لندن میں مقیم ڈاکٹر اور یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف سخت تنقید کے لیے معروف ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر اور حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے تک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سنگرام پاٹل۔ (فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)
ممبئی: آج کے نئے ہندوستان میں سوشل میڈیا پر حکومت کی تنقید سے متعلق پوسٹ کرنے کا نتیجہ ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) جاری ہونے اور یہاں تک کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیا جانا بھی ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں لندن میں مقیم ڈاکٹر اور معروف یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت پر اپنی شدید تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران اس ہولناک تجربے سے گزرنا پڑا۔
برطانوی شہری اور نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایش)کے مشیر پاٹل اپنی اہلیہ کے ساتھ، جو خود بھی ایک ڈاکٹرہیں، 10 جنوری کو ممبئی پہنچے تھے۔ یہاں امیگریشن چیک پوائنٹ پر پہنچتے ہی اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور پوچھ گچھ کے لیے کرائم برانچ لے گئے۔ انہیں 15 گھنٹے سے زائد حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑا گیا۔
پولیس نے واضح کیا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا، بلکہ انڈین سول سروس کوڈ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس دیا گیا تھا۔
واضح ہو کہ اس دفعہ کے تحت پولیس معمولی جرائم کے معاملے میں کسی شخص سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے، لیکن اسے گرفتار نہیں کر سکتی۔
بیان ریکارڈ کرانے کے بعد انہیں اسی دن چھوڑ دیا گیا۔
بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا ، 2023 کی دفعہ 35(2)
اس دفعہ کے تحت جو کوئی بھی مذہب، نسل، جائے پیدائش، زبان ، برادری یا کسی اور بنیاد پر مختلف مذہبی، نسلی، لسانی یا علاقائی گروہوں یا ذاتوں یا برادریوں کے درمیان دشمنی، نفرت یا بغض کے جذبات پیدا کرنے یا اسے فروغ دینے کے ارادے سےیا جس کے ایسا کرنے کا امکان ہو، غلط معلومات، افواہ یا تشویشناک خبروں پر مشتمل کوئی بھی بات یا رپورٹ بناتا ہے ، شائع کرتا ہے یا مشتہر کرتا ہے، خواہ وہ الکٹرانک میڈیم سے ہی کیوں نہ ہو، اسے تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں کی سزا دی جائے گی۔
بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا ، 2023 کی دفعہ 35(3)
اس دفعہ کے تحت پولیس افسران تمام صورتوں میں، جہاں ذیلی دفعہ (1) کے تحت کسی شخص کی گرفتاری ضروری نہیں ہے، اس شخص کو نوٹس جاری کرے گا-جس کے خلاف معقول شکایت کی گئی ہے، یا مصدقہ معلومات موصول ہوئی ہیں، یا کوئی معقول شبہ ہے کہ اس نے قابل ادراک جرم کیا ہے- کہ وہ اس کے سامنے یا ایسی دوسری جگہ پر پیش ہونے کے لیے جو نوٹس میں بیان کیا گیا ہو۔
اس معاملے میں ڈاکٹر کے خلاف کارروائی بی جے پی عہدیدار نکھل بھامارے کی شکایت پر کی گئی ہے، جو بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہینڈل کرتے ہیں۔ بھامارے نے شکایت میں دعویٰ کیا کہ پاٹل نے فیس بک پر ‘قابل اعتراض مواد’ پوسٹ کیا تھا جس سے پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کی شبیہ خراب ہوئی۔
پاٹل، جو سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں، نے پی ایم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کئی پوسٹ شیئر کیے ہیں۔ ان کی ایک پوسٹ میں بغیر کسی پس منظر کے طنزکیا گیا ہے، جو فی الحال سوالوں کے گھیرے میں ہے۔
بھامارے نے ‘شہر وکاس اگھاڑی’ نامی ایک اور اکاؤنٹ کے خلاف بھی شکایت درج کرائی ہے۔
شکایت میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)کی دفعہ 353(2) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو عوامی شرپسندی/غلط معلومات پھیلانے اور دشمنی کو بھڑکانے والے بیانات سے متعلق ہے۔ اس دفعہ میں زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا ہے اور یہ قابل ضمانت جرم ہے۔
ممبئی پولیس کی کرائم برانچ یونٹ III نے بھامارے کی شکایت پر کارروائی کی ہے۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد پاٹل کو 16 جنوری کو مزید پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔
اس سلسلے میں پاٹل نے دی وائر کو وہاٹس ایپ چیٹ کے ذریعے بتایا، ‘میں نے اپنا جواب تحریری طور پر دے دیا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے 19 جنوری کی صبح پولیس کو اپنے طے شدہ واپسی کے سفر کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا، ‘پولیس نے مجھے یقین دلایا تھا کہ میرے خلاف جاری ایل او سی واپس لے لیا جائے گا۔’
تاہم، 19 جنوری کو، جب پاٹل اپنی صبح 8 بجے کی فلائٹ میں سوار ہونے والے تھے، انہیں دوبارہ روک دیا گیا۔ تب انہیں معلوم ہوا کہ ایل او سی ہٹائی نہیں گئی ہے ۔
اگرچہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایل او سی میں نرمی کی گئی ہے، لیکن پاٹل کو ‘مزید پوچھ گچھ’ کے لیے ہندوستان میں روکا گیا ہے۔
پاٹل کو اب 22 جنوری کو دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے اپنی ‘ون لائن فیس بک پوسٹ’ کو بتاتے ہیں۔
انہوں نے دی وائر کو بتایا،’ایک جملے والی فیس بک پوسٹ کے لیے پولیس کی اس حد تک کارروائی – جس میں عوامی حکم امتناعی اور ایف آئی آر بھی شامل ہے – نے نہ صرف مجھے بلکہ میرے اہل خانہ کو بھی بہت پریشان کیا ہے۔’
اس حوالے سے ان پر عائد پابندیوں کی خبر سامنے آتے ہی برطانوی ہائی کمیشن بھی اس میں شامل ہوگیا۔
پاٹل نے دی وائر کو بتایا کہ برطانوی ہائی کمشنر اور ایم پی کلیئر ہیوز دونوں ہی ان کے معاملے پر نظر رکھ رہے ہیں۔
انہوں نے ہیوز کے دفتر سے موصول ہونے والے ایک ای میل جواب کا بھی اشتراک کیا، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ وہ برطانوی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مداخلت کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