این آئی اے کے مقدموں کے وکیل ’اقرار جرم کی درخواستوں‘ کے کھیل کو بخوبی سمجھتے ہیں

دہشت گردی کے معاملے میں اپنے موکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کیے جانے کے بعد بھی ان کا دفاع کرنے کے حوالے سے وکیلوں کے پاس الگ-الگ وجوہات ہیں، لیکن وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ این آئی اے ہی ان درخواستوں کو فروغ دے رہی ہے اور حتیٰ کہ اس کے لیے دباؤ بھی بنا رہی ہے۔

دہشت گردی کے معاملے میں اپنے موکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کیے جانے کے بعد بھی ان کا دفاع کرنے کے حوالے سے وکیلوں کے پاس الگ-الگ وجوہات ہیں، لیکن وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ این آئی اے ہی ان درخواستوں کو فروغ دے رہی ہے اور حتیٰ کہ اس کے لیے دباؤ بھی بنا رہی ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

(یہ رپورٹ پلتجر سینٹر آن کرائسس رپورٹنگ کے تعاون سے  کی جا رہی دی وائر کی’دی فورسڈ گلٹ پروجیکٹ’ سیریز کا تیسرا حصہ ہے۔پہلے حصے کو یہاں اور دوسرے حصے کو یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔)

 

نئی دہلی: پٹنہ ضلع عدالت کی صبحیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ صبح  10:30 بجے  تک پولیس کی وین کورٹ کے کیمپس میں قطار بنا کر کھڑی ہو جاتی ہیں، جن سے پرانے اور نئے قیدیوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔

لمبی رسی والی ہتھکڑی میں باندھ کر انہیں عدالت کے سامنے پیشی کے لیے لے جایا جاتا ہے، انہیں پھر اسی وین میں واپس ٹھونس دیا جانا ہوتا ہے اور یا تو پولیس حراست میں یا پٹنہ کی بیور سینٹرل جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔

اسی ہجوم میں لیگل ایڈ (قانونی امداد)  وکیل گنیش تیواری کو احتیاط سے ایک گروہ کے پیچھے پہلی منزل کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالتیں ہیں۔

اکثر این آئی اے کی جانب سے ملزم بنائے گئے افراد دور دراز ریاستوں سے آتے ہیں۔ ان میں سے متعدد، خصوصی طور پر جنوبی اور مشرقی ریاستوں سے آنے والے، مقامی زبانیں نہیں بول پاتے۔ ان کے اہل خانہ، جو عموماً غریب ہوتے ہیں، نہ تو طویل فاصلے طے کر پاتے ہیں اور نہ ہی برسوں چلنے والے قانونی مقدمات کے لیے قابل وکیل تلاش کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ زیادہ متبادل نہ ہونے کی وجہ سے وہ وکیل مقرر کرنے کا کام عدالت پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہیں وکیل تیواری اس سین میں شامل ہوتے ہیں۔

لیگل ایڈیاقانونی امداد ایک آئینی حق ہے، جو کسی شخص کو اس وقت مہیا کرایا جاتا ہے، جب وہ اپنے لیے وکیل کے اخراجات اٹھانے کے قابل نہ ہو۔ وکیل تیواری پٹنہ ضلع عدالت کے پینل کے سینئر وکیلوں میں ہیں اور وہ بنیادی طور پر یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ) کے تحت ملزمین کے مقدموں کو سنبھالتے ہیں۔

حالاں کہ، تیواری کی تقرری حکومت کی جانب سے ہوئی ہے، لیکن ایک لیگل ایڈ وکیل کے طور پر ان کا کام اپنے مؤکل کا دفاع کرنا ہے۔ لیکن ان کے لیے اس دفاع کا مطلب زیادہ تر معاملوں میں اپنے مؤکلوں کو اپنا گناہ قبول کرنے کے  لیے راضی کرنا ہے۔ ان کا استدلال ہے، ’یہ معاملے بہت طویل عرصے تک چلتے ہیں۔ اس لیے میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ ان کے پاس غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کا ایک راستہ ہے۔ اقرار جرم کی درخواست دائر کرنا  واحد آپشن ہے۔‘

