائشی علاقے کو اچانک تجارتی علاقے میں کیسے تبدیل کر دیا گیا؟ اس کے نزدیک کسی نامی اسپتال کے کھلنے کے بعد اس کےہر گھر میں ہوٹل، ریستوران یا پیتھولیب کیسے کھل گئی؟ اس کی اجازت کس نے دی اور زمین کے استعمال (لینڈ یوز) کی نوعیت کیسے بدل گئی؟

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت تو سب جانتے ہیں، لیکن چونکہ معاملہ سسٹم میں پھیلی ہوئی بدعنوانی سے لے کر اس کے شکار صاحبان کی حرص و طمع کی بے لگام خواہشات تک جا پہنچتا ہے، اس لیے نہ کوئی بولتا ہے اور نہ کوئی سنتا ہے۔ چونکہ’سب چلتا ہے‘، اس لیے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔ اس لیے لاپروائی کا کوئی بھی’لاکھ کاگھر‘آخری ثابت نہیں ہوتا۔

ثابت بھی کیسے ہو؟ پرانی باتوں کو چھوڑ بھی دیا جائے تو اسی سال 14 اپریل کو فائر سروس ڈے منائے جانے کے بعد ملک بھر میں آتشزدگی کے واقعات کا گویا ایک سلسلہ شروع ہو گیا، مگر آگ بجھانے اور اس کی روک تھام کے ذمہ دار عملے نے پھر بھی سنجیدگی اختیار نہیں کی۔


مثال کے طور پر، فائر سروس ڈے کے صرف چار دن بعد نوی ممبئی کے ارن علاقے کے گاون فاٹا میں واقع ایک کارگو ہینڈلنگ گودام میں دھماکوں کے ساتھ شدید آگ لگی تو 20 اپریل کو پونے کے بھوسری ایم آئی ڈی سی علاقے کی ایک فیکٹری میں۔ اس سے ایک دن پہلے، 19 اپریل کو ممبئی سینٹرل کے بی آئی ٹی چال علاقے میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ اسی صبح جنوبی ممبئی کے مشہور کرافورڈ مارکیٹ (مہاتما جیوتی با پھولے منڈئی) کی تین دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔ بھیونڈی کی ایک فیکٹری اور بدلا پور کے ایک ڈائنگ یونٹ میں بھی بڑے پیمانے پر آتشزدگی کے واقعات پیش آئے۔


اس سے پہلے 16 اپریل کو اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے وکاس نگر علاقے میں ایک خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 250 سے زائد جھگیاں جل کر راکھ ہو گئیں اور دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔

اور اتنی دور جانے کی بھی کیا ضرورت ہے؟ جس آتشزدگی کے واقعے پر ہم بات کر رہے ہیں، اس کے بعد بھی ایسے حادثات کا سلسلہ نہیں رکا۔ بہار کے مظفرپور میں برہم پورہ علاقے کے ایک نجی اسپتال’پرساد‘کے آئی سی یو میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ۔

’سب چلتا ہے‘اور یہ صرف دہلی ہی نہیں بلکہ دیگر مقامات پر بھی چلتا ہے ، اس لیے لاپروائیوں کا یہ سلسلہ لامتناہی ہے اور اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب سب جانتے ہیں کہ ہمارے جیسے گرم ملک میں گرمیوں کے موسم میں آتشزدگی کے واقعات ہرگز غیر متوقع نہیں ہوتےاور کہا جاتا ہے کہ گرمی بعد میں آتی ہے، آتشزدگی کے حادثات پہلے دستک دے دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پھر بھی ہمارے سسٹم سے ان کو روکنے کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرکے ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو محدود کرنا کیوں ممکن نہیں ہو پاتا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ ’سب چلتا ہے۔‘

اسی لیے خواہ آتش زدگی کے واقعات دہلی میں ہوں، راجستھان، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مہاراشٹر یا سورج کی تپش سے متاثر ملک کے کسی اور علاقے میں، اور خواہ وہ کسی بڑے شہر میں ہوں یا کسی گاؤں میں، ان کے پس منظر میں لاپرواہی کا کردار (چاہے وہ شہریوں کی جانب سے ہو یا سرکاری عملے کی طرف سے) تقریباً یکساں نظر آتا ہے۔

