کیسے ’یوگی‘ نے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کے غیر قانونی استعمال کا قومی ماڈل تیار کیا

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک اور ایکس

سال 2017 سے پورے ہندوستان میں انہدامی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ شہروں میں لوگوں کو بے دخل کرنا کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن بلڈوزر کے تعزیری استعمال  کے سبب اس کی شرح میں عددی  اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں غیر متناسب طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی  کام میں استعمال ہونے والے اوزارسے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بی جے پی نے سراہا اور دوسری بی جے پی مقتدرہ ریاستوں اور کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔ اس پورے عمل میں عدالتی نگرانی نہایت کم تھی۔ متاثرین اور گواہوں نے خوف، ذلت اور گھروں کی مسماری کے بارے میں بتایا، جبکہ حکام نے گھروں کو گرانے کی کارروائی کو ایک عوامی تماشہ بنا دیا۔

چھ مضامین کےسلسلے کی یہ تیسری قسط اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کس طرح ایک ہندو ’یوگی‘نے مسلمانوں کے خلاف تعزیری کارروائی کے طور پر بلڈوزر کے غیر قانونی استعمال کا قومی ماڈل تیار کیا۔ سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

◊◊◊

نئی دہلی: اتر پردیش میں جرائم کے ٹھکانوں کو منہدم کرنے کے ایک آلے کے طور پر شروع ہونے والی بلڈوزر کارروائی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں ہدف بنا کر کی جانے والی مسماری، مسلمانوں کو اجتماعی سزا دینے اور ملک بھر میں سیاسی ڈرامے کے ایک ماڈل میں تبدیل ہو گئی ہے۔

اکثر پیشگی نوٹس دینے اور باز آبادکاری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی انہدامی کارروائیاں تیزی سے بی جے پی مقتدرہ ریاستوں جیسے دہلی، مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر، آسام، اتراکھنڈ اور گجرات؛ نیز جموں و کشمیر، جہاں مرکزی حکومت کئی پالیسیوں کا تعین کرتی ہے؛ اور حالیہ معاملات میں، کانگریس مقتدرہ کرناٹک تک پھیل گئیں۔

اس سلسلے میں کالم نگار اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ڈاکٹورل اسکالر فہد زبیری نے مئی 2023 میں لکھا؛ ’ریاست نے اب ایک ٹول کٹ بنا لی ہے – ہدفی مسماری یعنی نشانہ بناکر توڑ پھوڑ کی کارروائی کرنا، جبری بے دخلی اور ڈیموگرافک انجینئرنگ – جو نہ صرف سیاسی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے اور انتخابی نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لیے، بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل نفرت بھرنے کے لیے بھی ہے۔ اس کے توسط سے ایک ایسی اجتماعی ہندوتوا ذہنیت تشکیل دی جا رہی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کو منظم طریقے سے مٹایا جا سکے۔‘

دہلی کے تغلق آباد کی جھگیوں میں رہنے والے افراد، جنہیں 2023 میں بے دخلی کا نوٹس ملا اور توڑ پھوڑ کی گئی، انہوں نے حکام سے کہا،’انہیں پتہ لگانا چاہیے کہ مسلمان کون ہیں اور انہیں ہٹانا چاہیے، ہمیں کیوں؟‘ ان میں سے کئی ہندو تھے اور طویل عرصے سے بی جے پی کے حامی تھے۔

اس معاملے پر مقامی بی جے پی ووٹر سشما دت نے دی کوئنٹ کے ساتھ  اپنی الجھن کو شیئر کرتے ہوئے کہا،’ہم روہنگیا یا بنگالی مسلمان نہیں ہیں۔ حکومت کو ان سے مسئلہ ہے۔ لیکن ہمیں کیوں پریشان کیا جا رہا ہے؟ اگر وہ مسلمانوں کو ہٹانا چاہتے ہیں تو ہٹا ئیں۔ ہم تو ہندو ہیں۔‘

پیغام واضح تھا؛ بلڈوزر ایک ہتھیار ہے، قانون کا غیر جانبدار آلہ نہیں۔

یوپی ماڈل

اس ہتھیار کے استعمال کا طریقہ جولائی 2020 میں اتر پردیش کے گینگسٹر وکاس دوبے کے خلاف پولیس آپریشن کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔ دوبے نے راستے میں بلڈوزر کھڑا کر کے پولیس کی گاڑیاں روک دی تھیں، جس کے بعد اس کے گینگ کے لوگوں نے آٹھ پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا۔

اس کے جواب میں، یوگی آدتیہ ناتھ کی انتظامیہ نے دوبے کے بڑے گھر کو اسی بلڈوزر سے منہدم کر دیا جس نے قافلے کو روکا تھا، اور اس کارروائی کو ٹیلی وژن پر لائیو دکھایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے دوبے کو گولی مار دی، پولیس پر ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

