یو جی سی کے نئے ضوابط کا استقبال کرنے اور انہیں بہتر بنانے کے بجائے ملک کو گمراہ کیا جا رہا ہے

یو جی سی کے ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم، اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

یو جی سی کے ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم، اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر

 ان دنوں اعلیٰ ذاتوں کی ایک منظم لابی سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور مرکزی حکومت کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔ ملک کے کئی حصوں سے خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ بی جے پی کے بہت سے حامی بھگوا لیڈروں کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر رہے ہیں اور عوامی مقامات پر نصب ان کے پوسٹروں اور بینروں کو پھاڑ کر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ان کی ناراضگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس بی جے پی حکومت کو اقتدار میں لانے کے لیے انہوں نے ‘پوری جان لگا دی’ تھی، وہی حکومت اب اعلیٰ ذاتوں کے بچوں کے ‘مستقبل سے کھیل رہی ہے’۔

بی جے پی بھی اب یہ بات محسوس کر چکی ہے کہ یہ معاملہ ووٹ بینک کے نقطہ نظر سے نہایت حساس رخ اختیار کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو پریس کے سامنے آ کر یہ کہنا پڑا کہ یو جی سی ضوابط کا استعمال کبھی بھی کسی بھی طرح کے امتیاز کو فروغ دینے کے لیے نہیں کیا جائے گا اور حکومت کبھی بھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گی کہ کسی فرد یا کسی گروہ کے ساتھ بھید بھاؤ ہو۔

بی جے پی کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اسے اَگڑی اور پچھڑی دونوں جماعتوں کو خوش رکھنا ہے، جو یو جی سی ضوابط کے معاملے میں فی الحال خاصا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، جہاں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جئے مالا کی ڈویژن بنچ نے 29 جنوری کو یو جی سی ضوابط پر فی الحال روک لگا دی ہے اور مرکزی حکومت اور یو جی سی سے اس پورے معاملے پر 19 مارچ تک جواب طلب کیا ہے۔

اس فیصلے نے محکوم طبقات کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں اعلیٰ ذات کی لابی عدالت کے فیصلے سے ‘راحت محسوس’ کر رہی ہے، وہیں محکوم طبقات خود کو گہری مایوسی اور بے بسی کی کیفیت میں دیکھ رہے ہیں۔

قانونی معاملات کے ماہرین کی رائے ہے کہ عدالت کے اس فیصلے نے ایک بار پھر اس تصور کو تقویت دی ہے کہ کورٹ اکثر ریزرویشن اور دیگر سماجی انصاف کے معاملات میں قدامت پسند رخ اختیار کرتا رہا ہے۔ کارکردگی کو برقرار رکھنے کے نام پر کمزور طبقات کے لیے قانون ساز اداروں کی جانب سے منظور شدہ ریزرویشن پالیسیوں اور دیگر قوانین و پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں۔

اسی طرح مستند اعداد و شمار کی کمی اور معاشرے میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کو بنیاد بنا کر، ذات پات کی درجہ بندی میں نچلے پائیدان پر رکھے گئے طبقات کو بااختیار بنانے والے قوانین کو روکنے یا مسترد کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

یہ تضاد اور حرکیّت جمہوری قوتوں اور عدلیہ کے درمیان اختیار کیے گئے دو مختلف رویوں کی واضح نشاندہی کرتی ہے، اور یہی صورتحال موجودہ یو جی سی ضوابط کے معاملے میں بھی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ یو جی سی نے 13 جنوری کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط نوٹیفائی کیے تھے۔

یہ سب کچھ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کا حاصل ہے۔ مگر ان تمام پہلوؤں کو مین اسٹریم میڈیا مسلسل نظر انداز کر رہا ہے اور اسٹوڈیوز میں بیٹھے اینکر اعلیٰ ذات کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ مبینہ ‘کھلواڑ’ کے نام پر ماتم کر رہے ہیں۔

