دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

نئی دہلی: اس بات کو ایک سال بیت گیا ہے جب دہلی میں53 لوگوں کو بے رحمی سے مار دیا گیا تھا، سینکڑوں گھروں اور دکانوں کو توڑ دیا گیا تھا اور عوامی املاک  کو فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جھونک دیا گیا۔

ایسےتشددکی جانچ ایک پیشہ ور جانچ ایجنسی کو کیسے کرنی چاہیے؟ مثالی طور پر پہلے وہ ان لوگوں کی پہچان کرےگی جنہوں نے تشدد میں حصہ  لیا، پھر ان لوگوں کا پتہ لگائےگی جنہوں نے تشدد کے لیے بھیڑ کو جمع کیا اور اس کو بھڑکایا۔

وہ چھوٹے چھوٹے پہلوؤں کو توجہ سے جوڑکر ایک واضح  خاکہ تیار کرےگی۔ مگر یہ کام کرنے کے بجائے دہلی پولیس پچھلے دس مہینوں سے ایک فرضی سازش  کا پیچھا کر رہی ہے۔

اس فرقہ وارانہ تشدد کے تار نئے شہریت قانون (سی اےاے)کی مخالفت کرنے والوں سے جوڑ نے کی عجلت  میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مبینہ  سازش سی اے اے کے خلاف ہوئے احتجاج  کے دوران دسمبر میں ہوئے چھٹ پٹ تشدد کے واقعات  سے جڑے ہوئے ہیں۔

مگر ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود دہلی پولیس مبینہ  کلیدی  سازش کاروں کے طور پر گرفتار کیے گئے کارکنوں عمر خالد، نتاشا نروال، عشرت جہاں،صفورہ زرگر، دیوانگنا کلیتا، خالد سیفی، میران حیدر،شفیع الر حمٰن کا اس تشدد سے براہ راست  کوئی رشتہ  نہیں جوڑ پائی ہے۔

دی وائر نے پچھلے کچھ مہینےوہ کام کرتے ہوئے بتائے ہیں، جو شاید دہلی پولیس نے نہیں کیا یا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

ہم نے شواہد کے طور پر نامعلوم  گواہوں کے کھوکھلے بیان، پولیس حراست میں لیے گئے سوالیہ قبولنامے اور دلیل سے پرے الزامات  کا سہارا نہیں لیا ہے بلکہ ان ویڈیو، سوشل میڈیا پوسٹس اور بیانات  کا استعمال کیا ہے جو ان ہندووادی کارکنوں نے خود شیئر کیے ہیں اور ان سے جو تصویر ابھر کر آئی ہے، وہ کافی بھیانک ہے۔

ہم نے سامنے دکھ رہے چھوٹے چھوٹے پہلو، جو فسادیوں کی جانب سے ڈالے گئے ویڈیو میں موجود ہیں، اس سے شروعات کی۔ اس کے بعد ہم نے ان کے پیچھے جاکر دیکھا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں، انہیں کس نے اتنا شدت پسند بنایا اور کیسے یہ لوگ سڑکوں پر گولیوں، تلواروں، پتھروں، لاٹھیوں اور لوہے کی راڈ کے ساتھ اتر آئے۔

ان پہلوؤں کو جوڑ نے کے بعد یہ صاف ہو گیا کہ اس فرقہ وارانہ فساد کے پیچھے صرف کسی ایک بی جے پی رہنماکے کسی ایک بھڑکاؤ بیان  کا ہاتھ نہیں ہے، بلکہ اس کی تیاری کئی لوگ دسمبر 2019 کے تیسرے ہفتے سے کھلے عام کر رہے تھے۔ تشدد کی اس چنگاری کو مین اسٹریم میں رہنماؤں نے مبینہ  فرنج عناصروں  کے ساتھ مل کر اور ان کے حامی  میڈیا کی مدد سے بھڑکائے رکھا۔

دی وائر کی‘کرونالوجی’ اس تشدد کے پس پردہ  اصل سازش کو بالکل صاف کر دیتی ہے۔ جن چہروں اور کرداروں کو ہم آج دکھائیں گے، انہیں جان بوجھ کر دہلی پولیس کے ذریعےجانچ سے بچاکر رکھا گیا، یہاں تک کہ ان کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔لیکن اب وہ خاموشی ٹوٹےگی۔