آدتیہ ناتھ- جو تقریباً گیارہویں صدی کے شیو مت کے ایک مٹھ کے مہنت ہیں- نے ان اقدامات کو لاء اینڈ ارڈر کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا اور عوامی سطح پر اس کا جشن منایا۔ ہزاروں مبینہ ماورائے عدالت پولیس انکاؤنٹروں  کے ساتھ ساتھ مبینہ گینگسٹروں جیسے مختار انصاری، اعظم خان اور عتیق احمد کی جائیدادیں بھی مسمار کی گئیں۔

گرائے گئے گھروں کی تصویریں اور املاک کی ڈرامائی طریقے سے تباہ کرنےکے مناظر جلد ہی ایک مقبول تماشہ میں تبدیل ہوگئے۔ جلدہی،  بلڈوزر ایک سیاسی علامت میں تبدیل ہو گیا۔ 2022 کے اوائل میں اسمبلی انتخابات کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے خود کو ’بلڈوزر بابا‘کہلوانا شروع کر دیا، حالانکہ ان کے حریف اکھلیش یادو نے ابتدا میں یہ لفظ طنز کے طور پر استعمال کیا تھا۔

بھارتیا جنتا پارٹی مارچ 2022 میں 41 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی، اور فتح کے جلوسوں میں پارٹی کے جھنڈوں سے سجے بلڈوزروں کے قافلے شامل تھے۔ ہندوتوا پاپ میوزک نے اس بیانیے کو مزید آگے بڑھایا اور بلڈوزر کو مردانہ، غیر مفاہمتی انصاف کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ ایک مقبول گانے میں کہا گیا؛

’بلڈوزر بابا چانپ رہے ہیں، مافیا ہانپ رہے ہیں۔‘

مسلمانوں کو سزا دینا

بلڈوزر کا سیاسی ڈراما جلد ہی فرقہ وارانہ سیاست میں تبدیل ہو گیا۔ مئی 2022 میں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر محمد کی توہین کے بعد اتر پردیش میں احتجاج شروع ہو گئے۔ انتظامیہ نے سہارنپور شہر سے آغاز کرتے ہوئے کئی شہروں میں مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کر کے اس کا جواب دیا۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ فسادیوں کو سزا دے رہے تھے، لیکن زیادہ تر متاثرین عام مسلمان تھے۔

جون 2022 میں کانپور میں محمد اشتیاق کا گھر اس بنیاد پر گرا دیا گیا کہ پولیس کو شبہ تھا کہ ان کے گھر کی تعمیر میں ایک فسادی نے پیسہ لگایا ہے،اسی طرح ایکٹوسٹ جاوید محمد جیسے لوگوں، ان کے اہل خانہ اور گھر کی خواتین تک کو حراست میں لیا گیا، اور ان کے گھروں کی مسماری کو براہ راست نشر کیا گیا۔

ان کی بیٹی آفرین فاطمہ نے ٹائم میگزین میں لکھا،’ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہندوستان جیسے غیر اعلانیہ ہندو راشٹر میں مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہوتاہے؟ مسلسل تضحیک، تحقیر اور ظلم کا شکار ہونا؟ اپنی آنکھوں کے سامنے ریاست کو اپنی روح کو مجروح کرتے دیکھنا؟ اور کبھی کبھی اپنا گھر بھی ؟ ‘

فاطمہ نے بیان کیا کہ ان کا بیس سال پرانا گھر، جس کے تمام کاغذات مکمل تھے اور جو قانونی طور پر ان کی والدہ کے نام تھا، اسے اچانک ’غیر قانونی‘قرار دے کر گرا دیا گیا، اور ریاست سے منسلک میڈیا نے اس مسماری کا جشن منایا۔

قانونی برادری نے بھی اس پر توجہ دی۔ ستمبر 2022 میں بارہ معروف ججوں اور وکلا نے ملک کے چیف جسٹس این وی رمنا کو ایک عرضداشت پیش کی، جس میں خبردار کیا گیا کہ اتر پردیش حکومت کی مبینہ ملی بھگت سے کی جانے والی یہ کارروائیاں ’اجتماعی طور پر ماورائے عدالتی سزا‘کے مترادف ہیں اور یہ’قانون کی حکمرانی کی ناقابل قبول خلاف ورزی‘ہیں۔

اس کے باوجود مسلم آبادی میں خوف برقرار رہا۔ جیسا کہ کمیونٹی لیڈر محمد راشد نے اگست 2025 میں کہا،’اتر پردیش میں جب بھی کسی ہندو اور مسلمان کے درمیان کوئی تنازعہ ہوتا ہے، تو بلڈوزر صرف ایک طرف بھیجا جاتا ہے۔ یہ رجحان پورے صوبے میں نظر آ رہا ہے اور اس سے مسلمانوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے۔‘