دی وائر سے بات چیت میں تیواری نے دعویٰ کیا کہ تقریباً چھ معاملوں میں، جو جعلی کرنسی سے متعلق تھے، انہوں نے ملزمان کو اقرار جرم کی درخواست لکھنے میں مدد کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں کی تیاری کے دوران بعض اوقات این آئی اے افسران کے ساتھ بھی ’مشورہ‘ کیا جاتا ہے۔

تاہم، ایسے الزامات پر این آئی اے کے ترجمان سختی سے ایجنسی کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس عمل میں ایجنسی کا کوئی کردار نہیں ہوتا، اور اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر ملزم کا ہوتا ہے اور یہ  عدالت کے صوابدیدی اختیار کے تحت آتا ہے۔

وکیل تیواری کو اپنے مقدموں کے ’تیز تر تصفیے‘پر بھی فخر ہے۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا؛

میرے مقدمے گھسٹتے نہیں رہتے ہیں۔ میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ میرے مقدمے جلد نمٹا دیے جائیں۔

تیواری مقدموں کے جلدی مکمل ہونے کے لیے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح  دفاع کا عمل این آئی اے کے لیے زیادہ سے زیادہ ممکنہ سزا کی شرح کو یقینی بناتا ہے، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ معاملے میں مؤکل کا حقیقی کردار کیا تھا۔

جیسا کہ دی وائر نے اپنی اس سیریز میں اب تک دکھایا ہے، پٹنہ میں تیواری کے کام کرنے کا طریقہ دراصل پورے ہندوستان کےایک عمومی ٹرینڈ کا حصہ ہے۔ لیکن، وکیلوں کے پاس اس اقرار جرم کی حکمت عملی میں مؤکلوں کی مدد کرنے کے پس پردہ الگ -الگ وجوہات ہیں۔

◊◊◊

دہلی میں ایم ایس خان یو اے پی اے سے متعلق مقدمات میں ایک معروف نام ہیں۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کمپلیکس میں ان کا چھوٹا سا چیمبر گہما گہمی والی جگہ ہے۔ یہاں یو اے پی اے کے تحت ملزم افراد کے اہل خانہ روزانہ ان سے ملنے آتے ہیں۔

دوسری نسل کے وکیل خان اپنے پاس موجود یو اے پی اے مقدموں کی تعداد پر فخر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے؛

عملی طور پر این آئی اے اور دہلی  کی اسپیشل سیل کی جانب سے تفتیش کیے جانے والے تقریباً تمام یو اے پی اے معاملوں میں میں ایک یا دو ملزمان کی پیروی کر رہا ہوں۔

یہ سچ ہے کہ خان کے پاس دہشت گردی سے متعلق بہت زیادہ معاملے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کے مؤکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواست دائر کیے جانے والے معاملوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

وہ کہتے ہیں،’میں وہی کرتا ہوں جو میرے مؤکل کہتے ہیں۔‘ لیکن ایسا معلوم پڑتا ہے کہ انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ ان کے مؤکل یہ فیصلہ آزادانہ طریقے سے نہیں کر رہے ہیں۔

خان کہتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں — جب سے اقرار جرم کی درخواستوں کا رجحان بڑھا ہے ، انہیں اس بات کی واضح سمجھ پیدا ہو گئی ہے کہ کس طرح ایجنسی ملزمان کو ایسی درخواست دائر کرنے کے لیے ’تیار‘ کرتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے،’تہاڑ جیل میں این آئی اے افسران کی آمد و رفت لگی رہتی ہے۔ میرے زیادہ تر مؤکلوں سے این آئی اے افسران جیل میں ملاقات کرتے ہیں اور انہیں کم سزا کی پیشکش کرتے ہیں۔‘

اس دعوے کے جواب میں این آئی اے کے ترجمان نے صاف طور پر اس بات سے انکار کیا کہ این آئی اے افسران جیل میں کسی ملزم سے ملاقات کرتے ہیں یا ان سے اقرار جرم کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ایجنسی کے ترجمان نے کہا،’عدالتی احکامات کے بغیر ہمارے افسران کسی بھی ملزم سے ملاقات نہیں کرتے۔‘

