ڈاکٹر منظور عالم: ادارہ سازی اور میراث کی ایک کہانی

ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔

ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔

ڈاکٹر منظور عالم

لاتعداد مشکلات اور مسلسل درپیش چیلنجز کے باوجود ہندوستان میں مسلمانوں نے گزشتہ ایک صدی کے دوران نہ صرف عالمی شہرت یافتہ ادارے قائم کیے بلکہ وسائل کی شدید قلت کے باوجود انہیں زندہ، فعال اور مؤثر بھی رکھا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور اور ندوۃ العلماء لکھنؤ جیسے ادارے اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں جنہوں نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں فکری روشنی پھیلائی ہے۔

اسی روشن روایت کی ایک نسبتاً نئی مگر غیر معمولی کڑی انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) ہے، جس نے جدید ہندوستان میں مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی، معاشی اور فکری مسائل کو محض جذباتی بیانیہ کے بجائے تحقیقی اور ڈیٹا پر مبنی انداز میں سمجھنے اور حل تلاش کرنے کی منظم کوشش کی۔

ہندوستانی مسلمانوں پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق یا اس موضوع پر اسٹوری کےلیے مواد ڈھونڈنے والے صحافی کےلیے جنوبی دہلی کے ایک کونے اوکھلا کے ذاکر نگر علاقے میں واقع یہ انسٹی ٹیوٹ واحد اور آخری منزل ہوتی ہے۔

گزشتہ 13جنوری کو دہلی سے یہ جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ اس ادارے کے روحِ رواں، بانی اور فکری معمار ڈاکٹر محمد منظور عالم80سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

اس خبر نے نہ صرف ایک فرد کو ہم سے جدا کیا بلکہ ایک پورے عہد کے اختتام کا احساس بھی دلایا ہے۔

میری ذاتی زندگی میں ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا مقام محض ایک ادارہ جاتی سربراہ یا فکری رہنما کا نہیں تھا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں ایک چھوٹے سے قصبہ سوپور کے کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد میں صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کےلیے سیدھا دہلی وارد ہو گیا تھا۔ ایک طرح سے پہلی بار ہی کشمیر سے باہر جانا ہواتھا۔ اس لیے امریکہ میں مقیم میرے تایا نے ڈاکٹر منظور عالم کا نمبر دیا کہ دہلی جاکر ان سے ملاقات کروں۔

دہلی میں ایڈمیشن تو ہو گیا تھا، مگر رہائش کا مسئلہ درپیش تھا۔ اسی مسئلہ کو لےکر میں نظام الدین ویسٹ علاقہ میں واٹج بلڈنگ پہنچا، جہاں پہلی بار ڈاکٹر عالم سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے پرانی دہلی میں گلی قاسم جان میں بھارت آفسیٹ پریس کے اوپر ممتاز بلڈنگ میں میرے لیے رہائش کا بندوبست کرایا، جہاں اگلے چار ماہ تک میں مقیم رہا۔

مجھے یاد آتا ہے کہ میرے ایڈمیشن فارم پر بطور لوکل گارڈین انہوں نے ہی دستخط کیے تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مجھے مقبول احمد سراج سے متعارف کرایا اور ایک طر ح سے ان کے حوالے کردیا، جنہوں نے ایک  مؤقر انگریزی قومی روزنامہ میں سینیر پوزیشن کوالوداع کرکے بنگلور سے دہلی ہجرت کرکے ڈاکٹر عالم کے ساتھ ایک فیچر ایجنسی فیچر اینڈ نیوز الائنس یعنی فانا کی بنیاد ڈالی تھی۔

ان دونوں افراد کی سرپرستی، رہنمائی اور خاموش شفقت نے مجھے نہ صرف صحافت بلکہ ملت کے اجتماعی مسائل کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔

بقول معروف دانشور و اور مؤرخ پروفیسر ظفر احمد نظامی، ڈاکٹر عالم کا سب سے بڑا کارنامہ مسلم انگریزی تعلیم یافتہ ماہرین و دانشور کو ایک  پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی سعی اور اس کے ساتھ ان کو امت مسلمہ کے کاز کے مختلف ایشوز پر ان سے خدمات لینا ہے۔

 چاہےسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس عزیز مبشر احمدی ہوں یا پرفیسر طاہر محمود یا دیگر محققین ان کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے ان کی صلاحیتوں کو اکیڈمک ایشوز میں استعمال کرنا ان ہی کا خاصہ تھا۔ مؤرخین کو جمع کرکے تحریک آزادی میں مسلم کردار پر تین جلدوں پر مشتمل کتاب تیار کرنا ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

Click to view slideshow.

