ہندوستان کی نئی غذائی سفارت کاری اور بھوکے مہمان

دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا / Barthateslisa – Own work, CC BY-SA 4.0

معروف ہندوستانی سفارت کار آنجہانی  ستندر لامبا ایک قصہ بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے۔ نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ وسط ایشیا کی نئی آزاد ریاستیں اپنی سفارتی پہچان بنا رہی تھیں۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے انہیں ان نو آزا ریاستوں کا دورہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

کرغیزستان میں صدر عسکر آکایف نے لامباکے اعزا ز میں عشائیہ کا اہتمام کیا اور ان کو اپنے پاس ہی بٹھا کر ایک خاص کرغیز پکوان سے  متعارف کروایا۔

یہ بھیڑ کی سالم آنکھ پلیٹ میں رکھی ہوئی تھی، اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی دیکھ رہی ہے۔ صدر نے ایک آنکھ ان کی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کے ملک کی خاص ڈش ہے اور اسے پورا نگلنا چاہیے تاکہ معدے میں جا کر آہستگی سے تحلیل ہو۔

ایک تجربہ کار سفیر کی سنجیدگی اور نفاست کے ساتھ لامبانے بڑی مشقت سے آنکھ حلق سے نیچے اتاری۔ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ صدر نے پوچھا، ذائقہ کیسا ہے؟

سفارتی نزاکت اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ اسے ناگوار کہیں یا منہ بنالیں۔ انہوں نے تعریف کر دی۔

صدر خوش ہوئے اور دوسری آنکھ بھی ان کی پلیٹ میں رکھ دی۔ پورا وفد خاموشی سے اس آزمائش کا تماشا دیکھتا رہا جب لامبا دوسری آنکھ حلق سے نیچے اتارنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔

ہوٹل واپس پہنچ کر ہی انہوں نے کھانے کا آرڈر دے کر بھوک مٹائی۔

آجکل دہلی کی سرکاری ضیافتوں کا منظر اسی قصے کی یاد دلاتا ہے۔

ہندوستان آنے والے غیر ملکی معززین کو نہایت نفاست سے آراستہ   ایسی ویجیٹیرین ڈشز پیش کی جاتی ہیں، جو نارمل سبزی خوروں کےلیے بھی معمہ ہیں۔ یہ مہمان ہوٹل جاکر پھر اصلی کھانا کھاتے ہیں۔

دہلی کے سفارتی حلقوں میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ حال ہی میں جب  بحر ہندمیں واقع افریقی جزیرہ سی شلز کے صدر پیٹرک ہرمنیے کے اعزاز میں ان کے حالیہ نئی دہلی دورے کے دروان راشٹرپتی بھون یا صدراتی محل میں ضیافت دی گئی، تو ہوٹل واپس جاکر روم سروس سے انہوں نے کھانا منگوایا۔

Click to view slideshow.

اس  ضیافت کا مینو کارڈ شاعری کا نمونہ تھا۔ سفید کدو اور ناریل کا سوپ، منی اوڈپم کری پتے کے تیل کے ساتھ۔ کوشمبری، بھنا ہوا نناس دہی کے جھاگ کے ساتھ، کٹہل اور کچے کیلے، سرسوں کی تہہ کے ساتھ گجرات کا ڈھوکلا۔

مین کورس میں گجراتی انداز کے آلو، بھنے ہوئے بینگن، پنیر اور مشروم شامل تھے۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں تھا۔ بعض سفارتی ذرائع کے مطابق ایک عرصے سے دیگر مہمان بھی راشٹرپتی بھون اور حیدرآباد ہاؤس کی ضیافتوں سے لوٹ کر اپنے ہوٹلوں میں خاموشی سے کھانا منگواتے دیکھے گئے ہیں۔

سرکاری کھانا مسکراہٹوں کے ساتھ تناول کیا جاتا ہے۔ اصل عشائیہ آدھی رات کو وہ اپنے ہوٹل روم میں کھاتے ہیں۔

افریقی جزیرہ سی شلز کے صدر پیٹرک ہرمنیے، فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی

رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے دعویٰ کیا تھا کہ 2023  میں جی 20  سربراہان مملکت کو دی گئی ضیافت کے بعد، جہاں باجرہ کھلایا گیا تھا، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے کمرے میں روٹی، پنیر اور کولڈ کٹس منگوائے۔

