پیپر لیک معاملوں کی فاسٹ-ٹریک عدالت کی جج کا پہلی شنوائی کے ہفتے بھر بعد ہی تبادلہ

01:26 PM Aug 03, 2026 | دی وائر اسٹاف

پیپر لیک معاملوں کی شنوائی کے لیے بنائی گئی فاسٹ ٹریک کورٹ کی اسپیشل جج انو گروور بالیگا کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں اس عہدے پر محض ایک ہفتہ پہلے ہی مقرر کیا گیا تھا۔ پیپر لیک کے خلاف ملک گیر احتجاج اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ایسے معاملوں کی شنوائی کے لیے اسپیشل فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے گی۔

طلبہ تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے سنیچر (1 اگست) کو اسپیشل جج انو گروور بالیگا کا تبادلہ کر دیا۔ انہیں پیپر لیک معاملوں کی شنوائی کے لیے بنائی گئی فاسٹ ٹریک کورٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے محض ایک ہفتہ پہلے ہی مقرر کیا گیا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایسا کہا جا رہا ہے کہ ان کا تبادلہ 138 عدالتی افسران کے معمول کے تبادلوں کے عمل کا حصہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے 23 جولائی کو امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق فوجداری معاملوں کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت بنائی تھی۔ اس کے بعد جج بالیگا نے 25 جولائی کو عدالت کا کام کاج سنبھالا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ کے تبادلے کے حکم کے مطابق، جج بالیگا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کے تحت بنائی گئی خصوصی عدالت میں تعینات کیا گیا ہے، جہاں دہشت گردی سے متعلق معاملوں کی سماعت ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسپیشل جج وکاس ڈھل، پرشانت شرما، پلستیہ پرماچل، کرن بنسل اور امت بنسل کا بھی این آئی اے کورٹ میں تبادلہ کیا گیا ہے۔ اسپیشل جج اجئے گپتا، جو پہلے نیٹ سمیت پیپر لیک سے متعلق معاملوں کی سماعت کر رہے تھے، اب جج بالیگا کی جگہ فاسٹ ٹریک کورٹ کا کام سنبھالیں گے۔

غور طلب ہے کہ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں ہو رہے وسیع احتجاجی مظاہروں اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ایسے معاملوں کی شنوائی کے لیے ایک اسپیشل فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جائے گی۔

پبلک اگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) رولز، 2024اور اس سے متعلق دیگر جرائم کی سماعت کے لیے دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں یہ فاسٹ ٹریک عدالت بنائی گئی تھی، اور ہدایت دی گئی تھی کہ اس قانون کے تحت درج تمام معاملے اسی عدالت میں منتقل کیے جائیں گے۔

تاہم، دی وائر نے پہلے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 27 جولائی کو فاسٹ-ٹریک کورٹ کے پہلے دن کی کارروائی متاثر رہی، کیونکہ سی بی آئی، جو ایک دوسرے پیپر لیک کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، پہلی سماعت میں پیش نہ ہو سکی۔ اس دن دو ضمانت کی درخواستوں پر شنوائی  ہونی تھی۔

دفاعی وکیل کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اب یہ معاملہ 3 اگست کو سی بی آئی کی چارج شیٹ اور دو ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں پر شنوائی کے لیے لسٹ ہے۔

غور طلب ہے کہ مسابقتی امتحانات میں مسلسل بے ضابطگیوں کے خلاف تحریک چلانے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)نے فاسٹ ٹریک کورٹ کو صرف ایک عارضی یا بینڈ ایڈ قسم کا حل قرار دیا ہے۔

واضح ہو کہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش نے بھی پیپر لیک بحران کے حل کے طور پر فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کے حکومتی فیصلے پر تنقید کی تھی۔

کانگریس رہنما جئے رام رمیش نے ایکس پر لکھا تھا،’مودی حکومت کس منہ سے پیپر لیک کے بحران کے حل کے طور پر فاسٹ ٹریک کورٹ کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے؟ اس کی اپنی سی بی آئی ان معاملوں کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کر رہی۔‘