وزیراعظم نریندر مودی نے جنوری 2023 میں آدتیہ ناتھ کے اس طرز عمل کی حمایت کی اور تنازعات کو سنبھالنے کے حوالے سے انہیں ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔

مودی نے کہا،’ اگر سماج وادی پارٹی اور کانگریس اقتدار میں آتی ہیں تو رام للا دوبارہ ٹینٹ میں ہوں گے، اور وہ رام مندر پر بلڈوزر چلائیں گے۔ انہیں یوگی جی سے ٹیوشن لینی چاہیے کہ بلڈوزر کہاں چلانا ہے اور کہاں نہیں۔ ‘

یوپی کے باہر بلڈوزر کی سیاست

بلڈوزر کی مقبولیت نے مدھیہ پردیش، گجرات، آسام اور ہریانہ سمیت بی جے پی مقتدرہ دیگر ریاستوں میں بھی اس کارروائی کو نقل کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔

مدھیہ پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی رامیشور شرما نے مارچ 2022 میں اپنے بنگلے کے باہر بلڈوزروں کی ایک قطار کھڑی کر دی تھی، جس پر ایک بل بورڈ نصب تھااوراس پر وارننگ لکھی ہوئی تھی؛

’ بیٹی کی سرکشا(حفاظت) میں بنے گا جو روڑا، ماما کا بلڈوزر بنے گا ہتھوڑا ۔‘


مدھیہ پردیش میں زیادہ تر مسلمان مسماری کا نشانہ بنے۔ اگست 2022 میں نیوز لانڈری کے ایک سروے میں پایا گیا کہ گرائی گئی 332 جائیدادوں میں سے 223 مسلمانوں کی تھیں۔ ان میں سے کئی مسماریاں معمولی فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد ہوئیں، جیسے کھرگون، مندسور اور ڈنڈوری میں، یا  پھربین مذہبی شادیوں، مبینہ چھیڑ چھاڑ کے واقعات یا تشدد کے واقعات کی وجہ سےہوئیں۔


تقریباً ہر معاملے میں، مقامی حکام  نے- نہ کہ کسی عدالت نے – نے قصور طے کیا اور مسماری کا حکم دیا، ایک ایساپیٹرن جس کی تفصیلات ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2024 میں جاری اپنی رپورٹ میں پیش کی،جس کا عنوان تھا؛

 ‘If you speak up, your house will be demolished Bulldozer injustice in India’

یعنی اگر آپ آواز اٹھائیں گے ، تو آپ کا گھر گرا دیا جائے گا: ہندوستان میں بلڈوزر کی نا انصافی۔

اس رپورٹ میں ایسے 128 معاملات کا ذکر کیا گیاہے جن میں بغیر کسی مناسب قانونی طریقہ کار، جیسے پیشگی نوٹس، مشاورت یا قانونی چارہ جوئی کا موقع دیے بغیر، تعزیری کارروائی کی گئی۔ متاثرین کے پاس اکثر ملکیت ثابت کرنے والے قانونی دستاویز موجود تھے، اس کے باوجود انہیں اپنے گھروں اور دکانوں کو بلڈوزر سے منہدم ہوتے دیکھنے پر مجبور کیا گیا، اور کئی مواقع پر یہ کارروائیاں ڈی جے میوزک یا ڈھول کی تھاپ کے ساتھ انجام دی گئیں۔

انسانی نقصان تو کہیں زیادہ تھا

مدھیہ پردیش کے ضلع ڈنڈوری میں مقامی حکام نے حلیم خان کے گھر اور تین دکانوں کو منہدم کر دیا۔ یہ اقدام اس الزام پر کیا گیا کہ ان کے بیٹے نے ایک ہندو خاتون سے اس کے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی، حالانکہ ان کے بیٹے کو نہ کوئی سزا ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔

اس توڑ پھوڑ کو حکام نے سوشل میڈیا پر نشر کیا، اور یہ سب کچھ فرقہ وارانہ دباؤ کے باعث ہوا، نہ کہ کسی عدالت کی ہدایت پر۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی سزاوالی  مسماری میں انتظامی کارروائی نے عدالتی نگرانی کی جگہ لے لی ہے۔

خان نے اگست 2022 میں دی وائر کو بتایا، ’انہوں نے مجھے کئی دنوں تک جیل میں رکھا اور میرے بیٹے کے معاشقے کی وجہ سے میرا گھر بلڈوزر سے گرا دیا۔‘ اجین میں اگست 2022 میں ایک مذہبی جلوس پر تھوکنے کے الزام میں تین مسلم لڑکوں کو حراست میں لیا گیا، اور ان میں سے ایک کے والد کا تین منزلہ گھر گرا دیا گیا۔

