قومی دارالحکومت دہلی کے ایک وکیل نے جنوب-مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجی گئی شکایت میں الزام لگایاہے کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جب وہ جنتر منتر جانے کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کی مدد کے لیے نظام الدین تھانے پہنچے، تو پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے کہ انہیں حراست میں لینا غیر قانونی نہیں تھا، مار پیٹ کے الزام سے انکار کیا ہے۔

بائیں:مانک گپتا کی گردن پر چوٹ کے نشان۔ دائیں:نظام الدین پولیس اسٹیشن کی تصویر، جس میں بائیں جانب سے مانک گپتا، نظام الدین تھانے کے ایس ایچ او پنکج، ایک نامعلوم شخص اور حراست میں لیے گئے طلبہ میں سے ایک طالبعلم نظر آ رہے ہیں۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
نئی دہلی:دہلی کے ایک وکیل نے الزام لگایا ہے کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جب وہ جنتر منتر جانے کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کی مدد کے لیے نظام الدین تھانے پہنچے، تو پولیس اہلکاروں نے انہیں تھپڑ اور گھونسے مارے اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ پولیس نے تشدد کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
قومی دارالحکومت کے علاقے میں وکالت کرنے والے ایڈووکیٹ مانک گپتا نے حراست کے دوران تشدد کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے 24 جولائی کو جنوب-مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کو شکایت بھیجی ہے۔ دی وائر نے اس شکایت کی ایک کاپی دیکھی ہے۔
گپتا نے اپنی شکایت میں بتایا کہ 23 جولائی کی رات تقریباً 11 بجے انہیں فون پر اطلاع ملی کہ نظام الدین گول چکر سے گزر رہے چند طلبہ کو دہلی پولیس نے حراست میں لے کر نظام الدین پولیس اسٹیشن میں رکھا ہوا ہے۔ دی وائر نے پہلے بھی اپنی رپورٹ میں بھی بتایا تھا کہ اس علاقے میں کئی لوگوں کو، بھلے ہی وہ جنتر منتر نہیں جا رہے تھے ، راستے میں روک کر حراست میں لیا گیا تھا۔
گپتا نے کہایہ طلبہ دہلی میں پڑھائی کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ دہلی میں نہیں رہتے، اس لیے وہ ڈرے ہوئے تھے۔ جب وہ تھانے پہنچے تو انہوں نے وہاں دو طلبہ کو حراست میں دیکھا۔
انہوں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ اتنی رات گئے طلبہ کو کس قانونی بنیاد پر تھانے میں بٹھایا گیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کسی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ گپتا کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد تھانے کے انچارج (ایس ایچ او) نے ان پر ’غنڈہ گردی‘کرنے کا الزام لگایا اور پولیس اہلکاروں کو انہیں حراست میں لینے کو کہا۔
شکایت کے مطابق،’انہوں نے مجھ سے میرا شناختی کارڈ طلب کیا، جو میں نے انہیں دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اور پولیس اہلکاروں کو بلایا اور مجھے پولیس اسٹیشن کے پچھلے حصے میں لے جانے کو کہا ۔‘
گپتا نے کہا کہ انہوں نے اس دوران کسی بھی طرح کی مزاحمت نہیں کی، تاہم اپنے دوستوں کو پیغام بھیج دیا کہ انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔
شکایت میں انہوں نے کہا کہ جس کمرے میں انہیں لے جایا گیا، وہ’سی سی ٹی وی فوٹیج کی نگرانی والا کمرہ معلوم ہوتا تھا۔‘’ ان کے مطابق، ’وہاں ایک پولیس افسر نےان کی پٹائی کی، گردن کھینچی، گالوں پر تھپڑ مارے، ناک پر وار کیا اور گردن پر گھونسے مارے۔‘
گپتا نے اپنی شکایت میں کہا،’مار پیٹ کے دوران وہ مجھے وکیل ہونے کی وجہ سے گالیاں دیتا رہا اور کہتا رہا کہ آج وہ مجھے سبق سکھائے گا۔‘
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس افسر نے ان کا موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیا اور انہیں اسی کمرے میں بٹھائے رکھا۔ اس دوران نظام الدین علاقے سے گرفتار کیے گئے دیگر افراد کو بھی وہاں لایا گیا، ان سے بھی ان کے شناختی کارڈ اور پتہ طلب کیا گیا۔