ماحول کچھ اس طرح بنایا جا رہا ہے کہ جیسے یو جی سی کے ضوابط نافذ ہونے کے بعد ملک بھر میں اعلیٰ ذات کے طلبہ کے خلاف امتیاز برتنے کا لائسنس سرکار سب کو دے دے گی۔

تضاد دیکھیے کہ جب بھگوا سیاسی جماعت مذہب کے نام پر لوگوں کو موبلائز کرتی ہے تو اعلیٰ ذات کی اس لابی کو اس میں کوئی سیاست اور کوئی ووٹ بینک نظر نہیں آتا، لیکن جب محکوم طبقات کو تھوڑی سی راحت دینے والی کوئی پالیسی سامنے آتی ہے تو وہی لابی اسے ‘ووٹ بینک کی گندی سیاست’ سے تعبیر کرتی ہے۔

سماج کی طاقتور لابی کی یہ تنگ نظری اور مفاد پرستانہ سیاست ہے کہ وہ ملک کے تعلیمی اداروں میں برسوں سے جاری ذات اور برادری کے نام پر ہونے والے امتیازات کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ ہر روز دلت، آدی واسی، او بی سی اور اقلیت، بالخصوص مسلم طلبہ کے خلاف ہونے والے بھید بھاؤ کو یا تو نظر انداز کرتی ہے یا جان بوجھ کر اس سے چشم پوشی اختیار کرتی ہے۔

روہت ویمولا کی شہادت کو اس ملک کے محکوم طبقات اور انصاف پسند حلقے کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے، جو سال 2016 میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ادارہ جاتی قتل کا شکار ہوئے تھے۔ بات صرف روہت تک ہی محدود نہیں ہے۔ ملک کا حاشیہ بردار سماج پائل تڑوی کے خلاف ہوئے ظلم و زیادتی کو بھی نہیں بھلا سکتا۔

یاد رہے کہ سال 2019 میں ممبئی کے ایک میڈیکل کالج کی طالبہ پائل کو ذات پات پر مبنی ہراسانی نے اس حد تک توڑ دیا کہ وہ خودکشی پر مجبور ہو گئیں۔ یہ اموات کوئی انفرادی سانحات نہیں، بلکہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور امتیاز کی علامت ہیں۔

محکوم طبقات کے خلاف ہو رہے بھید بھاؤ کے کچھ معاملات جہاں پولیس اور انتظامیہ کی نگاہ میں آ جاتے ہیں، وہیں بہت سے دوسرے واقعات سرکاری رپورٹوں میں شامل ہونے سے پہلے ہی دبا دیے جاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی سماجی ساخت کو دیکھنے سے کوئی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان اداروں میں آج بھی اعلیٰ ذاتوں کی لابی سب سے زیادہ طاقتور ہے، جو بہوجن طلبہ، اساتذہ اور کرمچاریوں کو پیچھے دھکیلنے کی مسلسل کوشش کرتی ہے تاکہ صدیوں پرانی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔

دی وائر کی 24 جولائی 2025 کی ایک رپورٹ، جو سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے شائع ہوئی، کے مطابق، پروفیسر سطح کی اسامیوں میں 80 فیصد او بی سی، 64 فیصد دلت اور 83 فیصد قبائلی زمروں کی نشستیں خالی پڑی ہیں۔

اسی طرح دی انڈین ایکسپریس میں 5 دسمبر 2023 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، مرکزی جامعات سے تعلیم چھوڑنے والے طلبہ کی مجموعی تعداد 13626 ہے، جو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف برانچوں میں انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ میں داخل تھے۔

یہ اعداد و شمار حال ہی میں وزیرِ مملکت برائے تعلیم سبھاش سرکار نے پارلیامنٹ میں ایک تحریری جواب کے ذریعے پیش کیے۔

ملک کے ممتاز تعلیمی ادارے بدستور حاشیے پر موجود طبقات کو نظرانداز کیے ہوئے ہیں، اور تازہ ترین اعداد و شمار اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ آئینی طور پر لازمی قرار دی گئی ریزرویشن پالیسیوں پر 45مرکزی جامعات میں تاحال مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو پا رہا۔

