ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔

فوٹو بہ شکریہ: پی ٹی آئی
غالباًیہ سن دوہزار یا اس کے آس پاس کا واقعہ ہے کہ میں شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے سرینگر کی جانب سفر کر رہا تھا۔
سنگرامہ کا علاقہ کراس کرنے کے چند کلومیٹر بعد ہی دیکھا کہ فوجی جوان مسافر گاڑیوں کر روک کر سواریوں کونیچے اترنے کا حکم دے کر لائن میں مارچ کرواکے لے جارہے تھے۔
ان دنوں تلاشی آپریشنوں کے دوران یہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔ لگا کہ شاید شناختی پریڈ ہو رہی ہے اور چند سو گز چلنے کے بعد دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے اور آگے سفر کرنے کی اجاز ت مل جائےگی۔
مگر جلد ہی احساس ہوا کہ مسافروں کے علاوہ آس پاس کے دیہاتو ں، کھیتوں اور کھلیانوں سے بھی مکینوں کو کھدیڑ کر لایا جا رہا ہے اور سبھی کو سیکورٹی کے حصار میں کسی نامعلوم منزل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
تقریبا دو کلومیٹر چلنے کے بعد سڑک پر ایک جگہ بیٹھنے کاحکم دیا گیا۔ سرینگر سے آنے والی گاڑیوں کو بھی روک کر ان میں سے مسافروں کو نکال کر اس جگہ پہنچایا جا رہا تھا۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ وہ صبح کی بس سے سرینگر دفتر جانے کے لیئ نکلے تھے اور تبھی سے بس یہاں اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔
شناختی پریڈ ہو رہی تھی نہ مسافروں کو جانے دیا جا رہا تھا۔
خیر کئی گھنٹوں کے بعد ہلچل ہونا شروع ہوگئی اور چند ساعتوں کے بعد ایک فوجی قافلہ نمودار ہوگیا۔ ایک کرنل صاحب، ٹی وی کیمروں کی معیت میں گاڑی سے اترے۔
بات بس اتنی تھی، کہ فوج نے آپریشن گڈ ول یا آپریشن سد بھاونا شروع کیا ہوا تھا، اور خیر سگالی کے لیے اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایک بس اسٹاپ تعمیر کیا ہواتھا۔
اب اس دن کرنل صاحب کو اس کا افتتاح کرنا تھا۔ اس کے لیے صبح سے مسافروں کو بسوں سے اتار کر اور آس پاس کے دیہاتوں سے مکینوں کو لا کر اس تقریب کا حصہ بنا کر خیر سگالی کا مزہ چکھایا جا رہا تھا۔
یہ کرنل منوج مکند نرو نے تھے، جو ان دنوں راشٹریہ رائفلز کے اس علاقے میں کمانڈر تھے۔افتتاح کے بعد انہوں نے تقریر کی، جو اب مجھے یاد نہیں آرہی ہے۔
مگر اتنا یاد آ رہا ہے کہ جب انہوں نے پہلی صف میں براجمان کئی افراد سے ان کی تکالیف کے بارے میں پوچھا، تو وہ یک زبان تھے کہ اس شاہرا ہ پرسفر کرنے والی مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کو اور ٹیک کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس وقت مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کے پیچھے چلنے کی سختی سے ہدایت ہوتی تھی، جس کی وجہ سے سرینگر تک کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر تین یا کبھی چار گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔
تقریب کے بعد چند لوگوں کو کیمرہ کے سامنے اس بس اسٹاپ اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالنے کے لیے کہا گیا۔ سبھی کو چائے کا ایک گلاس تھما کر اپنی اپنی بسوں میں واپس جانے کا حکم دیا گیا۔
انہی دنوں پٹن کے قریب ایک گاؤں میں سرچ آپریشن کے دوران، جس کو کرنل صاحب لیڈ کررہے تھے چھ شہری مارے گئے تھے۔جس کی وجہ سے ا ن کا خاصا رعب و دبدبہ تھا۔
غیر مطبوعہ کتاب فور اسٹارز آف ڈیسٹنی کا خوف