آگ لگنے کے بعد کنواں کھودنے یا پھر اپنی کوتاہیوں کو یاد کرنے کی ہماری اور ہمارے سسٹم کی پرانی عادت بھی اسی وجہ سے ختم نہیں ہو رہی۔

حالانکہ ہمارے بزرگ، جو ’جنگل کی آگ‘ جیسا محاورہ دے گئے، اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ آگ کسی بھی وجہ سے لگے، اگر لگ جائے تو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ اسی لیے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اتنی احتیاط برتی جائے کہ آگ لگنے ہی نہ پائے۔

لیکن آج جس ’احتیاط‘ کو لاپرواہی کی واضح ضد ہونا چاہیے تھا، اس کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی وجہ سے، چاہے گاؤں ہوں یا شہر، کبھی اسٹوو یا سلنڈر پھٹنے سے، کبھی بجلی کے شارٹ سرکٹ سے یا اس کی تاروں، ٹرانسفارمروں اور جنریٹروں سے نکلنے والی چنگاریوں سے، کبھی لاپروائی سے پھینکی گئی بیڑی سے، کبھی چولہے کی راکھ کے بھڑک اٹھنے سے، کبھی جلے ہوئے سرکنڈوں وغیرہ سے، اور کبھی گھر کے چراغ یعنی ڈبری وغیرہ سے آگ لگ ہی جاتی ہے۔

اور جب آگ لگ جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس کے لیے تیار ہی نہیں  ہیں۔ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرکاری فائر بریگیڈ کا نظام، دیہات تو دیہات، بڑے شہروں میں بھی ناکافی ہی ہے۔

ایسی صورت میں یقیناً احتیاط ہی آتش زدگی کے واقعات سے بچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، لیکن ہم انفرادی اور انتظامی، دونوں سطحوں پر اس سے محروم ہیں۔ پھر امید کس سے رکھی جائے اور کیسے؟

ایک پرانا واقعہ یاد آتا ہے۔ یادداشت کی بنیاد پر بیان کر رہا ہوں۔ دارالحکومت میں ایک بڑی غیر قانونی عمارت کو منہدم کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج نے ذمہ دار لوگوں سے پوچھا کہ آپ کے پاس اتنے جونیئر انجینئر ہیں، وہ غیر قانونی تعمیرات کو اسی وقت کیوں نہیں روک دیتے جب وہ شروع کیے جاتے ہیں؟ وہ ایسا نہیں کرتے تو آپ ان کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کرتے؟

اسے بتایا گیا کہ جونیئر انجینئر اس حد تک بدعنوان ہو چکے ہیں کہ اگر ہم ان کے خلاف کارروائی شروع کر دیں تو ہمارے پاس کام کرنے کے لیے ایک بھی جونیئر انجینئر باقی نہیں بچے گا! اس لیے ہم ان سے جیسے تیسے کام چلا رہے ہیں۔

اب آپ ہی بتائیے، ایسی صورت میں ’سب چلتا ہے‘ کے سوا اور کیا چلے گا؟ اور سسٹم آگ لگنے سے پہلے کنواں کھودنا کیوں شروع کرے گا؟ اگر یہی حال رہا تو کون جانے ایک دن ایسا بھی آئے کہ آگ لگنے پر بھی کنواں کھودنے کا رواج ختم ہو جائے! البتہ اگر آپ چاہیں تو آج بھی یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آخر یہ سب کیا اور کیوں چل رہا ہے بھائی؟ لیکن اس ’سب چلتا ہے‘ کے درمیان آپ کو جواب کون دے گا؟ کیا امتحانات کے پرچے لیک ہونے جیسے معاملات کے متاثرین کو کوئی جواب دے رہا ہے؟

کرشن پرتاپ سنگھ سینئر صحافی ہیں۔