دہلی کا لیگل ورلڈ یو اے پی اے کے حوالے سے خان کے طریقہ کار کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے۔ دی وائر نےجن وکیلوں سے ملاقات کی، ان میں سے کئی نے خان پر این آئی اے کے قاصد کے طور پر کام کرنے کا الزام لگایا۔ خان کو اس تنقید کی جانکاری  ہے۔

وہ کہتے ہیں؛

مجھ پر الزام لگانا آسان ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ میں ان وکیلوں میں بھی ہوں، جن کے مؤکلوں کے بری ہونے کی شرح بھی کافی بلند ہے۔ مگر اس پر کوئی بات نہیں کرتا ہے۔

اقرارجرم کے مقدمات کا مطالعہ کرتے ہوئے دی وائر نے پایا کہ سب سے زیادہ ملزم دوسری ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے جرائم کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ ان کی تفتیش بین ریاستی ہوتی ہے، جس میں متعدد ملزمان شامل ہوتے ہیں۔

اپنے قیام کے بعد کئی برسوں تک این آئی اے دہلی میں مقدمات درج کرتی رہی، جہاں اس کا صدر دفتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام ملزمان کو ایجنسی کے صدر دفتر دہلی منتقل کیا گیا اور انہیں تہاڑ جیل میں بند کیا گیا، جو اپنی شدید بھیڑ کے لیے بدنام ہے۔

سال2023کے پریزن اسٹیٹکس انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق، 200.2 فیصد کے ساتھ دہلی کی جیلوں میں سب سے زیادہ بھیڑ ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

این آئی اے کے مقدمے اپنی سست رفتاری کے لیے بدنام ہیں۔ خان کہتے ہیں کہ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ این آئی اے قانون (دفعہ 19) اور ضابطہ فوجداری (اب بھارت ناگرک سرکشا سنہتا یا بی این ایس ایس) (دفعہ 309)، دونوں  ہی میں تیز رفتار سماعت کا حکم دیا گیا ہے۔

دہلی میں این آئی اے کے لیے مخصوص عدالتوں کی تعداد صرف دو ہے۔ ان عدالتوں میں نہ صرف این آئی اے کی جانب سے تفتیش کیے گئے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے بلکہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے تحت آنے والے مقدمات کی شنوائی بھی یہیں ہوتی ہے۔ صرف دہلی میں ہی 300 سے زائد ایسے معاملے ہیں، جن کی تفتیش این آئی اے نے کی ہے اور جن کی سماعت اب بھی زیر التوا ہے۔ ان معاملوں کے چارج شیٹ بہت زیادہ صفحات پر مشتمل ہیں۔ تفتیش کے دوران ایجنسی متعدد گواہوں کے بیانات درج کرتی ہے، جن میں سے کئی کسی ملزم کے خلاف عائد کیے گئے کسی ایک الزام کی تائید میں دیے گئے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں روز کی سماعت کی گنجائش کافی کم ہو جاتی ہے، بھلے ہی قانون میں اس کا اہتمام کیا گیاہے۔

سال2022میں خان نے دہلی کے چند دیگر وکیلوں کے ساتھ مل کر این آئی اے عدالتوں میں بھیڑ کم کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن کیا اس سے صورتحال میں کوئی تبدیلی آئی؟

خان کا جواب ہے؛ نہیں۔

◊◊◊

کیرالہ کے کوچی میں دہشت گردی سے متعلق کئی مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل محمد صباح کہتے ہیں؛

معاملوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے مؤکلوں کے لیے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کئی معاملوں میں، جن میں صباح دفاعی وکیل  کی حیثیت سے شامل تھے، ان کے مؤکلوں نے بالآخر اقرار جرم کی درخواست (گِلٹی پلی) کا راستہ اختیار کیا—جس نے ان کے سامنے ایک اخلاقی مخمصہ کھڑا کر دیا۔ وہ کہتے ہیں؛