او بی سی کے لیے ریزرویشن کی شرح 27 فیصد مقرر ہونے کے باوجود، 45 مرکزی جامعات میں او بی سی پروفیسرز کی نمائندگی محض 4 فیصد تک محدود ہے، جبکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر کی سطح پر بھی صورتِ حال میں کوئی نمایاں یا خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آتی اور ان کی شراکت بالترتیب صرف 6 فیصد اور14 فیصد تک ہی پہنچ پاتی ہے۔

یہ تمام معلومات لوک سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہیں، جو وزیرِ مملکت برائے تعلیم سبھاش سرکار نے اگست 2023میں آندھرا پردیش کے کرنول حلقے سے یوجنا شراومک رائتھو کانگریس پارٹی کے رکنِ پارلیامنٹ سنجیو کمار سنگاری کے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

مزید برآں، غیر تدریسی عملے میں بھی او بی سی ریزرویشن کی تکمیل نہیں ہو سکی، کیونکہ مرکزی جامعات میں ان کے حصے میں صرف 12 فیصد نشستیں آئی ہیں۔

اتنا ہی نہیں، یونیورسٹیوں میں زیادہ تر وائس چانسلرز، جن کے ہاتھوں میں اداروں کی مجموعی کمان اور فیصلہ سازی کی طاقت ہوتی ہے، اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والی برادریوں سے آتے ہیں، جبکہ آدی واسی اور دلت پس منظر سے تعلق رکھنے والے وائس چانسلرز کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

جب یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے لے کر تدریسی عملے تک کی اکثریت سماج کے طاقتور اور مراعات یافتہ طبقات سے ہی آئے گی تو اداروں کے اندر بھید بھاؤ، عدم مساوات اور تفریق کے امکانات فطری طور پر بڑھ ہی جاتے ہیں۔

دی پرنٹ میں 8 اگست 2022 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومتِ ہند نے پارلیامنٹ کو یہ اطلاع دی کہ ملک کی 45 مرکزی جامعات میں ایس سی اور ایس ٹی سے تعلق رکھنے والے وائس چانسلرز کی تعداد بالترتیب صرف ایک ایک ہے۔

اس حقیقت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پالیسی سازی اور اعلیٰ ترین انتظامی سطح پر جامعات میں ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کی نمائندگی کس قدر کم اور ناکافی ہے۔

ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کی مجموعی آبادی تقریباً 25فیصد کے لگ بھگ ہے، اور اگر آبادی کے تناسب سے وائس چانسلر کے عہدے پر ان کی نمائندگی ہونی چاہیے تو کم از کم 11 وائس چانسلرز ان حاشیہ بردار طبقات سے تعلق رکھنے چاہئیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد محض دو ہے، جو تقریباً 4فیصد بنتی ہے اور ان کے آئینی و جمہوری حق سے کہیں کم دکھائی دیتی ہے۔

علامتی تصویر۔ تصویر: whatcouldgowrong/Flickr، CC BY 2.0

بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حاشیے پر موجود طبقات کو وائس چانسلر کی سطح پر نمائندگی کیوں دی جائے؟ اس کا جواب سماجی انصاف کی منطق میں یہ ہے کہ محض اچھے قوانین بنا دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ حاشیے پر موجود ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد فیصلہ سازی کے ان اعلیٰ مناصب پر موجود ہوں جو ان قوانین کو حقیقی اور مؤثر عملی شکل دے سکیں۔

جامعات میں بہوجن طلبہ کے ساتھ گہرے اور منظم امتیاز کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات انتظامیہ اعلیٰ ذاتوں کی لابی کے زیرِ اثر ہوتی ہے، جو نہ تو حاشیے پر موجود طبقات کے مسائل کے تئیں حساس ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی سماجی و تعلیمی مشکلات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، کیونکہ وہ عموماً اپنے ذاتی مفادات اور اپنی ذاتوں کے اجتماعی مفادات سے آگے سوچنے سے قاصر رہتی ہے اور یوں سب کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