یہی منوج نرونے بعد میں دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک ہندوستانی فوج کے اٹھائیسویں سربراہ رہے۔ان دنوں ان کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اس کتاب کو 2024 میں شائع ہونا تھا، لیکن حکومت نے اس کی اشاعت کی منظوری نہیں دی۔
کئی سالوں سے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ سلامتی اور خفیہ اداروں سے ریٹائر ہونے والے افسران کو اپنی کتابیں متعلقہ محکموں کو جانچ کے لیے بھیجنی ہوتی ہیں۔
اگرچہ اس کتاب کی باضابطہ اشاعت کی اجازت نہیں ملی ہے، تاہم اس کی نقول دہلی میں گردش کر رہی ہیں۔ کئی اخبارات خاص طور پر کارواں میگزین نے اپنے فروری کے شمارہ میں اس کے اقتباسات چھاپے ہیں۔
اس کے اقتباسات سے ہی پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت نے اس کی اشاعت کو کیوں روک دیا ہے۔

راہول گاندھی سابق آرمی چیف ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کی کاپی دکھاتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
حال ہی میں جب راہل گاندھی نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران اس کتاب سے ا قتباسات پڑھنے شروع کیے، تو اسپیکر اوم برلا نے اس کی اجازت نہیں دی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ چونکہ کتاب شائع نہیں ہوئی، اس لیے اس کے اقتباسات کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
اس پر راہل گاندھی نے عندیہ دیا کہ اگلے روز وزیر اعظم مودی کی تقریر کے دوران وہ اس کتاب کی ایک نقل پیش کریں گے۔
مگراس کتاب کا کچھ ایسا خوف ہے کہ وزیر اعظم ایوان میں آئے ہی نہیں، اور پہلی لوک سبھا میں تحریکِ تشکر وزیر اعظم کے روایتی جواب کے بغیر منظور کر لی گئی۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔
بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
نرونے کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی کل چودہ کورز، جن میں تقریباً چالیس ڈویژنز اور دیگر بریگیڈیں شامل ہیں میں سے تقریباً نو کورز یعنی ستر فیصد اور تیس سے زائد ڈویژنزپچھتر فیصد پاکستان سے ملحق تین ہزار تین سو کلومیٹر سرحد پر تعینات ہیں۔
اس کے برعکس چین کے ساتھ چار ہزار کلومیٹر سے زائد طویل اور کہیں زیادہ دشوار گزار محاذ پر صرف چار کورز یعنی تیس فیصد اور محض نو ڈویژنز یعنی پچیس فیصد ہی تعینا ت ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی فوجی ترتیب چین کی طرف سے کسی معمولی خطرے کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
مئی 2020 کے واقعہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ پہلے ہفتے میں لداخ کے علاقے میں چینی پیپلز لبریشن آرمی یعنی پی ایل اے کے ساتھ پی پی-14 سرحدی پوائنٹ پر ایک جھڑپ ہوئی، اور چند روز بعد پینگونگ تسو جھیل کے شمالی کنارے پر بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔
تقریباً اسی وقت سکم کے علاقے ناکو لا درّے میں بھی جھڑپ ہوئی۔ یہ تمام واقعات پی ایل اے کے جارحانہ رویے کا نتیجہ تھے، جو گویا لڑائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔مئی کے تیسرے ہفتے میں ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پی ایل اے نے پی پی-15 اور پی پی-17 اے کے علاقوں میں بھاری تعداد میں اپنی موجودگی قائم کر لی، اور پندرہ سے بیس بکتر بند گاڑیاں، بھاری مشینری، بلڈوزر اور سینکڑوں فوجی تعینات کیے۔
یہ وہ علاقے تھے جہاں دونوں فریق گشت کرتے، چند گھنٹے نگرانی کے بعد اپنی مستقل چوکیوں کی طرف واپس چلے جاتے تھے۔ پی ایل اے گلوان کی طرف اور ہندوستانی فوجی کرن سنگھ ہِل کی طرف لوٹتے تھے۔
