راہل اور پرینکا نے نئے وزیر تعلیم پر بلقیس کیس کے مجرموں سے متعلق تبصرے کو لے کر سوال اٹھائے

لوک سبھا میں کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم بنائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے جس نے حاملہ خاتون کے ساتھ ریپ  کرنے والوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی اور خوشی کا اظہار بھی کیا۔ وزیر اعظم اس ملک کی کروڑوں خواتین کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ وہیں راہل گاندھی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ’ریپ کرنے والوں کا دفاع کرنے والے‘ شخص کو ملک کا نیا وزیر تعلیم بنایا ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم بنائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے جس نے حاملہ خاتون کے ساتھ ریپ  کرنے والوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی اور خوشی کا اظہار بھی کیا۔ وزیر اعظم اس ملک کی کروڑوں خواتین کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ وہیں راہل گاندھی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ’ریپ کرنے والوں کا دفاع کرنے والے‘ شخص کو ملک کا نیا وزیر تعلیم بنایا ہے۔

کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا منگل، 28 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: سسند ٹی وی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: لوک سبھا میں منگل (28 جولائی) کو حزب اختلاف اور حکمراں جماعت کے درمیان شدید نوک جھونک دیکھنے کو ملی، جب کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ انہوں نے پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم کیوں بنایا۔

انہوں نے کہا کہ جوشی نے 2002 کے گجرات فسادات کے دوران حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے قتل کے معاملے میں سزا یافتہ 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی پر ’رضامندی اور خوشی‘  کا اظہار کیا تھا۔

پرینکا گاندھی کے اس بیان کے بعد حکمراں جماعت کے ارکان پارلیامنٹ نے زبردست ہنگامہ کیا۔ اس دوران پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ان پر ’کردار کشی‘ کا الزام لگایا، جبکہ خود پرہلاد جوشی کھڑے ہوئے اور کہا کہ پرینکا گاندھی ’گمراہ کن معلومات‘ پھیلا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان کی تصدیق کیے بغیر الزام نہیں لگا سکتیں۔

پارلیامنٹ کے باہر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک ایسے شخص کو ملک کا نیا وزیر تعلیم بنایا ہے جو ’ریپ کرنے والوں کا دفاع کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سے زیادہ گھٹیا شخص کوئی نہیں ہو سکتا۔‘

وایناڈ سے رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا پبلک اگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) امینڈمنٹ بل، 2026پر بول رہی تھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جوشی کو وزیر تعلیم بنا کر وزیر اعظم مودی ملک کی خواتین کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا،’وزیر اعظم نے نئے وزیر تعلیم کی تقرری کی۔ ایسے شخص کو وزیِ تعلیم بنایا گیا جس نے حاملہ خاتون کے ساتھ ریپ کرنے والوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی اور خوشی بھی ظاہر کی۔ وزیر اعظم اس ملک کی کروڑوں خواتین کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟‘

پرینکا گاندھی واڈرا کا اشارہ 2022 میں این ڈی ٹی وی کو دیے گئے پرہلاد جوشی کے ایک انٹرویو کی طرف تھا۔ اس وقت ان سے مرکزی حکومت کی جانب سے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی منظوری دیے جانے کے بارے میں سوال پوچھاگیا تھا۔

اس وقت جوشی نے کہا تھا،’کچھ وقت جیل میں رہنے کے بعد قبل از وقت رہائی کا اہتمام ہے اور قانون کے مطابق  وہی کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا،’حکومت اور متعلقہ افراد نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے اس میں کچھ بھی غلط نہیں لگتا، کیونکہ یہ قانونی عمل کے تحت کیا گیا ہے۔ ‘