ابھی حال ہی میں نئی دہلی میں مصنوی ذہانت کے سمٹ میں آئے مندوبین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی پکوان ‘ورنِلا’ تھا، جسے ‘رنگین اور دلکش’ قرار دیا گیا۔

اس میں ننھی پالک کی کرکری تہہ، دہی کا گولا، املی اور کھجور کی چٹنی، پرانی دہلی کے مسالے کے ساتھ دھنیا کی چٹنی اور جوار کی کرکری شامل تھی۔

مینو میں منسیاڑی کی راجما، پہاڑی چاول، کماؤنی آلو اور سبز کے گٹکے، ریشمی ٹماٹر اناری شامل تھے۔یعنی بنیادی طور پر راجما چاول ان کو کھلا یا گیا۔روٹی کےلیے مینو میں کشمیری گردہ تھا۔ حالانکہ کشمیر میں گردہ کو عموماً چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے نہ کہ ڈنر یا مین کورس میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اب دہلی کی سیاسی راہداریوں میں سوال گردش کر رہا ہے ، کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟

جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

حتیٰ کہ کچھ سبزی خور بھی کہتے ہیں کہ بعض پکوان کھانے سے زیادہ کسی غزل کے قطعات معلوم ہوتے ہیں۔

انڈین ایکسپریس میں کالم نویس کومی کپور معروف صحافی آنجہانی ایم وی کامت کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ رچرڈ نکسن جب ابھی امریکہ کے صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوئے تھے، تو ہندوستان دورے کے دوران  اس وقت کے وزیر خزانہ مرارجی دیسائی نے انہیں عشائیہ دیا، جو انتہائی حد تک ویجیٹیرین تھا۔

کالم نویس کے بقول نکسن نے اس  ضیافت کا موازنہ پاکستان میں ان کے اعزاز میں ہوئی شاندار ضیافتوں سے کیا۔ نکسن کے صدراتی دور میں ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔

روایت رہی ہے کہ جب ہندوستانی لیڈران بیرون ملک دوروں پر ہوتے ہیں، تو میزبان ان کے لیے سبزی کی خوراک متبادل کے بطور رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی وسیع دسترخوان بھی سجاتے ہیں۔

دہلی کے راشٹرپتی بھون اور حیدرآباد ہاؤس میں بھی طویل عرصے تک مہمان ملک کے ذوق کا ایک آدھ پکوان شامل کرنا رواج ہوتا تھا۔ تاکہ مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں اور اس دوران غیر رسمی بات چیت کے دور بھی چلتے تھے۔ 2011 میں عوامی سفارت کاری کے ماہر پال راکاؤر نے لکھا  تھا کہ دل جیتنے کا راستہ معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔

انیسویں صدی میں غالباً فرانس نے کھانے کو سفارت کاری کی زبان بنایا۔ آگست ایسکوفیئر کے ترتیب دیے گئے عشائیے طاقت کی نمائشی تقریبات ہوتے تھے۔ 14 ویں صدر میں مشہور سیاح  ابن بطوطہ نے حکمرانوں کی فراوانی کو ان کے پیش کردہ کھانوں سے پرکھا۔ 1972 میں چین میں نکسن کے اعزاز میں ضیافتیں ریاستی مہارت کی مثال بن گئیں۔

نیویارک ٹائمز نے ان کی تراکیب تک شائع کیں۔جاپان نے 2005 میں اپنی غذائی سفارت کاری کو ادارہ جاتی شکل دی۔ جنوبی کوریا نے 77 ملین ڈالر گلوبل ہنسک پر خرچ کیے، جسے کمچی سفارت کاری کہا گیا۔ امریکہ نے 2012 میں کلنری ڈپلومیسی پارٹنرشپ شروع کی اور 80 سے زائد شیف مختلف سفارت خانوں میں بھیجے۔

کشمیر کی وازوان ضیافتوں کو بھی بعض موقعوں پر سیاسی اور سفارتی سطح پر استعمال کیا گیا ہے۔  1955 میں سویت لیڈر نکیتا خروشچیف جب ہندوستان کے دورے پر آئے، تو وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے یقینی بنایا کہ وہ سرینگر بھی جائیں۔

بخشی غلام محمد، خروشچیف کے منہ میں کانٹے سے مشہور کشمیری ڈش گوشتابہ ٹھونستے ہوئے، فوٹو: پبلک ڈومین