جس کو پولیس نے دیکھ کر ان دیکھا کیا

فروری 2020 کے آخری ہفتے میں دہلی فرقہ وارانہ تشدد سےجھلس گیا تھا۔ 1984 کے سکھ فسادات کے بعد پہلی بار راجدھانی میں ایساتشددبرپاہوا۔ اس بار تشدد کاپیمانہ چھوٹا تھا اور اس تشدد میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔

سال 2020 دو وجہ سے 84 جیسا تھا۔ پہلا، پولیس نے متاثرین کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دوسرا، مقتدرہ پارٹی سے وابستہ رہنماؤں نے نفرت پھیلانے اور تشدد بھڑ کانے میں اہم رول نبھایا۔

اس منصوبہ بندتشدد کی  اصلیت سے دھیان ہٹانے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس کا الزام  دہلی پولیس نےسی اے اےکی مخالفت کر رہے مسلمان  اور ترقی پسند سماجی کارکنوں پر لگایا ہے۔ دہلی پولیس وزارت داخلہ  کے ماتحت کام کرتی ہے، جس کا ذمہ سابق  بی جے پی صدراور وزیر داخلہ  امت شاہ کے پاس ہے۔

24 فروری 2020 کو موج پور کراسنگ پرشرپسند۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

24 فروری 2020 کو موج پور کراسنگ پرشرپسند۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

پچھلے ایک سال میں درجنوں دنگائیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن پولیس نے زور دےکر کہا کہ تشدد کو شروع کرنے کے اصل  سازش کارسی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کی کرتوت تھی۔ ملک  کے سخت انسداد دہشت گرد قانون  کے تحت ایک درجن سے زیادہ  کارکنوں پر الزام  لگائے گئے ہیں۔

ایک موٹی چارج شیٹ میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کارکنوں نے دنیا کی نظروں میں نریندر مودی سرکار کو بدنام کرنے اور پھر اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے مقصد سے اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےہندوستان دورے کے دوران فسادات کو بھڑ کانے کی سازش کی تھی۔

لیکن  کیا پولیس کی جانچ صحیح سمت میں جا رہی ہے؟ یا پھر پولیس سامنے دکھ رہی اصل سازش کو چھوڑکر ایک فرضی تصور کا پیچھا کر رہی ہے؟

اپنی ایک چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کے دورے کے دوران فسادات بھڑ کانے کی سازش 8 جنوری2020 کو کی گئی تھی، جبکہ اس دن تک ٹرمپ کے دورےکو لےکر نہ ہندوستان  نہ ہی امریکہ نے کوئی اعلان  کیا تھا۔

یہاں تک کہ جب پولیس سی اے اےمخالف  کارکنوں کےخلاف ایک ناقابل اعتمادسازش کی کہانی تخلیق کررہی ہے، اس نے جان بوجھ کر ایک بااثرتنظیم سے جڑے کچھ لوگوں کی جانچ نہیں کی جو دسمبر 2019 کے تیسرے ہفتے سے سرعام تشدد سے پرامن سی اے اےمخالف احتجاج  کو ختم کرنے کی وکالت کر رہے تھے۔

یہ گروپ باثر اس لیے تھا کیونکہ اس کا سیدھا تعلق مقتدرہ پارٹی کے لوگوں سے ہے۔ ان کا مقصد ان مظاہروں  کوختم  کرنا تھا جو مودی سرکار کے لیے عالمی شرمندگی کا ایک سبب بنے تھے اور ان سب کو سبق سکھانا جنہوں نے اس میں حصہ لیا تھا،خصوصی طور پر مسلمانوں اور طلبا کو۔

فرقہ وارانہ تشدد کے پہلے کے ہفتوں میں ان کا صاف پیغام یہ تھا کہ سرکار کے ہندوتوا کے ایجنڈےکی مخالفت کرنے کے لیے مظاہرین کو ایک بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