اسی پس منظر میں یہ بات نہایت ضروری ہو جاتی ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں بہوجن طبقات کی متناسب، بامعنی اور مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ انصاف، مساوات اور شمولیت کے اصول محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی سطح پر بھی نافذ ہو سکیں۔

ان تمام باتوں سے یو جی سی یقیناً باخبر رہی ہوگی۔ اگرچہ تعلیمی اداروں کے اعلیٰ اور بااثر مناصب پر فائز حکام منظم اور ادارہ جاتی سطح پر ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، مگر محکوم طبقات کے دلوں میں یہ احساس رفتہ رفتہ اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے ان کے لیے دانش گاہ بننے کے بجائے قبرگاہوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے تھے۔ انہی تلخ اور ناقابلِ انکار حقائق کے پس منظر میں یو جی سی کی جانب سے مساوات سے متعلق ضوابط متعارف کرائے گئے۔


اگرچہ یو جی سی کے ان ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے دانستہ طور پر اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔


یہ بات بھی عقل وفہم سے بالاتر ہے کہ اعلیٰ ذاتوں کی لابی بار بار یہ دلیل پیش کر رہی ہے کہ یو جی سی ریگولیشن جنرل کٹیگری کے طلبہ کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ ان کی یہ سراسر غلط منطق اس مفروضے پر قائم ہے کہ ضوابط میں صرف دلت، آدی واسی اور او بی سی طلبہ کو ذات پات پر مبنی امتیاز کے ممکنہ شکار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ کرنا کہ اعلیٰ ذات کے طلبہ کو بھی محض اپنی شناخت کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا ہو سکتا ہے، نہ تو کسی مضبوط سماجی یا تاریخی دلیل پر مبنی ہے اور نہ ہی یہ سماجی انصاف کی بنیادی منطق سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔

وہ اس سادہ مگر بنیادی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حاشیے پر موجود ذاتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور ضوابط کا اصل مقصد امتیاز کا خاتمہ اور مساوات، آزادی اور اخوت کے اصولوں پر مبنی سماج کی ازسرِ نو تشکیل ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر بس میں چند نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر دی جائیں تو یہ پالیسی نہ تو مردوں کے مفاد کے خلاف ہوتی ہے اور نہ ہی مردوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز روا رکھتی ہے، بلکہ مردانہ بالادستی پر مبنی سماج میں خواتین کے لیے نشستیں یقینی بنانا سماجی انصاف کے فروغ اور جمہوری اقدار کے استحکام کی سمت ایک بامعنی قدم ہوتا ہے۔

تاہم اس سادہ اور قابلِ فہم منطق کو دانستہ طور پر نظر انداز کر کے ایک غیر ضروری ہیجان انگیزی پیدا کی جا رہی ہے، گویا نئے یو جی سی ضوابط کے نفاذ سے اعلیٰ ذات کے طلبہ پر کوئی بڑا ظلم ٹوٹ پڑنے والا ہو۔

اعلیٰ ذاتوں کی لابی یہ احتجاج بھی کر رہی ہے کہ نئے یو جی سی ضوابط میں جھوٹی شکایات پر سزا سے متعلق کوئی واضح اور سخت شق شامل نہیں کی گئی، جس پر انہیں شدید بے چینی لاحق ہے۔

اس صورتِ حال میں ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ایک جانب نچلی ذاتوں کے ساتھ امتیاز کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور دوسری جانب جو قانون انہی مسائل کے ازالے کے لیے وضع کیا جا رہا ہے، اس کی مخالفت اس بنیاد پر کی جا رہی ہے کہ اس میں جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کے لیے سخت سزاؤں کی کوئی مضبوط ضمانت موجود نہیں۔

