کووڈ: محدود وقت کے لیے مکمل لاک ڈاؤن لگائے اور ٹیکہ کاری میں اضافہ کرے حکومت ہند: ڈاکٹر فاؤچی

امریکہ میں وائرس کے ماہرڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ کورونا مہاماری کی دوسری لہر میں ہندوستان کی حالت بےحد مایوس کن ہے اور حکومت ہند کوفوراً عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کے لیے فوج سمیت تمام وسائل کا استعمال کرنا چاہیے۔

امریکہ میں وائرس کے ماہرڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ کورونا مہاماری کی دوسری لہر میں ہندوستان کی حالت  بےحد مایوس کن ہے اور حکومت ہند کوفوراً عارضی فیلڈ اسپتال بنانے کے لیے فوج  سمیت تمام وسائل  کا استعمال کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی(فوٹو:رائٹرس)

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی(فوٹو:رائٹرس)

نئی دہلی: امریکہ کے ماہرصحت ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کووڈ 19 کی دوسری لہر سے بری طرح متاثر ہوئے ہندوستان میں حالات کو ‘بے حد مایوس کن’قرار دیا اور حکومت ہند کو عارضی فیلڈ اسپتال فوراًبنانے کے لیے فوج  سمیت تمام وسائل  کا استعمال کرنے کی صلاح دی۔

انہوں نے دیگر ممالک  سے بھی اپیل کی کہ وہ  ہندوستان  کی مدد کے لیےصرف سامان ہی نہیں، بلکہ اہلکار بھی مہیا کرائیں۔ واشنگٹن میں خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے نامہ نگار کو ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے انٹرویو دیا ہے۔ ان کی بات چیت کے اہم حصے:

ہندوستان کے موجودہ  حالات کو لےکر آپ کا اندازہ  کیا ہے؟

یہ صاف ہے کہ ہندوستان  میں حالات بے حد سنگین  ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب ہے کہ وہاں انفیکشن  کی شرح بہت زیادہ  ہے۔ جب لوگ اتنی زیادہ تعداد میں متاثر ہو رہے ہوں، ہر کسی کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو پا رہی ہو، اسپتالوں میں بستروں، آکسیجن اور دیگر طبی  سامان کی کمی ہو، تو یہ بےحد مایو س کن صورتحال  بن جاتی ہے۔

اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ پوری دنیا کو ہرممکن طریقے سے مدد کرنی چاہیے۔ ہندوستان خود بھی ایسے قدم اٹھا سکتا ہے، جن سے اس بے حد غیر متوقع صورتحال  سے نمٹا جا سکتا ہے۔

ایسے میں دو سوال ہیں، پہلا یہ کہ دنیا اس وقت کیسے ہندوستان  کی مدد کر سکتی ہے اور دوسرا یہ  کہ ہندوستان  کو اس صورتحال  سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

مجھے لگتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک سامان  اوراہلکار مہیا کراکر ہندوستان  کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن انہیں یقینی طور پر ایساسامان  مہیا کرانا چاہیے، جس کی ہندوستان  کو اس صورتحال  سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے، جیسے کہ امریکہ 1000 آکسیجن سلینڈروں کی شروعاتی  سپلائی  کے ساتھ آکسیجن مہیا کرا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی وہ آکسیجن کانسینٹریٹر اور آکسیجن کا پروڈکشن کرنے والی اکائیاں بھی دستیاب  کرا رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان  کو نجی حفاظی آلات بھی مہیا کرا رہا ہے۔ وہ ہندوستان کو ان چیزوں کی بھی فراہمی  کر رہا رہا ہے، جو اسے ٹیکوں کا خود پروڈکشن کرنے کے لیے چاہیے۔