جب میں ان معاملوں کو لیتا ہوں تو ایک جامع قانونی حکمت عملی تیار کرتا ہوں۔ لیکن جب مقدمہ آگے نہیں بڑھتا، تو ملزم اس آپشن کو آزمانےکے لیے تیار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے قید سے رہائی کی امید بنتی ہے۔ اقرار جرم کی درخواست دینا، ان کے پاس واحد آپشن بچتا ہے۔

صباح کہتے ہیں کہ وہ کسی مقدمے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اپنے مؤکلوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ ان کا کہنا ہے؛

میں ان کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہوں اور عدالت میں ان کے لیے کم سے کم سزا کی کوشش کرتا ہوں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ میں ان کی درخواستوں سے متفق ہوں یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ میں اپنا کام دیانت داری سے کر رہا ہوں یا نہیں۔

ان 133 مقدموں میں جن میں این آئی اے عدالتوں نے فیصلے سنائے ہیں (این آئی اے کی ویب سائٹ کے مطابق، اپنے قیام سے لے کر 30 ستمبر 2025 تک کے اعداد و شمار)، ایجنسی تقریباً 54 معاملوں میں بحث پوری ہونے سے پہلے یا شواہد کی بنیاد پر سزا دلوانے کے بجائے ملزمان کی جانب سے اقرار جرم کی درخواست دائر کیے جانے کی بنیاد پر سزا حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ یہ کل معاملوں کا 40.6 فیصد ہے، جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

حالاں کہ کوئی ایسا جامع ڈیٹا موجود نہیں ہے، جس کے توسط سے این آئی اے کے ‘کامیاب’ ریکارڈ کا آسانی سے موازنہ کیا جا سکے، لیکن اس سیریز کے پہلے حصے میں ہم نے اقرار جرم کی درخواست اور ‘پلی بارگیننگ ‘ (ایسا عمل جس میں سزا میں نرمی کے بدلےاقرار جرم کی درخواست دی جاتی ہے) کے درمیان فرق کو واضح کیا تھا۔

وزارت قانون کی ایک حالیہ رپورٹ میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں ٹرائل عدالتوں میں جانے والے مقدموں میں کے صرف 0.11 فیصد کا تصفیہ پلی بارگیننگ کے ذریعے کیا گیا۔

آلاپوژا کے وکیل اور این آئی اے کے سابق سرکاری وکیل ایس عبد القادر کنجو کہتے ہیں ،این آئی اے کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے ان مقدمات کا مطالعہ کیا جانا چاہیے جو مکمل عدالتی عمل سے گزرے۔

کنجو کے مطابق، این آئی اے کی جانب سے نچلی عدالتوں میں سزا یابی کے باوجود ان میں سے زیادہ تر مقدمے اعلیٰ عدالتوں میں ٹک نہیں پاتے۔ وہ 2006 کے کوڑیکوڈدوہرے دھماکے کیس کی مثال دیتے ہیں۔

سال2022میں جانچ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا؛


تفتیش کاروں نے ملزمان کے بیانات کی تصدیق کے لیے آزادانہ طور پر باہر جا کر شواہد اکٹھا کرنے کی زحمت گوارانہیں کی۔ اگرچہ ہم یہ قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے کہ ان سے راز نکلوانے کے لیے ’لال مرچ‘کا استعمال کیا گیا تھا! معاملے کو انجام تک پہنچانے کی عجلت میں—اور یہاں ہم ’عجلت‘کا لفظ استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ ہمیں نہیں لگتا کہ این آئی اے کے افسران متعلقہ قانون سے ناواقف ہوں گے۔حتیٰ کہ انہوں نے ملزمان کے اعترافی بیانات بھی درج کر لیے، جبکہ ایویڈنس ایکٹ کی دفعات 25 اور 26 کے تحت یہ واضح طور پر ناقابل قبول ہیں۔


یہاں ‘لال مرچ’ سے مراد ملزمان سے اعترافی بیانات لکھوانے کے لیے زبردستی کرنایا سخت اور جابرانہ طریقے اختیار کرنا ہے۔

این آئی اے اور اس کی معاون سرکاری انسداد دہشت گردی ایجنسیوں پر وکیلوں، گرفتاکیے گئے ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ عدالتی کارروائی سے الگ اعترافی بیانات لکھوانےاور دباؤ ڈال کر ملزمین سے اقرار جرم کی درخواست لکھوانےحتیٰ کہ انہیں ‘اپروور’ بنانے پر مجبور کرتی ہیں۔

