سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔

ہرش مندر اور ہمنتا بسوا شرما۔ (تصویر: فیس بک/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے کہا ہے کہ ‘ میرے کام پر اس کاکوئی اثر نہیں پڑنے والا، میں اقلیتوں کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کام کرتا رہوں گا۔’
واضح ہوکہ ہرش مندر نے مسلمانوں کے خلاف متنازعہ تبصرے پر ہمنتا بسوا شرما کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی ۔
اس کے جواب میں، سنیچر (31 جنوری) کو گولا گھاٹ ضلع کے کھمتائی میں ایک پروگرام کے دوران شرما نے ہرش مندر کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’انہوں نے میرے خلاف صرف ایک مقدمہ درج کرایا ہے، اب دیکھیے، میں ان کے خلاف کم از کم 100 مقدمات درج کروں گا، کیونکہ میرے پاس اس کے لیے ضروری مواد موجود ہے۔’
دی وائر سے بات کرتے ہوئےمندر نے کہا، ‘وہ (ہمنتا) ہر روز اپنے ہی شہریوں کے ایک طبقے کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کر رہے ہیں –جیسے پانچ لاکھ ‘میاں’ کو ایس آر سے ہٹانے کی بات کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ آئینی عہدے پر فائز شخص کو ایسی نفرت انگیز زبان استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے شکایت درج کرائی ہے۔’
مندر نے مزید کہا،’اب وزیر اعلیٰ نے میرے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے، انہوں نے پہلے بھی اسمبلی میں کہا تھا کہ میں ہرش مندر کو جیل بھیج دوں گا، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی ہے، یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے متاثرین کو قانونی انسانی حقوق کی مدد فراہم کرنا جرم ہے، آج تک ملک کے قانون میں ایسا نہیں ہے، اگر وہ نیا قانون بنا رہے ہیں، توالگ بات ہے۔ کس قانون کے تحت کیا کیس درج کرائیں گے پتہ نہیں، لیکن یہ بس ایک دھمکی ہے۔’
شرما کے بیانات کو بی جے پی-آر ایس ایس کے نظریے سے جوڑتے ہوئے مندر نے کہا، ‘آر ایس ایس-بی جے پی کے نظریے میں سو سال سے یہ عقیدہ ہے کہ ایک مذہب (اسلام) کے لوگ اس ملک کے برابر کے شہری ہونے کے حیثیت نہیں رکھ سکتے۔ گاندھی جی کو بھی اس لیے قتل کیا گیا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ملک سب کے لیے برابر ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ یہ ملک سب کے لیے برابر ہے۔ اگر یہ کسی ایک مذہب کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے ، تو یہ ملک کی تہذیب، ہماری آزادی کی جدوجہد، اور گاندھی جی کی شہادت کے خلاف ہے۔’
ہمنتا نے اگست 2025میں مندر کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی طرح کے آسام کو کمزور کرنے والا بتایا تھا، اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘جدوجہد آزادی کے دوران بھی ان لوگوں نے (آر ایس ایس – بی جے پی)گاندھی جی پر ایسے ہی الزامات لگائے تھے۔ وہ ہمارے لیڈروں پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔ ہم اس ملک سے بہت پیار کرتے ہیں، اس لیے ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔’
وزیر اعلیٰ کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مندر نے کہا، ‘ان دھمکیوں کا میرے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم پوری طاقت سے کام کریں گے۔’
این آر سی کے عمل کو خراب کر دیا: ہمنتا
گزشتہ31جنوری کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا،’ جب این آر سی کو اپڈیٹ کیا جا رہا تھا تو مندر اور کچھ دوسرے اس میں ملوث تھے اور انہوں نے اس ‘پورے عمل کو خراب کر دیا۔’ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ اس وقت اقتدار میں ہوتے تو سخت کارروائی کرتے۔
شرما نے مندر پر آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے عمل کو ‘سبوتاژ’ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ چیف منسٹر نے الزام لگایا ہے کہ مندر نے این آر سی اپڈیٹ کے عمل کو پٹری سے اتارنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس عمل کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ این آر سی اپڈیٹ کے عمل کے دوران نااہل درخواست گزاروں کے نام کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے فرضی لنکس بنائے گئے تھے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کارکنوں کی مداخلت سے پورے عمل کی ساکھ مجروح ہوئی۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئےمندر نے ان الزامات کا بھی جواب دیتے ہوئے کہا، ‘یقیناً، میں نے کئی سالوں تک – جب آسام میں این آر سی کا عمل جاری تھا، تب میں نے ان کی (مسلمانوں) ان کے قانونی عمل میں مدد کی تھی ۔