بی جے پی کارکنوں نے ووٹر لسٹ سے ’غیر ملکی شہریوں‘ کو ہٹوانے کے لیے 5 لاکھ شکایات درج کروائی ہیں: آسام کے وزیراعلیٰ

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ 'غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب 'سودیشی' (شہری) بن جاتے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔

ہمنتا بسوا شرما۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بدھ (28 جنوری) کو کہا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے خصوصی نظر ثانی(ایس آر)عمل کے دوران الیکشن کمیشن کے پاس 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کرائی ہیں ۔

ان شکایات میں مشتبہ غیر ملکیوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شیوساگر ضلع کے ڈیموو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا،’غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف ہمارا موقف واضح ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے کارکنوں نے 500,000 سے زیادہ شکایات درج کرائی ہیں۔ ورنہ، وہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔ آسام کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جو غیر قانونی غیر ملکیوں سے محفوظ ہو۔’

آسام ایکارڈ اینڈ سٹیزن شپ ایکٹ 1985 کے مطابق، جو بھی 24 مارچ 1971 (جب بنگلہ دیش بنا تھا) کے بعد آسام میں داخل ہوا اسے غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا،’ہم سب جانتے ہیں کہ آسام میں بنگلہ دیشی میاں موجود ہیں۔ لیکن اگر ان میں سے کسی کو بھی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران نوٹس نہیں ملتا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسام میں کوئی غیر قانونی غیر ملکی ہے ہی نہیں ۔’

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن کو ان شکایات پر فیصلہ کرنا ہے۔لیکن اگر ایک بھی شکایت درج نہیں ہوتی تو یہ پیغام جاتا کہ آسام میں کوئی غیر قانونی غیر ملکی نہیں ہے۔’

معلوم ہو کہ جہاں الیکشن کمیشن 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کا ایس آئی آرکر رہا ہے، وہیں آسام میں ایس آر کی مشق جاری ہے، جو ایک ریگولر اپڈیٹ کی طرح ہے۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ شرما نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ میاں مسلمانوں کے لیے مشکلیں پیدا کریں ، تاکہ وہ  ریاست چھوڑکر چلےجائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا  تھاکہ ‘ہمانتا بسوا شرما اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں،’ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک انہیں پریشانی نہیں ہوگی، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے۔’

سی ایم نے لفظ ‘میاں’ کے استعمال کا دفاع کیا، فرقہ وارانہ منشا سے کیا انکار

چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما ریاست میں اسمبلی انتخابات سے پہلے لگاتار بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے لیے توہین آمیز اصطلاح ‘میاں’ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اصطلاح سیاسی تنازعات کاموضوع بنتی جا رہی ہے۔

دریں اثنا، شرما نے جمعرات (29 جنوری) کو کہا کہ وہ نہ تو اس اصطلاح کو تشکیل دے رہے ہیں اور نہ ہی اسے کسی پر مسلط کر رہے ہیں۔

قابل ذکرہے کہ ‘میاں’ ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ آسام کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکثر اس کمیونٹی کو ‘درانداز’ کہا ہے اور ان پر مقامی لوگوں سے وسائل، نوکریاں اور زمین ہڑپ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

آسام ٹریبیون کے مطابق،گولاگھاٹ میں ایک فلاحی اسکیم سے متعلق پروگرام میں بات کرتے ہوئے شرما نے کہا، ‘میں نے انہیں یہ نام نہیں دیا ہے۔ وہ خود ایک دوسرے کو میاں  کہتے ہیں اور میاں  شاعری بھی لکھتے ہیں۔’

وزیراعلیٰ نے یہ بھی دلیل دی کہ ان کے الفاظ سپریم کورٹ کی زبان کے مطابق ہیں۔ انہوں نے 12 جولائی 2005 کو سربانند سونووال بمقابلہ یونین آف انڈیا کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں سپریم کورٹ نے غیر قانونی تارکین وطن (ڈیٹرمینیشن ٹریبونل) ایکٹ 1983 کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

شرما نے کہا،’ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں آسام کو نشانہ بنا کر بنگلہ دیشی شہریوں کی بات کی گئی ہے اور اس میں ‘مسلم’ لفظ کااستعمال کیا گیا ہے۔ میں اس لفظ کا استعمال نہیں کر رہا ہوں، کیوں کہ اس سے آسام کی مسلم کمیونٹی بھی اس کے دائرے میں آ جائیں گے۔ سیاست میں رہتے ہوئے، میں ‘میاں’ لفظ استعمال کررہا ہوں۔’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے کئی بار آسام میں آبادیاتی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش سے غیر قانونی دراندازی کی جانب توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا،’سپریم کورٹ نے اعداد و شمار پیش کیے ہیں کہ کس طرح آسام میں بنگلہ دیشی شہریوں کے فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔ جن اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی پہلے 10 فیصد تھی، وہاں اب 60 فیصد ہوگئی  ہے۔ یہ سوال خود سپریم کورٹ نے اٹھائے ہیں۔’