سال2019میں، ایک پروٹیکٹڈ وٹنس کو آئی ایس آئی ایس میں ان کے مبینہ کردار کے لیے  ٹرائل کا سامنا کر رہے اپنے دو مبینہ سابق ساتھیوں کے خلاف گواہی دینے کے لیے ممبئی کی این آئی اے کورٹ  میں لایا گیا تھا۔ 2015 کا یہ  معاملہ پہلے مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) کے پاس تھا اور چند مہینوں کے اندر اسے این آئی اے کو بھیج دیا گیا تھا۔

اس نوجوان گواہ نے دیگر ملزمین-محسن سید اور رضوان احمدکے ساتھ اپنی قربتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایس سے متاثر ہو کر ان تینوں نے کیسے ممبئی کے مالوانی میں واقع اپنے گھروں کو چھوڑا تھا۔ ابتدا میں اپنے بیان میں اس گواہ نے استغاثہ کے موقف کی تائید کی تھی، لیکن جب دفاعی وکیل عبدالوہاب خان نے شواہد کے ساتھ اس کی تردید کی تو وہ ٹوٹ گیا۔

اس نے عدالت کو بتایا کہ اسے اور اس کی ایک سالہ بیٹی کو کس طرح کی مبینہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ 2016 کے اوائل میں اسے اے ٹی ایس کے جوہو دفتر بلایا گیا، جہاں اس کی بیٹی کو برہنہ کر کے کارکے تپتے ہوئے بونٹ پر بٹھایا گیا تھا۔ اس کی گواہی میں لکھا گیا ہے؛

میری بیٹی کو برہنہ کر کےاسے کار کے بونٹ پر بٹھایا گیا۔ وہ دو-تین گھنٹے تک روتی رہی، لیکن کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ مجھے کہا گیا کہ میرا انکاؤنٹر کر دیا جائے گا اور میرے بچے یتیم خانے میں ہوں گے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

اس گواہ کا یہ بھی کہنا  ہےکہ اسے بے رحمی سے مارا پیٹا گیا  تھااور دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے تفتیش میں تعاون نہ کیا تو وہ برسوں تک جیل میں سڑتا رہے گا۔ اس کا الزام ہے کہ اسے ایک پرنٹیڈ (چھپے ہوئے) دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا، جسے بعد میں سید اور احمد کے خلاف اس کے بیان کے طور پر استعمال کیا گیا۔

کورٹ میں اپنی گواہی کے دوران اس نے کہا کہ اس اذیت کو برداشت نہ کر پانے کے باعث اس نے خودکشی کی کوشش کی۔ وہ کئی دنوں تک ایک سرکاری اسپتال میں بے ہوش پڑا رہا۔

وہاں اے ٹی ایس کے افسران مسلسل اس کے ساتھ موجود رہے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں وہ اپنے ساتھ ہوئی بدسلوکی کی شکایت نہ کر دے۔ اس صورتحال نے اس پر اور اس کی اہلیہ پر مزید دباؤ ڈالنے کا کام کیا۔

بعد میں این آئی اے عدالت میں اپنی گواہی کے دوران اس گواہ نے اے ٹی ایس پر اس طرح کا انتہا پسندانہ قدم اٹھانے پر مجبور کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے الزامات این آئی اے کے خلاف نہ ہوکر اے ٹی ایس کے خلاف تھے، جس کے پاس ابتدا میں اس معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری تھی۔ لیکن آزاد تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے معاملہ اپنے پاس آنے کے بعد بھی ان الزامات کی جانچ نہیں کی۔

جبکہ قانونی طور پر اس الزام  کا- کہ اے ٹی ایس نے ملزم کی  بچی کے ساتھ جنسی ہراسانی کی تھی ،کا نوٹس لینا لازمی ہے اور جانچ ایجنسی این آئی اے قانونی طور پر ایسا کرنے کی ذمہ دار تھی۔