صوبہ بہار کے مدھوبنی ضلع کے دور افتادہ رانی پور گاؤں میں 1945میں آنکھ کھولنے  والے  ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی مکمل کی۔وہ سعودی عرب کی وزارت خزانہ میں اقتصادی مشیر مقرر ہوئے۔یہ ایک آسودہ زندگی تھی، مگر ملت کی فکری اور اجتماعی حالت نے انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔

انہوں نے ہندوستان واپسی کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ محض جغرافیائی واپسی نہیں بلکہ ایک بڑے فکری اور عملی منصوبے کی شروعات تھی۔

مسلم انگریزی تعلیم یافتہ ماہرین و دانشوروں کو توانہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے پلیٹ فارم پر اکٹھا تو کیا، مگر اب علماء کےلیے  انہوں نے عالم دین قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا امین عثمانی کی معیت میں ایک اور ادارہ اسلامک فقہ اکیڈیمی کے نام سے قائم کیا۔

اس ادارے نے مسلمانوں کو درپیش جدید مسائل کے حوالے سے معرکتہ الآرا تحقیق پیش کی ہے۔ یہ ادارہ محض ایک فقہی مجلس نہیں  بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو  مختلف مسالک، مختلف فکری پس منظر اور مختلف علوم سے وابستہ افراد کو یکجا کر کے مسائل کا سنجیدہ، غیر جذباتی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ حل تلاش کرتا ہے۔

اس ادارہ کی افادیت اور اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں نسل پرست نظام کے خاتمے کے بعد جب نیلسن منڈیلا نے 1994 میں اقتدار سنبھا ل کر نیا آئین اور قوانین تشکیل دینے کا بیڑا اٹھایا، تو ایک کثیر جہتی سماج میں مسلم پرسنل لاء کو ترتیب دینے کےلیے نہ سعودی عرب کا رخ کیا، نہ ایران یا پاکستان کے کسی ادارے کو منتخب کیا، بلکہ ان کی نگاہ نئی دہلی کے ذاکر نگر میں واقع اسلامک فقہ اکیڈمی پر ٹھہری۔

ان کا استدلال تھا کہ مختلف مذاہب، نسلوں اور ثقافتوں کے پس منظر میں کام کرنے والا ہندوستان کا اسلامی ادارہ  ہی جنوبی افریقہ جیسے کثیر جہتی سماج میں رہنے والے مسلمانوں کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔یہ انتخاب محض ادارے پر اعتماد کا اظہار نہیں تھا بلکہ ڈاکٹر منظور عالم، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا امین عثمانی کی بالیدگی کا عالمی اعتراف بھی تھا۔

میڈیا کے حوالے سے بھی ڈاکٹر منظور عالم خاصے حساس تھے اور اس کو مسلمانوں کوبااختیار بنانے کےلیے ایک اہم ذریعہ گردانتے تھے۔ اس کےلیے انہوں چند رفقاء کی مدد سے یونائیٹڈ ماس میڈیا ایسوسی ایشن یعنی  یوایم ایم اے تشکیل دی۔

اس کا کام مختلف یونیورسٹیوں میں جرنلزم یا ماس کمیونی کیشن پڑھنے والے طلبہ کو اسکالرشپ دےکر ان کو مین اسٹریم میڈیا میں داخل کرانا تھا۔

اسی ادارہ کے تحت دہلی میں مقبول احمد سراج کی سربراہی میں فیچر ایجنسی فانا اور ایک ڈاکیومنٹیشن سینٹر کی بنیاد ڈالی گئی۔ صحافت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے قومی میڈیا کا رخ کرنے سے قبل چار سال تک اسی فیچر ایجنسی میں کام کیا۔

