مغربی ایشیا میں کشیدگی کے درمیان ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اپوزیشن نے مرکزی حکومت کو بنایا نشانہ

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں 60 روپے فی سلنڈر اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس اضافے کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی اور ان کے وزراء کی ناکامیوں کا خمیازہ ملک کی عوام کیوں بھگت رہی ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں 60 روپے فی سلنڈر اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس اضافے کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی اور ان کے وزراء کی ناکامیوں کا خمیازہ ملک کی عوام کیوں بھگت رہی ہے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ تبدیلیاں 7 مارچ (سنیچر) سے نافذ ہو گئی ہیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مغربی ایشیائی ممالک میں جاری کشیدگی کے دوران ہی ملک میں گھریلو رسوئی گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے فی سلنڈر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال اپریل کے بعد یہ دوسری بار ہے جب گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق، بغیر سبسڈی والا ایل پی جی سلنڈر (14.2 کلوگرام)، جو عام طور پر گھریلو استعمال میں آتا ہے، اب دہلی میں 913 روپے کا ہو گیا ہے، جبکہ پہلے اس کی قیمت 853 روپے تھی۔

بتایا گیا ہے کہ اجولا یوجنا کے مستفیدین- 10 کروڑ سے زیادہ غریب لوگ جنہیں 2016 سے مفت ایل پی جی کنکشن ملا ہے-کو بھی اسی اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں سال میں 12 بار ری فل کرانے پر ملنے والی 300 روپے فی سلنڈر سبسڈی کے بعد اب 14.2 کلوگرام سلنڈر کے لیے 613 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

یہ نئی قیمتیں 7 مارچ (سنیچر) سے نافذ ہو گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ہوٹل اور ریستوراں میں جیسی جگہوں پر استعمال ہونے والے 19 کلوگرام کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 114.5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی میں اب اس کی قیمت 1,883 روپے ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے 1 مارچ کو اسی وزن کے سلنڈر کی قیمت میں 28 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اپوزیشن نے حکومت کو گھیرا

دریں اثنا، اپوزیشن جماعتوں نے ایل پی جی کی قیمت بڑھانے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ ملک کے پاس پیٹرولیم کے خاطر خواہ اسٹاک ہے۔

کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا،’گھریلو ایل پی جی سلنڈر میں 60 روپے کا اضافہ اور کمرشل ایل پی جی میں 115 روپے کا منافع،پہلے عالمی سطح پر کم قیمتوں کا فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا اور اب مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ جنگ ہونے پر ’سب چنگا سی‘کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت، خاطر خواہ تیل- گیس اور فرٹیلائزر مہیا کرنے میں لاچار! ‘

کانگریس کی ڈیجیٹل میڈیا انچارج سپریا شرینیت نے ایک بیان میں کہا، ’گھریلو رسوئی گیس کی قیمت 60 روپے اور کمرشل سلنڈر کی قیمت 115 روپے بڑھا دی گئی ہے۔ مودی حکومت پہلے کہتی رہی کہ سپلائی کافی ہے اور امریکہ- اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے ہماری توانائی کی سلامتی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن پھر ایک ہی جھٹکے میں ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اس جنگ کا ہندوستان پر گہرا اثر پڑے گا۔ ‘

انہوں نے مزید کہا ،’ ہماری توانائی کی سپلائی خلیجی ممالک سے آتی ہے۔ اگر یہ متاثر ہوئی تو معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ وزارت خزانہ کی ماہانہ رپورٹ بھی یہی بتا رہی ہے۔ یہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کو کھولا بھی گیا تو صرف روسی اور چینی جہازوں کے لیے۔ اگر اسے ہندوستان کے لیے بھی کھولا جاتا تو قیمتیں اتنی زیادہ نہ بڑھتیں۔ ایل پی جی کی قیمتیں اب بڑھی ہیں، اور ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں مستقبل میں بھی بڑھیں گی۔ نریندر مودی اور ان کے وزراء کی ناکامیوں کا خمیازہ ملک کے عوام کو کیوں بھگتنا پڑے گا؟ ‘

آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کی ہے۔ ان کی قیادت میں کانگریس کی خواتین کارکنوں نے دہلی میں مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے گھر کے سامنے احتجاج کیا۔ بتایا گیا کہ  یہاں سے  کچھ کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی قیمتوں میں اضافے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک پوسٹ میں  انہوں نے لکھا، مودی حکومت میں لگاتار، رسوئی گیس کے دام میں ہاہاکار! آج سے ملک بھر میں گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔پچھلے دنوں مودی حکومت نے کہا تھاکہ ملک میں اس کی کوئی کمی نہیں ہے… پھر اچانک ایل پی جی کی قیمت کیوں بڑھائی گئی؟

انہوں نے مزید کہا،’کیا یہ ’آپدا میں اوسر ‘ہے ؟یک بات تو صاف ہے،’مودی ہے تو مہنگائی ہے! ‘

اسی سلسلے میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت ایک طرف ٹیکس لگاتی ہے اور دوسری طرف قیمتیں بڑھاتی ہے۔ یادونے کہا ، ’یاد رکھیں ،جب کسی چیز کی قیمت ایک بار بڑھ جاتی ہے تو وہ کم نہیں ہوتی …اور مہنگائی کی وجہ منافع خوری اور بدعنوانی ہے۔‘

انہوں نے ایکس پر لکھا،’جب جائیں گے بھاجپائی، تبھی گھٹے گی مہنگائی! ‘

شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما اور راجیہ سبھا کی رکن پرینکا چترویدی نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کو شرمناک اور افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے پہلے خام تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ لوگوں کو نہیں دیا، تو اسے نئے بحران سے لوگوں کوبچانا چاہیے تھا۔ یہ افسوسناک ہے کہ جب وہ کم قیمتوں پر تیل خرید رہے تھے، تو اس کا فائدہ صارفین  کو نہیں دیا گیا، اسےتیل کمپنیوں اور حکومت ہند نے جمع کر لیا۔ اب، جب ہم بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اس مسئلے کو کم کرنے کے بجائے، انہوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ ہندوستانی حکومت کو اس قیمت میں اضافہ واپس لینا چاہیے۔

بھاکپا (مالے) کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اب ہندوستان کے باورچی خانوں تک پہنچ گئی ہے۔