سپریم کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو قانونی چارہ جوئی سے تاحیات استثنیٰ دینے والے قانون کے حوالے سے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایسی چھوٹ، جو صدر یا گورنرز کو بھی حاصل نہیں ہے، انتخابی عہدیداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار (12 جنوری) کو مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس قانون کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی(پی آئی ایل)پر جواب طلب کیا، جو چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) اور دیگر الیکشن کمشنروں(ای سی)کو قانونی چارہ جوئی سے تاحیات استثنیٰ فراہم کرتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی کی بنچ لوک پرہری نامی ایک این جی او کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جو چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت) ایکٹ، 2023 کی دفعہ 16 سے متعلق ہے۔
واضح ہو کہ دفعہ 16 میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ ‘فی الحال نافذ العمل کسی دوسرے قانون میں کچھ بھی موجود ہونے کے باوجود، کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کرے گی، جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا تھا۔’
درخواست گزار نے استدلال کیا کہ ایسی چھوٹ، جو صدر یا گورنر کو بھی حاصل نہیں ہے، انتخابی عہدیداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔
لوک پرہری نے کہا کہ ایک مرکزی وزیر نے پارلیامنٹ میں کہا تھا کہ 2023 کا قانون صرف سروس کی شرائط سے متعلق ہے، اور دلیل دی تھی کہ فوجداری مقدمہ سے تحفظ کو سروس کی شرط نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس کے علاوہ یہ بھی دلیل دی گئی کہ یہ شق اصل بل کا حصہ نہیں تھی، بلکہ آخری وقت میں شامل کی گئی تھی۔
درخواست گزار نے استدلال کیا کہ اس طرح کی شق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس پر زور دیا کہ اس پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے، اس کی سنگینی کے پیش نظر اس سے جو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔
تاہم، سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اس شق پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
غور طلب ہے کہ عدالت نے اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے کی جانچ کرے گی کہ کیا اس دفعہ سے کوئی نقصان ہو رہا ہے اور کیا آئین کے تحت اس طرح کی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