امریکہ جانچ کٹ بھی بھیج رہا ہے۔ ہم لاکھوں کی تعداد میں یہ سب بھیج رہے ہیں۔ ہم ریمڈیسور دوا بھی بھیج رہے ہے۔ اس کے علاوہ ہم ٹیکہ کاری کے لیے وبائی امراض کی نگرانی کے شعبےمیں ہمارے سی ڈی سی ماہرین  اور ہندوستان  کےماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اس وقت دیگر ممالک میں بھی ایمرجنسی کی حالت ہے۔ ہندوستان  انفیکشن  کی وجہ سے اس وقت بہت زیادہ  دباؤ میں ہے، تو ایسے میں دنیا کے دیگر ممالک  کو امریکہ کی طرح اس کی مدد کرنی چاہیے۔جہاں تک صورتحال  سے نمٹنے کی بات ہے تو آپ جانتے ہیں کہ میں نے کچھ دن پہلے بھی ایک دیگر ادارےکے ساتھ بات چیت میں اس کا ذکر کیا تھا، اس لیے میں آپ کے لیے اسے دہرا رہا ہوں۔

میرا مطلب ہے کہ کچھ چیزیں فوراًکی جا سکتی ہیں۔ کچھ قدم قلیل مدت اور کچھ طویل مدت کے لیے اٹھائے جا سکتے ہیں۔سب سے پہلے ابھی انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ  لگانا شروع کرنا چاہیے، چاہے وہ  ان کے ذریعے تیا رکردہ  ٹیکے ہوں یا روس اور امریکہ جیسے دیگرممالک  سے خریدے گئے ٹیکے ہوں۔

جو بھی ملک یا کمپنی ٹیکوں کی فراہمی  کی خواہش مند ہے، ہندوستان  کو اس سے ٹیکے لینے چاہیے۔ اسے سب کی  ٹیکہ کاری کرنی چاہیے۔

ٹیکہ کاری سے موجودہ پریشانی  ابھی ختم  نہیں ہوگی۔ اس سے ہمیں کئی ہفتوں میں پریشانی کو روکنے میں مدد ملے گی، اس لیےیہ قلیل مدت اور طویل مدت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے، لیکن اس وقت فوراً جو قدم  آپ کو اٹھانا ہے، وہ میں جانتا ہوں کہ ہندوستان  پہلے ہی اٹھا رہا ہے، اس لیے میں آپ کو ایسا کچھ نہیں بتا رہا ہوں، جو آپ کچھ دن پہلے سے نہیں کر رہے ہیں۔

ہندوستان  کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ میری صلاح ہے کہ آپ ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیں۔ چین نے پچھلے سال ایسا کیا تھا، آسٹریلیا میں جب انفیکشن پھیلا تھا، تب اس نے ایسا کیا تھا، نیوزی لینڈ نے یہ کیا تھا، دیگر کئی ممالک نے ایک محدودمدت  کے لیےمکمل  لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

آپ کو چھ مہینے کے لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کچھ ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن نافذکر سکتے ہیں۔دیگر ممالک  میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے تجربوں  سے یہ صاف  ہے کہ لاک ڈاؤن سے انفیکشن  کی شرح  کم ہوتی ہے اورانفیکشن کی کڑی ٹوٹتی ہے۔ یہ پہلی چیز ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو یاد ہوگا، چین میں جب پچھلےسال  سنگین مسئلہ  تھا، تو اس نے اپنے وسائل کو بہت تیزی سے نئے اسپتال بنانے میں لگا دیا تھا، تاکہ وہ ان سب لوگوں کو اسپتال مہیا کرا سکیں، جنہیں بھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ میں نے خود کبھی ہندوستان  جاکر یہ نہیں دیکھا، لیکن میڈیا میں حال میں آئی خبروں کے مطابق، وہاں اسپتال میں بستروں کی شدید کمی ہے اور عارضی انتظامات  میں لوگوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

ہندوستان  کو اپنی فوج  کی مدد سے اسی طرح فیلڈ اسپتال بنانے چاہیے، جیسے کہ جنگ کے دوران بنائے جاتے ہیں، تاکہ ان لوگوں کو اسپتال میں بستر مل سکے، جو بیمار ہیں اور جنہیں بھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے۔ میں ان کچھ باتوں کی صلاح دوں گا۔