بادی النظر میں یہ منطق دراصل ذات پر مبنی طاقت کے اس استعمال کو تقویت دیتی دکھائی دیتی ہے، جس کے ذریعے متاثرہ اور محروم طبقات کو ہراساں اور خوف زدہ کیا جا سکے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اعلیٰ ذاتوں کی لابی ان ضوابط کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرنا چاہتی ہے اور اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ ان میں ایسی شق شامل کی جائے جس کے ذریعے وہ جھوٹی شکایات کے نام پر کارروائی کر سکیں۔

دوسرے لفظوں میں، یہ ایک منظم کوشش ہے جس کا مقصد محروم اور محکوم طبقات کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرانا اور انہیں اپنے بنیادی حقوق کے مطالبے سے باز رکھنا ہے۔

یہ بات طاقتور طبقہ اکثر یاد نہیں رکھنا چاہتا کہ بھارت کے آئین میں سماجی انصاف اور دبے کچلے، محکوم طبقات کی فلاح و بہبود کا واضح وعدہ کیا گیا ہے۔ آئین معاشرے میں موجود غیر برابری کو ختم کرنے اور مساوات کی بنیاد پر سماج کی ازسرِنو تشکیل کی بات کرتا ہے۔

محکوم طبقات کو انصاف تب ہی مل سکتا ہے جب ان کے خلاف بھید بھاؤ ختم ہو، اور بھید بھاؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سرکار ذات برادری کی بنیاد پر موجود عدم مساوات کو دور کرے۔

یہ حقیقت مین اسٹریم میڈیا اکثر دبا دیتا ہے کہ جہاں ہمارا آئین جمہوریت اور برابری کی بات کرتا ہے وہیں ہمارا معاشرہ آج بھی ذات پات کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو ملک کی جمہوریت تب تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک معاشرتی غیر برابری کو ختم نہ کیا جائے اور سماجی اصلاح نہ ہو۔

بھارت میں ذات پات کی غیر برابری سب سے بڑی سچائی ہے۔ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی زمینوں پر آج بھی انہی کا قبضہ ہے جو اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ دلت، آدی واسی اور پسماندہ ذاتیں غربت میں مبتلا ہیں اور ان کی ترقی کی راہ میں بڑے بڑے پتھر ڈال دیے گئے ہیں۔

جہاں اعلیٰ ذاتوں کی آبادی کم ہے وہیں وسائل پر ان کا سب سے زیادہ قبضہ ہے، چاہے بات زمین کی ہو یا صنعت کی، تعلیمی اداروں کی ہو یا سرکاری محکموں کی، فلم اور کلچر کی دنیا کی ہو یا مذہبی اداروں کی—ہر طرف آج بھی اعلیٰ ذاتوں کی بالادستی قائم ہے اور وہ سماج کی بڑی آبادی یعنی دلت، آدی واسی، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کو ان کا جائز حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جوتی راو پھولے سے لے کر ڈاکٹر امبیڈکر تک بار بار اس بات کو دہراتے رہے کہ اعلیٰ ذاتوں کی بالادستی اور شودروں و اتی شودروں کی غلامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ طاقتور لوگوں نے محکوم طبقات کو تعلیم سے دور رکھا۔

حالانکہ آزادی کے بعد اور امبیڈکری تحریکوں کے ذریعے محکوم طبقات کے تعلیمی و دیگر حقوق کے لیے بڑی لڑائیاں لڑی گئیں اور ان کے لیے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے دروازے کھولے گئے، مگر یہ بھی ایک بڑی سچائی ہے کہ آج بھی اعلیٰ ذات کے لوگ اپنے کاسٹ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی برادری کے بچوں کو زیادہ نمبر دلواتے ہیں اور نوکریوں میں مدد کرتے ہیں، جب کہ دلت، آدی واسی، پسماندہ ذات اور اقلیتوں کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے بجائے انہیں طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔


