بی جے پی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی اور عام مہم پر 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جو 20-2019 سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس مدت میں 2024 لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے۔

بی جے پی کارکن ممبئی میں پارٹی دفتر میں 2026 کے بی ایم سی انتخابات میں جیت کا جشن مناتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سالانہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی مہم اور عام تشہیر پر کل 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، اس مدت میں 18ویں لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ، یہ خرچ 2019-20 کے مقابلے تقریباً ڈھائی گنا ہے۔ اس وقت، بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا اور سات ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران انتخابی مہم اور عام تشہیر پر 1,352.92 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔
الیکشن کمیشن نے 16 مارچ کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ سے انتخابی مہم کی شروعات 2023-24 کے مالی سال میں ہی ہو گئی تھی۔ انتخابات 19 اپریل سے 1 جون 2024 تک 44 دن تک چلے۔ انتخابات سے پہلے کے سال میں یعنی 2023 -24 میں بھی بی جے پی نے انتخابی مہم اور عام تشہیر پر 1,754.06 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔
اس طرح، 2024 کے لوک سبھا اور آٹھ اسمبلی انتخابات تک کے دو سالوں میں بی جے پی کا کل خرچ 5,089.42 کروڑ روپے رہا۔ یہ رقم 2019 کے لوک سبھا اور سات اسمبلی انتخابات تک کے دو سالوں میں خرچ کیے گئے 2,145.31 کروڑ روپے کے خرچ کے دوگنے سے بھی زیادہ ہے۔
جن ریاستوں میں 20-2019 اور 2024-25 کے درمیان اسمبلی انتخابات ہوئے ان میں مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ، اڑیسہ، سکم، اروناچل پردیش اور آندھرا پردیش شامل ہیں۔ ان سات ریاستوں کے علاوہ جموں و کشمیر میں بھی 2024-25 میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔
بی جے پی کی جانب سے 27 دسمبر 2025 کو الیکشن کمیشن کو سونپی گئی سالانہ رپورٹ کے مطابق پارٹی کے کل 3,774.58 کروڑ روپے کے اخراجات کا تقریباً 88 فیصد انتخابی اخراجات ہیں۔ کمیشن نے اس ہفتے اس رپورٹ کو عام کیا ہے۔
‘انتخابات/عام مہم’ کے کل اخراجات میں سے تقریباً 68 فیصد اشتہارات اور تشہیر پر خرچ کیا گیا، جس کی رقم 2,257.05 کروڑ روپے ہے۔ اس میں سب سے زیادہ خرچ الکٹرانک میڈیا پر ہوا، 1,124.96 کروڑ روپے، اس کے بعد اشتہارات پر 897.42 کروڑ روپے ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارٹی نے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر پر 583.08 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ 312.90 کروڑ روپے امیدواروں کو مالی امداد کے طور پر دیے گئے۔
وہیں، گزشتہ سال الیکشن کمیشن کو پیش کی گئی کانگریس پارٹی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ پارٹی نے 2023-24 میں 619.67 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔
الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق، تمام سیاسی جماعتیں اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ اور کنٹری بیوشن رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی پابند ہیں۔ کنٹری بیوشن رپورٹ میں 20,000 سے زیادہ کے تمام عطیات کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔ الیکشن کمیشن ان تمام رپورٹ کو اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرتا ہے۔
بی جے پی کی آمدنی میں اضافہ
اس رپورٹ کے مطابق، 2024-25 میں بی جے پی کی کل آمدنی بھی بڑھ کر 6,769.14 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو 2023-24 میں 4,340.47 کروڑ روپے تھی۔ پارٹی کی آمدنی کا بڑا حصہ،6,124.85 کروڑ روپے چندے سے آیا۔ بقیہ آمدنی فیس، ممبرشپ، بینک کے سود اور دیگر ذرائع سے حاصل ہوئی۔
اگرچہ 2024-25 پہلا سال تھا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کی گمنام سیاسی فنڈنگ اسکیم، الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے بعد چندہ اکٹھا کیا گیا تھا،اس کے باوجود بی جے پی کے عطیات میں 54 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ یہ رقم پچھلے سال موصولہ رقم 3,967.14 کروڑ سے کافی زیادہ تھی۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ دسمبر میں شائع کردہ بی جے پی کی شراکت کی رپورٹ کے مطابق، 2024-25 میں پارٹی کے کل عطیات کا 61 فیصد الیکٹورل ٹرسٹوں کے توسط سے آیا۔
پارٹی کے پاس 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر 12,164.14 کروڑ کا کلوزنگ بیلنس تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کے پاس سال کے آخر میں 9,996.12 کروڑ روپے کی نقد رقم تھی، جو پچھلے سال کے 7,113.90 کروڑ سے روپے زیادہ تھی۔