بعد میں قومی میڈیا میں بڑے ایڈیٹروں ونود مہتہ، پریم شنکر جھا، ترون تیج پال، آدتیہ سنہا، شاستری راما چندرن اور ایسے ان گنت بڑے ناموں کے سائے تلے کام کرنے کا موقعہ ملا، مگر جس توجہ اور رہنمائی سے سراج صاحب نے صحافت سے روشناس کروایا، وہ عمر بھر کی کمائی رہی اور جہاں بھی کام کیا سرخ روئی حاصل کی۔

گو کہ منظور عالم کے دیگر سبھی ادارے پروان چڑھے ،مگر  فانا شاید واحد اداروہ رہا ، جس کو نو سال بعد بند کرنا پڑا۔گو کہ اس فیچر ایجنسی سے جاری مواد150سے زائد اخبارات میں متواتر شائع ہوتا تھا اور اگر اس کی سرپرستی جاری رہتی، تو یہ ایک بہترین تجربہ تھا۔

نوآموز صحافیوں کےلیے یہ ایک لانچنگ پیڈ کا بھی کام کرتا تھا۔ وہ اسائنمنٹ پوری کرکے اسکرپٹ، ایڈیٹروں کے حوالے کرتے تھے ، جہاں ان کی نوک پلک سنواری جاتی تھی یا اس پر مزید کام کروایا جاتا تھا۔

اسی پوری سعی اور فانا سے ریلیز ہونے سے ان نوجوان صحافیوں کی بائی لاینز مؤقر اخباروں میں چھپتی تھی۔ پھر فانا کے مترجم ایڈیٹرز ان کو اردو اور ہندی میں ترجمہ کرکے ہندی اور اردو اخبارات کو بھی روانہ کرتے تھے۔

اس ادارے سے تربیت یافتہ افراد کئی مؤقر میڈیا اداروں میں اس وقت کام کررہے ہیں۔ ڈاکیومنٹیشن سنیٹر ابھی بھی ذاکر نگر کی ایک بلڈنگ میں ،متواتر کام کر رہا ہے۔ اس کی ڈیجیٹائزیشن کرانا اور بذریعہ انٹرنیٹ دنیا بھر کے محققین و صحافیوں کو اس تک رسائی دینا جدید دور کا تقاضا ہے۔

 سال2005میں جب کانگریس کی قیادت والی حکومت نے مسلمانوں کی سماجی اور معاشی صورت حال کا جائزہ لینے کےلیے جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کی،تو  انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی طرف سے جمع کیا گیا ڈیٹا اس کمیٹی کے کافی کام آیا۔

ڈاکٹر منظور عالم اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کو عالمی حالات سے کاٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے روابط دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں پھیلے ہوئے تھے۔ملیشیا کے موجودہ وزیرا عظم انو ر ابراہیم کے ساتھ ان کے خصوصی روابط تھے۔

ان کے نزدیک روایت اور جدت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل تھیں۔ان کی سوانح حیات ’ ڈاکٹر منظور عالم ان کہی کہانی، انصاف، شمولیت اور برابری کی جدوجہد‘  کے مصنف اے یو آصف کے مطابق،  اسی توازن نے انہیں ایک ایسا دور اندیش مفکر بنایا جو نہ ماضی پرستی کا شکار تھا اور نہ بے لگام جدیدیت کا۔

یہی فکری توازن آئی او ایس کی سرگرمیوں میں بھی صاف نظر آتا ہے۔1986 میں قیام سے اب تک انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام 1350 سے زائد سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

ان میں سے 14 وسیع پیمانے کی بین الاقوامی کانفرنسیں تھیں، جن میں دنیا بھر سے اہلِ علم، محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ ا س ادارے سے وابستہ ریسرچ اسکالرز اب تک 475 تحقیقی پروجیکٹ مکمل کر چکے  ہیں۔

نصف صدی سے بھی کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں تحقیقی کام کی تکمیل یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

