طلبہ تحریک: دوسری ڈائری انٹری میں انکشاف، دہلی ڈی سی پی نے تحریری طور پر پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دی تھی

سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری انٹری سے پتہ چلا تھا کہ آر اے ایف نے ڈی سی پی کی ہدایت پر اینٹی رائٹ گن سے پلاسٹک پیلٹ کارتوس کے دو راؤنڈ فائر کیے تھے۔ اب ایک اور ڈائری انٹری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈی سی پی نے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ اجازت دی تھی۔ وہیں، آر اے ایف کے ذرائع نے ایک اخبار کو بتایا  کہ پیلٹ گن کا استعمال قانون اور ایس او پی کے تحت کیا گیا تھا۔

سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری انٹری سے پتہ چلا تھا کہ آر اے ایف نے ڈی سی پی کی ہدایت پر اینٹی رائٹ گن سے پلاسٹک پیلٹ کارتوس کے دو راؤنڈ فائر کیے تھے۔ اب ایک اور ڈائری انٹری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈی سی پی نے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ اجازت دی تھی۔ وہیں، آر اے ایف کے ذرائع نے ایک اخبار کو بتایا  کہ پیلٹ گن کا استعمال قانون اور ایس او پی کے تحت کیا گیا تھا۔

دہلی میں طلبہ تحریک کے دوران کناٹ پلیس علاقے میں تعینات ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: دی ہندو کی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کے بعد کہ نئی دہلی کے سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری میں ایک ایسی انٹری موجود ہے، جس میں ڈی سی پی رینک کے ایک دوسرے افسر کی جانب سے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دینے کا ریکارڈ درج ہے، اب یہ سامنے آیا ہے کہ ایک پولیس ڈپٹی کمشنر (ڈی سی پی) نے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے 20 جولائی کو جنتر منتر پر نہتےمظاہرین کے خلاف ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کو تحریری طور پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور فائر آرمزکے استعمال کی اجازت دی تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی راجدھانی میں 20 جولائی کو ہوئے احتجاجی مظاہرےکے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت ڈی سی پی رینک کے ایک سے زیادہ افسران نے دی تھی۔

واضح ہو کہ دہلی پولیس براہ راست مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 20 جولائی کو ہوئے مارچ کے دوران آر اے ایف نے ڈی سی پی کے حکم پر دو مرتبہ اینٹی رائٹ گن کا استعمال کیا۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو سونپ  دی ہے۔

اس سے پہلے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کیا تھا۔ تاہم، اب تک اس نے اپنے اس بیان کو واپس نہیں لیا ہے۔

گزشتہ 20 جولائی کو نہتے مظاہرین پر پولیس کی مبینہ بربریت اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ پر جواب دینے کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 28 جولائی کو پارلیامنٹ کی کارروائی کے دوران وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس دن غیر حاضر تھے۔

موصولہ جانکاری کے مطابق، اسی شام امت شاہ نے اپنے پارلیامانی دفتر میں داخلہ سکریٹری گووند موہن اور حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والے انٹلی جنس بیورو (آئی بی) کے سربراہ مہیش دکشت کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی۔

نیوز لانڈری کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویز میں نئی دہلی کے ڈی سی پی سچن شرما کا نام اس افسر کے طور پر درج ہے، جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی اجازت جاری کی تھی۔ اس دستاویز کا عنوان ہے-’کارڈ ٹو بی پرووائیڈڈ بائی آر اے ایف/سی آر پی ایف کنٹیجنٹ آفیسر‘اور اس پر سچن شرما کے دستخط  ہیں۔

دستاویز میں لکھا ہے،’میں، سچن شرما، نئی دہلی ضلع کے جنتر منتر میں موجود اعلیٰ ترین رینک کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی حیثیت سے، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، 2023 کی دفعہ 149 (ضابطہ فوجداری، 1973 کی دفعہ 130) کے تحت، یونٹ ڈی/103 کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ دلوار (نمبر 104) کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ 20 جولائی 2026 کو شام تقریباً 5 بجے (1700 گھنٹے) نئی دہلی ضلع میں غیر قانونی طور پر جمع ہجوم کو گیس، لاٹھی چارج اور فائرآرمز کے استعمال سے منتشر کریں، اور ضرورت پڑنے پر اپنی کمان کے تحت مسلح افواج کی مدد سے اس ہجوم میں شامل افراد کو گرفتار کر کے حراست میں لیں۔‘

دی وائر نے پہلے ہی اپنی رپورٹ اور ویڈیو کے ذریعے 12 بور پمپ ایکشن گن کے استعمال کی جانکاری دی تھی۔ تاہم، اس وقت سکیورٹی فورسز نے اس کے استعمال کی تصدیق نہیں کی تھی۔ ایسی گن کے استعمال کے لیے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے دستخط شدہ تحریری حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے پہلے سامنے آئی جنرل ڈائری انٹری میں بھی سی جے پی کے مظاہرے کے دوران آر اے ایف کو مظاہرین کو قابو کرنے کے احکامات کا ذکر ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ’جنتر منتر، زون-1 کے ڈی سی پی کے حکم پر‘ آر اے ایف کے ڈپٹی کمانڈنٹ نے 55 نان الکٹریکل شیل، 15 الکٹریکل شیل، پانچ ٹئیر اسموک گرینیڈ اور اینٹی رائٹ گن سے پلاسٹک پیلٹ والے بیلسٹک کارتوس کے دو راؤنڈ فائر کیے۔

آر اے ایف، جو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی انسداد فسادات یونٹ ہے، واقعہ کے وقت تعینات تھی اور اس کا آپریشن دہلی پولیس کے کنٹرول میں تھا۔

دہلی پولیس ایکٹ، 1978 کی دفعہ 70(1)(بی) کے تحت اسسٹنٹ پولیس کمشنر (اے سی پی) اور اس سے اوپر کے افسران کو ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔ چونکہ ڈی سی پی کا عہدہ اے سی پی سے اوپر ہوتا ہے، اس لیے وہ ان اختیارات کا استعمال کر سکتا ہے۔

نیوز لانڈری نے لکھا ہے کہ اس نے ڈی سی پی سچن شرما سے یہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا ہےکہ انہوں نے مظاہرین کے خلاف فائر آرمز کے استعمال کی اجازت کیوں دی۔

وہیں،ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور تحقیقات سے متعلق تمام نتائج عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

اخبار نے آر اے ایف کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ 20 جولائی کو طاقت کا استعمال اور پیلٹ گن کا استعمال دہلی پولیس کی اجازت سے، ایس او پی اور قانون کے مطابق کیا گیا تھا۔