رائے سین میں ایک مسلم نوجوان پر ہراسانی کا الزام لگا اور اس پر جوابی کارروائی ہوئی، جس کے بعد حکام نے اجتماعی سزا کے طور پر درجنوں مسلم گھروں کو منہدم کر دیا۔

یہ ٹرینڈ گجرات اور دہلی تک پھیل گیا۔ اپریل 2023 میں کھمبھات میں رام نومی کے موقع پر ہونے والی جھڑپ کے بعد مسلمانوں کی دکانیں اور گودام توڑ دیے گئے، جبکہ ہندوؤں کی املاک کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ ہمت نگر اور دہلی کے جہانگیر پوری میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آئے۔

قابل ذکر ہے کہ20دسمبر 2025 اور 8 جنوری 2026 کو کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی مسماری کی کارروائیاں ہوئیں، جن میں زیادہ تر مسلمان متاثر ہوئے۔ پہلے راؤنڈ میں تقریباً 300 گھر گرائے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، اور دوسرے راؤنڈ میں تقریباً 60 گھر منہدم کیے گئے۔

دونوں مقامات کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پہلے سے کوئی بحالی کا منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔

دسمبر میں ہوئی  مسماری کے بعد کئی رہائشیوں نے کہا کہ وہ ریاستی دارالحکومت بنگلورو کے اس علاقے میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے رہ رہے تھے۔

کیرالا کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے کہا کہ کانگریس کا یہ قدم’شمالی ہندوستان میں سنگھ پریوار کی جانب سے نافذ کی گئی اقلیت مخالف جارحانہ سیاست‘جیسا تھا۔

وجین نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا،’ کرناٹک کے دارالحکومت میں اس فقیر کالونی اور وسیم لے آؤٹ کو بلڈوزر سے گرانا حددرجہ چونکا دینے والا اور تکلیف دہ ہے، جہاں مسلمان برسوں سے آباد رہے ہیں۔ ‘

دہلی میں مسماری

بلڈوزر کو ملک کے دارالحکومت تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ 16 اپریل 2022 کو بھی اسی نوعیت کی فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی، جب جہانگیر پوری میں ہنومان شوبھا یاترا ایک مسجد کے سامنے سے گزری۔ اس میں شامل افراد نے’جس کو دیش میں رہنا ہوگا، جئے شری رام کہنا ہوگا‘جیسے نعرے لگائے۔

انہوں نے تیز موسیقی بجائی، جس سے مقامی مسلمان مشتعل ہو گئے اور پتھراؤ اور تشدد شروع ہو گیا، جس میں سات پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہوئے۔

تین دن بعد بلڈوزر آ گئے۔ زیادہ تر مسلمانوں کے گھر اور دکانیں ان کی آنکھوں کے سامنے مسمار کر دی گئیں۔ بی جے پی کی قیادت والی نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے نو بلڈوزر تعینات کیے، اور کارروائی کی نگرانی کے لیے 400 پولیس اہلکاروں اور اضافی سکیورٹی کی طلب کی -یہ سب جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ جھڑپ کے فوراً بعد چلائے گئے آپریشن کا حصہ تھا۔

وکیل سپریم کورٹ پہنچے اور کارروائی روکنے کی اپیل کی۔ عدالت نے 20 اپریل 2023 کو روک لگانے کا حکم دیا، لیکن تب تک غریب رہائشیوں کی کئی املاک ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں۔

عینی شاہدین کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی بلڈوزر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک چلتے رہے، اور یہ سب ٹی وی کیمروں کے سامنے ہوا- یہ ایک ایسی حکم عدولی ہے جسے پورے ملک میں نشر کیا گیا۔

سی پی آئی (ایم) کی رہنما ورندا کرات بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور سپریم کورٹ کا حکم نامہ دکھاتے ہوئے کہا، ’انہوں نے چنندہ طریقے سے بلڈوزر چلایا ہے۔‘

وہیں، دہلی بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے جواب دیا، ’اگر آپ پتھر پھینکنا چاہتے ہیں تو غیر قانونی عمارت میں نہ رہیں۔‘

ستمبر 2023 میں جی-20 سمٹ سے قبل دارالحکومت کو’خوبصورت بنانے‘کی کوشش میں ایک بار پھر بلڈوزر راج کو فروغ ملا۔ اس بار صرف مسلمان نشانے پر نہیں تھے۔ ایک صدیوں پرانی مسلم درگاہ کو گرا دیا گیا۔

درگاہ کے خادم نے روتے ہوئے کہا،’مجھے بتاؤ، پہلے فٹ پاتھ آیا تھا یا یہ 400 سال پرانی درگاہ؟‘

(ہرش مندر سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔)

ہندی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