متنازعہ بیان بازی کو لے کر نوجوت سنگھ سدھو اور ستپال ستی کے خلاف معاملہ درج

کانگریسی رہنما نوجوت سنگھ سدھو نے ایک خاص کمیونٹی کو لےکر متنازعہ بیان دیا تھا، جبکہ ہماچل پردیش کے بی جے پی صدر ستپال سنگھ ستی نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا تھا۔

کانگریسی رہنما نوجوت سنگھ سدھو نے ایک خاص کمیونٹی  کو لےکر متنازعہ بیان دیا تھا، جبکہ ہماچل پردیش کے بی جے پی صدر ستپال سنگھ ستی نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے لئے قابل اعتراض  زبان کا استعمال کیا تھا۔

نوجوت سنگھ سدھو اور ستپال سنگھ ستی (فوٹو: پی ٹی آئی)

نوجوت سنگھ سدھو اور ستپال سنگھ ستی (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: کانگریسی رہنما اور پنجاب کابینہ  میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کرنے کے دوران متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ان کے خلاف منگل کو ایف آئی آر درج کی گئی۔انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں بہار کے کٹیہار میں سدھو کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔اڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر سنجے کمار سنگھ نے بتایا کہ اس معاملے میں فلائنگ اسکواڈ ٹیم کے ذریعے بارسوئی تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ضروری کارروائی کے لئے الیکشن  کمیشن کو رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔سدھو نے حزب مخالف مہاگٹھ بندھن میں شامل کانگریس امیدوار طارق انور کے لئے مسلم اکثریتی کٹیہار میں منعقد ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متنازعہ بیان دیا تھا۔

سدھو نے کہا تھا، ‘ یہاں ذات-پات میں باٹنے کی سیاست ہو رہی ہے۔ میں اپنے مسلم بھائیوں کو اپنی بات کہنے آیا ہوں۔ یہ ایک ایسی سیٹ ہے جہاں آپ اقلیت نہیں اکثریت ہو۔ بی جے پی کے سازشی لوگ آپ کو روکنے کی کوشش کریں‌گے۔ آپ کے ووٹ کو باٹنے کی کوشش کریں‌گے۔ آپ اکٹھے رہیں تو کانگریس کو دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکے‌گی۔ میں آپ کو خبردار کرنے آیا ہوں مسلم بھائیوں، یہ آپ کو بانٹ رہے ہیں۔ یہ یہاں اویسی جیسے لوگوں کو لاکر، ایک نئی پارٹی ساتھ میں کھڑی کرکے آپ لوگوں کا ووٹ بانٹ‌کر جیتنا چاہتے ہیں۔ اگر تم لوگ متحد  ہوئے، یکجا ہوکر ووٹ ڈالا تو مودی ہار جائے‌گا۔ ‘

غور طلب ہے  کہ کٹیہار کے پاس کشن گنج لوک سبھا سیٹ سے اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے اپنا امیدوار اتارا ہے۔ سدھو کا اشارہ اسی طرف  تھا۔وہیں، کانگریس صدر راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر غلط زبان  کا استعمال کرنے کے لئے ہماچل پردیش انتخابی دفتر نے ریاستی بی جے پی صدر ستپال سنگھ ستی کو منگل کو نوٹس جاری کیا۔

ہماچل کی بدی پولیس نے ستی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ  294 (فحش حرکت) کے تحت  بھی معاملہ  درج کیا ہے۔ کمیشن حکمراں جماعت کے رہنما کی زبان  کاٹ لینے کی دھمکی کے معاملے کی بھی جانچ‌کر رہا ہے۔ریاستی چیف الیکشن آفیسر دیویش کمار نے کہا، ‘ ستی کو سولن ضلع الیکٹورل افسر کے ذریعے  ا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے لئے نوٹس دیا گیا ہے اور ان سے نوٹس ملنے کے 24 گھنٹے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔ ‘

کمار نے بتایا کہ انڈین  الیکشن کمیشن نے ستی کے مبینہ توہین آمیز تبصرہ پر سخت نوٹس  لیا ہے۔ساتھ ہی پولیس بی جے پی کی شکایت پر کانگریس حمایتی ونئے شرما کے ذریعے ستپال ستی کی زبان کاٹنے پر 10 لاکھ روپے   کا انعام دینے والی مبینہ دھمکی کی جانچ کر رہی ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)