لیکن ان سنگین الزامات کا نوٹس لینے – یعنی انہیں بے بنیاد قرار دینے یا قبول کرنے – کے بجائے، این آئی اے نے الٹا دفاعی وکیل پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ عدالت میں اس مسئلے کو اٹھا کر ’مقدمے کو گمراہ‘کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گواہ نے نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ کی گئی سفاکی کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ بچوں کے حقوق کی وکیل پرسس سدھوا کا کہنا ہے کہ کسی بچے کو برہنہ کرنا اور اسے اذیت دینا، بچوں پاکسو ایکٹ 2012 کے تحت واضح طور پر جنسی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

پاکسو ایکٹ اس بات کو لازمی قرار دیتا ہے کہ جو بھی شخص ایسے جرم کے بارے میں جانکاری رکھتا ہو، وہ فوراً اس کی شکایت درج کرائے گا۔ اس معاملے میں گواہ نے ٹرائل کورٹ کو مبینہ جنسی حملے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ اس لحاظ سے اس معاملے کو کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس ایکٹ 2005 کے تحت ہر ضلع میں قائم چائلڈ کورٹ کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔

سدھوا کہتے ہیں کہ تفتیش اور ٹرائل سے پہلے جنسی مقصد کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف پاکسو قانون بلکہ جووینائل جسٹس ایکٹ اور اس وقت کے انڈین پینل کوڈ (اب بھارتیہ نیائے سنہیتا) کی دفعات کے تحت بھی درج کیے جانے کے لائق ہے۔

گواہ کے بیان کے بعد وکیل عبدالوہاب خان نے مستعدی سے عدالت میں درخواست دی کہ اس بیان کو مزید کارروائی کے لیے پاکسو کورٹ کو بھیج دیا جائے۔ لیکن این آئی جج اے ٹی وانکھیڑے نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور این آئی اے کے اس دعوے کو قبول کر لیا کہ یہ ’ٹرائل کو لٹکانے کی چال‘ہے۔

بعد میں خان نے بامبے ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی، جسے انہوں نے اگست 2025 میں واپس لے لیا۔

خان نے دی وائر کو بتایا؛

چونکہ محسن سید اور رضوان احمد نے اقرار جرم کی درخواست (گِلٹی پلی) دائر کر دی ہے اور میں اب ان کی پیروی نہیں کر رہا ہوں، اس لیے ہائی کورٹ میں اس درخواست کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا تھا۔ اسی لیے یہ عرضی واپس لے لی گئی۔

وہ گواہ اب بھی مالوانی میں رہتا ہے اور روزی روٹی کے لیے پھلوں کی ریہڑی لگاتا ہے۔

اسی دوران، 2021 میں سات سال تک فیصلے کا انتظار کرنے کے بعد دو ملزم، سید اور احمد، نے اقرار جرم  کی درخواست دائر کر دی۔ عدالت نے انہیں آٹھ سال کی سخت قید کی سزا سنائی، جس میں سے جیل میں گزارے گئے ان کے سات سال منہا کر دیے گئے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

اس مقدمے کی پیروی کے لیے ممبئی کے این جی او جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقرر وکیل خان نے ملزمان کی جانب سے اقرار جرم کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد اس معاملے سے خود کو الگ کر لیا۔ چونکہ یہ این جی او صرف انہی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، جن کے بارے میں اسے یقین ہو کہ ملزمان بے گناہ ہیں اور انہیں غلط طریقے سے پھنسا دیا گیا ہے، اس لیے اقرار جرم کی درخواست کے بعد خان اس معاملے سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد اے کے بخاری کو ان  کی اقرار جرم کی درخواستوں پر آگے کی  کارروائی کے لیے وکیل مقرر کیا گیا۔

اس این جی او کے ساتھ کام کرنے والے قانونی مشیر شاہد ندیم، جو اس تنظیم کی جانب سے دیکھے جانے والے تمام معاملوں کی نگرانی کرتے ہیں، نے دی وائر کو بتایا کہ ان کی تنظیم  دہشت گردی کے معاملے میں کسی قصوروار شخص کی پیروی کو اخلاقی طور پر’ غلط‘سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا؛