پینگونگ تسو کے شمالی کنارے کی صورتحال کچھ مختلف تھی۔ تقریباً 4350 میٹر کی بلندی پر واقع یہ دنیا کی بلند ترین نمکین جھیل ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 160 کلومیٹر ہے، جس کا ایک تہائی حصہ ہندوستان اور دو تہائی تبت میں واقع ہے۔اس کے اطراف کے پہاڑوں سے، خصوصاً شمال کی جانب، کئی ایسی پہاڑی دھاریاں نکلتی ہیں جو جھیل کی طرف ڈھلوان بناتی ہیں۔
ان ابھاروں کو عام طور پر’فنگرز’کہا جاتا ہے، جنہیں ہندوستانی جانب سے ایک سے آٹھ تک نمبر دیا گیا ہے۔یہ ایک طرح کی’نو مینز لینڈ’ہے۔ ہندوستانی فوج فنگر 8 تک گشت کرتی تھی، جبکہ پی ایل اے فنگر 4 تک۔ دونوں جانب سے اس سرگرمی پر اعتراض کیا جاتا اور متعلقہ سطح پر احتجاج درج ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ صورتحال بھی جھڑپوں اور دھکم پیل تک پہنچ جاتی۔
مگر اس سال 18 اور 19 مئی کو جب گشت کرنے والی ٹکڑیاں فنگر 4 اور فنگر 8 کے درمیان آمنے سامنے آئیں تو اچانک چینی علاقے سریجاپ کی سمت سے گاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ نمودار ہوا۔
اس میں معمول کی بارڈر ڈیفنس رجمنٹ کے بجائے مکمل جنگی سازوسامان سے لیس پی ایل اے کے دستے تھے۔ ان کے پاس ڈھالیں، لاٹھیاں، خاردار تاروں سے جڑے ڈنڈے اور دیگر سامان تھا۔ پی ایل اے نے فنگر 4 کے نچلے حصے پر قبضہ جما لیا، جس سے ہندوستانی فوج کا مشرقی جانب گشت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔
اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے پی ایل اے نے جھیل کے شمالی کنارے پر مختلف مقامات پر پناہ گاہیں بھی تعمیر کیں، جن میں فنگر 6 کے قریب چین کا ایک بڑا نقشہ بھی بنایا گیا، جو فضاء سے واضح نظر آتا تھا۔
ادھر دہلی میں چین اسٹڈی گروپ کی میٹنگوں کے بعد کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسٹڈی گروپ ایک غیر رسمی گروپ ہے جس کی قیادت وزارت خارجہ کرتی ہے، جس میں وزیر خارجہ، وزیردفاع، قومی سلامتی مشیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوتے ہیں۔ یہی گروپ برسوں سے چین کے حوالے سے طویل مدتی حکمت عملی، گشت کی پالیسی اور انفراسٹرکچر کی ترجیحات پر غور کرتا رہا ہے۔
جب ہماری پارٹی خیمے لگانے گئی تو دوسری جانب سے شدید ردِعمل ہوا۔ کرنل سنتوش بابو، کمانڈنگ آفیسر 16 بہار، چند سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھے تاکہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے، مگر پی ایل اے نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے کھلی جھڑپ شروع ہو گئی۔ اندھیرا چھاتے ہی دونوں طرف سے مزید فوجی پہنچ گئے اور پوری رات لڑائی جاری رہی۔
اگرچہ دونوں جانب ہتھیار تھے، مگر کسی نے گولی نہیں چلائی۔ لاٹھیاں، ڈنڈے اور پتھر استعمال ہوئے۔اس جھڑپ میں پانچ جوان زخمی ہو کر دم توڑ گئے۔ اگلی صبح جب گنتی کی گئی تو کئی لاپتہ تھے۔ پندرہ زخموں اور سردی کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔ یعنی 20فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔ یہ میری پوری فوجی زندگی کا سب سے افسوسناک دن تھا۔
شمالی کنارے یعنی جھیل پر بھی کچھ سرگرمیاں نظر آ رہی تھیں، جن میں فنگر 4 کے مشرق میں تقریباً پانچ سو میٹر دور ہنگامہ روکنے والے سازوسامان میں ملبوس تقریباً پانچ سو پی ایل اے اہلکاروں کا جمع ہوگئے تھے۔ اس نقل و حرکت سے واضح ہو رہا تھا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