پولیس نے اس تنظیم کی جانچ کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ سب ایک ہی ہندوتوا‘اِکوسسٹم’ کا حصہ ہیں، جو کھلے عام مجرمانہ عناصر(جنہیں کبھی کبھی غلط طریقے سے ‘فرنج’ کہا جاتا ہے)سے لےکر بی جے پی رہنماؤں اور مودی سرکار کے وزرا تک پھیلا ہوا ہے۔

جب دی وائر نے بی جے پی رہنما کپل مشرا سے جامعہ، جے این یو اور اے ایم یو طلباکو گولی مارنے کے نعرے لگانے کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے پہلے اس بات سے انکار کیا۔ لیکن جب انہیں ان کے ویڈیو دکھائے گئے تو انہوں نے کہا کہ ‘گولی مارو ٭٭٭ کو’کہنا کوئی بڑی بات نہیں تھی اور شوٹنگ کا یہ سیاق محض ایک تک بندی تھی۔

اسی طرح مشرا نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ موج پور میں 23 فروری، 2020 کی ان کی اسپیچ میں کسی طرح کی دھمکی دی تھی۔

پچھلے سال دہلی کے سابق پولیس کمشنراجئے راج شرما نے دی وائر سے بات چیت میں کہا تھا کہ اگر وہ پولیس انچارج ہوتے تو انہوں نے کپل مشرا کو گرفتار کر لیا ہوتا اور پولیس اہلکار ہونے کے باوجود مشرا کے  بھڑکاؤ بیان کو چپ چاپ سنتے ہوئے کھڑے سینئرپولیس اہلکارکو بھی سسپنڈ کر دیا ہوتا۔

حالانکہ سرعام تشددکو انجام دینے کےلیے کام کر رہے بی جے پی رہنما اور ہندوتواگروپس کے لوگوں کے نام کنارے کرنے کے جوش میں پولیس تفتیش کاروں  نے مشرا کے پرامن ارادے والے’دعووں کو نہ صرف قبول کیا ہے، بلکہ ان شواہد کو بھی نظر انداز کر دیا، جو عوامی  طور پر موجود تھے اور ان لوگوں کی سازش کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

راگنی تیواری۔

راگنی تیواری۔

دہلی فسادات کے دوران بھڑکاؤ بیان دینے اور تشدد کرنے کے لیے سرخیوں میں آئیں شدت پسند ہندوتوادی رہنما راگنی تیواری نے دو مہینے پہلے جاری کیے گئے ایک حیران کن  ویڈیو میں دہلی کے پاس مظاہرہ کررہے کسانوں پر تشدد کرنے کی دھمکی دی۔ یہ ٹھیک ویسا ہی تھا جیسا انہوں نےسی اے اے کی مخالفت کے وقت موج پور میں کہا تھا۔ دسمبر میں جاری ویڈیو میں وہ کہتی ہیں:

‘اگر16(دسمبر)تک کسانوں کا احتجاج  ختم نہیں ہوتا ہے تو 17(دسمبر)کو ایک اور جعفرآباد ہوگا اور راگنی تیواری خود سڑکیں خالی کرائیں گی۔ جو بھی ہوگا وہ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہوگی۔’

راگنی اپنےاس ویڈیو میں جو کہہ رہی ہیں، یہی تو کپل مشرا نے 23 فروری 2020 کو کہا تھا، جس کوراگنی جیسے ہندوتووادی کارکنوں نے موج پور، جعفرآباد اور شمال مشرقی  دہلی کے کئی حصوں میں انجام دیا اور اب راگنی ‘دوسرا جعفرآباد’دہرانے کی بات کہہ رہی تھیں۔

کئی مضامین اور ویڈیو کی اس سیریز میں دی وائر کئی ہندوتووادی کارکنوں اوررہنماؤں سے روبرو کروائےگا، جنہوں نے نفرت پھیلانے، بھیڑ جمع کرنے اور پھر تشدد بھڑ کانے میں اہم رول   نبھایا۔ ان میں سے کچھ کی پہچان ہم کر سکے ہیں، لیکن دیگر اب بھی گمنام ہیں۔

