نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔

جامع مسجد، سنبھل (تمام تصاویر: شروتی شرما/ دی وائر )
نئی دہلی: نومبر 2024 کے سنبھل تشدد معاملے میں اس وقت کے سرکل آفیسر (سی او) انج چودھری سمیت کئی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والےسنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل (20 جنوری) کوایڈمنسٹریٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے 14 جوڈیشل افسران کا تبادلہ کیا ہے، اس میں وبھانشو بھی شامل ہیں۔
لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق ، وبھانشو سدھیر کو سلطان پور میں سول جج (سینئر ڈویژن) کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
سنبھل کے چندوسی قصبے میں سول جج (سینئر ڈویژن) کے طور پر خدمات انجام دینے والے آدتیہ سنگھ کو ان کی جگہ مقرر کیا گیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ آدتیہ سنگھ وہی جج ہیں، جنہوں نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا تھا۔
سنبھل کے سابق سی جے ایم نے 9 جنوری کو سنبھل تشدد کے سلسلے میں انج چودھری، سنبھل کوتوالی کے انچارج انج کمار تومر اور 10 نامعلوم پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم، سنبھل پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل کرے گی۔
عدالت کا یہ حکم 9 جنوری کو یامین نامی شخص کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد دیا گیا۔ یامین کا الزام ہے کہ اس کے 24 سالہ بیٹے عالم کو 24 نومبر 2024 کو سنبھل میں تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ میں گولی لگی تھی۔ یامین کے مطابق، ان کا بیٹا اس دن صبح اپنے گھر سے ٹھیلے پرپاپڑ اور بسکٹ بیچنے کے لیے نکلا تھا۔ صبح 8:45 کے قریب جب وہ شاہی جامع مسجد کے علاقے کے پاس پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی بھاری بھیڑ موجود تھی۔
پولیس اہلکاروں پر قتل کی نیت سے فائرنگ کا الزام ہے، جس میں عالم شدید طور پرزخمی ہو گیا تھا۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا تھاکہ پہلی نظر میں یہ معاملہ سنگین قابلِ سماعت جرم لگتا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق معلومات سات دن میں عدالت میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی تھی۔
واضح ہو کہ 24 نومبر 2024 کو عدالتی حکم پرسنبھل میں مغلیہ دور کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوسرے دن تشدد بھڑک اٹھا تھا ،جس کے نتیجے میں پانچ افراد کی موت ہو گئی تھی۔ سنبھل تب سے سرخیوں میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 19 نومبر 2024کو شاہی جامع مسجد کے سروے کے لیے درخواست دائر کی گئی ، اسی دن عدالت نے سروے کی اجازت بھی دے دی اور رات کی تاریکی میں مسجد کا سروے بھی ہو گیا تھا۔ لیکن 24 نومبر کو سروے کے دوسرے دن،سروے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم پولیس اس بات سے انکار کرتی ہے کہ ان کی فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