این آت سی ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا، جس میں انہیں دستاویز جمع کرانے کی ضرورت تھی، بہت سے غریب لوگوں، اور حراستی مراکز میں جو لوگ تھے تھے- میرا بنیادی کام حراستی مراکز میں تھا۔ہیومن رائٹس کمیشن نے مجھے مانیٹرنگ فار مائنارٹی کمیشن کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس ناطے میں نے کہا کہ میں حراستی مراکز کا دورہ کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ اس دوران بہت سے لوگ اپنے کاغذات جمع کرنے سے قاصر تھے اور انہیں سالوں تک جیل جیسے حراستی مراکز میں رکھاجاتا تھا۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘میں نے اس پر ایک رپورٹ لکھی اور سپریم کورٹ نے کیس درج کیا تھا۔ اس نے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا کہ آپ نے (بے حساب) مشتبہ افراد کو سالوں تک جیل میں رکھا ہے۔ میں نے ان کی حراستی مراکز سے رہائی اور این آر سی میں دستاویزات جمع کرانے میں مدد کی، بہت سے لوگوں نے ان مراکز میں خودکشی کی، میں نے ان کے خاندانوں کے ساتھ کام کیا۔ بہت سے لوگوں نے اس لیے خودکشی کی کیونکہ وہ اپنی شہریت ثابت نہیں کر پا رہے تھے۔ اس پورے عمل میں جو سب سے غریب لوگ تھے ان کی مدد کے لیے کام کرتا رہا۔ان کےانسانی حقوق کی حفاظت کو میں نے اپنی ذمہ داری سمجھا۔’
غور طلب ہے کہ آسام کے شہریوں کی تیارحتمی فہرست یعنی اپڈیٹیڈ این آر سی 31 اگست 2019 کو جاری کی گئی تھی، جسس میں 31,121,004 افراد کو شامل کیا گیا تھا، جبکہ 1,906,657 افراد کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک اس کو باضابطہ مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
شرما کے خلاف مندر کی پولیس شکایت
ہرش مندر نے 27 جنوری کو دیے گئے عوامی بیانات کے لیے وزیر اعلیٰ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ مندر کے مطابق، یہ بیانات ‘آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت، جبر اور امتیازی سلوک کو فروغ دیتے ہیں۔’
مندر نے دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں بی این ایس کی ان دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گی ہے، جو دشمنی کو فروغ دینے، قومی یکجہتی کے لیے متعصبانہ دعوے کرنے، عوامی پریشانی کو بڑھاوا دینے والے بیانات دینے اور مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی کارروائیوں سے متعلق ہیں۔
انہوں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ آسام میں جاری خصوصی نظرثانی (ایس آر) عمل کے دوران مستقبل میں اس طرح کے بیانات کو روکنے کے لیے مناسب تحقیقات کی جائیں اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
بتادیں کہ شرما نے 27 جنوری کو کہا تھا، ’کانگریس مجھے جتنا چاہے گالی دے، میرا کام میاں لوگوں کی زندگی کو مشکل بنانا ہے۔’ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ کوئی بھی جو کسی بھی طرح سے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، انہیں ایسا کرنے دیں۔ انہوں نے کہا تھااگر رکشہ کا کرایہ 5 روپے ہے تو انہیں 4 روپے دیں۔ جب تک انہیں ہراساں نہیں کیا جاتا، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے… یہ مسائل نہیں ہیں۔
چیف منسٹر نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ بی جے پی کارکنوں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے دوران اس کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف شکایات اور اعتراضات درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تھا،’ہم سب جانتے ہیں کہ بنگلہ دیشی میاں آسام میں موجود ہیں۔ لیکن اگر ان میں سے کسی کو بھی اس خصوصی عمل کے دوران نوٹس نہیں ملتا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسام میں کوئی غیر قانونی غیر ملکی ہے ہی نہیں۔’
انہوں نے کہا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ‘اب الیکشن کمیشن کو ان شکایات پر فیصلہ کرنا ہے۔ لیکن اگر ایک بھی شکایت درج نہ کی گئی ہوتی تو یہ پیغام جاتا کہ آسام میں کوئی غیر قانونی غیر ملکی نہیں ہیں۔’
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