راگنی تیواری جیسے کارکنوں نے ویڈیو پرتشدد میں اپنے رول کا باربار دعویٰ کیا ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہےکہ پولیس نے اس خوفناک تشدد، جس نے ایک پولیس اہلکار سمیت 53 بے قصور لوگوں کی جان لے لی، ان کے رول  کے لیے ان پر مقدمہ چلانے کی  کوئی کوشش نہیں کی۔

اس سیریز کے پہلےحصےمیں ہم دو ایسے کرداروں دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری کے رول  پر بات کریں گے۔

دیپک سنگھ ہندو، ‘ہندو فورس’ کابانی

قابل ذکر ہے کہ 23 فروری، 2020 کی صبح جس دن کپل مشرا نے شمال مشرقی دہلی کے موج پور چوک پر اپنا ‘بدنام زمانہ’اسپیچ دیا تھا، دیپک سنگھ ہندو اس دن بھیڑ جمع کرنے کے لیے فیس بک پر ویڈیو بنا رہے تھے:

لڑنے کو تو یہ لڑائی اکیلا ہی لڑ رہا ہوں لیکن آج جو لڑائی ہے، آج جو دھرم یدھ ہے اس میں مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ساتھیوں۔ ساری دلی کو شاہین باغ  بنایا جا رہا ہے ساتھیوں۔

اسی کڑی میں نارتھ ایسٹ دہلی کے جعفرآباد کو بھی شاہین باغ بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں جہادی سوچ کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ پر ہجڑوں کی طرح دیکھنے سے اچھا ہے مردوں کی طرح مرنا۔ اور میں دیپک سنگھ ہندو، آج اس لڑائی کو انجام تک پہنچاکر رہوں گا۔

ضرور پہنچیں2:30 بجے موج پورچوک…کیونکہ اگر دیپک سنگھ ہندو وہاں اکیلا پہنچتا ہے تو، وہ آپ کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے۔ میری اپیل ہے کہ بڑی سے بڑی تعداد میں موج پر چوک پہنچیں۔ میرا نمبر لیں اور کال کریں۔ [نمبر بتاتے ہیں]

میں اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں رہوں گا، حالانکہ اگر آپ کا ساتھ ملا تو میری طاقت ہزار گنا بڑھ جائےگی۔’

دیپک سنگھ ہندو۔

دیپک سنگھ ہندو۔

تشدد کی صبح ریکارڈ کیے گئے دیپک کے اس بھڑکاؤ ویڈیو کو اگر دوبارہ اچھی طرح دیکھیں، تو معلوم چلتا  ہے کہ اس وقت  تک کسی بھی طرح کا کوئی بھی تشدد برپانہیں ہواتھا۔

دیپک سنگھ ہندو لوگوں سے موج پور چوک پر دوپہر ڈھائی بجے اکٹھا ہونے کے لیے کہتے ہیں۔ دوپہر 2:30 بجے ہی کیوں؟ کیا انہیں پتہ تھا کہ کپل مشرا بھی اسی وقت وہاں آنے کامنصوبہ  بنا رہے تھے؟

اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے جس نے تشدد کو شروع کرنے کے لیے اکسا رہی بھیڑ کے اجتماع کے لیے یہ وقت اور جگہ طے کیا تھا؟ دہلی پولیس نے اس بنیادی سوال کو پوچھنے کی زحمت کیوں نہیں اٹھائی؟

پولیس کا دعویٰ ہے کہ سی اے اے کارکنوں نے تشدد کو بھڑ کانے کے لیے سازش کے تحت  موج پور چوک کے پاس سڑک کو بندکیا تھا۔ تو کیا دیپک اس سازش کا حصہ تھا؟

اگر اس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع ہونے کی اپیل نہیں کی  ہوتی، تب بھی کیاتشدد برپاہوتا؟ پولیس نے اس پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی ہے؟

راگنی تیواری، بی جے پی رہنما گریراج سنگھ،یتی نرسنہانند اور سبرمنیم سوامی کے ساتھ دیپک۔ (کلاک وائز)