گپتا نے لکھا،’مجھے کسی بھی وقت اپنے دوستوں یا خاندان سے رابطہ کرنے اور یہ بتانے کا موقع نہیں دیا گیا کہ میں کہاں ہوں۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ بعد میں ایس ایچ او نے ان سے کہا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، اور یہ بھی کہا کہ وہ’یہ یقینی بنائیں گے کہ میں دوبارہ کبھی وکالت نہ کر سکوں۔‘
گپتا کے مطابق،’اس کے بعد انہوں نے مجھ سے میرے والد کو فون کروایا اور ان سے کہا کہ میں رات کے وقت سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ جب ان کے دیگر ساتھی وکیل تھانے پہنچے تو انہیں رہا کر دیا گیا۔
اپنی شکایت میں گپتا نے کہا کہ جب وہ میڈیکل لیگل کیس (ایم ایل سی) بنوانے کے لیے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال پہنچے تو انہیں یہ خوف تھا کہ وہاں موجود پولیس اہلکار دوبارہ ان پر تشدد کر سکتے ہیں، اس لیے وہ اسپتال کے اندر نہیں گئے۔ بعد میں انہوں نے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں اپنا ایم ایل سی کروایا، جس میں گردن کے نرم ٹشوز پر چوٹ، سوجن، ریڑھ کی ہڈی میں درد اور گردن پر سرخ نشان درج کیے گئے۔
گپتا نے اپنی شکایت میں نظام الدین تھانے کے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے اور اس کمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا جہاں ان کے بقول ان پر تشدد کیا گیا۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملوں میں وکالت کرتے ہوئے انہوں نے مہاجرین، طلبہ، سماجی کارکنوں اور حراست میں تشدد کے شکار لوگوں کی نمائندگی کی ہے، اور اپنے کام کے سلسلے میں متعدد پولیس اسٹیشنوں کا دورہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’لیکن آج جس طرح کی بربریت کا مجھے سامنا کرنا پڑا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس واقعہ نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘
گپتا نے مزید کہا کہ انہوں نے تھانوں میں کئی بے گناہ افراد کو حراست میں دیکھا۔ انہوں نے کہا،’صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے’کبھی کسی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی‘اور سوال اٹھایا کہ’اگر ایک وکیل کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، جنہیں نہ تو قانون کی معلومات ہے اور نہ ہی قانونی مدد حاصل ہے۔‘
’یہ ہماری مادر وطن ہے، ہم یہاں بدامنی نہیں پھیلنے دیں گے‘: پولیس نے الزامات سے کیا انکار
نظام الدین پولیس اسٹیشن نے مارپیٹ کے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا کہ گپتا کو تھانے میں روکا گیا تھا۔
تھانے کے ایک ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گپتا رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے 15 سے 20 لوگوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے تھے۔ ذرائع کے مطابق، اس گروپ نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی اور پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔
ذرائع نے کہا کہ چونکہ اس وقت بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ تھی، اس لیے بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کرنا پولیس کی ذمہ داری تھی۔
انہوں نے کہا،’اگر کوئی گروہ کی صورت میں آتا ہے تو یہ پوچھنا ہمارا فرض ہے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اگر 15 سے 20 لوگ ایک ساتھ تھانے پہنچتے ہیں تو پولیس یقیناً کارروائی کرے گی۔‘
گپتا کا ذکرکرتے ہوئے ذرائع نے کہا،’اگر ان کے ساتھ 15 سے 20 وکیل آئیں، ڈیوٹی افسر کے ساتھ بدتمیزی کریں اور پولیس کو اپنا کام کرنے سے روکیں، تو کیا پولیس کارروائی نہیں کرے گی؟ دہلی میں غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
ذرائع نے یہ بھی کہا،’مانک (گپتا) سے پوچھیے کہ وہ رات ساڑھے بارہ بجے لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ تھانے کیوں آئے تھے، اور وہاں ہنگامہ کرنے کے لیے انہیں کس نے بلایا تھا؟‘