ہندوستان  کے بارے میں یا ہندوستانیوں  میں بیداری  پیدا کرنے کے لیے کچھ اور کہنا چاہیں گے؟

نہیں، مجھے لگتا ہے کہ وہاں یکجہتی  ہونا، باقی دنیا کے لوگوں، بالخصوص امریکہ میں ہمارے بیچ یکجہتی  ہونا اہم  ہے۔ ہمارے ہندوستان  کے ساتھ بہت قریبی رشتے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ ہندوستان  اس بے حد مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔

امریکہ میں ہندوستان  کے سفیر نے ڈاکٹر انتھونی فاؤچی سے ملاقات کی

اس بیچ امریکہ میں ہندوستان  کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈاکٹر انتھونی فاؤچی سے ڈیجیٹل میڈیم سے ملاقات کی اور ہندوستان  میں کووڈ 19بحران  ااور انفیکشن  کے نئےویرینٹ(اسٹرین اور ویرینٹ)کے خلاف ٹیکوں کے مؤثر ہونے کو لےکر چرچہ کی۔

سفیر امریکہ میں ہیلتھ سروس اور عالمی وباکے خلاف کارروائی سے جڑے لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔

یہ پہلی بار ہے، جب کسی اعلیٰ ہندوستانی  سرکاری افسر نے فاؤچی سے ملاقات کی ہے۔ فاؤچی عالمی وبا سے جڑے معاملوں کے لیے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے صلاح کار ہیں۔ بیٹھک کے دوران فاؤچی نے بحران  کے اس وقت میں ہندوستان کے لیے یکجہتی اور تعاون کا اظہار کیا۔

امریکہ کے‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ’ میں‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اورمتعدی امراض ’ کے ڈائریکٹر فاؤچی نے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ سمیت مختلف  معاملوں میں امریکی امداد کی پیشکش کی ہے۔سندھو نے ٹوئٹ کیا،‘ہم نے وائرس کے ویرینٹ ، ٹیکوں، کارروائی اور ڈیولپمنٹ اور ریسرچ سمیت مختلف شعبوں  میں مشترکہ کوششوں  پر چرچہ کی۔ میں نے یکجہتی کے اظہار کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔’

فاؤچی نے یاد کیا کہ امریکہ میں جب انفیکشن اپنے عروج  پر تھا تو اس سے نمٹنے کے لیے کیا پالیسیاں اپنائی گئی تھیں۔ اس دوران ہیلتھ سروس ،بالخصوص عالمی وبا کے تناظر میں مشترکہ ریسرچ کو مضبوط کرنے پر بھی چرچہ کی گئی۔

اس سے پہلے، سندھو نے امریکہ کے وزیر داخلہ سے بھی بات کی۔انہوں نے عالمی  مہاماری کے خلاف ہندوستان  کی لڑائی میں بائیڈن انتظامیہ  کی جانب سے پوری مدد مہیا کرائے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکی وزیر داخلہ سے فون پر بات چیت کے بعد سندھو نے ٹوئٹ کیا کہ وہ وزیر داخلہ  کی جانب  سے کیے گئے‘امداد کی پیشکش اور مضبوط یکجہتی ’کے بے حد مشکورہیں۔

دو ہندوستانی امریکی ایم پی  رو کھنہ اور راجہ کرشن مورتی نے ہندوستان کو اور امریکی امداد مہیا کرانے کے لیے ایک اور اپیل کی۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان  میں ایک دن میں کووڈ 19 سے ریکارڈ 3780 لوگوں کی موت کے بعد اس بیماری سے جان گنوانے والوں کی تعداد 226188 ہو گئی ہے جبکہ ایک دن میں انفیکشن کے 382315 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔

ان نئے معاملوں کے بعد کووڈ 19 کےکل معاملے بڑھ کر 20665148 ہو گئے ہیں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)