
دسمبر 2024 میں دہلی فسادات کے سلسلے میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا اور چھ دیگر افراد کے کردار کی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے دہلی کے یمنا وہار کے ایک رہائشی نےعدالت سے رجوع کیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اب عدالت نے مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کو کہا ہے۔

موج پور لال بتی کے قریب ڈی سی پی(نارتھ-ایسٹ)وید پرکاش سوریہ کےساتھ بی جے پی رہنما کپل مشرا(فوٹو : ویڈیو اسکرین گریب/ٹوئٹر)
نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منگل (1 اپریل) کو 2020 کے شمال- مشرقی دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیاہے۔
خبروں کے مطابق، یہ حکم ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے یمنا وہار کے رہائشی محمد الیاس کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں دیا ہے۔
لائیو لاء کے مطابق ، عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ مشرا متعلقہ علاقے میں موجود تھے اور’ساری چیزیں اس کی تصدیق کر رہی تھیں۔’
محمد الیاس نے دسمبر 2024 میں عدالت سے رجوع کیا تھا اور فسادات میں مشرا اور دیگر چھ افراد کے کردار کی تحقیقات کی مانگ کی تھی۔ 2020 کے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
اس سال مارچ میں دہلی پولیس نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کے کردار کی پہلے ہی چھان بین ہو چکی ہے اور کوئی سنگین الزام سامنے نہیں آیا تھا۔
معلوم ہو کہ کپل مشرا اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت میں قانون اور انصاف کے وزیر ہیں۔
دی ہندو کی خبر کے مطابق ، الیاس نے اپنی درخواست میں کپل مشرا، مصطفی آباد کے ایم ایل اے اور ڈپٹی اسپیکر موہن سنگھ بشٹ، اس وقت کے ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ)، دیال پور تھانہ کے اس وقت کے ایس ایچ او اور بی جے پی کے سابق ایم ایل اے جگدیش پردھان پر فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا ۔
الیاس نے دعویٰ کیا تھا کہ 23 فروری 2020 کو اس نے مشرا اور دیگر کو کردم پوری میں ایک سڑک کو بلاک کرتے اور سڑک پر ٹھیلوں کو تباہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق (نارتھ ایسٹ) ڈی سی پی اور کچھ دیگر افسران مشرا کے ساتھ کھڑے تھے، جب انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو دھمکی دی تھی۔
الیاس نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ انہوں نے دیال پور کے سابق ایس ایچ او اور دیگر کو شمال -مشرقی دہلی میں مساجد میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا تھا۔
غورطلب ہے کہ 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں پولیس نے عمر خالد، گلفشاں فاطمہ اور شرجیل امام سمیت کئی طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو فسادات کی سازش کرنے والوں کے طور پر نامزد کیا ہے۔
تاہم، اس معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے تشکیل دی گئی 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا تھا کہ دہلی میں تشدد ‘منصوبہ بند تھااور ہدف بنا کرکیا گیا’ تھا اور اس کے لیےکمیٹی نے کپل مشرا کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ 23 فروری 2020 کو موج پور میں کپل مشرا کی مختصر تقریر کے فوراً بعد مختلف علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا، جس میں انہوں نےکھلے طور پر شمال -مشرقی دہلی کے جعفرآباد میں مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
مشرا کی اشتعال انگیز تقریر
بتادیں کہ دہلی میں دنگا بھڑکنے سے ایک دن پہلے 23 فروری کو کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا، جس میں وہ موج پور ٹریفک سگنل کے پاس سی اے اےکی حمایت میں جمع ہوئی بھیڑ کوخطاب کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس دوران ان کے ساتھ شمال مشرقی دہلی کے ڈی ایس پی ویدپرکاش سوریہ بھی کھڑے ہیں۔
مشراکہتے ہیں،‘وہ(مظاہرین)دہلی میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہوں نے سڑکیں بند کر دی ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہاں فسادات جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ ہم نے کوئی پتھراؤ نہیں کیا۔ ہمارے سامنے ڈی ایس پی کھڑے ہیں اور آپ کی طرف سے میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان میں رہنے تک ہم علاقے کو پرامن چھوڑ رہے ہیں۔ اگر تب تک سڑکیں خالی نہیں ہوئیں تو ہم آپ کی(پولیس)بھی نہیں سنیں گے۔ ہمیں سڑکوں پر اترنا پڑےگا۔’