پولیس ذرائع نے مزید کہا کہ گپتا کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا ،’وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم نے انہیں حراست میں لیا، لیکن ہم نے کچھ بھی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اگر ہم نے کسی کو حراست میں لیا بھی ہے تو یہ کوئی جرم نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے اختیارات کے دائرے میں آتا ہے۔ اگر پولیس اپنی یہ ذمہ داری ادا نہ کرے تو افراتفری پھیل جائے گی۔ یہ ہماری مادر وطن ہے اور ہم یہاں لاء اینڈ آرڈر کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔‘
حراست کے دوران تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ذرائع نے کہا،’انہیں کون مارے گا؟ یہ دہلی ہے۔ آپ ایسے الزامات کیسے لگا سکتے ہیں؟‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر گپتا نے دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو کوئی شکایت بھیجی ہے تو پولیس اس کا باضابطہ جواب دے گی۔
عینی شاہد نے وکیل کے الزامات کی تائید کی
اس معاملے میں ایک آزاد عینی شاہد نے بھی مانک گپتا کے واقعات سے متعلق دعوے کی تصدیق کی ہے۔ دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر نندنی سندر نے دی وائر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس رات نظام الدین تھانے میں موجود تھیں اور انہوں نے مانک گپتا اور ایس ایچ او کے درمیان ہونے والی بات چیت دیکھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے گپتا کے ساتھ نا زیبا سلوک کیا تھا۔
سندر نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رات کو گھر واپس جا رہی تھیں کہ انہیں اطلاع ملی کہ تقریباً 40 طلبہ کو نظام الدین تھانے میں روکا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں پولیس اسٹیشن پہنچے۔ ان کے مطابق، ایس ایچ او نے شروع میں تھانے میں کسی کے موجود ہونے سے انکار کیا اور انہیں خود احاطہ دیکھنے کی دعوت دی۔ جب ان کے شوہر تھانے کے دوسرے حصے میں گئے تو وہ ایس ایچ او کے کمرے میں ہی موجود رہیں۔
سندر کے مطابق،’اسی دوران مانک گپتا اکیلے ایس ایچ او کے کمرے میں آئے اور اپنا تعارف حراست میں لیے گئے نوجوانوں کے وکیل کے طور پر کراتے ہوئے پوچھا کہ انہیں کس بنیاد پر پکڑا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا،’ایس ایچ او چیخنے چلانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وکیلوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے، مانک گپتا پر ’غنڈہ گردی‘ کا الزام لگایا، ان سے شناختی کارڈ طلب کیا اور کہا کہ وہ اسے ضبط کر رہے ہیں اور انہیں بھی حراست میں لے رہے ہیں۔‘
سندر نے بتایا کہ ایس ایچ او نے ایک پولیس اہلکار کو ہدایت دی کہ وہ مانک گپتا کو’اندر لے جائے‘۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا،’ایس ایچ او نے یہ بھی کہا کہ پولیس جسے چاہے پوچھ گچھ کے لیے اٹھا سکتی ہے اور اس سے تفتیش کر سکتی ہے۔‘
سندر نے کہا کہ چونکہ نوجوانوں نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں پہلے ہی تقریباً ایک گھنٹے سے روکا گیا ہے، اس لیے انہوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ اگر پوچھ گچھ کرنی تھی تو اب تک مکمل ہو جانی چاہیے تھی۔ اس پر ایس ایچ او نے ان پر بھی چیخنا شروع کر دیا اور ان پر بھی’غنڈہ گردی‘کا الزام لگایا۔
سندر نے کہا کہ جب ایس ایچ او نے ان کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا تو وہ پولیس اسٹیشن سے چلی گئیں۔ انہوں نے پولیس کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ مانک گپتا 15 سے 20 وکیلوں کے ساتھ تھانے آئے تھے۔ سندر نے دی وائر کو بتایا کہ انہوں نے مانک گپتا کو اکیلے پولیس اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا تھا، اس لیے پولیس کا یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ کو ایک عینی شاہد کے بیان کو شامل کرنے کے لیے اپڈیٹ کیا گیا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