کئی معاملات میں ہمیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے آخری چارہ کے طور پر اقرار جرم کی درخواست دینے کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن ایک بار جب کوئی شخص اس راستے کا انتخاب کر لیتا ہے، تو ہم اس کے ساتھ اپنا تعلق برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اسی لیے ہم معاملے سے الگ ہو گئے۔

وہ مزید کہتے ہیں؛

تاہم، یہ  دلچسپ ہے کہ جیسے ہی کوئی ملزم اقرار جرم کی درخواست دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اسے اپنا کیس لڑنے کے لیے نیا وکیل مل جاتا ہے۔

◊◊◊

نئی دہلی کی فوجداری وکیل دکشا دویدی کہتی ہیں، این آئی اے کے مقدموں میں اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے کے بارے میں  دہلی کی عدالتوں میں خوب چرچہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے؛

یہ رجحان اتنا عام ہو چکا ہے اور اسے اس طرح سے ضابطے کو بالائے طاق رکھ کر اپنایا جا رہا ہے کہ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ کیا اقرار جرم کی درخواستیں ہی این آئی اے کے لیے مقدمے کے تصفیے کا واحد طریقہ بن گئی ہیں۔

وقت کے ساتھ دویدی نے ایک طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ جب ان کا کوئی مؤکل اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے  کی اپنی خواہش  کا اظہار کرتا ہے، تو وہ اس کے نتائج پر تفصیل سے بات کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں؛

حال ہی میں این آئی اے نے دہلی میں میرے ایک مؤکل سے رابطہ کیا۔ میں نے اپنے مؤکل اور اس کے والدین سے بات کی اور انہیں بتایا کہ این آئی اے دراصل کیا چاہ رہی ہے۔ آخرمیں اس نے اقرار جرم کی درخواست نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

لیکن ان کے پاس آنے والے ہر مقدمے میں ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ مقدموں میں طویل قید کے دوران جب کسی شخص کو اقرار جرم کی درخواست کے آپشن کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو وہ خود ہی فیصلہ کر لیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں؛

ایسے معاملوں میں میں بس اتنا ہی کر سکتی ہوں کہ ان کے ساتھ زبردستی نہ کی جائے اور یہ ان کے لیے نقصاندہ سودا ثابت نہ ہو۔

دویدی نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کی وفاداری پوری طرح سے ان کے مؤکلوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں؛

اقرار جرم کی درخواستوں کے بارے میں میری ذاتی رائے کوئی معنی نہیں رکھتی، جب مجھے ان سخت حقائق کا علم ہو جن کا سامنا میرے مؤکلوں کو کرنا پڑتا ہے۔ انہیں طویل قید کی اذیت جھیلنی پڑتی ہے اور اکثر اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے یہی ان کے پاس بچا ہوا آخری راستہ ہوتا ہے۔ لیکن میں یہ یقینی بناتی ہوں کہ میں اپنے مؤکل کو ہر بات سمجھاؤں — یعنی زیادہ سے زیادہ سزا کے امکان اور اس کے ساتھ لگنے والے داغ وغیرہ۔

شنوائی مکمل ہونے سے پہلے اقرار جرم کی درخواستیں دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے وکیلوں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف ان کے سامنے اپنے موکلوں کے دفاع کی اخلاقی ذمہ داری ہے، تو دوسری طرف انہیں مقدموں کے بوجھ تلے دبی عدلیہ کی تلخ حقیقتوں کا بھی پتہ ہے۔

ملک کی ایک اعلیٰ انسداد دہشت گردی ایجنسی کے طور پر معروف  این آئی اے وقت کے ساتھ معقول شک سے بالاتر سزایابی کے بجائے،  ماورائےعدالتی اعترافات، گواہیاں تیار کرنے اور رضاکارانہ اقرار جرم کی درخواستوں پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایجنسی سزایابی کے جن معاملوں پرفخر کرتی ہے، وہ انہی ’خطرناک دہشت گردوں‘کے بیانات پر قائم ہیں، جن کے جرائم ثابت کرنے کے لیے اس ایجنسی کا قیام عمل میں آیا تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