وزیر اعلیٰ نے آسام کے پہلے وزیر اعلیٰ گوپی ناتھ بوردولوئی، ادیب امبیکاگیری رائےچودھری اور سابق وزیر اعلیٰ بشنو رام میدھی جیسی تاریخی شخصیات کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ پچھلی دہائیوں میں بھی ایسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آج میں بوردولوئی یا میدھی میں کہے گئے الفاظ کا 5 فیصد بھی کہہ دوں تو ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ اگر بوردولوئی غلط تھا تو کانگریس کو کہنا چاہیے کہ ان کے وزیر اعلیٰ غلط تھے۔ ہیرین گوہین نے بھی 1992 میں ایسے ہی الفاظ استعمال کیے تھے۔’

دھبری، بارپیٹا، نگاؤں اور موریگاؤں جیسے اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان علاقوں میں غیر قانونی دراندازی کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

غیر قانونی امیگریشن کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے شرما نے کہا کہ بی جے پی لیڈر بسواجیت پھوکن نے گولاگھاٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا، ‘بسواجیت پھوکن نے مجھے بتایا کہ اگر بے دخلی کی مہم نہ چلائی جاتی تو ووٹر لسٹ میں مزید 16000 نام شامل ہو چکے ہوتے۔’

بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت کی کارروائی کسی مذہب یا کسی ہندوستانی شہری کے خلاف نہیں ہے۔

انہوں نے لکھا،’ہماری کوشش کسی مذہب یا کسی ہندوستانی شہری کے خلاف نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آسام کی شناخت، سلامتی اور مستقبل کی حفاظت کی جائے – جس طرح سپریم کورٹ نے ملک کو خبردار کیا  تھا۔ اس انتباہ کو نظر انداز کرنا آسام اور ہندوستان دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔’

اپوزیشن نے  فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگایا

چیف منسٹر کے تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں، جب اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس، رائجور دل اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف)نے ان پر انتخابات سے قبل جان بوجھ کر فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔

آئی اے این ایس کے مطابق، کانگریس کے سینئر لیڈر ادت راج نے کہا کہ چیف منسٹر کے بیانات عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے اور اس سے ‘خانہ جنگی’ جیسی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا،’کانگریس نہ تو بنگالی مسلمانوں کے لیے کام کرتی ہے اور نہ ہی بنگالی ہندوؤں کے لیے۔ کانگریس ہر کسی کو شہری مانتی ہے۔ جو کچھ پہلے چھپ کر کیا جاتا تھا وہ اب ہمنتا بسوا شرما نے کھلم کھلا کہہ دیا ہے۔’

انہوں نے مزید خبردار کیا،’اس طرح کے بیانات کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، بلکہ خطرناک ہوں گے۔ لیکن ان لوگوں کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک  انتشار، تقسیم یا خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ذمہ دار ہوں گے۔’

سی پی آئی (ایم) ایم پی امرارام نے بھی چیف منسٹر کے بیان کی مذمت کی اور الزام لگایا کہ آسام حکومت انتظامی عمل کے ذریعہ کمزور طبقات کو حاشیے پر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا،’ وزیراعلیٰ ہمیشہ ایسا کرتے ہیں، ایس آئی آر کے نام پر دلتوں، اقلیتوں، ایس سی اور ایس ٹی کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ جب لوگ ہندو مسلم خطوط پر نہیں بانٹے جا رہے ہیں، تب بھی ایس آئی آر کے نام پر ووٹوں کے ساتھ ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ یہ سب لوگ اس ملک کے شہری ہیں، چاہے وہ مسلمان ہوں، سکھ ہوں، ہندو ہوں یا بودھ۔ ان کے خلاف نفرت پھیلانا ملک، اس کے آئین اور اس کی ایکتا سے غداری ہے۔’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ ضیاء الرحمن برق نے بھی چیف منسٹر کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’ جو شخص سماج اور ملک کو تقسیم کرنے کی بات کرتا ہے اسے وزیر اعلیٰ نہیں ہونا چاہیے۔‘

اس دوران بی جے پی وزیر اعلیٰ کے دفاع میں آ گئی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ شرما کے بیان کا مقصد صرف بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنانا تھا۔

بی جے پی کے ترجمان پرتول سہائے دیو نے کہا، ‘ہمنتا بسوا شرما کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ‘میاں’ کے خلاف ایس آئی آر کو سختی سے لاگو کیا جانا چاہیے، اور ‘میاں’ سے ان کا مطلب بنگلہ دیش کے غیر قانونی مسلمان تارکین وطن ہے۔’