زمینی حقیقت یہ ہے کہ بہوجن سماج کو ابھی تک اس کا پورا حق نہیں ملا ہے، مگر اعلیٰ ذات کی لابی یو جی سی کے ان ضوابط کا استقبال کرنے اور انہیں بہتر بنانے کے بجائے انہیں سماج کو توڑنے والا بتا کر ملک کو گمراہ کر رہی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عدالت بھی دبے کچلے سماج کے درد اور ان کے خلاف ہونے والے روزمرہ امتیازات کو دور کرنے کے بجائے شور مچانے والی دلیلوں سے متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں یو جی سی کے ضوابط پر روک لگا دی اور کہا ہےکہ 2012 کے ضوابط ہی نافذ رہیں گے۔


سوشل جسٹس کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ ذات کی لابی کو ان ضوابط سے اس لیے سب سے زیادہ پریشانی ہے کیونکہ پہلی بار یو جی سی نے ذات برادری کے نام پر امتیاز کے شکار طلبہ کی فہرست میں دلت اور آدی واسی کے ساتھ ساتھ او بی سی کو بھی شامل کیا ہے۔

حالانکہ اعلیٰ ذات کی لابی یہ افواہ پھیلا رہی ہے کہ او بی سی ایک طاقتور جماعت ہے اور اسے ایس سی اور ایس ٹی کے ساتھ شامل نہیں کیا جانا چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ او بی سی سماج کے لوگ آج بھی تعلیمی اداروں میں ہر روز بھید بھاؤ جھیل رہے ہیں اور انہیں آج بھی ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں ملی ہے۔

حالانکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ضوابط میں بہت سی اصلاحات کی گنجائش ہے۔ سابق یو جی سی چیئرمین پروفیسر سکھدیَو تھوراٹ نے 28 جنوری کو ہندوستان ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں موجودہ یو جی سی ضوابط کی کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ بہت سے ادارے ان ضوابط کو نافذ کرنے کی ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ 2016 کے یو جی سی ضوابط، 2012 کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ نئے ضوابط کے نافذ ہونے کے بعد بھی کئی طرح کے امتیازات ختم نہیں ہوں گے کیونکہ ان میں امتیاز کی حدیں بہت محدود انداز میں متعین کی گئی ہیں۔

پروفیسر تھوراٹ نے کمیٹی کی تشکیل پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کی کم از کم 50 فیصد نمائندگی ہونی چاہیے، لیکن موجودہ یو جی سی ضوابط اس بارے میں بالکل خاموش ہیں۔

بھارت جیسے غیر برابری پر مبنی معاشرے میں ہمیں ایسے ضوابط اور ان سے بھی بہتر ضوابط کا استقبال کرنا چاہیے، کیونکہ سماج میں غیر برابری کو ختم کر کے ہی ہم ایک مضبوط معاشرے اور ایک مضبوط ملک کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

اس بحث میں ایک بات کبھی نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ صرف قوانین اور ضوابط بنا دینا کافی نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں، زیادہ قوانین ہونا لازمی طور پر انصاف کی ضمانت نہیں دیتا۔

ہمارے ملک میں کئی ایسے قوانین موجود ہیں اور متعدد ادارے قائم کیے گئے ہیں جو محکوم اور حاشیہ بردار طبقات کے حقوق کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کمزور طبقوں کو آج بھی مکمل انصاف نہیں مل پایا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوانین پر صحیح طور سے عمل نہیں ہوتا اور انتظامیہ و حکومت کی سطح پر سیاسی عزم اور سنجیدگی کی کمی پائی جاتی ہے۔

اس مسئلے کا ایک مؤثر حل یہ ہے کہ پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کے عمل میں حاشیہ پر موجود ذاتوں اور برادریوں کو حقیقی نمائندگی دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اور شفاف نظام قائم ہونا چاہیے جو انتظامیہ سے جوابدہی طلب کر سکے، تاکہ اگر کہیں محکوم طبقات کے حقوق کی خلاف ورزی ہو تو اس کا فوری اور مؤثر احتساب ممکن ہو سکے۔

(ڈاکٹر ابھے کمار کتاب مسلم پرسنل لا: ڈیفینیشنز، سورسز اینڈ کونٹیسٹیشن کے مصنف ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں کا دائرہ سماجی انصاف اور اقلیتی حقوق پر محیط ہے)