امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے درمیان ایران میں 9 ہزار ہندوستانی پھنسے، زیادہ تر طلبہ: رپورٹ

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے درمیان ہندوستانی حکومت وہاں پھنسے تقریباً 9,000 ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر طلبہ ہیں جو تہران اور قم میں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت انہیں آرمینیا اور ترکمانستان کے راستے نکالنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، وہیں سفارت خانے نے سب کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کےحملوں کے درمیان ہندوستانی حکومت وہاں پھنسے تقریباً 9,000 ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر طلبہ ہیں جو تہران اور قم میں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت انہیں آرمینیا اور ترکمانستان کے راستے نکالنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، وہیں سفارت خانے نے سب کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد تہران کی ایک عمارت سے اٹھتا دھواں (تصویر: اے پی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کے درمیان ہندوستانی حکومت ایران میں پھنسے اپنے شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وقت تقریباً 9,000  ہندوستانی شہری ایران میں موجود ہیں، جن میں زیادہ تر طلبہ شامل ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ کچھ اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے بھی ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر تہران اور قم شہروں میں رہ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں تہران پر مسلسل حملے ہوئے ہیں، جبکہ قم دارالحکومت سے تقریباً 150 کلومیٹر دور واقع ہے۔

گزشتہ28فروری سے شروع ہوئے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایران کی فضائی حدود فی الحال بند ہیں۔ اس وجہ سے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لیے زمینی راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ایک سینئر ذرائع کے مطابق، ضرورت پڑنے پر ہندوستانی شہریوں کو آرمینیا اور ترکمانستان کے راستے باہر لے جایا جا سکتا ہے، جہاں سے انہیں ہوائی راستے سے ہندوستان بھیجا جائے گا۔ ترکمانستان نے اس مقصد کے لیے ایران کی سرحد پر کچھ اضافی چیک پوسٹی بھی کھول دی ہیں۔

اسی دوران تہران میں موجود ہندوستانی سفارت خانے نے بتایا کہ دارالحکومت میں بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے وہاں رہنے والے زیادہ تر ہندوستانی طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے سفر، کھانے اور قیام کا انتظام بھی سفارت خانے نے کیا ہے۔ تاہم، کچھ طلبہ اب بھی تہران میں موجود ہیں جنہوں نے منتقلی کی پیشکش قبول نہیں کی۔

قم پہنچنے کے بعد کچھ طلبہ نے قریبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی بات بھی کہی ہے، جس سے ان کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ طلبہ نے وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ علاقوں سے ان کی محفوظ واپسی کے لیے جلد اقدامات کیے جائیں۔

صورتحال کے پیش نظر ہندوستانی سفارت خانے نے ایران میں موجود تمام ہندوستانیوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں شہریوں کو سخت احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور جہاں تک ممکن ہو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں مقامی حالات پر نظر رکھنے اور سفارت خانے کی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

طلبہ کے علاوہ کچھ ہندوستانی ملاح اور اسلامی تعلیم یا مذہبی زیارت کے لیے گئے شیعہ برادری کے افراد بھی ایران میں موجود ہیں۔ تاہم، اب تک ہندوستانیوں کی اجتماعی واپسی کے لیے کسی باقاعدہ پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں کچھ ہندوستانی شہری آرمینیا کے راستے واپس لوٹ چکے ہیں، جبکہ کچھ لوگ فی الحال وہیں رکے ہوئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ہندوستان کی حکومت خطے کے ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی ہے اور حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

غور طلب ہے کہ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 دن کی جنگ کے دوران ہندوستان نے آپریشن سندھوچلایا تھا، جس کے تحت ایران سے 3,597 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا تھا۔

وزارت خارجہ پہلے ہی جنوری میں دو مرتبہ ٹریول ایڈوائزری جاری کر کے ہندوستانیوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے بچنے اور وہاں موجود لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دے چکی ہے۔ فروری کے اواخر میں تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے بھی ہندوستانی شہریوں سے دستیاب ذرائع کا  استعمال کرتے ہوئے  ملک چھوڑنے کی اپیل کی تھی۔