یہ اوسطاً سالانہ تقریباً دس تحقیقی پروجیکٹ کی تکمیل کی شہادت دیتا ہے، جو کسی بھی نجی یا غیر سرکاری ادارے کے لیے قابلِ رشک ہے۔یہ تحقیقات محض تعلیمی مشق نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد زمینی حقائق کو سمجھنا اور پالیسی سازی کے لیے قابلِ استعمال مواد فراہم کرنا تھا۔ تعلیم، معیشت، سماجیات، نفسیات، قانون، سیاست، اقلیتوں کے حقوق، اور میڈیا، یہ سب وہ شعبے تھے جن پر منظم انداز میں کام کیا گیا۔

فانا کے ایک ساتھی ور اب ایک سرکاری جرنل کے ایڈیٹر دانشور عبدالمنان کے بقول ڈاکٹر منظور عالم کی  ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہاتھی اور چیونٹی دونوں سے کام لینا جانتے تھے۔ یعنی ایک طرف وہ اعلیٰ سطح کے ماہرین، پروفیسرز، جج صاحبان، سابق بیوروکریٹس اور پالیسی سازوں کو ایک میز پر بٹھانے کی صلاحیت رکھتے تھے، تو دوسری طرف وہ گراس روٹ سطح پر کام کرنے والے کارکنوں، محققین اور نوجوان طلبہ کو بھی اسی عمل کا حصہ بناتے تھے۔

ظاہر سی بات ہے کہ اس پورے ادارہ جاتی سیٹ اپ کو چلانے کے لیے وسائل کی فراہمی ایک مستقل چیلنج رہی ہوگی۔ اس سلسلے میں بھی محض عطیات پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹرعالم نے خود کفالت کی عملی کوششیں کیں۔

ان کی بالواسطہ نگرانی میں پرانی دہلی میں بھارت آفسیٹ پریس کے نام سے ایک چھاپہ خانہ قائم کیا گیا تھا، جو آج بھی سرگرمِ عمل ہے اور ادارے کی اشاعتی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح 1986 میں دہلی کے بستی حضرت نظام الدین علاقے میں قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز کے نام سے ایک کثیر لسانی اشاعتی ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے نے ملی امور، اسلامی فکر اور سماجی مسائل پر پانچ سو سے زائد کتابیں شائع کیں ہیں۔

اس ادارے سے شائع شدہ قاضی مجاہد الاسلامؒ کی کتاب اسلامی عدالت متعدد اسلامی اداروں کے شعبہ افتائ میں نصاب کا حصہ ہے۔ پروفیسر محسن عثمانی کی سات ضخیم جلدوں پر مشتمل تصنیف مشاہیر علومِ اسلامیہ اور مفکرین و مصلحین اردو زبان میں تاریخِ علومِ اسلامیہ پر ایک بے مثال علمی کارنامہ ہے۔

ڈاکٹر سید عبدالباری کی کتاب آزاد ہندوستان میں مسلم تنظیمیں: ایک جائزہ ملک کی تقریباً تمام نمائندہ مسلم تنظیموں کی سرگرمیوں کا جامع احاطہ کرتی ہے۔اسی اشاعتی ادارے سے مولانا عبد الحمید نعمانی کی تین اہم کتابیں ہندتوا اور راشٹرواد، ہندتوا: اہداف و مسائل اور ہندتوا: مطالعہ و جائزہ شائع ہوئیں، جنہوں نے ایک حساس موضوع پر سنجیدہ اور دستاویزی مکالمے کی راہ ہموار کی۔

ڈاکٹر یسین مظہری صدیقی کی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف مصادرِ سیرتِ نبوی بھی اسی اشاعتی روایت کا حصہ ہے۔

اس طرح انگریزی کی کتابیں شائع کرنے کےلئے جنیون  پبلیکیشنس اینڈ میڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ کا ادارہ قائم کیا۔

علمی سرگرمیوں کا ایک اہم ستون آئی او ایس کی ریسرچ و ریفرنس لائبریری  بھی ہے ۔ اس لائبریری میں انگریزی، اردو، ہندی اور عربی زبانوں میں تقریباً چودہ ہزار حوالہ جاتی کتب محققین کے لیے دستیاب ہیں۔