پی ایل اے کے ٹینکوں کی پوری ایک رجمنٹ اپنی چھاؤنی سے نکل کر ریچن لا کی سمت جانے والے ٹریک پر قطار میں کھڑی تھی۔31 اگست کی شام کمانڈر جوشی نے فون پر بتایا کہ چار ٹینک، پیادہ فوج کی مدد کے ساتھ، آہستہ آہستہ ریچن لا کی طرف چڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ایک روشن کرنے والا گولہ فائر کیا، مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ میرے پاس واضح ہدایات تھیں کہ بالکل اوپر سے منظوری ملنے تک فائر نہیں کھولنا ہے۔ اگلے آدھے گھنٹے میں وزیر دفاع، وزیر خارجہ، قومی سلامتی مشیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور میرے درمیان فون کالز کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ میں ہر ایک سے ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا: میرے لیے احکامات کیا ہیں؟
میرے ہاتھ میں جلتا ہوا کوئلہ تھما دیا گیا
ایک گھنٹہ کے بعد شمالی کمان نے پھر رابطہ کیا۔ ٹینک آگے بڑھتے جا رہے تھے اور اب چوٹی سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھے۔ میں نے وزیر دفاع کو دوبارہ فون کیا، تازہ صورتحال بتائی اور پھر صاف ہدایات مانگیں۔ کچھ دیر بعد اطلاع آئی کہ ٹینک دوبارہ چڑھائی کرنے لگے ہیں اور اب صرف تقریباً پانچ سو میٹر دور ہیں۔
میری پہلے کی ہدایات کے مطابق، ہماری طرف سے انہیں خبردار کرنے کے لیے پہاڑی ڈھلان میں راکٹ لانچر کا ایک راؤنڈ مارا گیا، مگر وہ بھی انہیں روک نہ سکا۔ کمانڈر نے مشورہ دیا کہ انہیں روکنے کا واحد راستہ اپنی درمیانی توپ خانے سے فائر کھولنا ہے، اور توپ خانہ تیار اور منتظر ہے۔
پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر توپ خانے کی دوطرفہ گولہ باری معمول کی بات تھی۔ ڈویژن و کور کمانڈرز کو دیے گئے اختیارات کے تحت، اگر صورتحال کا تقاضا ہو تو وہ اوپر اجازت مانگے بغیر فائر کر سکتے ہیں، چاہے مشکوک نقل و حرکت ہو یا پاکستانی توپ خانے کا جواب دینا ہو۔
مگر چین کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف تھا۔ میں نے وزیر دفاع کو صورتحال کی سنگینی بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپس رابطہ کریں گے۔تقریباً رات ساڑھے دس بجے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ’یہ خالصتاً فوجی فیصلہ’ ہے۔ پھر انہوں نے کہا؛
جو اُچِت سمجھو وہ کرو یعنی جو مناسب سمجھو وہ کرو۔
یوں میرے ہاتھ میں ایک جلتا ہوا کوئلہ تھما دیا گیا۔ اس مکمل اختیار کے بعد سارا بوجھ اب میرے کندھوں پر تھا۔ میں نے گہرا سانس لیا اور چند منٹ خاموش بیٹھا رہا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک کے سوا ہر طرف خاموشی تھی۔
میں آرمی ہاؤس میں اپنے کمرے میں تھا۔ ایک دیوار پر جموں و کشمیر اور لداخ کا نقشہ تھا اور دوسری پر مشرقی کمان کا۔ یہ نقشے نشان زدہ نہیں تھے، مگر میں انہیں دیکھ کر ہر یونٹ اور ہر فارمیشن کی جگہ ذہن میں واضح کر سکتا تھا۔
ہم ہر لحاظ سے تیار تھے، لیکن کیا میں واقعی جنگ شروع کرنا چاہتا تھا؟ملک کی حالت خراب تھی۔ کووڈ کی وبا کے باعث سب کچھ لرز رہا تھا۔ معیشت ڈگمگا رہی تھی۔ عالمی سپلائی چین ٹوٹ چکی تھی۔ کیا ایسی صورت میں ہم طویل کارروائی کی صورت میں اسپیئر پارٹس اور دیگر ضروری سامان کی مسلسل فراہمی یقینی بنا سکیں گے؟
عالمی سطح پر ہمارے حمایتی کون ہوں گے؟ اور چین اور پاکستان کی ممکنہ گٹھ جوڑ کا کیا ہوگا؟سینکڑوں خیالات ایک دم ذہن میں چمکنے لگے۔ یہ کوئی ریت کے ماڈل روم میں کھیلا جانے والا جنگی کھیل نہیں تھا، بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔
اس اہم اور نازک گھڑی میں سیاسی قیادت نے فوج کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ یعنی کل اگر بازی الٹ جاتی، تو آرمی چیف قربانی کا بکرا بن جاتا۔

فائل فوٹو بہ شکریہ: امیزون ڈاٹ ان
جنرل نرونے نے ہندوستان میں ہونے والی جنگی مشقوں کی بھی پول کھول دی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ فوجی مشقوں میں ہمیشہ ہندوستان جس کو مشقوں میں بلیو لینڈکا نام دیا جاتا ہے، کو چین جس کو ییلو لینڈ کہتے ہیں، پر غالب دکھایا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار ایک جنگی مشق میں انہوں نے منصوبہ پیش کیا کہ ییلو لینڈ کو نقل و حرکت میں برتری حاصل ہے، اور بلیو لینڈ یعنی ہندوستان شکست کے خطرے سے دوچار ہے۔
اب انہوں نے مشق میں شامل کمانڈروں کو کہا کہ اس صورت میں اب وہ ییلو لینڈ کو کیسے روکیں گے۔ اس پر کمانڈروں نے کہاکہ وہ ایک شدید طوفان فرض کرتے ہیں، جس سے تمام سڑکیں ناقابل استعمال اور ہوائی اڈے ناکارہ ہو گئے ہوں اور ییلو لینڈ کو اڑتالیس گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔
اس دوران بلیو لینڈ اپنی پوزیشنوں کو مستحکم کرے گا۔ مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ بارش صرف ییلو لینڈ کے علاقے میں ہوئی۔جب انہوں نے آرمی کمانڈر سے شکایت کی کہ موسمی حالات پہلے سے معلوم ہوتے ہیں اور وہ دونوں طرف متاثر کریں گے۔ تو کمانڈروں کے منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا۔
وہ لکھتے ہیں بلیو لینڈ حسب معمول جیت گیا، مگر اس مشق سے جو سبق لینے تھے وہ نہیں لیے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کبھی نتائج بتانے والا سافٹ ویئر بلیو لینڈ یعنی ہندوستان کے خلاف نتیجہ دیتا ہے، تو کنٹرول روم اسے بدل دیتا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس مصنوعی جیت سے غلط نتیجے برآمد ہوتے ہیں اور فوجی اور کیڈٹ اپنی تعیناتیوں میں وہی غلطیاں دہراتے ہیں، جبکہ اب دشمن حقیقی ہوتا ہے۔
جنرل نرونے کہتے ہیں کہ جب وہ آرمی ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ بنے تو انہوں نے واضح کیا کہ؛
ریت کے ماڈل پر ہار جانا، میدان جنگ میں ہارنے سے بہتر ہے۔
بطور آرمی چیف ان کا کام وقتاً فوقتاً وزیر اعظم کو بریف کرنا اور قومی سلامتی کے ایشوز پر ان سے ہدایات لینا بھی ہوتا تھا۔
اکثر وزیر اعظم کے دفتر سے میرے ملٹری اسسٹنٹ کو کال آتی تھی کہ وزیر اعظم ملنا چاہتے ہیں اور وہ میری دستیابی پوچھتے تھے۔ اس کے بعد وزیر اعظم دفتر کے کسی جوائنٹ سیکریٹری یا ڈائریکٹر سطح کے کسی افسر کی کال آتی، جو ‘ایجنڈہ’ پوچھتا تھا۔
پہلی بار جب یہ ہوا تو میں نے بتایا کہ بلاوا تو وزیر اعظم نے دیا ہے اور ایجنڈہ تو ان کو معلوم ہوگا۔ مگر جواب آیا کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، اس کا ایک تحریری نوٹ بھیج دیں۔ اکثر مواقع پر مجھے ذہن کھپانا پڑتا کہ وزیر اعظم کو آمنے سامنے کس نوعیت کے معاملات کی طرف توجہ دلائی جائے۔
حسب معمول، آخر میں وزیر اعظم کے پاس اپنی کہانیاں ہوتیں۔کبھی وہ گجرات کی پتنگوں کی صنعت کا ذکرکرتے تھے، تو کبھی ریلوے لائنوں کا تو کبھی بجلی بچانے کے فائدوں کا۔ پہلی بار جب میں ان سے بطور آرمی چیف ملا، تو انہوں نے کہا کہ ان کی بھی ایک بیٹی آرمی میں ہیں، لیکن کسی کو نہیں بتانا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی بھانجی فوج میں تھی۔