راگنی تیواری، بی جے پی رہنما گریراج سنگھ،یتی نرسنہانند اور سبرمنیم سوامی کے ساتھ دیپک۔ (کلاک وائز)

المیہ یہ ہے کہ دہلی پولیس کی جانچ تب بنیاد کھو دیتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 22 فروری 2020 کو موج پور چوک پرسی اے اے مخالف  مظاہرین  کے جعفرآباد میٹرو اسٹیشن بلاک کرنے سے پہلے ہی دیپک سنگھ ہندو اور دیگر کارکنوں نے تشدد برپا کرنے کامنصوبہ بناناشروع کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق اسٹیشن کا بلاک ہونا ہی دنگا بھڑکنے کی شروعات تھی اور پھر جو ہوا، اس کے لیےسی اے اے مخالف  مظاہرین  ذمہ دار تھے۔

لیکن 23 جنوری 2020 کو، میٹرو اسٹیشن پر کسی بھی طرح کے مظاہرہ سے ایک مہینے پہلے دیپک سنگھ ہندو نےپرامن مظاہرین  کوتشدد کی وارننگ دی تھی:

میں وہ ہوں جو شاہین باغ بھی جاتا ہے، جے این یو بھی جاتا ہے، جامعہ بھی جاتا ہے اور تمہاری ہزاروں کی بھیڑ میں اکیلا دہاڑکر آتا ہے۔ اگر تو دیش بھکت ہوتا تو تو دیش کا بٹوارہ  مذہب کے آدھار پر نہ ہونے دیتا۔ تم اس دیش کا بٹوارا نہیں ہونے دیتے۔ تم دیش بھکت نہیں ہو سوروں۔ تم کیول غدار غدار غدار ہو اور غداروں کو کیول جوتے مارے جاتے ہیں۔ اور تمہیں اب جوتے مارے جا ئیں گے، اس بات کو لکھ لو، سوروں۔

بی جے پی یہ دکھاوا کرتی ہے کہ دیپک سنگھ ہندو جیسے لوگ کسی طرح  کے فرنج عنصر ہیں۔ پرسچائی یہ ہے کہ یہ مبینہ فرنج وہی کہہ رہے تھے جو پارٹی کے سینئر رہنما جیسے پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر – جو مودی سرکار میں وزیر ہیں – جنوری کے اواخر میں دہلی اسمبلی انتخاب کی تشہیرمیں کہہ رہے تھے۔

جس طرح سے ہندوتوا اِکوسسٹم کام کرتا ہے وہ یہ کہ  ان شدت پسندوں  کے بیچ مسلسل بات چیت ہوتی ہے بنیادی طور پرآن لائن لیکن یقینی طور پر احتجاج  اور سڑکوں پر بھی۔ یہ نام نہاد ‘فرنج’ باقاعدگی  سے بی جے پی  کے مبینہ قابل احترام ‘مین اسٹریم ’کے ساتھ بات چیت میں رہتا ہے۔

مگر دیپک سنگھ ہندو ان کئی ہندوتوا کارکنوں میں سے ایک ہے جن کے دہلی تشدد میں رول کوپولیس نے جان بوجھ کر ان دیکھا کیا ہے، اس کے جیسے کئی اور ہیں۔

انکت تیواری، بی جے پی  اور آر ایس ایس کارکن، کونڈلی، دہلی

اگربی جے پی  کے کپل مشرا نے اس اصلی سازش کے سیاسی  چہرے کے طور پر کام کیا اور دیپک سنگھ ہندو نے شمال مشرقی  دہلی میں موج پور اور دیگر مقامات  پر تشدد پر آمادہ بھیڑ جمع کرنے میں ہندوتواتنظیموں  کی مدد کی، تو انکت تیواری ایک زمینی سپاہی تھا، جسے نہ صرف تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے بلکہ وہ مسلمانوں کو مارنے کے لیے سوشل میڈیا پر کھل کر فخرکا ا ظہار بھی کرتا ہے۔