سعد نیازی روزِ اول سے اس لائبریری کے انچارج ہیں۔ لائبریری کا نظم و نسق، کتابوں کی درجہ بندی اور محققین کی سہولت اس قدر منظم ہے کہ دیکھنے والا ان کے حسن انتظام اور پیشہ ورانہ سلیقے کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

ڈاکٹر منظور عالمؒ کے ذہنِ رسا کا  ایک اور نمایاں کارنامہ آل انڈیا ملی کونسل کا قیام تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے ملک کے جید علما، مشائخ اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔ مقصد یہ تھا کہ ملی اور سیاسی امور پر اتفاقِ رائے پیدا ہو، اور غیر ضروری اختلافات سے حتی الامکان کنارہ کشی اختیار کی جائے، الا یہ کہ ایمان اور یقین کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو۔

کونسل کے تحت ہر ایک یا دو سال میں سماجی اور سائنسی موضوعات پر سمینار منعقد ہوتے رہے۔کونسل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ وہ سلگتے ہوئے مسائل پر اپنی رائے ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومت اور عوام کے سامنے پیش کرتی رہی۔ ضرورت پڑنے پر سرکاری حکام اور وزراء کو باقاعدہ میمورنڈم بھی دیے گئے۔

ڈاکٹر منظور عالم  ان رہنماؤں میں شامل نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔

اسی یقین نےآئی او ایس، اسلامک فقہ اکیڈمی، آل انڈیا ملی کونسل، یو ایم ایم اے، اشاعتی اداروں اور تحقیقی منصوبوں کو جنم دیا۔ یہ سب ادارے الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی فکری زنجیر کی کڑیاں ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو جذباتی ردعمل کے دائرے سے نکال کر شعوری اور منظم اجتماعی عمل کی طرف لے جانا تھا۔

ڈاکٹرمنظور عالم جب افرد پر بھروسہ کرتے تھے، تو ان کو اداروں کو چلانے کی کھلی چھوٹ دیتے تھے۔ وہ روز بروز کے معاملات میں دخل نہیں دیتے تھے۔ یہ سبھی ادارے انہوں نے قائم تو کیے مگر ان کا انتظا م انصرام دیگر افراد کے ہاتھوں میں تھا۔

ان کی وفات بلاشبہ ایک عہد کا اختتام ہے، مگر یہ اختتام خلا نہیں بلکہ ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے۔

کیا ان کے قائم کردہ ادارے محض یادگار رہیں گے یا انہیں نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے آگے بڑھایا جائےگا؟ کیا آئی او ایس محض سیمیناروں اور رپورٹوں تک محدود رہے گا، یا ڈیجیٹل عہد میں ڈیٹا، پالیسی بریفز اور عوامی مکالمے کے نئے سانچوں میں ڈھلے گا؟

کیا فاناجیسی صحافتی کاوش دوبارہ زندہ ہو کر نئی نسل کو مین اسٹریم میڈیا میں جگہ دلانے کا ذریعہ بنے گی؟یہ سوالات دراصل ان کی فکری وراثت کا حصہ ہیں۔ان کے جان نشینوں پر فرض ہے کہ  انہوں نے جو بیج بوئے اب ان کی آبیاری کی جائے۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ محدود وسائل، نامساعد حالات اور مسلسل مزاحمت کے باوجود اگر وژن واضح ہو، نیت خالص ہو اور مزاج میں مستقل مزاجی ہو، تو ادارے بھی بنتے ہیں اور نقش بھی چھوڑتے  ہیں۔

وہ چلے گئے، مگر ان کے قائم کردہ ادارے، ان کی تحریریں، ان کے شاگرد، اور ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔یہ تحریر دراصل ایک فرد کا مرثیہ نہیں بلکہ ایک فکری سفر کی دستاویز ہے۔ ایک ایسے سفر کی کہانی، جو محرومیوں سے شروع ہو کر ادارہ سازی، تحقیق، مکالمے اور عالمی اعتماد تک پہنچا۔ یہی ڈاکٹر منظور عالم کا  اصل تعارف  ہےاور یہی ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