ہمسایہ ممالک میں ہندوستان کی کمزور سفارت کاری کا ذکر
نیشنل ڈیفینس کالج میں اپنی ٹریننگ کے دوران کئی دلچسپ واقعات کا بھی اس کتاب میں تذکرہ ہے۔
اپریل 1979 میں چھٹی ٹرم فائنلز میں ایک سوال پاکستان کی داخلی صورتحال سے متعلق تھا اور یہ کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، جو قید تھے، کا انجام کیا ہوگا۔
میں نے جذباتی انداز میں لکھا کہ عالمی دباؤ اور دنیا کی رائے انہیں پھانسی نہیں لگنے دے گی۔ جب ہم امتحان کے ہال سے باہر نکلے تو سب سے پہلی خبر یہی سنی کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
اسی طرح اکیڈمی کے تیسرے سال میں، انفنٹری کی تقریباً دو سو آسامیوں کے مقابلے میں صرف تیس کے قریب کیڈٹس نے انفنٹری کو اپنی پہلی ترجیح کے طور پر منتخب کیا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک دھچکا تھا، کیونکہ انفنٹری کو’کوئین آف دی بیٹل’کہا جاتا ہے، اور توقع ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیڈٹ اس کو ترجیح دیں۔
اکیڈیمی نے اس وقت کے کیپٹن جی ڈی بخشی، جو بعد میں میجر جنرل کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے اور آجکل ٹی وی چینلوں پر اپنی مونچھوں اور تیز طرار تبصروں کے لیے مشہور ہیں، کو کیڈیٹوں کوانفنٹری کے فوائد بتانے اور اس کو جوائن کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بلایا۔
بخشی انفنٹری مین تھے۔ ان کی ہینڈل بار مونچھیں اس وقت بھی ایسی ہی تھیں اور وہ بڑی شاندار شخصیت کے حامل دکھائی دیتے تھے۔
انہوں نے انفنٹری کی خوبیاں گنوائیں۔ بتایا کہ ان کے اپنے بھائی 1962 کی چین-ہندوستان جنگ میں ہلاک ہوئے اور فیلڈ زندگی کی سختیا ں گنوائیں۔ اب کیا ہونا تھا کہ ان کی تقریر اور ترغیب کے بعد انفنٹری کو پہلی ترجیح دینے والے کیڈیٹوں کی تعداد اور بھی کم ہو گئی۔
اس کتاب میں انہوں نے ہمسایہ ممالک میں ہندوستان کی کمزور سفارت کاری کا بھی ذکر کیا ہے۔
جب وہ میانمار میں ہندوستانی سفارت خانے میں بطور ڈیفینس ایڈوائزر تعینات تھے، تو کلادان ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ پروجیکٹ پر بات چیت جاری تھی۔
ابتدا میں ہندوستان نے بنگلہ دیش کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ چٹاگانگ بندرگاہ کے ذریعے ٹرانزٹ کی اجازت دے، جو تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ سے دو سو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔
مگر اس وقت کی بنگلہ دیشی حکومت ہندوستان کے لیے سازگار نہیں تھی اور اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا، حالانکہ یہ دونوں ممالک کے لیے مفید ہو سکتی تھی۔
کلادان منصوبے کے تحت کولکاتا بندرگاہ کو سمندر کے ذریعے میانمار کی ستوے بندرگاہ سے جوڑا جانا تھا، پھر کلادان دریا کے ذریعے بارجز کے ذریعے ستوے سے پالیٹوا، اور آخر میں سڑک کے ذریعے پالیٹوا سے لانگتلائی، میزورم تک۔
سلی گڑی کاریڈور کے ذریعے 1880 کلومیٹر طویل اور حساس راستے کے مقابلے میں، اس منصوبے سے فاصلہ گھٹ کر صرف 950 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔
سال 2008 میں ہندوستان اور میانمار نے اس منصوبے پر دستخط کیے اور 2010 میں کام شروع ہوا، جس کی آخری تاریخ 2014 رکھی گئی تھی۔ مگر ناقص منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے مسائل کے باعث منصوبہ بار بار تاخیر کا شکار ہوا۔ 2008 میں اس کا بجٹ 536 کروڑ روپے تھا، جوتاخیر اور اضافی کاموں کے باعث اب 3200 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ منصوبے کی تکمیل کا انداز، بیوروکریسی اور ٹھیکوں میں تاخیر، اور وقت و لاگت میں اضافے نے چین کے مقابلے میں ہندوستان کی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے۔
اسی طرح کے ایک اور معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان مسلسل میانمار سے درخواست کر رہا تھا کہ وہ اپنی سرحد کے اس پار موجود ہندوستانی باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔
میانمار نے کہا کہ علاقے میں سڑکوں کی کمی ہے۔ اس پر انہوں نے ہندوستان سے درخواست کی کہ اندرونی علاقوں تک پانچ سڑکیں بنانے کے لیے تعمیراتی مشینری فراہم کرے۔
مگر پوری فہرست میں سے صرف دو بلڈوزر فراہم کیے گئے، جو جون 2010 میں تامو–مورے سرحد پر رسمی تقریب میں میانمار کے حوالے کیے گئے۔ جنرل نرونے لکھتے ہیں۔
‘یہ ہندوستان کی عمومی کہانی ہے—وعدوں میں بڑا، عمل میں کمزور۔’ اب چین سے مقابلہ کرے تو کیسے کرے۔
اسی طرح انہوں نے لکھا ہے کہ 1947 سے یہ روایت رہی ہے کہ دہلی ایریا کا جنرل آفیسر کمانڈنگ لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی کے موقعہ پر وزیر اعظم کی تقریر کے دوران چند قدم پیچھے کھڑا رہتا ہے۔
مگر 2017 کو جب وہ اس عہدے پر تھے، تو 15 اگست کی آخری ریہرسل میں وزیر اعظم کی سکیورٹی نے پیغام دیا کہ جی او سی کو کچھ اور پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، تاکہ کیمروں میں صرف وزیر اعظم نظر آئیں اور لوگ اسکرین پر وردی میں کھڑے شخص کی طرف متوجہ نہ ہوں۔
وہ اس روایت کو برقرار رکھنے کے حق میں تھے۔ 14 اگست کی شام آرمی چیف جنرل بپن راوت نے انہیں فون کیا اور ان کو کہا کہ وہ تقریر کے دوران اے ڈی سی کی طرح کھڑے کیوں رہنا چاہتے ہیں؟
ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں، اور تقریب کے بعد وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لیے چلے جائیں۔
انہوں نے یہی کیا۔15 اگست کی شام صدارتی ہاؤس کی تقریب میں جب وزیر اعظم ان کے پاس سے گزرے تو مسکرا کر کہا،
جنرل صاحب، کیوں مرواتے ہو؟
شاید وہ صبح کے واقعے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
پاکستان کے حوالے سے جنرل نرونے سوال اٹھاتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے پار فائرنگ سے ہم آخر کیا حاصل کر تے ہیں؟
اگرچہ ہم پاکستانی فوج کو نقصان پہنچا رہے تھے، مگر ہمارے اپنے نقصانات بھی ہو تے ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ بھی ہلاک ہو تے ہیں اور عورتوں، بچوں اور مردوں کو شدید ذہنی صدمہ برداشت کرنا پڑ تا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ استعمال ہونے والے گولہ بارود کا جب حساب لگایا گیا تو اندازہ ہوا کہ ہر ماہ تقریباً سو کروڑ روپے کا گولہ بارود، بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے پھونک رہے ہیں۔
فروری 2018 میں، جب وہ آرمی ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ تھے، پنجاب یونیورسٹی کے ایک سیمینار میں انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کےتعلقات کے حوالے سے کہا تھا کہ اس وقت ضرورت ‘اسٹیٹس مین شپ’کی ہے، نہ کہ ‘برنک مین شپ’کی۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ تشدد یا جنگ مقصد تک پہنچنے کا آخری ذریعہ ہوتا ہے اور خود کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