دی وائر نے تیواری کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اچھی طرح سے دیکھا۔ اس کا اکاؤنٹ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت بھری باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ آر ایس ایس سے اپنے رشتے  کا بھی کھلے طور پر پروپیگنڈہ کرتا ہے۔

تیواری کو کئی ویڈیو کلپ میں تشدد کرتے اور بھیڑ کو اکساتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انکت تیواری۔ (فوٹو بہ شکریہ: انسٹاگرام)

انکت تیواری۔ (فوٹو بہ شکریہ: انسٹاگرام)

آج بھی درجن بھر سے زیادہ سی اے اے مخالف کارکن جیل میں بند ہیں، مگر انکت دہلی کی سڑکوں پر آزاد گھوم رہا ہے، باوجود ان شواہد کے جو اس نے خود اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے ہیں۔

یہ تشویشناک ہے کہ وہ آج بھی کئی زہریلے ویڈیو ڈالتا رہتا ہے اور اپنے سوشل میڈیا پر تشدد کی دھمکیاں دیتا ہے۔ 12 نومبر کو انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اس نےفوج میں بھرتی ہوکر  کشمیر کے ‘کٹوؤں’کو مارنے کی بات کہی ہے۔

پچھلے سال اکتوبر نومبر میں دی وائر کے رپورٹرس نے انسٹاگرام پر اس سے ایک خاتون  کے نام سے بات چیت کی۔ اس چیٹ میں اس نے کئی مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کا دعویٰ کیا۔

انکت تیواری نے بتایا کہ ایک رات وہ بھی موج پور گیا تھا۔ ‘ہم سب راشٹروادی دوست تھے۔ ہمارے پاس ہتھیار تھے۔’

اس نےیہ دعویٰ بھی کیا کہ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور اے بی وی پی کے کارکنوں نے حملے کے لیے جوائنٹ ٹیم بنائی تھیں۔ اس نے ‘کوڈ لینگویج’ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں شامل ہونے اور ‘برابر پرساد بانٹنے’کی بات بھی قبول کی۔

ایک دوسری انسٹاگرام سٹوری میں تیواری کئی ‘کٹوؤں’ور ملوں کو کاٹنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ دیپک کی ہی طرح تیواری بھی اکیلا نہیں ہے، بلکہ وہ شدت پسندوں  کے ایک بڑے گروہ کا چھوٹا سا حصہ ہے۔

اپنی ایک چیٹ میں اس نے کہا کہ وہ سی اے اے کے خلاف مظاہرہ  کر رہے جامعہ کے طلبا پر 30 جنوری 2020 کو گولی چلانے والے ‘رام بھکت’ گوپال کو بھی جانتا ہے۔

تیواری نے یہ بھی بتایا کہ اس نے 20 دسمبر 2019 کو آر ایس ایس کی جانب  سے کناٹ پلیس پر منعقدسی اے اےحمایتی  ریلی میں حصہ لیا تھا، جہاں بی جے پی  رہنما کپل مشرا نےسی اے اے کی حمایت میں نعرےبازی کی تھی۔

اس نے دہلی میں ہوئی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایک انتخابی  ریلی کا ویڈیو بھی اپنے انسٹاگرام پر شیئرکیا تھا۔

انکت تیواری کا انسٹاگرام اکاؤنٹ۔

انکت تیواری کا انسٹاگرام اکاؤنٹ۔

اس نے بنا کسی ڈر کے یہ بھیانک دعویٰ بھی کیا کہ کیسے وہ اور اس کے ساتھی پھر سے دنگا کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور اس کی ساری تیاریاں ہو چکی ہیں۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جب دہلی میں این آرسی نافذہوگا، پھر سے ایک بار فرقہ وارانہ دنگے ہوں گے۔

دہلی 2020 کی اصل سازش سیریز کے دوسرے حصےمیں ہم دہلی کے ہندوتوا نیٹ ورک کے چار اور کرداروں کے بارے میں بتائیں گے اور دکھائیں گے کہ یہ لوگ اور ان کا فرقہ وارانہ زہر نہ صرف دہلی کے لیے بلکہ پورے ہندوستان کے لیے،مقتدرہ پارٹی  کے ایک بڑے سیاسی  پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)