جوشی نے اسی طرح کا تبصرہ انڈین ایکسپریس سےبات چیت کے دوران بھی کیا تھا۔

پرینکا گاندھی کے بیان کے بعد حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اس پر کانگریس رکن پارلیامنٹ نے کہا کہ وہ اپنے بیان کے حق میں ثبوت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد پرہلاد جوشی خود کھڑے ہوئے اور کہا کہ پرینکا گاندھی کے تبصرے کو کارروائی سے حذف کیا جائے اور انہیں معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ انہوں نے انہیں پہلے سے کوئی نوٹس نہیں دیا تھا۔

پرہلاد جوشی۔ (تصویر: سنسد ٹی وی/پی ٹی آئی)

جوشی نے کہا، ’پرینکا جی کو اپنے بیانات کو ثابت کرنا چاہیے تھا۔ ورنہ غلط معلومات پھیلانے کے لیے کارروائی ہونی چاہیے۔ کیا کوئی بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا،’جیسا کہ اسپیکر نے کہا، ضابطہ 353 کے تحت مجھے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، جبکہ میں ایوان میں موجود تھا۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ تبصرہ کارروائی سے حذف کیا جانا چاہیے اور انہیں معافی مانگنی چاہیے۔‘

کرن رجیجو بھی جوشی کے دفاع میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ پرینکا گاندھی کا تبصرہ ’پارلیامنٹ کے اندر کردار کشی‘ کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا،’ہمارے نئے وزیر تعلیم کے خلاف کیا گیا یہ تبصرہ پارلیامنٹ کے اندر کردار کشی کے برابر ہے اور ہمیں ایسی زبان کی توقع نہیں تھی۔‘

رجیجو نے مزید کہا،’پرینکا جی کے غلط تبصرے کو کارروائی سے ہٹایا جانا چاہیے اور اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ وہ بھلے ہی پہلی بار رکن پارلیامنٹ بنی ہوں، لیکن ایک سینئر رہنما ہیں۔ اگر وہ اپنے الزام کا ثبوت نہیں دے سکتیں تو میرا ماننا ہے کہ انہیں ایوان سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

ایوان کے باہر راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے تعلیم سے متعلق مسائل پر احتجاج کرنے والی خواتین سمیت دیگر مظاہرین پر پولیس کارروائی کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایسے شخص کو نیا وزیر تعلیم بنایا ہے جو ’ریپ کے مجرموں کا دفاع کرنے والے‘ ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے کہا،’تعلیم کے لیے احتجاج کرنے والی ان نوجوان لڑکیوں کو مارا گیا، ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور بی جے پی نے ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنایا جو ریپ کے مجرموں کا دفاع کرنے والے ہیں۔‘

راہل گاندھی نے مزید کہا،’اس سے زیادہ گھٹیا انسان کوئی نہیں ہو سکتا جو یہ کہے کہ ریپ  کے مجرموں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ وہی شخص ہندوستان کا وزیر تعلیم ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بہت عجیب فیصلہ ہے۔ ان کی کابینہ میں اتنے لوگ ہیں، وہ کسی کو بھی منتخب کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسے شخص کو منتخب کیا جو ریپ کے مجرموں کا دفاع کرتا ہے۔‘

غور طلب ہے کہ 15 اگست 2022 کو اپنی معافی کی پالیسی کے تحت گجرات کی بی جے پی حکومت کی جانب سے معافی دیے جانے کے بعد تمام 11 مجرموں کو 16 اگست کو گودھرا کی جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آئے ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد ریپ اور قتل کے جرم میں سزا یافتہ ان لوگوں کا مٹھائی کھلا کر اور ہار پہنا کر استقبال کیا گیا تھا۔

جنوری 2023 میں سپریم کورٹ نے ان 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے گجرات حکومت کے فیصلے پر سخت تبصرہ کیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ گجرات حکومت نے ’مجرموں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے کام کیا‘ اور یہ بھی کہا تھا کہ ’اسی خدشے کی وجہ سے اس عدالت نے مقدمے کی شنوائی گجرات سے باہر مہاراشٹر منتقل کی تھی۔‘