ایک مشہور تصویر میں اس وقت کے وزیر اعظم کشمیر بخشی غلام محمد، خروشچیف کے منہ میں کانٹے سے مشہور کشمیری ڈش گوشتابہ ٹھونس رہے ہیں اور خروشچیف کہہ رہے ہیں کہ ایسی ضیافت والے خطہ کو وہ کسی اور کے قبضہ میں نہیں جانے دیں گے۔

انہوں نے ہندوستانی لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سویت یونین تو بس ان دوپیکر پہاڑوں کے پیچھے ہے ۔’بس آواز دینے کی ضرورت ہے ، سویت یونین مدد کےلیے پہنچے گا۔ ‘

گو یہ جملے انہوں نے مذاق میں ہی کہے ہوں گے، مگر حقیقت ہے کہ خروشچیف کی واپسی پر سوویت یونین نے اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق قراردادوں کو ویٹو کرنا شروع کردیا۔

اس سے پہلے سلامتی کونسل متفقہ قرارداد منظور کر چکی تھی جس میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کی بات کی گئی تھی۔ وادی کی گلیوں میں آج بھی زبان  زد و عام ہے کہ کشمیر کو گوشتابہ کے عوض بیچا گیا ۔

تاریخ یقیناً زیادہ پیچیدہ ہے، مگر قصہ اس لیے زندہ ہے کہ کھانا اور طاقت اکثر ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں۔شیخ محمد عبداللہ نے اپنی خودنوشت آتش چنار میں لکھا  ہے کہ انہوں نے قید کے دوران خروشچف کے جہازوں کو کد کیمپ جیل کے اوپر سے گزرتے دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ سری نگر میں دی گئی ضیافت اب کشمیر کو سپر پاور رقابت میں الجھا دے گی۔ سلاخوں کے پیچھے بھی وہ اس  ضیافت کی علامت کو سمجھتے تھے۔

اپریل 1985 میں کھانا پھر سیاسی آزمائش کی علامت بنا ۔ وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ، کانگریس پارٹی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے متوقع قدم سے سیاسی غیر یقینی کا شکار تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر ہاؤس میں دعوت دی۔

سری نگر سے ماہر باورچی اور وازوان کے اجزا خصوصی طور پر منگوائے گئے۔  چند منتخب صحافی بھی مدعو تھے۔ عشائیہ  کے بعد جب شاہ کی حکومت کے مستقبل پر سوال کیا گیا، تو گاندھی، جو ابھی لذت کام و دہن میں مصروف تھے، نے کہا کہ کانگریس ابھی شاہ حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔ یعنی وازوان نے شاہ حکومت کو گرنے سے بچا لیا۔ دسترخوان نے سیاست کو سہارا دیا۔

سابق فرانسیسی وزیر اعظم ژاں پیئر رافران کا قول ہے کہ میز وہ جگہ ہے جہاں طاقت اثر انداز ہوتی ہے اور تعلقات بنتے ہیں۔

یہ سب مودی حکومت کو ایک اہم سوال کے سامنے کھڑا کردیتا ہے۔باجرہ، دیسی اناج اور سبزی خور روایت پر فخر بجا ہے۔ یہ پائیدار اور مقامی پیداوار کی علامت ہیں۔

مگر سرکاری ضیافت زرعی نمائش نہیں ہوتی ہے۔ یہ تہذیبوں کا ملاپ ہوتی ہے۔غذائی سفارت کاری یکطرفہ خطاب نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ مکالمہ ہوتا ہے۔

سامنے والے کے ذوق کو سننا بھی اس کا حصہ ہے۔ ضیافت ثقافتی بیان بن سکتی ہے، مگر انجانے میں صبر کا امتحان بھی بن سکتی ہے۔

اگر کوئی صدر سرکاری عشائیے کے بعد روم سروس منگوائے تو منظر کچھ عجیب سا لگتا ہے۔سفارت کاری آسودگی پیدا کرنے کا فن ہے۔ جس میں حکمت عملی اور طعام دونوں کام آتے ہیں۔

شاید حل راجما، باجرہ یا سفید کدو کو ترک کرنا نہیں ہے، بلکہ مہمانوں کی پسند کا بھی خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے۔

آخرکار دل کا راستہ معدے سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ اور سفارت کاری میں خالی معدہ اکثر سرد مہری چھوڑ جاتا ہے۔اس پر داؤ لگانا کہاں کی دانشمندی ہے۔